تازہ تر ین

کرونا اور مثبت حکومتی اقدمات

انجینئر افتخار چودھری
اس موذی وائرس نے پوری دنیا کو لپیٹ میں لے لیا ہے۔پاکستان بھی خطرے کے دور میں داخل ہو چکا ہے۔یہاں کنوڈ 19کے مریضوں کی دن بدن تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ملک خداداد میں خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے۔اس ملک میں تو اٹلی سے زیادہ خطرہ ہے اس لیے کہ اٹلی میں تو کوئی ایسا گروہ موجود نہیں تھا جس نے کہا ہو مصافحہ سنت عیسیٰ ہے ہم تو ہاتھ ملا کر رہیں گے اور نہ ہی کسی نے ضد کر کے کہا ہو کہ جو رات قبر میں ہے وہ باہر نہیں ہو سکتی لہٰذا ہمیں تبلیغ کرنے دیں ہاتھ ملانے دیں ۔سچ پوچھیں جتنی دل شکنی اس مصیبت کی گھڑی میں ہوئی کب اس طرح کی صورت حال کا سامنا زندگی میں پہلی با ہوا۔
قارئین! اسی دوران انگلینڈ سے جناب شہباز شریف وارد ہوئے ہیں ۔میاں نواز شریف نے انہیں گلے لگا کر پاکستان بھیجا ہے اور یہ کہہ کر بھیجا ہے میری پرواہ نہ کرو اور جاﺅ دکھ کی اس گھڑی میں پاکستان کے عوام میں جا کر ان کی مدد کرو۔گویا شہباز شریف یہاں پہنچ کر کلورین سے پنجاب کی سڑکوں کو دھوئیں گے۔انہوں نے مزید فرمایا ہے کہ کاش نیازی صاحب ان دو سالوں میں ہسپتال بنا لیتے تو قوم کو یہ دکھ نہ دیکھنا پڑتا ۔انہیں کون سمجھائے کہ عثمان بزدار نے اس دوران ہسپتال ہی نہیں عامة الناس کی بہتری کے لئے ایسے اقدامات کئے ہیں جو آپ پینتیس سالوں میں نہیں کر سکے ۔ضمانتوں کا موسم ہے ان کی بھی ہو جائے گی۔ بس سوال یہ ہے کہ اس ملک کو اگر انہوں نے نہیں لوٹا تو کون کھا گیا؟۔یہاں میں جناب عثمان بزدار کی کارکردگی کی تفصیلات نہیں بتانا چاہتا لیکن اتنا ضرور بتا دوں کہ آپ نے اپنے دور حکومت میں جنوبی پنجاب کو سندھ بنا کے رکھ دیا تھا۔ تھر کی جھلک راجن پور ،صادق آباد، رحیم یار خان میں دیکھی جا سکتی تھی۔ لاہور میں پر کیپیٹا چھہتر ہزار روپے خرچ کئے تھے جبکہ اس کے مقابلے میں جنوبی پنجاب میں بائیس سو روپے لگائے گئے تھے۔فنڈ تو آپ مختص کر لیتے تھے مگر بعد میں اورنج ٹرین پر لگا دیتے تھے ۔ عثمان بزدار نے سب سے پہلے یہ کام کیا کہ اس نے جنوبی پنجاب کے فنڈ کو سیل کر دیا اور واضح کیا کہ ان پینتیس فی صد بجٹ میں ایک روپیہ بھی باہر نہیں لگے گا اس سے سڑکیں ہسپتال بنائے ،نیو نشتر بنایا ۔جناب عالی ‘آپ سمجھتے ہیں کہ میں پاکستان جاﺅں گا تو وہ منظر ہو گا جو امام خمینی کی واپسی پر ہوا تھا یا بے نظیر کی آمد پر ہوا تھا ،یہاں لوگوں نے آپ کی آمد کو بن بلایا مہمان سمجھ کر قبول کیا ہے۔افسوس یہ ہے کہ ایک طرف بلاول بھی کہتے ہیں کہ ہم سیاست نہیں کریں گے ایک آدھ بیان اچھا بھی دے دیتے ہیں اور بعد میں کہتے ہیں نیازی فیل ہے اور دنیا میں جو سب سے اچھا تھا وہ ان کے والد تھے ۔ آصف علی زرداری اورنواز شریف کو دو چلے ہوئے کارتوسوں سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں دی جاتی اور تیسرا خود شہباز شریف ہیں ۔کہتے ہیں ہم سیاست نہیں کرتے ‘با با آپ سیاست واقعی نہیں کرتے آپ تو ایک گھناﺅنا کھیل کھیل رہے ہو۔ مسلم لیگ ن والے کہہ رہے ہیں کرونا کی اس وباءمیں ہم سیاست نہیں کریں گے اور ساتھ ہی بزدار پر حملے کر رہے ہیں۔فیاض چوہان نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ ہم اب سیاست نہیں کریں گے۔پیپلز پارٹی کو بھی ایک سازش کے تحت سراہا جا رہا ہے کہ ہم تو لٹ گئے ہیں چلو مراد علی شاہ کی ستائش کر لیتے ہیں۔سندھ گورنمنٹ کو کافی پھونک بھری گئی ۔تفتان بارڈر پر جو کچھ ہوا اس پر بھی سیاست کی گئی قابل نفرت بات یہ ہے کہ خواجہ آصف جیسے بزرگ سیاست دان نے اسے فرقہ ورانہ لڑائی بنانے کی کوشش کی ۔ادھر نون لیگ اور دیگر ہم نواﺅں نے یہ زور لگا دیا کہ مراد علی شاہ کی بلے بلے کرا دی۔یہ تو جب سکھر میں کرونا زدہ لوگ دروازے توڑ کر سڑک پر آئے تو مراد علی شاہ تھیوری ناکام ہوئی۔اس کے مقابلے میں ڈیرہ غازی خان ملتان میں قرنطینہ مراکز بنائے گئے۔ جناب عثمان بزدار ،ڈاکٹر یاسمین راشد نے میڈیا ٹیم کے ساتھ کمال کا کام کیا ۔فیاض چوہان کی کارکردگی اس لحاظ سے اہم ہے کہ انہوں نے گورنمنٹ آف پنجاب کے دفاع کےلئے ایک کہنہ مشق ٹیم کھڑی کر دی جو میڈیا پر آ کر حکومت پنجاب کےلئے مثبت کام کر رہی ہے۔
قارئین محترم !وبائیں اللہ کی جانب سے ہیں اور ان کا مقابلہ بھی حوصلے سے کیا جاتا ہے۔نبی پاک کے زمانے میں بھی وباءپھیلی تھی انہوں نے بھی وہی کیا جس کی مثال آج گورے بھی دیتے ہیں جس پر چائینہ نے عمل کیا ہے۔ہاں ایک بات یاد آئی جب ووہان میں پاکستانی طلبہ محصور ہوئے تو مخالفین نے کہا انہیں پاکستان کیوں نہیں لایا گیا اور جب تفتان سے پاکستانی آئے تو کہا گیا انہیں آنے کیوں دیا گیا۔
پنجاب حکومت اس وباءسے بچنے کےلئے ان لوگوں کےلئے جو انتہائی غریب ہیں راشن کا انتظام کر رہی ہے۔ ریلوے اسٹیشنوں بس اسٹینڈ اور سڑکوں کو کلورین سے دھونے میں لگی ہوئی جبکہ میڈیا کا ایک طبقہ اس دھن میں لگا ہوا ہے کہ یہ دیکھو مریض پکڑ لیا۔چارپائیوں کے نیچے گھس کر لوگوں کو سامنے لایا جا رہا ہے دوسری جانب یہ لوگ انہیں ضروری ماسک بھی نہیں دے رہے۔ضروری امر یہ ہے کہ زندگی کے ہر مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے اصحاب خیر سامنے آئیں ۔مختلف چیمبر آف کامرس، سماجی تنظیمیں،سماجی کارکن ۔ ہاں یاد آیا وہ کدھر ہیں آنٹیاں جو میرا جسم میری مرضی والی تھیں آپ نے دیکھا ہو گا اس نازک موقع پر یہ لوگ جو اس معاشرے کو مادر پدر آزاد معاشرہ بنانا چاہتے تھے وہ غائب ہیں۔ پاکستانیوں کو سمجھ لینا چاہئے کہ ان کے دکھ درد کا ساتھی کون ہے۔ وہ عمران خان جو آئے دن اپنی عوام کے دکھ درد میں شریک ہونے لوگوں کے سامنے آتا ہے۔عمران خان عوام کےلئے دن رات کام کر رہے ہیں۔
دنیا میں سیاست میں جھوٹ چلتا رہتا ہے لیکن جتنا جھوٹ ہمارے سیاست دان بولتے ہیں شائد ہی کوئی اور بولتا ہو آپ کو یاد ہے کہ ترک صدر کی اہلیہ کا ہار بھی پاکستان پیپلز پارٹی کے وزیر اعظم کی اہلیہ لے گئی تھیں۔نون لیگیوں کو تو ایسی بات کرتے ہوئے گریبان میں جھانک لینا چاہئے کہ اس ملک کے وسائل کو کس قدر لوٹ لے گئے جن فلیٹوں کو وہ اپنا نہیں مانتے تھے انہی میں رہائیش پذیر ہیں۔
کرونا نے تو سب کچھ دبا دیا۔ صوبہ ہزارہ اور جنوبی صوبہ پنجاب برادر خدائے یار چنڑ جناب طارق چیمہ اور لاکھوں لوگوں کی خواہش بحالی صوبہ بہاول پور۔بریگیڈئر طارق زمان نے کیا خوب کہا ہے ۔
اب یہی ہے رونا دھونا
ہائے کرونا ہائے کرونا
(پنجاب حکومت کے ترجمان ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved