تازہ تر ین

حکومت کے 32 دانت اور 32 زبانیں

شفیق اعوان
وطن عزیز میں دو جماعتی نظام سے ستائے ہوئے عوام عمران خان کو اس امید سے لےکرآ ئے تھے کہ وہ نہ صرف ان کے دکھوں کا مداوا کریں گے بلکہ ریفارمز کے ذریعے ایک بہتر اندازِ حکومت، کرپشن اور لوٹ مار کے خاتمے کے ساتھ انصاف اور روزگا ر کی فراہمی کو بھی یقینی بنائیں گے۔ یہ سب اہداف تو کیا حاصل ہوتے ،عوام مزید ذہنی کشمکش کا شکار ہو گئے کیونکہ قریباً اٹھارہ ماہ میں حکومت اپنی ترجیحات کا ہی تعین نہ کر سکی۔ خیال تھا کہ عمران خان ایسی ٹیم لے کر آئیں گے جس میں یکسوئی ہو گی اور یہ ایسی پالیسیاں لے کر آئیں گے جس سے عوام سکھ کا سانس لیں گے لیکن حکومت بنیادی مقاصد سے ہٹتے ہوئے اصلاحاتی ایجنڈے کو ترجیح دینے کی بجائے دوسرے معاملات میں الجھتی چلی گئی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اپوزیشن اور معاشرے میں موجود مختلف مافیاز نے نا تجربہ کار حکومت کو گھیرے میں لے لیا اور وہ ایک کے بعد ایک نئی دلدل میں پھنستی چلتی گئی۔ اپوزیشن سے گلا نہیں بنتا کیونکہ اس کا کام ہی تنقید کرنا ہے لیکن خود حکومت بھی منزل سے بھٹکی ہوئی لگ رہی ہے اور معاشی ڈور سلجھنے کی بجائے الجھتی چلی جا رہی ہے۔ ایک طرف گرتا ہوا روپیہ اور بلند ہوتا ڈالر، دوسری طرف بڑھتے ہوئے بیرونی قرضے اور زرمبادلہ کے کم ہوتے ذخائر، اس پر گرتی ہوئی ایکسپورٹ ، مہنگائی اور افراط زر، منہ زور گھوڑے کی طرح بے قابو بجلی گیس کے بل اور روزمرہ کی اشیا ضروریہ کے بڑھتے ہوئے نرخ کہیں رکنے کو ہی نہیں۔ سرمایہ کاری تو ایک طرف چلتی ہوئی انڈسٹری بند ہوتی جا رہی ہے۔ حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے فنانشل ٹاسک فورس اور عالمی مالیاتی اداروں کا عفریت الگ سر اٹھائے کھڑا ہے۔ یہ بھی لطیفہ ہے کہ وزیر اعظم اور ان کی کابینہ تمام خرابیوں کا ذمہ پچھلی حکومتوں کو گردانتی ہیں لیکن اپنے ارد گرد دیکھے تو پچھلی حکومتوں کے کرتا دھرتا ان کی حکومت میں بھی اہم مورچے سنبھالے بیٹھے ہیں۔بڑی ہنسی آتی ہے جب عمر ایوب، فردوس عاشق اعوان ، ہمایوں اختر، ہارون اختر بھی یہی مالا جپتے نظر آتے ہیں جبکہ یہ ماضی کی حکومتوں میں بھی بدرجہ اتم موجود تھے۔
یہ حکومت اپنے انتخابی ایجنڈے کی اب تک ایک اینٹ بھی نہیں رکھ سکی۔ایک کروڑ نئی نوکریوں اور پچاس لاکھ گھر ڈراﺅنا خواب بن چکے ہیں۔نئی نوکریاں دینے کی بجائے 25 لاکھ لوگ بیروز گار ہو چکے ہیں اور عملًا اگر چار افراد فی خاندان لگائیں تو یہ تعداد ایک کروڑ بن جاتی ہے۔ لوگ نئی نوکریوں کے حصول کی بجائے روکھی سوکھی ملنے کے طالب بن چکے ہیں۔50 لاکھ گھر ریت کا گھروندا بن چکے ہیں۔ لوگ ان کی بجائے اپنے سر کی چھت کی حفاظت کی دعا مانگتے ہیں۔ویسے تو سیاستدانوں کا وطیرہ ہے کہ ان کا چہرہ اپوزیشن اور حکومت میں مختلف ہوتا ہے۔اپوزیشن میں ہوتے ہوئے وعدے کرتے ہوئے اتنا تیز دوڑتے ہیں کہ خرگوش کو مات دے دیتے ہیں لیکن اقتدار میں آتے ہی ان وعدوں پر عمل درآمد کی چال کچھوے سے بھی سست ہو جاتی ہے۔ البتہ یہ حکومت اس ڈگر پر جامدوساکت ہے۔ حکومت اصلاحات کے حوالے سے اپنے ہی بیانیے سے پھر چکی ہے۔ اور تو اور حکومتی ذمہ داران ایک بیانیے کی بجائے مختلف انواع کی بولیاں بول کر عوام کو مزید ذہنی کشمکش سے دو چار کر رہے ہیں۔ وزراءکاکردگی کی بجائے اوٹ پٹانگ حرکتوں ، بے سرو پا باتوں اور الٹے سیدھے بیانات سے خود کو نمایاں کرنے پر کمر بستہ رہتے ہیں۔ کبھی اتحاد ی کرپشن بڑھنے اور بیڈ گورننس کی باتیں کرتے ہیں تو کبھی اپنے وزرا کے بیانات ہی ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔اللہ تعالی نے انسان کو 32 دانت اور ایک زبان دی ہے۔ لیکن اس حکومت کی بشمول وزیر اعظم عمران خان کے سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ اس کے 32 دانتوں کے ساتھ 32 زبانیں ہیں اور المیہ یہ کہ ہر زبان کی مختلف بولی ہے۔ اکابرین حکومت کا صبح کا بیانیہ شام سے نہیں ملتا اور کل کا بیان آج سے مختلف ہوتا ہے جس سے عوام الجھن کا شکار اور حکومت کو خفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سونے پہ سہاگہ یہ کہ وزیر اعظم U Turn کو اچھی لیڈرشپ کی لازمی صفت قرار دیتے ہیں۔ جس سے ان پر اندھی تقلید کرنے والے اسی صفت پر ہی معرکہ آرا نظر آتے ہیں۔ بغیر تحقیق کے متضاد بیانیاں، کبھی 200 ارب ڈالر کی واپسی،کبھی کروڑوں نوکریوں کے خواب ، کبھی سوشل میڈیا پر یلغار اور کبھی میڈیا پر وار ، لمبی فہرست ہے۔ یہ طریقہ¿ حکومت عوام کو مایوسی کے سوا کچھ نہیں دیتا ۔ وزیر اعظم میڈیا پر تو ہاتھ جھاڑ کر پیچھے پڑ جاتے ہیں لیکن میڈیا تو معاشرے کا آئینہ ہوتا ہے اس نے آپ کی حکومت کی وہی شکل دکھانی ہے جو ہے، بجائے آئینے پر برسنے کے اپنی پالیسیوں کے ذریعے اپنی صورت بہتر کریں۔اچھا لیڈر وہ ہوتا ہے جس کی حکومت کا کم ازکم بیانیہ ایک ہو تا کہ عوام کسی کنفیوژن کا شکار نہ ہوں لیکن یہاں صورتحال مختلف ہے۔ یقینا اتحادی حکومتوں میں ہر جماعت کا اپنا اپنا نظریہ ہوتا ہے لیکن حکومت میں وہ ایک اکائی ہوتے ہیں۔ مسلم لیگ ق، ایم کیوایم اور جی ڈی اے اپنی اپنی ڈفلی تو بجاتے ہیں لیکن خود پی ٹی آئی میں بھی یکسوئی نہیں اور وزرا ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ءہیں اور حکومتی پالیسیوں کے حوالے سے ان کے بیانات آپس میں نہیں ملتے جس سے عوام کی مایوسی دوچند ہو جاتی ہے۔ اور تو اور خودوزیر اعظم کا بھی کل کا بیان آج سے نہیں ملتا۔ اٹھارہ ماہ کی خواری کے بعد عوام کو کم از کم اب احتساب کے نعرے سے کوئی غرض نہیں ۔ ان کو تو اپنا روزگار لٹنے کا غم لگ گیا ہے۔ کیونکہ احتساب آپ سے ہونا نہیں اور اس کے خوف سے ملک رک سا گیا ہے۔ جناب وزیر اعظم ساری کابینہ شام 7 سے رات 12بجے تک میڈیا پر ایک ہی راگ الاپتی ہے نہیں چھوڑیں گے ، اندر کر دیں گے ، فلاں چور ، وہ کرپٹ ، سرعام پھانسی دے دیں گے وغیرہ وغیرہ لیکن عملی طور پر نتیجہ صفر ہے۔ اس سے بیوروکریسی، تاجر ،صنعتکار اور سرمایہ کار عدم تحفظ کا شکار ہو گیا ہے۔ جبکہ جن کو چور لٹیرا کہہ کر ساری عمر جیل کی چکی پیسنے کا کہا گیا تھا وہ جیلوں سے باہر ہیں۔ سب سے بڑے صوبے پنجاب کا حال بد ترین ہے۔ ان معاملات کو سلجھانے کی بجائے پی ٹی آئی والوں کا آجکل ایک نیا منترا چل رہا ہے کہ ہم سے پانچ سال بعد حساب مانگا جائے۔ ان کی یہ بات تب مانی جا سکتی ہے اگر انہوں نے ملک کو صحیح رستے پر ڈالنے کی طرح ڈالی ہوئی ہوتی۔ 18 ماہ ہونے کو ہیں لیکن حکومت کا معاشی جہاز اڑان بھرنا تو دور کی بات ابھی تک رن وے پر ٹیکسی کر رہا ہے۔ ایسی صورت میں ان سے بہتری کی امید کیسے کی جا سکتی ہے۔ انڈے ، مرغی ، بکری ، گائے اور کٹے سے شروع ہونے والی معاشی ترقی لنگر خانوں اور پنا گاہوں کی بند گلی میں آکررک سی گی ہے۔ خود حکمرانوں کو معیشت کی ان بھول بھلیوں سے نکلنے کا رستہ نہیں مل رہا تو عوام بیچارے کس کھیت کی مولی ہیں۔ وقت تیزی سے ہاتھوں سے نکل رہا ہے وزیر اعظم سے التماس ہے کہ اپنی سمت درست کریں ورنہ عوام کی جس حکومت سے امید ٹوٹ جاتی ہے اس سیاسی جماعت کا اپنا وجودخطرے میں پڑ جاتا ہے۔نوشتہ دیوار پڑھ لیں تاریخ یہی بتاتی ہے۔
(کالم نگار سینئر صحافی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved