تازہ تر ین

سی پیک:اہمیت، افادیت اور اثرات(1)

اکرام سہگل
پاکستان اور چین کے مابین مضبوط سفارتی، سیاسی اور عسکری تعلقات ہیں۔ البتہ ماضی میں تجارتی تعلقات محدود رہے۔ چین کی عظیم معاشی تبدیلی کی جھلک ہمارے معاشی نظام میں ظاہر نہیں ہوئی۔ اب سی پیک دونوں معیشتوں میں تعلق پیدا کرنے کی ایک کوشش ہے۔ اگر اس منصوبے کا موثر انداز میں اطلاق ہوتا ہے، تو یہ پاکستان، مغربی چین اور اس خطے میں بڑی تبدیلی کا سبب بن سکتا ہے۔ ڈیووس 2020 میں پاتھ فائنڈر اور مارٹن ڈو گروپ کے زیر اہتمام پینل ڈسکشن میں عبدالحفیظ شیخ نے سی پیک کی اہمیت اور اس کی کامیابی سے متعلق اظہار خیال کیا۔ انھوں نے سی پیک اور بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ کے اہم پہلو، موجودہ بین الاقوامی معیشت، اور پاکستان اور چین کی معیشتوں سے متعلق اہم حقائق پیش کرتے ہوئے سی پیک کا سیاق و سباق فراہم کیا۔ اپنے خطاب میں انھوں نے منصوبے سے متعلق ارادو ںکی تکمیل اور اس کام سے متعلق دیگر اہم پہلوﺅں کا احاطہ کیا۔
اس وقت چین کی آبادی 1.4 بلین اور اس کی جی ڈی پی 12 ٹریلن (کھرب)ڈالر ہے۔ یہ جاپان، روس، انڈیا اور برازیل کی مشترکہ GDP سے زیادہ ہے،اس محاذ پر فقط امریکا ہی19 ٹریلن کے ساتھ چین سے آگے دکھائی دیتا ہے۔ وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ کے مطابق چین کو فی کس جی ڈی پی (GDP per capita) بہتر بنانے کے حوالے سے سنجیدہ چیلنجز کا سامنا ہے۔ اپنی موجودہ نو ہزار ڈالر کیپٹل جی ڈی پی کے ساتھ چین گلوبل فہرست میں 71 ویںنمبر پر ہے۔اس فہرست میں سوئٹرزلینڈ 80 ہزار ڈالر، امریکا 60 ہزار ڈالر، سنگاپور57 ہزار ڈالر، جرمنی 44 ہزار ڈالر، جاپان 39 ہزار ڈالر، یہاں تک کہ ترکی اور ملائیشیا بھی دس دس ہزار ڈالر کے ساتھ نمایاں نظر آتے ہیں۔ چین کی مو¿ثر کارکردگی نے ملک سے آمدنی کے تفاوت کوکچھ ریجنز میں نمایاں نہیں ہونے دیا۔ شنگھائی، بیجنگ، تیانجن اورشنزین باقی حصوں سے بہتر نظر آتے ہیں۔ اگر خطے پر نظر ڈالیں، تو ایک طرف20 ہزار ڈالر اوردوسری طرف پانچ ہزار ڈالر آمدنی نظر آتی ہے۔ ڈاکٹر شیخ نے اس علاقائی فرق کو معاشی ہم آہنگی کے لیے قابل تشویش ٹھہرایا۔
عالمی سطح پر مربوط معیشت کی حیثیت سے اس کی سالانہ تجارت چار ٹریلن ڈالر سے تجاویز کرچکی ہے۔ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی ایف)1.4ٹریلن ڈالر ہے۔ممتاز چینی رہنما دنگ شا وپنگ کی اختیار کردہ معاشی پالیسیوں کے نتیجے میں ہمیں 70 کی دہائی میں معاشی ترقی پہلے پہل نظر آئی تھی۔
چین کی اقتصادی کامیابی کے پیچھے معاشی اور سیاسی استحکام، قیادت کی موثر تبدیلی ، منظم اور سستی افرادی قوت نمایاں ہے۔ اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری ملک میںلانا، بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ اتحاداور دیگر ممالک کو اپنی مصنوعات فروخت کرنے کی چینی قابلیت بھی اس فہرست میں شامل ہے۔ اس کی برآمدات اس وقت 2.3 ٹریلن ہیں۔ چین کسی ملک کے ساتھ شدید سیاسی تنازع کے باوجود تجارتی افادیت کو پیش نظر رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اس کی ایک مثال چین اور بھارت کے تجارتی تعلقات ہیں۔ 85 بلین ڈالر کے حجم کے ساتھ چین انڈیا کا سب سے بڑا بزنس پارٹنر ہے۔ صرف گزشتہ برس ہی بھارت میں چینی برآمدات میں چالیس فی صد اضافہ ہوا۔
پاکستان کی تاریخ کا جائزہ لیں، تو اندازہ ہوتا ہے کہ قیام کے بعد ہی سے یہ مسلسل حالت جنگ میں رہا۔ اس میں سرحدی محاذ، کشمیر تنازع، 1971 جنگ، سرد جنگ، افغان جنگ اور نام نہاد ”دہشت گردی کے خلاف جنگ“ شامل ہے۔ یہ تنازعات پاکستانی معیشت کے لیے گراں ثابت ہوئے اور بڑے معاشی اداروں کو پاکستان کے ساتھ طویل المدتی معاہدوں سے روکنے رکھنے کا باعث بنے۔ اپنی پوری تاریخ میں پاکستان سیاسی عدم استحکام کا شکار رہا۔کسی منتخب وزیر اعظم نے اپنی مدت پوری نہیں کی، جس کا خمیازہ ملک نے بھگتا۔اس کے باعث معاشی ترقی رفتار نہیں پکڑ سکی۔ البتہ آخری چند برس میں آئین کی بحالی، انتخابات کا انعقاد، طاقت اور اقتدار کی موثر منتقلی، اظہار کی آزادی اور سول سوسائٹی کی صورت ایک مثبت پیش رفت ہوئی۔
قدرتی وسائل سے مالامال اس ملک میں پوٹینشل کی کمی نہیں۔ یہ کوئلہ، گیس، آبی وسائل کے ساتھ ساتھ جغرافیائی اہمیت کا بھی حامل ہے۔کیا اب سی پیک پاکستان کے لیے ایک بڑا معاشی موقع بن سکتا ہے؟ 75 ٹریلن کی گلوبل جی ڈی پی کے ساتھ 2017 میں شرح نمو 3.5 فی صد رہی تھی۔ اور آئی ایم ایف کا 2018 ءکے لیے شرح نمو کا تخمینہ 3.9 فی صد تھا۔اس کی نسبت معاشی میدان میں بہتری کی واضح مثالیں ہمیں دنیا بھر دکھائی دیتی ہیں۔
زیریں سطح کیفیت پریشان کن ہے۔ ڈاکٹر شیخ کے بہ قول،”ہمارے پاس خطرہ مول لینے اور داﺅ لگانے کے امکانات خاصے کم ہیں۔“ شرح سود پہلے ہی نچلی سطح پر ہے۔ اس وقت Fed ٹارگٹ ریٹ 1.5 فی صد ہے، جب کہ ECBریٹ صفر کے لگ بھگ ہے، جس کی وجہ سے مونٹیری پالیسی کے اثرات محدود ہوجاتے ہیں۔ ٹیکس میں 1.5 ٹریلین کی کٹوتی عوامی قرضے میں خطرناک حد تک بڑھوتی کا سبب بن سکتی ہے۔ چین میں پرائیوٹ قرضے کی شرح بہت بلند ہے۔ چند ممالک اس معاملے میں دائمی عدم تواز ن کا شکار ہیں۔ چین، جرمنی اور جاپان میں chronic Current Account surpluses کا تصور رائج ہے، جب کہ برطانیہ میں دائمی Current Account deficits کا نظام موجود ہے۔
امریکا اور یورپ کے کچھ حصوں میں” ہائپر نیشنلسٹ “اور”پروٹیکشنسٹ“ کی بابت بڑھتے مکالموں کے ساتھ عالمی مالیاتی ڈھانچے پر بھی سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے کے بعد کچھ یورپی ممالک میں رائے شماری میں سخت گیر طبقات نے کامیابی حاصل کی۔ امریکا کے ساتھ پیرس معاہدہ، شمالی امریکا آزاد تجارتی معاہدہ (NAFTA) اور Trans-Pacific Partnership دراصل ماضی کی پالیسیوں میںایک بڑی اور واضح تبدیلی ہے، چند اشیاءپر محصولات نافذ کرتے ہوئے مزید محصولات کی دھمکی دی گئی ہے۔ اس نوع کی پالیسیوں کے نتیجے میں تجارتی جنگوں میں اضافہ ہوا اور عالمی اکانومی کو نقصان پہنچا۔کثیر الجہتی، یہاں تک کہ آزادانہ تجارت پر سوال اٹھائے گئے۔ اس ضمن میں چینی صدر باہمی ربط، تجارتی سہولت اور خطوں اور ممالک کے درمیان مارکیٹس کے انضمام کا ایک متبادل تصور پیش کر رہے ہیں۔
ون بیلٹ اور روڈ کا منصوبہ چین، ایشیا اور یورپ کے درمیان رابطے اور تعاون کا منصوبہ ہے۔ بیلٹ زمینی حصے اور روڈ سمندری راستے کو کور کرتا ہے۔ 1: زمینی پراجیکٹ میں مغربی چین سے مغربی روس یورایشین لینڈ برج 2: سنکیانگ سے جرمنی تک ریلوے (جو روس، پولینڈ اور قازقستان سے گزرے گی) 3: چین منگولیا، روس راہداری ( شمالی چین سے مغربی روس)، 4 :مرکزی اور مغربی ایشیا کوریڈور (مغربی چین تا ترکی) 5: انڈو چین کوریڈور(چین تا سنگاپور) شامل ہیں۔ اس کا مجموعی تخمینہ چار سے آٹھ ٹریلن ڈالر کے درمیان ہے، یہ ایشیا پیسیفک، وسطی اور مشرقی یورپ کے 68 ممالک کا احاطہ کرتا ہے، جہاں دنیا کی 40 فی صد جی ڈی پی موجود ہے۔ اورسمندری شاہراہ ریشم روڈ نے واضح طور پر بحیرہ جنوبی چین، بحر الکاہل اور بحر ہند میں وسیع رابطے کو فروغ دیا ہے۔ (جاری ہے)
(فاضل کالم نگار دفاع اور سکیورٹی امور کے تجزیہ کار ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved