تازہ تر ین

” کرونا : بنی نوع انسان پر فرد جرم “

نگہت لغاری
قرآن حکیم واضح کہتا ہے ”بعض اوقاات انسان جس امر کو اپنے لئے خسارہ سمجھتا ہے وہی امر اس کیلئے منافع آور ہوتا ہے ، کہ اللہ حکمت والا اور جاننے والا ہے“۔
وبائیں جب بھی آئیں اور جہاں بھی آئیں انسانوں کے اپنے گناہوں اور خطاو¿ں کی وجہ سے ہی آئیں کیونکہ قرآن حکیم میں واضح بیان ہے کہ ”اللہ کسی پر ظلم نہیں کرتا“۔ خدا نے بنی نوع انسان کیلئے مکمل ضابطہ حیات طے کردیا تھا ۔ کھانا پینا، رہنا سہنا، اٹھنا بیٹھنا، نہانا دھونا، سونا جاگنا، معاشرتی اور معاشی صورتحال واضح کردی تھی، مگر ہم نے اپنی ترقی کے زعم میں سارے اصول ضابطے خود بنا لئے ۔اللہ نے بار بار غلط کرنے سے روکا اور کہا یہ نہ کرنا وہ نہ کرنا، پھر جب انسان نے سب کچھ اپنی مرضی سے کرنا شروع کردیا تو اس نے ”نا کرو“ کی ہیت ترکیبی ہی بدل دی اور ناکرو کو ”کرونا“ بنادیا۔ اس وائرس کا نام کچھ اور بھی ہوسکتا تھا لیکن چونکہ سارا فلسفہ ہی کرنا ،نا کرنا کی لپیٹ میںآگیاتھا اس لئے اس وبائی آفت خداوندی کا نام خود بنی نوع ہی نے تجویز کرڈالا ، شاید اس کاری آزمائش سے نکلنے کے بعد انسان غلط کرنے کی ضد سے باز آجائے۔
انسان نے سائنس میں جو معجزاتی ترقی کی ہے کہ لگتا ہے ان سائنسدانوں کے پاس کھل جا سم سم کی ایسی جادوئی چھڑی ہے کہ وہ ہر بیماری کا علاج بنالیں گے حالانکہ انہی سائنسدانوں کو یہ بھی علم ہے کہ انسان کو یہ عقل و طاقت اللہ کی عطا کردہ ہے ، ورنہ انسان اپنی بے بسی اور بے چارگی سے بھی مکمل آشنا ہے کہ یہی سائنسدان جب بے بسی اور بےچارگی کی سی کیفیت سے دور چار ہوتا ہے تو اپنے چہرے سے مکھی بھی نہیں اڑا سکتا۔ اللہ نے انسان کو عقل و شعور دینے کے باوجود مختلف وقتوں میں اپنے پیغمبر، رسول بھیجے تاکہ اُن کے اعمال اور ہدایات سے وہ کچھ سیکھیں لیکن انسان ہمیشہ اپنے ہی عقل و شعور کو اہمیت دیتا رہاہے، اور اب سائنسی ترقی نے تو اسے مزید نافرمان بنادیا ہے اور اللہ کے احکام تو کجا ایک دوسرے سے بھی کچھ سیکھنے سے گریزاں ہیں۔
آج ہر انسان دوسرے انسان سے جس طرح بے پرواہ اور الگ تھلگ زندگی گزارنے کا قائل ہے کرونا شاید اسی لئے وارد ہوا ہے ۔ ہنسی کی بات ہے کہ لوگ اب ایک دوسرے سے جتنے بے تعلق ہوگئے تھے ہمسائے کو ہمسائے کے دکھ درد یا ضرورت کا خیال نہیں تھا، رشتے ناطے اتنے خود غرض ہوگئے تھے کہ کسی خاندانی اجتماع میں امیر شتہ دار غریب رشتہ دار کو گلے لگا کر ملنا تو دور ہاتھ تک نہیں ملاتا تھا۔ اب کرونا وائرس نے سب کو ایک دوسرے سے نوچ کر الگ کردیا ہے ۔ گاڑیاں صاف کرنیوالے غریبوں کے معصوم بچے ہوٹلوں میں آتے جاتے اور کھاتے پیتے ہم عصروں کو حسرت بھری نظروں سے دیکھتے تھے وہ اب ہوٹل ہی بند ہوگئے ۔
اللہ نے ہمارے لئے خوبصورت کائنات سجائی تھی جس میں اسکی بنائی ہوئی ہر آرائش بنی نوع انسان کو اہمیت دینے کا اظہار تھا۔ زمین کو انواع واقسام کی خوشبوو¿ں سے بھر دیا، ہرے بھرے درخت ،پھول پودے اور اناج ترتیب سے رکھ دیئے ،سمندروں اور دریاو¿ں کے نیچے مچھلیوں کی صورت میں ہمارا کھانا محفوظ کردیا، موتی اور مونگے ہماری آرائش و زیبائش کیلئے زیور کے ڈبوں کی طرح سپیوں میں بند کرکے رکھ دیئے اور پھر شعور دیا کہ انہیں کھوج کر نکال لو، آسمان کو ہماری روشن رہنمائی کیلئے چاند سورج اور تاروں سے سجا دیا ،قوسِ قزاع کو آسمان کے دوپٹے پر گوٹے کناری کی طرح ٹانک دیا مگر بنی نوع انسان نے ان سب نوازشات کے بدلے میں کیا کیا ۔
ہم بنی نوع انسان نے اللہ کے ہی دیئے ہوئے شعور اور عقل کو سائنس کی آڑ میں جس طرح منفی انداز میں استعمال کیا ہے اپنے آپ کو سہولیات کے ساتھ اتنا بے سکون کردیا ہے کہ وہ سہولیات ہی کمتر ہوگئی ہیں۔اس عقل و شعور کو جسے اللہ نے انسان کی اپنی سہولت اور بہتری کیلئے عطاکیاتھا اس عقل و شعور سے اللہ کی خوبصورت کائنات کو تہس نہس کرنے میں سرگرداں ہوگیاہے۔ ایک بار ایک امریکی صدر نے پریس کانفرنس میں کہاتھا ” ہمیں فخر ہے کہ ہمارے سائنسدان اور ماہرین ایسے ہتھیار بنانے میں دن رات مصروف ہیں جن سے ہم کسی بھی ملک کی آکسیجن چوس لیں گے اور وہ صفحہ ہستی سے مٹ جائینگے، یا معذور ہوکر زمین پر کیڑوں کی طرح رینگتے رہیں گے جیسا کہ ہمارے ایک لٹل بوائے (ایٹم بم) نے جاپان میں ایک کھیل کھیلا تھا۔ ہمارے سائنسی آلات دشمن ملک کے سمندروں اور دریاو¿ں کے پانیوں کو ابال کر آبادی کی طرف پھینک دینگے اور وہ تمام انسانوں کو اپنی آغوش میں لیکر ابدی نیند سلادینگے، پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑتے پھریں گے۔ یاد رہے کہ ایک حدیث میں پہاڑوں کا روئی کے گالوں کی طرح اڑنا قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی کائنات اور اس میں بسنے والی تمام مخلوق کے بارے میں امریکہ بہادر نے مزید جو تفصیلات اور ارادے بیان فرمائے وہ میں نے 13مارچ کے انگریزی اخبار پاکستان آبزرو میں بیان کردی ہیں اگر قارئین کے پاس وقت ہو تو ضرورت پڑھیں۔
اب اگر ذاتِ رحیم وکریم نے اپنے لوگوں کیلئے دروازے دھڑام سے بند کردئیے ہیں تو اس ناراضگی کاکیا عالم ہوگا۔یہ اس کی ناراضگی کی انتباہ ہے ایسا شاید پہلے کبھی بھی نہیں ہوا تھا جیسا کہ ایک وائرس کے حقیرکیڑے نے کرڈالا ہے۔ ہم بے حیائی میں بے لگام ہوگئے ہیں ۔یورپ کی تو خیر دین اور دنیاہی علیحدہ ہے۔ ہم کہاں جارہے تھے سب علم اور احکامات کوپیروں تلے روند کرآگے بڑھ رہے ہیں۔ وبائیں ہمیشہ بے حیائی کی وجہ سے آتی ہیں۔ صرف ایک نظر میڈیا پر ڈالیں ایک چینل پروائرس کی تفصیل اور اموات کی تعداد بتائی جارہی ہے اور دوسرے چینل پر صرف صابن کی ایک ٹکیا یا کسی بیوٹی کریم کی تشہیر پر سارا چینل بے لباس ہو جاتاہے ۔ کیوں کوئی پابندی نہیں لگائی جاسکتی۔ علماءدین اورحکومتی نمائندے سیاست کے کس نشے میں آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں۔ دراصل صرف کپتان جاگ رہا ہے اور پوری ٹیم نیند میں ہے۔ کپتان کی دو آنکھیں کس کس واقعے کواحاطے میں لے سکتی ہیں۔اپنے ایک شعر پرختم کرتی ہوں۔ ع
آﺅمل جل اس کے ساتھ چلیں
کہیں ایک اکیلاگِر نہ پڑے
(کالم نگارانگریزی اوراردواخبارات میں لکھتی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved