تازہ تر ین

خوبصورت رنگ اعجاز چودھری کے سنگ

انجینئر افتخار چودھری
23 فروری کی دوپہر کو پاکستان تحریک انصاف نے مینار پاکستان پر ایک شاندار اور بھرپور طاقت کا مظاہرہ کیا۔ کوئی ساڑھے گیارہ ہزار لوگ جو حال ہی میں پی ٹی آئی سینٹرل کے عہدےداران تھے ان میں ریجنل باڈی میٹرو پولیٹن ٹاﺅنز تحصیلوں یو سی لیول کے لوگ تھے ان سے سیف اللہ خان نیازی نے حلف لیا ۔چار ماہ کے قلیل عرصے میں اعجاز چودھری نے اپنی قابل ستائش تنظیمی تجربے کا عملی مظاہرہ کیا ۔یقینا وہ اور ان کی گیارہ رکنی ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے ۔پوری ٹیم کے ناموں سے واقفیت تو نہیں ہے لیکن عامر گجر جو سینئر نائب صدر ہیں، عثمان سعید بسرا جو سیکرٹری انفارمیشن ہیں، عبید اللہ ، شبیر سیال، علی امتیاز وڑائچ گجرانوالہ سے بھنڈر ثانیہ کامران دیوان غلام محی الدین و دیگر کو سر گرم پایا ۔ اعجاز چودھری تحریک انصاف میں2008 ءمیں شامل ہوئے ان کی شمولیت سے پارٹی کو بڑی تقویت ملی ۔اسلامی جمعیت طلبہ کی نرسری سے تیار نوجوان ملکی قیادت کرتے نظر آتے ہیں، اب تو ستر کی دہائی کے نوجوان ستر کے پیٹے میں ہیں لیکن جہاں بھی ہیں داستانیں رقم کر رہے ہیں۔ تحریک انصاف کو عارف علوی،اسد قیصر ، شمیم نقوی اور قدرے جوان فیاض چوہان اور کچھ ہم جیسے خاکساروں کا ساتھ میسر ہے۔ یہاں ان نوجوانوں کی بے مثال جد وجہد کا ذکر نہ کرنا بخیلی ہو گی ارسلان چودھری، ذوالقرنین عمیر نوید مینگل فرخ حبیب مراد سعید اور بے شمار طلبا نے عمران خان کا ہاتھ تھاما اور انہیں وزیر اعظم پہنچا کر دم لیا۔
میں اس فنکشن کی کامیابی کی داستان کو ادھورا نہیں چھوڑنا چاہتا ۔ہمیں بھی بتایا گیا کہ آپ گیٹ نمبر تین جو لاری اڈہ کی طرف ہے وہاں آ جایئے، آپ کو کارڈ وہیں سے ملے گا۔یہاں مستعد نوجوانوں کا ایک گروہ تھا جو خندہ پیشانی سے ہمارا استقبال کر رہا تھا ۔لاہوری تو ویسے ہی خوبصورت ہوتے ہیں ،مزاراقبال سے کچھ دور مینار پاکستان کے سایے اور بادشاہی مسجد سے تھوڑی دور سو کے قریب اقبال کے شاہین بڑی خوبصورت ٹی شرٹس پہنے ملے ۔میں نے نوجوانوں کو دیکھا ان شرٹس کے اوپر شاہین صفت لیڈر کی تصویر تھی عمران خان ان کے سینوں پر سجا ہوا تھا ۔برادر مصدق گھمن نے ہمیں پہلے ہی مطلع کر دیا تھا اور اس سے قبل ڈاکٹر حسن مسعود ملک نے بھی آگاہ کیا کہ نارتھ پنجاب پوری ریجنل باڈی کو چیف آرگنائزر سیف اللہ خان نیازی کی جانب سے دعوت ہے کہ وہ مینار پاکستان پہنچ جائیں۔وقت مقررہ گیارہ بجے تھا اور ہم برادر مہربان آف لسن ہزارہ جو میرے بہنوئی ہیں کہ گھر ایک رات پہلے ہی پہنچ چکے تھے ،سبزہ زار کے ایچ بلاک میں بسیرا کیا اور ننھیالی گرم جوش مہمان نوازی کا لطف اٹھایا ۔وہاں سے ہم پنجاب سیکرٹریٹ پہنچے یہ وہ جگہ ہے جہاں ایک انتہائی قابل بہتر منتظم کرنل اعجاز منہاس اور سیالکوٹی منڈا عمر ماہر بیٹھتے ہیں ۔کرنل اعجاز کو اگر آزادانہ کام کرنے دیا جاتا تو مجھے پورا یقین ہے کہ پی ٹی آئی کے پنجاب بھر کے متحرک کارکنان اہم عہدوں پر بیٹھے نظر آتے۔ چلیں اس بات کو چھوڑیں دکھڑے بیان کرنے کا دن نہیں ہے ،آج تو ہم بات کریں گے اس تقریب کی جو مدتوں یاد رہنے والی تقریب ہے۔اعجاز اگر مجھ سے مشورہ کرتے تو ایک بڑا ہولڈنگ لگاتے جس پر لکھا ہوتا ’جہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیں ادھر ڈوبے ادھر نکلے ادھر ڈوبے ادھر نکلے‘۔یہ عمران خان کی تیس سالہ جد وجہد کا آئینہ دار ہے اور23 مارچ والے دن بھی ادھر ہی آویزاں تھا ۔ یہ واقعی 1940 ءکو یاد کرنے کا دن تھا۔ اسی جگہ منٹو پارک میں قاید اعظم کی قیادت میں اسلامیان ہند اکٹھے ہوئے اور فیصلہ کیا کہ ہم اپنے مقدر کا فیصلہ آپ کریں گے ۔ ایک مرد درویش جسے چودھری رحمت علی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ،اس نے تو 1915 میں الگ وطن لینے کی بات کی تھی۔ اسلامیہ کالج بھی اس جگہ سے کوئی بارہ کلو میٹر دور اس وقت مرد درویش کو یاد کرتا رہا اور آج بھی ہم منتظر ہیں کہ قائد محترم اور وزیر اعظم پاکستان عمران خان اپنے ہاتھوں سے لکھے معاہدے پر عمل درآمد کرتے ہوئے ان کے جسد خاکی کو پاکستان لائیں۔گیارہ بج کر چار منٹ پر میں، خواجہ فاروق عبدالقیوم نیازی جو آزاد کشمیر سے ہیں ،کے ساتھ سٹیج پر موجود تھا اس وقت سوائے سپیکر والے کے کوئی اور نہ تھا ۔گویا ہم وقت پر پہنچنے والے اولین مہمان کا اعزاز حاصل کر چکے تھے۔دھوپ بھی بتا رہی تھی کہ بسنت بہار ہے ،چھاﺅں میں بیٹھو سردی دھوپ میں گرمی ۔اس روز ہم نے وٹا من ڈی سے لطف اٹھایا ۔میرے ساتھ شاہد ضیا سیکرٹری ڈویلپمنٹ اور پلاننگ تھے، گجرات سے چودھری الیاس جو 2018 میں ضلع گجرات سے پی ٹی آئی کے امیدوار تھے۔اس جلسے میں محترمہ فردوس عاشق اعوان، برادر احمد جواد کی خصوصی شرکت تھی۔ احمد جواد ایک منفرد شخص کا نام ہے جس نے NBCبنا کر جھوٹی خبروں کے منہ پر زور دار طمانچہ مارا ہے ۔
دو بجے کے قریب پورا پنڈال بھر چکا تھا بلکہ کھچا کھچ بھر چکا تھا میرے خیال میں ساڑھے گیارہ ہزار نامزد نمائندوں کے ساتھ دس ہزار اور بھی لوگ ہوں گے ،پندرہ سے بیس ہزار لوگ مینار پاکستان کے سایے میں سچ کا ساتھ دینے کے لیے موجود تھے ۔ ایسا جلسہ بلاول کر کے دکھائیں، یہ عمران خان کا نہیں اس کے ایک ساتھی کا تھا ،سیف اللہ نیازی حالیہ چند برسوں میں ایک لیڈر بن کر سامنے آئے ہیں۔پارٹی کی تنظیم نو میں ان کا کردار ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے اس سلسلے میں انہیں ڈاکٹر ابو الحسن کا ساتھ بھی میسر رہا ۔اللہ نے مجھے بھی موقع دیا کہ اس کار خیر میں حصہ ڈال سکوں ۔آئین سازی میں اگر انجینئرارشد داد کا نام نہ لیا جاے تو زیادتی ہو گی۔ اعجاز بٹ مصدق گھمن ساجد خان وردگ،شنواری ،طاہر اقبال علی اصغر خان اور انگنت لوگ اس کام میں لگ گئے اور اس روز جو حلف لیا گیا اسی آئین کے تحت تھا جس کی تشکیل میں پیر محل کے دور دراز علاقے سے میجر احمد نواز شامل ہوتے رہے لاہور سے اعجاز چودھری بھی شریک ہوتے رہے اور حامد خان بھی ۔ دو بجے کے قریب سیف اللہ نیازی اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ سٹیج پر پہنچے نظامت کی ذمہ داری لاہور ہی کے سینٹرل پنجاب کے سینئر نایب صدر عامر گجر نے انجام دی، ان کی معاونت علی امتیاز وڑایچ نے کی۔ شمالی پنجاب کی پوری ٹیم سوائے عطا اللہ شادی خیل اور برادر ممتاز احمد کاہلوں کے وہاں موجود تھی جن میں صدر شمالی پنجاب صداقت علی عباسی، ندیم افضل بنٹی یاسر خان بلوچ عارف عباسی اور بریگیڈیر ممتاز اقبال کاہلوں جاوید منج عارف عباسی شامل تھے ۔ افتخار ملک کرنل امان اللہ بھی رونق تقریب بنے ۔سیف اللہ تقریر کرتے نہیں تقریر پڑھتے ہیں ،منتظم اعلی نے اس موقع پر ساڑھے گیارہ ہزار لوگوں سے حلف لیا۔ اس سے قبل جناب چیئرمین کا خوبصورت پیغام پڑھ کر سنایا گیا ۔پروگرام کی خوبصورتی کو اس وقت چار چاند لگے جب خوش الحانی سے تلاوت اور نعت رسول مقبول پیش کی گئی ۔میاں طفیل کے داماد اعجاز چودھری نے بڑی گھن گرج سے خطاب کیا ۔لفظ تھے کہ بچھے جا رہے تھے ، یہ بات خوش آئند تھی جب انہوں نے کہا کے کارکن کو دفاتر میں عزت ملے گی ۔ نامزد اراکین نے پر زور تالیاں بجا کر پیغام دیا کہ کارکن کو عزت دو کا نعرہ ہی نعرہ¿ وقت ہے ۔میری نشست سیف اللہ نیازی کے پیچھے تھی ،درمیان میں میڈم فردوس تھیں اس خاتون نے صحافیوں کے دل موہ لیے۔ ان کے بائیں ہاتھ ایم این اے اور صدر شمالی پنجاب صداقت عباسی بیٹھے تھے ،گپ شپ رہی ۔مینار پاکستان کا کامیاب جلسہ شمالی پنجاب کے لیے ایک چیلنج ہے، اعجاز چودھری اس کامیابی کو اپنی پوری ٹیم کی کامیاب قرار دے کر صداقت عباسی کے لیے ایک پیغام بھی چھوڑ گئے کہ سیاست میں ذاتی پسند اور ناپسند کو نہیں دیکھا جاتا۔اور وہ آئین جسے بنانے میں سال لگے اسے رات کے اندھیرے میں کچلا نہیں جاتا ۔ لاہور کا دل جیتنے پر اعجاز چودھری اور ان کی ٹیم کو مبارک باد ۔سٹیج پر امین ذکی کو بھی ملا یہ وہ مرد درویش ہے جو عمران خان کے شروع دنوں کا ساتھی ہے ۔مرحوم نعیم الحق کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا گیا ۔لاہور تھا اور احسن رشید اور سلونی بخاری نہ تھیں ،دل دکھی ہوا ۔یہ لوگ پارٹی کے باغ کے مالی تھے ۔پی ٹی آئی خواتین ونگ کی ذمہ داری نوشین حامد کے سر ہے ۔جو سچی اور دلیر شفیق بہن ہیں ان سے توقع ہے کہ وہ باحسن یہ کام انجام دیں گی ۔نیلوفربختیار نے کمال کام کیا ہے ۔ گیارہ بجے سے شروع ہونے والا یہ جلسہ شام پانچ بجے ختم ہوا ۔پی ٹی آئی سینٹرل پنجاب کے لوگو آپ کو مبارک باد ۔یہ تھے سوہنے رنگ اعجاز چودھری کے سنگ ۔
(پنجاب حکومت کے ترجمان ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved