تازہ تر ین

جب کتابوں سے میری بات نہیں ہوتی

میم سین بٹ
موسم سرما جاتے جاتے بارشوں کے باعث اچانک پلٹ آیا تو کرونا کی وبا بھی ساتھ لے آیا ۔پاک ٹی ہاﺅس ، آرٹس کونسل اور الحمرا ءادبی بیٹھک کی سرگرمیاں معطل ہونے پر ہمیں فلیٹ تک محدود ہوجانا پڑا تو ہم نے موقع غنیمت جانتے ہوئے ”لاک ڈاﺅن“کے دوران چارکتابوں کا مطالعہ کرڈالاویسے بھی رات کے وقت کتاب پڑھے بغیر دن چڑھے ہمیں نیند ہی نہیں آتی بقول شاعر….
جب کتابوں سے میری بات نہیں ہوتی
تب میری رات، میری رات نہیں ہوتی
جن چارکتب کا ہم نے گزشتہ ماہ کے دوران مطالعہ کیا ان میں پہلی کتاب پروفیسر ایوب ندیم کا دوسرا شعری مجموعہ ”رات ڈھلتی نہیں“ تھی ان کا پہلا شعری مجموعہ ”چاند میرا ہمسفر“ دو عشرے پہلے شائع ہوا تھا اس سے پہلے ہم نے ادبی شخصیات کے انٹرویوز پر مشتمل ایوب ندیم کی کتاب ”ہوئے ہم کلام“ پڑھی تھی جو ادبی حلقوں میں ان کی پہچان بنی تھی ۔سنگت پبلشرزکے تحت چھپنے والے ان کے شعری مجموعے”رات ڈھلتی نہیں“ کا سرورق اسلم کمال نے بنایا اور انتساب محمد عمرکے نام کیاگیا ،پیش لفظ ڈاکٹر سلیم اختر نے لکھا جبکہ فلیپ ڈاکٹر خورشید رضوی نے تحریر کیا ۔اس مجموعے میں شامل ایوب ندیم کی ایک غزل سے ہمیں اختر شیرانی یاد آگئے ۔۔۔
ان کے شہر سے آنے والے یہ تو بتا وہ کیسے ہیں
پہلے سے کچھ بدلے ہیں یا بالکل پہلے جیسے ہیں
ڈاکٹر ایوب ندیم نے کتاب میں شامل متعدد غزلوں میں شہر کا ذکر کیا ہے جہاں انہیں کوئی جھیل نہ سایہ دکھائی دیتا ہے بلکہ شہر انہیں صحرا دکھائی دیتا ہے جس میں جسم و جان جلتے ہیں اور خوابوں کے لاشے اٹھائے پھرتے ہیں اور اس کے شہر میں جبر کے باعث شاعر کو ٹوٹے ہوئے پروں سے بھی اڑنا پڑا، تاہم ڈاکٹر سلیم اختر مرحوم کے بقول انہوں نے منیر نیازی کی طرح ” شہر سنگ دل“ کو جلا کر راکھ اڑا دینے کی بات نہیں کی بلکہ شہرکو بچانے کی بات کی ہے،شاعر اپنے شعری مجموعے ”رات ڈھلتی نہیں “ کی آخری غزل میں کہتے ہیں ۔
اک قدم ایسا اٹھانا چاہیے
شہر جلنے سے بچانا چاہیے
نیندجھولے میں تنہا جھول کر
آپ ہی خود کو سلانا چاہیے
سلیم الرحمان کہانی کارہیں ان کی کتاب ”میم صاحب “ الوقار پبلی کیشنز کے تحت ریگل چوک ٹمپل روڈ لاہور سے سید وقارمعین نے شائع کی ہے جو پروفیسر معین الرحمان کے صاحبزادے ہیں ،سلیم الرحمان نے کتاب کا انتساب اپنی کہانیوں کے کرداروں کے نام کیا ہے یہ ان کی 9 مطبوعہ کہانیوں کا مجموعہ ہے جن میں سے ایک کہانی کے عنوان ”میم صاحب “ پر کتاب کا نام رکھا گیا ہے ،سلیم الرحمان نے تقریباََ سبھی کہانیاں غریب اور پسے ہوئے طبقے کے بارے میںلکھی ہیں ان کا مشاہدہ بہت تیز لگتا ہے اورانہوں نے کہانیوں کی زبان بھی نچلے طبقے کی استعمال کی ہے جس سے کہانی کے کرداروں کے معاشرے کی مکمل عکاسی ہوجاتی ہے ان کہانیوں کا پس منظر لاہورشہر کی بستیاں ہیں انہیں پڑھتے ہوئے قاری خود کو شہر بے مثال کے گلی کوچوں میں گھومتا پھرتا محسوس کرتا ہے ،کتاب میں شامل پانچویں کہانی ”فرعون دریائے راوی میں ڈبا“ بھی لاہور شہر کے ایک متوسط طبقے کے گھرانے پرجادو ٹونے کے اثرات کے حوالے سے لکھی گئی ہے تاہم اپنے اختتام کی وجہ سے علامتی کہانی کی طرح عام قاری کے سر پر سے گزرجاتی ہے ۔
انسان کے سب سے قریبی رشتے ماں باپ ہوتے ہیں وہ ان دونوں کی مشترکہ تخلیق ہوتا ہے ،ماں انسان کے اس لئے بھی زیادہ قریب ہوتی ہے کہ وہ نہ صرف اسے جنم دیتی ہے بلکہ اس کی پرورش بھی کرتی ہے یہی وجہ ہے کہ دنیا کے متعدد مشہور ادیبوں، شاعروں اورصحافی دانشوروں نے تحریری طور پر ماں کی عظمت بیان کی ہے۔ اردو میں ماں کے حوالے سے ہم قدرت اللہ شہاب اورجناب ضیا شاہد کی کتب پڑھ چکے ہیں ۔ ندیم اپل نے گزشتہ دنوں ہمیں ماہر اقبالیات محمد الیاس کھوکھر ایڈووکیٹ کی کتاب ” پدر۔۔۔جان پسر“دی تو ہمیں خوشگوار حیرت ہوئی کہ یہ باپ پر لکھی گئی تھی جسے مکتبہ فروغ فکر اقبال نے علامہ اقبال ٹاﺅن لاہور سے شائع کیاہے ،کتاب کے سرورق پرباپ کی علامت کے طورپر سمندرکنارے روشنی پھیلاتے ہوئے لائٹ ہاﺅس کی تصویربنائی گئی ہے ،دیباچہ محمد متین خالد نے احادیث کی مدد سے تحریرکیا جبکہ جسٹس (ر) نسیم اختر خان کی ”بیان دلپذیر“ اور سیشن جج (ر) میاں محمد شفیع کی ”بیان دلآویز “ کے عنوان سے آراءبھی کتاب میں شامل ہیں ،محمد الیاس کھوکھر نے اپنے والد معراج دین مرحوم کے حوالے سے بتایا کہ وہ سیلف میڈ انسان تھے رسالے بھی پڑھا کرتے تھے ،جماعت اسلامی سے بھی منسلک رہے ،الیاس کھوکھر صحافی بننا چاہتے تھے مگر والدکی خواہش پر انہیں وکیل بننا پڑا۔
ادب وصحافت کی دنیا میں ازھرمنیرکا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں وہ بڑے باپ پروفیسر اکبر منیرمرحوم ( معاصرعلامہ اقبال ) کے صاحبزادے ہی نہیں خود بھی معروف ادیب، شاعر، صحافی،کالم نگار،محقق اورماہرلسانیات ہیں انہیں اردو، پنجابی ،ہندی ،عربی ،فارسی اور انگریزی زبانوں پریکساں عبورحاصل ہے،اب تک ایک سو سے زائدکتابیں لکھ چکے ہیں جن میں سے متعدد چھپ چکی ہیں ، ” پانامہ لیکس کی اندرونی کہانی “ ان کی نئی کتاب ہے جسے طفیل بک بنک نے لٹن روڈ لاہور سے شائع کیا ہے اس کتاب کوسازشوں ، الزام تراشیوں اور قانونی موشگافیوں کا داستان ہی قراردیا جا سکتا ہے بلکہ ہمیں توازھر منیرکی یہ کتاب پانامہ لیکس کے حوالے سے مکمل انسائیکلو پیڈیا ہی لگی ،یہ ازھرمنیرکے تحقیقی مضامین کا مجموعہ ہے جن میں سے کچھ مضامین روزنامہ خبریں میں بھی شائع ہوئے تھے تاہم انہیں کتابی صورت دیتے ہوئے اپ ڈیٹ کردیاگیا تھااس سلسلے میں مصنف ”حرف اول “ میں لکھتے ہیں کہ کتاب میں شامل پہلا مضمون نومبر 2016ءمیں چھپا تھا کچھ مضامین میں کسی قسم کا ردوبدل نہیں کیا گیا جبکہ کئی مضامین خصوصی طور پرکتاب کیلئے تحریرکئے گئے ازھر منیر نے کتاب میں اپنی پنجابی نظم بھی شامل کی ہے جس نے پانامہ کیس کی اندرونی کہانی کو کھول کر بیان کردیا ہے اس نظم کے دو اشعار ہیں ۔۔۔
کیس تے خیر پنامہ سی
نکلیا پر اقامہ سی
سبھے کجھ نوٹنکی سی
سبھے کجھ اخیر ڈرامہ سی
(کالم نگارسیاسی اورادبی ایشوزپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved