تازہ تر ین

کرونااورمذہب….(2)

جاوید کاہلوں
دنیا میں کروناوائرس سے متعلق سب سے زیادہ شغل مذہبی طبقات لگا رہے ہیں۔ برصغیر میں دو سب سے بڑے مذاہب‘ہندومت اور اسلام ہیں۔چند دن قبل ہمسائیہ ملک سے موصول ہونے والی سوشل میڈیا کی کلپس کی بات کریں تو کرونا سے متعلق علاج کے تیر بہدف نسخے وہ اپنے دیدوں کے جنتر منتر میں سے پیش کرتے ہیں۔ تھوڑا آگے بڑھیں تو ان کے نزدیک مکمل شفاءکے لئے گائے کا پیشاب پینے یا اس کے گوبر کی لپیٹ لگانے میں بتاتے ہیں۔عامتہ الناس کویقین دلانے کی خاطر وہ شرطیں لگاتے اورقسمیں بھی اٹھاتے ہیں۔ وطن عزیز میں چونکہ مسلمان واضح اکثریت میں بستے ہیں اس لئے یہاں پربھی بعض مذہبی رہنما‘ بڑے حتمی طریقے سے چند وظیفے اور عمل کرنے کا بتاتے ہیں۔ بلکہ اکثریہ شرط بھی لگاتے ہیں کہ اگر ایسے وظیفے میں کوئی شک وشبہ کی گنجائش رکھی تو اس کااثر زائل بھی ہوسکتاہے‘وغیرہ وغیرہ۔ اس سلسلے میں ہم اپنے بچپن سے مکہ ومدینہ میں بستے ”شیخ احمد“ نامی مذہبی ”کامل درویش“ کا بھی متواتر قصہ سنتے چلے آرہے ہیں۔ وہ مسلسل ہر موقع بے موقع ایسے حساس اوقات میں نمودار ہو کر قرآن کی تلاوت کرتے کرتے سو جاتے ہیں۔ خواب میں انہیں پاک سرکارِ مدینہ کی زیارت ہوتی ہے‘ جو انہیں جاری وساری مصیبت سے نکلنے کے لئے کوئی ”وظیفہ“ عطاکردیتے ہیں۔ پھر یہ ”شیخ احمد“ ایسے وظیفے کو حضورپاک کی سند کے ساتھ مسلمانوں کے لئے جاری فرماتے دیتے ہیں اور آخر میں تنبیہ بھی کرتے ہیںکہ جو اس پر شک کرے یا اس کی درجن دودرجن کاپیاں بناکر آگے تقسیم نہ کرے‘ اس کی ہلاکت بھی یقینی ہوتی ہے ۔
اب جبکہ یہ کروناوائرس کادور دورہ چل رہا ہے تو میں نے اپنے پڑھے لکھے ہم عمروں( جوکہ اکثر افواج پاکستان سے سینئر رینکس میں ریٹائر ہو چکے ہیں اور آج کل دادا‘ نانا بھی ہیں) کے واٹس اپ گروپ میں آج صبح چھ سات دہائیوں کے بعد پھرسے ویسے ہی پرانے شیخ احمد کو پھر ”پا“ لیا ہے جیساکہ ہمارے بچپن میں بھی تھا۔ اس شیخ احمد کا وہی پرانا شغل بھی بدستور اسی طرح چل رہاہے اور اب وہ ڈاک کی بجائے سوشل میڈیا پر اپنی زیارت وبشارت کو بیان کررہا ہوتاہے۔ اسی طرح سے وہ بھی نہیں بھولا کہ ہر پڑھنے والا اس کی اس بشارت کوکم ازکم پانچ بڑے بڑے واٹس اپ گروپ میں شیئر کرے اور ثوابِ دارین حاصل کرے وغیرہ وغیرہ۔لطف کی بات ہے کہ اس شیخ کوآج تک موت بھی نہیں آئی اوراس نے اپنا پرانا شغل بھی نہیں چھوڑا۔ ایسا شغل وہ چھوڑ بھی کیسے سکتاہے جبکہ ان پڑھ تو کجا‘ بڑی بڑی عمروںوالے‘ وسیع تجرباتِ زندگی رکھنے والے اور اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی اس کے وظیفے کو بڑی مستعدی سے آگے پہنچانے میں فوراً لگ جاتے ہیں۔
اس موقع پر غور طلب بات یہ شیخ احمد جیسا فرضی کردار نہیں بلکہ یہ ہے کہ ایک طرف تو بنی نوع انسان کسی آفت میں مبتلا ہوتی ہے۔ بہت سے اللہ والے بزرگ اورقابل سائنسدان‘ اللہ تعالیٰ ہی کے عطا کردہ ”علم“ سے اس آفت کا حقیقی جواب تلاش کرنے میں وقف ہو جاتے ہیں۔ تو دوسری طرف انہی انسانوں میں سے ایک گروہ(اگرچہ وہ بہت محدود ہی ہو) انسانوں کے جذبات سے ابلیسی اشاروں پر ایک مکروہ کھیل رچا دیتے ہیں۔ ایسے ابلیسوں کے شائد علم میں نہیں کہ ”باخدا‘ دیوانہ باشد….بامحمد ہوشیار“ سرکارِ مدینہ علیہ السلام واضح فرماگئے تھے کہ اگر کسی نے ان کے اسم مبارک کےساتھ کوئی جھوٹ منسوب کیا تو وہ شخص آگ میں اپنا ٹھکانہ بنالے۔
اب ایسے مواقع پر کوئی پادری‘ربی یا ممنت وغیرہ تو جو ان کے من میں آئے سو کہتے پھریں‘ کوئی مسلمان اگر حضور کے حوالے سے کوئی غلط بات بیان کرے گا تو وہ اپنا پیٹ جہنم کے انگارے سے ہی بھرے گا۔ سو ادھر مذاق اورکھیل کی کوئی گنجائش نہیں۔
اب آئیے اس کروناوائرس یا اس جیسے مسائل کے اصل حل کی بات کریں‘ ہم سب جانتے ہیں کہ یہ وبا بالکل نئی ہے۔ انسانوں کا ایسی وبا سے اس سے قبل کبھی واسطہ نہیں پڑا بلکہ اس سے پیشترپولیو‘ طاعون‘ انفلوئیزا اور چیچک وغیرہ سے انسان کاواسطہ پڑ چکاہے اور اس نے کامیابی سے ایسی وباﺅںکاحل دریافت کرکے‘ روئے زمین سے ان کاقلع قمع بھی کردیاہے۔ اب کون مسلمان اس میں شک کر سکتاہے کہ وہ بیماری ہو یا اس کاعلاج۔ انسان اللہ کے دئیے ہوئے علم سے‘ اسی کی قدرت سے پیدا کی نباتات وغیرہ سے اس بیماری کا علاج ڈھونڈنکالتاہے۔ اس نئے کرونا وائرس کاعلاج بھی انشاءاللہ اسی اصول کے تحت‘ اللہ کی رحمت اورعنایت سے دریافت ہوا ہی چاہتاہے کیونکہ اس اوپر والے کی ہی ذات خالق کل ہے اور اس کُل میں ہر بیماری بھی ہے اوراس کی شفاءبھی ہے۔
اب آئیے اس کے روحانی پہلو پربھی نظرکریں‘ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ روحانی دنیا ہمارے علمی احاطے سے بہت وراءالوراءہے۔ قرآن کریم کے مطابق یہ روحانی دنیا تو ایک ”امرِ ربی“ ہے اورہمیں صرف اس کا تھوڑا بہت ہی علم عطا کیاگیاہے ۔مگر ایک بات طے ہے کہ پاک آیاتِ کریمہ اوردرود ووظائف انسان کے ضمن میں ایک حیرت ناک حد تک اثر انگیزی رکھ سکتے ہیں۔ کسی بھی مسلمان کو اس سلسلے میں بہرحال یہ احتیاط کرنی چاہیے کہ اس کاروحانی علاج کسی نورانی واسطے سے ہونہ کسی شیطانی جنتر منتر سے‘ مگر یہ بھی سمجھنا اور ایمان رکھنا بہت ضروری ہے کہ وہ ادویات ہوںیا پھر روحانی علاج۔ان میں سے ”اپنی ذات“ میں کوئی چیز بھی کچھ نہیں ہے کیونکہ ”شفائ“ جوکہ ان واسطوں سے ”اصلی مقصود“ ہوتی ہے وہ صرف ”مِن جانب اللہ تعالیٰ“ ہے۔ وہ چاہے تو بیماری کوکسی دوا سے شفاءدے دے۔ چاہے تو کسی دم درود سے آفاقہ نصیب ہو جائے۔ ہر حال میں اوپر والے کا”اذن“ ایک بنیادی نقطہ ہے۔
قرآن وسنت میں اس ضمن میں درجنوں احکام موجود ہیں۔ کفار نے جب مدینہ پر پہلی چڑھائی کی تو حضور اپنی فوج کے ساتھ ”بدر“ تشریف لے گئے‘ وہاں پررمی کی اوردعا بھی فرمائی۔ خندق کے موقع پر اللہ کی مدد مانگی تو دن رات اپنے دفاع کے لئے خندق بھی کھودی۔ حضرت یوسفؑ نے مصر میں قحط کی خبر دی تو اس سے بچنے کے لئے دعا بھی کی ۔ طاعون کی وبا پھیلی تو حضرت عمرؓ نے اللہ کارحم بھی مانگا اورمتاثرہ علاقے میں جانے یا نکلنے والوں کو منع بھی کیا۔
اب اگر یہ کرونا آیاہے تو اس کے لئے بھی غیر تو جوکریں سوکریں‘ مسلمانوں کو رہنمائی کے لئے قرآن وسنت تاقیامت میسر ہیں۔ روشنی ادھر سے ہی حاصل کرنی ہے‘ شفا اللہ دیتاہے مگر مسلمان سائنس دانوں کو اپنی لیبارٹریوں میںاس وباءکا علاج بھی دریافت کرناہے اور اللہ کی مدد اوررحمت کے حصول کے لئے درود ووظائف بھی پڑھنے ہیں اور اس کی مناجات بھی کرنی ہے۔ باقی جو کچھ مسجدوں‘ مندروں‘چرچوں یا دیگر عبادت گاہوں میں مذہبی تجارت جاری ہے اس کو ان کے مقام پر رکھ کر ہمیں بہترین علم سے ہی اسے پرکھناہے۔ ( ختم شد)
(کرنل ریٹائرڈ اور ضلع نارووال کے سابق ناظم ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved