تازہ تر ین

خُداکےلئے خودپررحم کرو

خدا یار خان چنڑ
سوچنے کی بات یہ ہے کہ وائرس نام کی بیماری یہ کوئی پہلی بارنہیں آئی جب بھی مخلوق کی تعدادحدسے تجاوزکرنے لگے توتاریخ گواہ ہے کہ کوئی نہ کوئی بیماری وائرس کی شکل میں آکرلاکھوں نہیں کروڑوں انسانوں کی زندگیاں چھین کرموت کے حوالے کردیتاہے۔ بس مسلمان کااس بات پریقین محکم ہوناچاہیے کہ زندگی اورموت ،بیماری اورشفاءاللہ کے حکم سے ہوتی ہے۔ ہاں البتہ تقدیربرحق ہے مگراس کے ساتھ تدبیربھی ضروری ہے۔یہاں ہردوسراشخص یہی کہتاہے کہ جوتقدیرمیں لکھاہے وہی ہوناہے ۔میں بھی اس بات پراتفاق کرتاہوں مگراللہ پاک نے تدبیرکابھی کہاہے ۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ تدبیرتوکل کے منافی ہے ۔ان سے دست بدستہ گزارش ہے کہ توکل بھی اونٹنی کے پاﺅں میں رسی ڈال کرباندھنے کے بعدہوتاہے پہلے نہیں ۔کیونکہ رسی ہی تدبیرہے۔ آج ہرشخص کہتاہے کہ اسلام میں مصافحہ جائزہے اس میں کوئی شک نہیں مگرحضورپاک نے اپنی امت کےلئے یہ پیغام بھی چھوڑاہے کہ یعنی اچھوت کی بیماری میں مبتلاشخص کے ساتھ مصافحہ نہیں کرناچاہیے تاکہ یہ بیماری آگے پھیل نہ سکے۔ مصافحہ نہ کرکے اس بیماری کوروکنابھی تدبیرہے۔ حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ‘جب شام میں طاعون کی بیماری پھیل چکی تھی توآپ نے شام جانے سے انکارکردیاتوایک شخص نے کہاکہ اے عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ تقدیرپریقین نہیں رکھتے ؟ توآپ نے فرمایاکہ میں ایک تقدیرسے دوسری کی طرف لوٹ آیاہوں یعنی تدبیربھی اللہ کی تقدیرکی ایک صورت ہے کیونکہ تقدیربھی اللہ کی طرف سے ہے اورتدبیربھی اللہ کی طرف سے۔ اللہ پاک انسان کے ذہن میں ڈالتاہے توتدبیرکی شکل اختیارہوجاتی ہے ۔حضرت عمرؓ کاشام میں نہ جاناان طاعون کی بیماری سے متاثرہ لوگوں سے نہ ملنا خودکومحفوظ رکھنایہ بھی تدبیرتھی۔
قرآن پاک کی آیت کاترجمہ ہے ”اپنے آپ کوہلاکت میں مت ڈالو“ مگرافسوس آج پاکستانی قوم اس کروناوائرس کوسیریس نہیں لے رہی اس کومذاق سمجھ رہی ہے ۔یہ عذاب پہلے بھی کئی بار آچکے ہیں۔ جن قوموں نے سیریس نہیں لیا انہوں نے بہت بڑانقصان اٹھایاکروڑوں انسانوں کی اموات ہوئیں۔ 1915ءتا1925ءتک گردن توڑبخارکی شکل میں اس بیماری نے لاکھوں لوگوں کی جان لے لی۔ 1957ءتا1958ءچین میں ایک فلوکاوائرس اٹھاجس نے پوری دنیاکواپنی لپیٹ میں لے لیا۔ کم وبیش 25لاکھ کے لگ بھگ موت کے منہ میں چلے گئے۔ اسی طرح1918ءتا1920ءمیں اس وقت دنیاکی آبادی 2ارب کے لگ بھگ تھی ہسپانوی فلونے تقریباً ہردوسرے تیسرے شخص پرحملہ کردیا اس وقت بھی تقریباً 15کروڑکی اموات ہوئیں ۔1347ءتا1351ءمیں طاعون کی بیماری نے اس طرح حملہ کیا جہاں 40 فیصد سے 60فیصد کی آبادی کوموت کے منہ میں دھکیل دیا۔ اگراس وقت طاعون کی بیماری نہ آتی توآبادی کے لحاظ سے آج دنیاکانقشہ کچھ اورہوتا۔اب موجودہ صورتحال میں چین سے پھیلنے والا کرونا وائرس دنیاکے190ممالک کواپنی لپیٹ میں لے چکاہے جس کی وجہ سے ہزاروں کی تعدادمیں اموات ہوچکی ہیں ۔اس کروناوائرس کے متاثرین کی تعدادپوری دنیامیں لاکھوں میں چلی گئی ہے۔ اس کروناوائرس نے پوری دنیاکوپریشان کردیاہے اب اس کوکنٹرول کرنے کےلئے حکومت پاکستان کے ساتھ مل کرہرشخص کواپنی ذمہ داری سنبھالناہوگی ورنہ حالات قابوسے باہرہوجائیں گے جس طرح چائنہ کی عوام نے اپنی حکومت کے ساتھ بھرپورتعاون کیاہے اب انہوںنے کافی حد تک کروناوائرس پرکنٹرول کرلیاہے۔ میں حکومت پاکستا ن کوچندچیزوں پرتوجہ دلوانا چاہتاہوںکہ میں اپنی ذاتی مجبوری کے تحت اپنے قریبی دوست محمدایازخان سمیع اللہ ایڈووکیٹ کے ساتھ سفرکیاہمیں سرداربدرآصف چنڑکوملنے کے لیے کمالیہ جاناپڑاراستے میں کئی ٹول پلازوں سے گزرناپڑتاہے اب ایک بندہ ٹول پلازہ پرایک دن میں سینکڑوں لوگوں سے پیسے وصول کررہاہے سینکڑوں لوگوں کے ہاتھ اس کولگ رہے ہیں پیسے وصول کرنے والے کاہاتھ آگے مزیدسینکڑوں لوگوں کولگ رہاہے اللہ نہ کرے اس بیماری سے متاثرہ کوئی ایک شخص بھی ٹول پلازہ پرکھڑے شخص کوٹچ کرکے چلاگیاتواس شخص نے توپیسے وصول کرنے کے لیے سینکڑوں لوگوں کوٹچ کرے گااس وجہ سے وائرس پھیلنے کاخدشہ ہے لہٰذاحکومت پاکستان فوراً اس طرف توجہ دے اورٹول پلازے بندکردے یا حفاظتی سدباب کرے ۔جب پورے پاکستان میں کاروباری مراکزبندہیں توٹول پلازوں کوبھی بندکرناچاہیے کہیں پریشانی کاسبب نہ بن جائیں اورمارکیٹیں توسب بندہوگئی ہیں۔ سارے شہرمیں توہوکاعالم ہوتاہے جوکہیں کہیں ضرورت کے مطابق حکومتی اجازت سے دکانیں کھلی ہوتی ہیںان کے ساتھ ایگری کلچرکے حوالہ سے کھادسپرے کی دکانیں بھی کھلی ہونی چاہیے تاکہ کاشتکارکی فصل کونقصان نہ پہنچ سکے۔ اب وہاں لوگوں کے ناہونے کی وجہ سے ڈکیتی کی واردات بھی ہوسکتی ہیں ۔ان وارداتوں سے پہلے حکومت کواس طرف بھی توجہ دینی چاہیے اب حکومت کاچودہ دن کالاک ڈاﺅن کافیصلہ بہت اچھاہے ۔حکومتی اقدامات قابل تعریف ہیں اب پاکستانیوں کوبحیثیت قوم اس موذی مرض سے لڑناہوگا۔ کروناوائرس کے سبب مزدورطبقہ مسائل میں گھر چکاہے حکومت اس آئی ایم ایف سے ملنے والی امدادمیں سے غریبوں مزدوروں کےلئے معاشی پیکج کااعلان کرے۔ اب اس مشکل وقت میں میڈیا،علماءکرام،اساتذہ کرام ،وکلائ،تاجر،کسان اور مخیر حضرات اورتمام طبقات کے لوگوں کوحکومت کاساتھ دینے کےلئے میدان عمل میں نکل آناچاہیے۔ گلی محلے کی سطح پرعوام کے اندرکروناوائرس کاخوف ختم کرنے اورانہیں صفائی ستھرائی اوراحتیاتی تدابیراختیارکرنے پرمائل کرنے کے لیے سب کوایک قوم کے طورپراپناکلیدی کردارادا کرنا چاہیے۔ خداکے لیے خودپررحم کرو۔ہرشخص خود کو محفوظ کرلے ۔اس موذی وائرس سے بچنے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ حکومت کاساتھ دیں آپس میں مل جل کرکام کریں۔ حکومت پاکستان جوکچھ بھی کررہی ہے اپنی عوام کی بھلائی کے لیے کررہی ہے۔ خداکے لیے قانون کااحترام کریں آپ کی غفلت سے بہت بڑانقصان ہوسکتاہے ۔اٹلی ،امریکہ اورکئی ترقی یافتہ ممالک کی مثالیں آپ کے سامنے ہیں۔اللہ تعالیٰ ملت اسلامیہ عالم اسلام اوراپنی مخلوق پررحم فرمائے ۔آمین
(کالم نگارسیاسی وسماجی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved