تازہ تر ین

یہ سیاست کرنے کا وقت نہیں

ڈاکٹر عمرانہ مشتا ق
پاکستان کا وجود دنیا کے نقشے پر خود بخود ابھر کر سامنے نہیں آیا ۔ اس ملک کو نئی نسل نے اپنے اسلاف سے طشتری میں رکھوا کر وصول نہیں کیا ہے۔ 23 مارچ 1940 کی قرارداد پاکستان سے لیکر 14 اگست 1947 تک کا سفر خواتین کی مسلسل قربانیوں کا سفر ہے ۔ اس راہ میں جو تکلیفیں اس صنف نازک نے برداشت کی ہیں اس کا اعتراف سب نے کیا ۔ بابائے قوم کے ساتھ مادر ملت نہ ہوتیں تو پھر حالات کچھ اور ہوتے۔ بابائے قوم کی توانا روح کمزور جسم میں برق تپاں بن کر کلکتہ سے خیبر تک ہندو بت پرستوں کو خدا پرستی کا سبق دے رہی تھی، اس سفر میں آپ کی بہن کا وہ کردار جسے مورخین کے قلم نے ہمیشہ کے لیئے قلمبند کر لیا اور آج خواتین بڑے فخر و ناز سے ہر شعبہ ¿ حیات میں پورے وقار و افتخار سے کھڑی ہیں ۔ عورت نے اس کڑے وقت میں ساتھ نہ دیا ہوتا تو پاکستان معرض وجود میں ضرور آتا مگر کب آتا اس کا تعین نہ کیا جا سکتا ۔ آج ہم ایک مرتبہ پھر کڑے وقت سے گزر رہے اور اہل قلم کے قلب دھڑک رہے ہیں کسی انجانے خوف کی دھندلی تصویر دیکھ کر اب خواتین کی ذمہ داری پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے ۔ کل خواتین نے پاکستان کے قیام کےلئے گراں بہا قربانیوں کا ایک خوں فشاں باب رقم کیا تھا اور آج وہ استحکام پاکستان میں بھی صف اول میں دکھائی دیتی ہیں۔
یہ وقت سیاست چمکانے یا حکومت کو مورد الزام ٹھہرانے کا نہیں ہے۔ خدا را‘ وقت کی نزاکت کو بھانپو اور اپنا قومی فریضہ ادا کرو ۔ پورا پاکستان تو حکومت نے بند کر دیا ہے اور آپ کیا چاہتے ہو ۔یہ وقت تنقید کا نہیں تائید کا ہے اور اس وقت آپ دیکھ رہے ہیں حکومت احتیاط اور پرہیز میں بہت آگے جا چکی ہے۔ سکول ،کالج، یونیورسٹیاں بند، مارکیٹیں بند اور دفاتر بند کر دئیے ہیں ۔ نقطہ چینی بہت آسان کام ہے مگر عمل مشکل ہے۔ میری تمام سیاسی جماعتوں سے استدعا ہے کہ وہ قومی یکجہتی کو فروغ دیں اور رواداری کا ماحول پیدا کریں لوگوں کو حوصلہ دیں اور انہیں خوف اور ڈر سے نکالیں پوری قوم کو نفسیاتی مریض نہ بنائی پوری قوم کو مسیحا بنائیں۔
اس وقت پوری دنیا ایک خوفناک دور سے گزر رہی ہے اور اس خوف کو شوق میں بدلنے والی عورت ہے جس نے گھر کی چار دیواری سے لیکر وطن عزیز کی خوشحالی میں اپنے حصے کی شمع روشن رکھی ہوئی ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان نے مشکل کی اس گھڑی میں جو حکمت عملی اختیار کی ہے وہ قابل ستائش ہے ۔ ہمارا اشرافیہ جو گھروں میں بڑی بڑی دعوتیں کر رہا ہے اسے مزدور اور سفید پوش لوگوں کی تکلیف کا کوئی احساس نہیں ہے ،ایسے لوگ موجود ہیں جو روزانہ کنواں کھود کر پانی پیتے ہیں اور ان کی رات نیند میں نہیں جاگ کر گزرتی ہے۔سڑکوں پر ہوکا عالم ہے اور گھروں میں فاقے بال کھول کر اداسی میں اضافہ کر رہے ہیں ۔ اشرافیہ کو حکومت پاکستان کا مکمل ساتھ دینا چاہئے اور ہر صاحب حیثیت کو دس گھروں کی کفالت دو ماہ کےلئے برداشت کرنی چاہئے ۔ حکومت سندھ کو اپنے قدموں پر کھڑا ہونا چاہیئے یہ خوفناک وقت قربانی اور ایثار کا تقاضا کرتا ہے۔اور یہ قربانی کل بھی مادر ملت کی قیادت میں ماﺅں اور بہنوں نے دی تھی اور آج بھی وہ اپنی اسی ایثار کے تسلسل کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
کرونا جیسی وبا کی سزا سے بچنے کے لیئے اشرافیہ طبقے کو عوامی سطح تک آنا ہو گا ۔ اگر وہ ایسا کریں گے تو اس میں ان کا اپنا ھی بھلا ہوگا ۔ اس وقت ہر پاکستانی مرد و زن کو اپنا قومی کردار ادا کرنا ہو گا ۔ ریاست مدینہ کا حقیقی تصور مصیبت میں غریبوں کی مدد کرنے میں ہی پنہاں ہے ۔ اگر آپ کا ہمسایہ ، دوست، عزیز ، رشتہ دار ، ضرورت مند رات کو بھوکا سویا تو آپ شاید کرونا سے تو بچ جائیں گے مگر تم اس بھوکے کی آ ہ سے نہ بچ سکو گے ۔ آﺅ اس کڑے وقت میں حکومت کو تنہا نہ چھوڑیں ایک جسد واحد کا ثبوت دیں ۔ایسے وقت قوموں پر ہر دور میں آئے ہیں اور وہی قوم دنیا کے تختے پر رہی ہے جس نے ایثار اور قربانی کی منتہا کر دی۔ ترکی اور جرمنی کی مثالیں موجود ہیں۔ہر مشکل وقت میں خواتین کا کردار جزو اعظم رہا ہے اور اب بھی وہ اپنا کردار ادا کریں گی۔
(کالم نگار معروف شاعرہ، سیاسی
وسماجی موضوعات پر لکھتی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved