تازہ تر ین

سیاست یا کرونا وائرس

ثاقب رحیم
کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ کرونا وائرس بڑا خوددار اور انا پرست ہوتا ہے کہ وہ بن بلائے کسی کے پاس نہیں آتا۔ اسے بلانے یا لانے کےلئے خود باہر نکل کر جانا پڑتا ہے، اس سے منت سماجت کر کے ہاتھ ملانا پڑتا ہے۔ تب کہیں جا کر وہ آتا ہے اور دی ہوئی عزت افزائی کی وجہ سے پورے خاندان کو اپنی خدمات اور ہنر مندی سے بخوبی نوازتا ہے اور اگر اس سے زیادہ بے تکلف ہوا جائے تو وہ خاندان سے نکل کر دوست احباب اور آہستہ آہستہ پوری معاشرت کا مہمان بن کر سب کچھ کھا پی جاتا ہے۔
ہم بھی کتنے بے و قوف انسان ہیں، ان دیکھے اور ان جانے مہمان کو خود باہر جا کر مہمان بنا کر لے آئے ہیں اور اس وقت اس کی آﺅ بھگت کرتے ہیں جب تک وہ ہمیں گھر، خاندان بلکہ دنیا سے ہی بے دخل نہ کر دے اور وہ یہ کام دِنوں یا ہفتوں میں کر گزرتا ہے۔ کچھ سیانے لوگ اسے پہچان کر غاروں اور گھپاﺅں میں جا چھپتے ہیں اور باہر موجود افراد ان کو احمق اور ڈرپوک گردانتے ہیں۔ جلد اور بعد میں کف افسوس ملنے کے قابل بھی نہیں رہتے کہ کرونا ان پر سب کچھ کر گزرتا ہے۔ اور کوئی متاثر یا غیر متاثر اس سے یہ کہنے کے قابل نہیں رہتا کہ اب کچھ اور ”کرونا“۔
کرونا وائرس کے مقابلے میں ایک اور جرثومہ یا وائرس ہے جو اس سے کہیں زیادہ موذی اور خونخوار ہے اور وہ ”سیاست وائرس“ یہ ایسا ڈھیٹ اور ظالم وائرس ہے جس کو خاندانوں میں پیدا کر کے اس کی آبیاری بڑے عجیب ماحول اور خوراک کے ذریعے کی جاتی ہے اور بڑے لاڈ پیار سے بے حسی کی معراج تک تعلیم دی جاتی ہے۔ بہت کم سیاسی وائرس اس مہلک بیماری سے بچ پاتے ہیں۔ اس وائرس کی خوبی یہ ہے کہ دنیا کی تمام آبادی موت تک اس بیماری میں مبتلا کر دی جاتی ہے جس کے اثرات سے آج تک کوئی بچ نہیں سکا۔ اس سیاسی وائرس نے دنیا کی مہلک اور سفاک ترین بیماریوں کو دم دبا کر بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ سیاسی وائرس کی تاریخ گواہ ہے کہ اس نے اپنی فصلوں کو بچانے کیلئے انسانی خون سے ایسی آبیاری کی ہے کہ یہ نسل بقاءدائمی اختیار کر چکی ہے۔
کرونا وائرس تو ایک نومولود وائرس ہے جسے خوف کی علامت بنا کر سیاسی وائرس نے اپنی طاقت کو مستحکم کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے اور اس عمل میں سیاسی وائرس سو فیصد کامیاب ہو گا۔سیاسی وائرس دنیا میں بڑی جنگوں اور فسادات کی بنیاد بنا اور بہت خطرناک کیمیائی ہتھیاروں کا موجد بھی بنا۔ پرانی یا ماضی قریب کی جنگوں کی تاریخ دیکھی جائے تو ہر طرف سیاسی وائرس کا رفرما نظر آئے گا۔ زمین پر اقوام کی تقسیم، ترقی پذیری، مفلسی، قتل و غارتگری اور تباہی بربادی کی بنا سیاسی جرثوموں کے حامل افراد کی کارستانی رہی ہے۔ اور جو لوگ ایسے جراثیم کے مرتکب ہوئے وہ کسی نہ کسی حوالے سے مختلف ادوار اور علاقوں میں قومی یا بین الاقوامی ہیروز بنے۔ انسانیت کو قتل کرنے والے انسانوں کے رہنما کہلائے۔ مہا بھارت میں برادری اور سیاسی اقتدار کے بھوکے وائرس کے درمیان جنگ نے ثابت کیا کہ سیاسی وائرس طاقت کے حصول کےلئے کچھ بھی کر سکتا ہے۔ اس لئے طاقتور وائرس سے خوف و ہراس پھیلا کر اپنے مقاصد حاصل کر سکتا ہے۔ حکمرانی طاقت کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ خدا کی حکمرانی میں بھی سب سے اہم سچائی طاقتور ہونا ہے۔ قادر مطلق ہونا بغیر حتمی اختیار کے کیسے ممکن ہے۔ اللہ مطلق العنان ہے۔ اسی لئے وہ اللہ ہے اور اس امر میں اس کا کوئی ثانی نہیں اور نہ ہو سکتا ہے۔ اس امر کو منوایا گیا۔ اس کے بعد تخلیق عالم میں اس کی حکمرانی قائم ہوئی اور تا ابد قائم رہے گی۔ اب انسان چونکہ اس کا نامزد خلیفہ ہے جس کی سرشت میں فساد، قتل و غارتگری اور بربادی کے ساتھ ساتھ حکم عدولی اور بغاوت ڈال دی گئی ہے تو بھلا وہ اپنی ان ودیعت کی ہوئی خوبیوں کو بروئے کار کیوںنہ لائے گا۔ جزا اور سزا کا یہ نظامِ انسانی ان ہی اعمال پر منحصر ہے۔ تخلیق کے بعد پہلی نافرمانی اور حکم عدولی نے اس نظام عدل کی بنیاد ڈال دی تھی۔ اس کے بعد ابلیس کا کردار سامنے آیا۔ جو انسان کی اس کمزوری کو ہوا دینے اور لگاتار بداعمالیوں کو جاری رکھنے کےلئے وجود میں لایا گیا اور یہ ابلیس کا کردار خود بخود کو جنم لے ہی نہیں سکتا تھا۔ ابلیس نے سب مضبوط پنجے سیاسی وائرس پر گاڑے اور ان میں سے معدود چند کے علاوہ بیشتر اس کے حصار میں مقید ہیں اور ابلیس خبیث نے ان کی زندگیوں اور ان کی بداعمالیوں کو اس قدر خوبصورت بنا کر ان کے سامنے پیش کی ہیں کہ اس دنیا میں تمام آسمانی سچی ہدایات کو یکسر بھول چکے ہیں۔
سیاست میں بھی دو قسم کے وائرس ہیں ایک حکمران اور دوسرا اپوزیشن یہ ایسے متضاد صفات کے حامل وائرس ہیں کہ کسی طور ایک جگہ اکٹھے ہو کر بیٹھنے اور سوچنے کا نام نہیں لیتے بلکہ کرونا جیسے وائرس کو استعمال کر کے اپنے سیاسی وائرس کو مزید تقویت دیتے ہیں۔ ان دونوں کا ایک دوسرے کے بغیر گزارہ بھی نہیں۔ اگر اپوزیشن کا وائرس کمزور ہو جائے تو حکمران وائرس کو کھیل میں مزا نہیں آتا اور باہر جا جا کر اپوزیشن کے وائرس کو بلا کر لاتی ہے کہ ان کا کھیل جاری اور حکمران جماعت میں موجود جرثوموں کو مصروف رکھا جائے ورنہ اندرونی طور پر ماہر وائرس ایک دوسرے کے خلاف ہو کر بربادی کا پیش خیمہ بن جاتے ہیں۔ ان وائرس میں بھی حکمرانی کے تمام آداب موجود ہوتے ہیں۔ سب سے طاقتور کو،باقی تمام اپنا امام مانتے ہیں اور اس کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے اپنا اپنا حلوہ مانڈہ بنائے رکھتے ہیں۔ لیکن سب سے مضبوط کو چند مضبوط قوتوں کے ساتھ کی ضرورت رہتی ہے۔ جس میں اسلحے کی طاقت اور انصاف کے ترازوں کی ضرورت ہوتی ہے لیکن کبھی کبھی ان طاقتوں میں بھی اختلاف دیکھا گیا ہے جس کے نتیجے میں پہلے والے وائرس کو تبدیل کر کے طریقے اور ایک مربوط نظام کے ذریعے دوسرے وائرس بااختیار کر دیئے جاتے ہیں جو ہمیشہ کی طرح عوام پر بیماری کا حملہ بن کر حاوی ہو جاتے ہیں۔ اس طاقت میں بھی روایت اور درایت کا اصول کاربند ہوتا ہے۔ وائرس خاندانی طور پر جتنا قوی ہو گا وہ اتنا ہی موثر اور دیرپا ہوتا ہے اور اس کے آنے جانے کے مواقع ہر وقت موجود ہوتے ہیں۔ ایسے جرثومے اور وائرس زیادہ ہمارے خطے میں پائے جاتے ہیں جبکہ دیگر خطوں نے ان سے تقریباً جان چھڑا لی ہے اور وہاں اب جرثوموں کے مہلک اور فائدہ مند ہونے کے معیار پر پرکھ کر لایا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے کرونا جیسے وائرس بہت دیر تک وہاں قائم نہیں رہتے اور متاثرین کو جلد ہی نجات دلانے میں بہتر کردار ادا کرتے ہیں تا کہ ان کے اپنے وائرس کی طاقت کے اثرات زائل نہ ہوں۔
اب اپوزیشن سے درخواست ہے کہ ہمارے ملک کو ایک آسمانی یا انسان کی پیدا کردہ آفت کرونا کا سامنا ہے۔ حکمرانوں سے مل کر کرونا کے خلاف متحد ہو جائیں اور اپنا احسن کردار نبھائیں اس سے پہلے کہ ہاتھ ملنے کے قابل بھی نہ رہیں۔ اختلافات اور دشمنیاں کسی اور وقت کےلئے اٹھا رکھیں تا کہ قوم و ملک سلامت ہے تو بہت وقت ملے گا ایسے سیاسی وائرس کے جوہر دکھانے کا ۔آج ضرورت ہے کہ تمام اختلافات بھلا کر ملک اور قوم کی بقا اور بھلائی کےلئے ایک ہو کر اپنے سیاسی وائرس کی فوج کو کرونا وائرس کے خلاف میدان جنگ میں اتار کر کرونا کو شکست دیں تا کہ آپ کو اپنے جوہر دکھانے کا بار بار موقع ملتا رہے۔
(کالم نگارسیاسی وسماجی ایشوزپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved