تازہ تر ین

کرونا سے خوف نہیں صرف احتیاط

حلیم عادل شیخ
کرونا وائرس نے ان ممالک میں زیادہ تباہی پھیلائی ہے جہاں اس وائرس سے بچاﺅ کے لیے تدابیر نہیں کی گئیں یا پھر اس وائرس کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا ۔مگر ان تما م باتوں کے باوجود کروناوائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیاہے۔کرونا سے متاثرہ بہت سے ممالک جن میں اٹلی، امریکا،سوئٹزر لینڈ ،سپین، ایران اور چین جیسے ممالک شامل ہیں،جبکہ پاکستان کو ملاکر کل متاثرہ ممالک کی تعداد دوسو کے قریب پہنچ گئی ہے ۔ اٹلی یورپین ممالک میں کرونا سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں پہلے نمبر پر آچکاہے جہاں مرنے والوں کی تعداد ہزاروں میں تبدیل ہوچکی ہے اور ہزاروں لوگ اس وائرس کا شکار ہورہے ہیں۔ مغربی ممالک کے عوام شروع شروع میں کروناو ائرس کے مریضوں کو نزلے اور زکام کا مریض سمجھتے رہے‘ یہ وہ ممالک ہیں جن کی صحت کی سہولیات پوری دنیا میں تسلیم کی جاتی ہیں ،مگر آج یہاں کی عوام ہی نہیں بلکہ ان کے ڈاکٹر جو ان کے مسیحا ہیں وہ بھی شدید خوف میں مبتلا ہیں۔ کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ کرونا وائرس چین سے پہلے امریکا میں رونما ہوا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر چین کے وزیرخارجہ کے ترجمان لیجائن ثااﺅنے لکھا کہ امریکا میں2019 ءمیں زکام سے تین کروڑ چالیس لاکھ افراد متاثر ہوئے جن میں سے بیس ہزار افرا د کی اموات ہوئی ۔اگر امریکا میں گزشتہ ستمبر کرونا وائرس کا آغاز ہوگیا تھا تو اب تک کتنے افراد اس وائرس میں مبتلا ہوچکے ہونگے ؟
اس کے برعکس چھبیس فروری کو کرونا کا پہلا کیس جب پاکستان میں سامنے آیا تو اس وقت یہ طے پاگیا تھا کہ اب ہمارے سماجی فاصلوں کو دورکرنے کا وقت آگیاہے لیکن یہ بھی درست ہے کہ شاید ہم نے اس وائرس کو اس قدر سنجیدگی سے نہیں لیا اور ہم نے وزیراعظم عمران خان اور ان کی ٹیم کی جانب سے دیئے گئے مشوروں پرنظم وضبط کا مظاہرہ نہیں کیا۔جس کا نتیجہ آج یہ نکلا ہے کہ ہم اپنے اپنے گھروں میں مقید ہوکر رہ گئے ہیں۔ جو فی الحال اس قوم کو اس مہلک بیماری سے بچانے اور ملک میں افراتفری پھیلانے کو روکنے اور خود کو ایک دوسرے سے الگ تھلگ کرنے کا بہترین طریقہ ہے اور کرونا وائرس سے بچاﺅ کا ایک بہترین حل بھی ،کیونکہ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے یہ بات واضح کردی تھی کہ کروناوائرس سے جنگ حکومت نہیں قوم جیت سکتی ہے ،یہ ہی وجہ ہے کہ وزیراعظم تمام تر اقدمات کی خود نگرانی کررہے ہیں اورعوام کو ریلیف پہنچانے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لارہے ہیں۔ لیکن ان تمام تر باتوں کے باجوود مشکل ہے کہ بڑھتی ہی جارہی ہے۔ حکومت نے اس آفت سے بچنے کے لیے ٹھوس اورمشکل ترین فیصلے کیے ہیں یہاں تک کہ اس ملک میں قانون سازی کے اہم ترین ادارے سینٹ سیکرٹریٹ تک کو حکومت نے بند کردیاہے۔بلکہ یہ عمل تو کوئی حیثیت نہیں رکھتا اس بات کے آگے کہ تاریخ میں یہ پہلا موقع ہوگا کہ بیت اللہ کے صحن میں طواف کا عمل روکا گیا ہو،دنیا بھرکی مساجد میں ہونے والے خطبات اور نمازوں کو محدود کردیا گیا ہو،اور جب دنیا بھر کے علماءکرام، سائنس دان ، سیاستدان دانشور حضرات اس وائرس کے آگے گھٹنے ٹیک چکے ہوں اور بار بار یہ ہی کہہ رہے ہوںکہ اپنے اپنے گھروں میں رہ کر احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ تو پھرماننے یا ناماننے کا تصور کہاں رہ جاتاہے ،کیونکہ یہ وہ وائرس ہے جو سرحدوں کو نہیں مانتا۔ یہاں تک کہ مذاہب کی پہچان بھی نہیں کرتا جوصرف اور صرف انسانیت کا دشمن بناہوا ہے ۔اسی لیے میں اس تحریر کے ذریعے مشکل میں گھری اپنی قوم کو یہ پیغام دینا چاہتاہوں کہ ہمیںاس وقت جس صورتحال کا سامنا ہے یہ کوئی خشک سالی، سیلاب، زلزلہ یا کوئی طوفان نہیں ہے بلکہ ایک ایسی وبائی بیماری ہے جس سے پہلے ہمارا کبھی واسطہ نہیں پڑا ہے۔یہ خوش آئند عمل ہے کہ جب سے کرونا شروع ہوا ہے تب سے وفاقی اور صوبائی حکومتیں کام کر رہی ہیں ، شروع شروع میں کچھ سیاسی نقطہ چینی جیسے مسائل ضرورتھے، مگر آج موجودہ صورتحا ل میں ہمیں کسی بھی قسم کی کوئی سیاست نہیں کرنی چاہیے، ہمیں ایک جان ہوکر اس آفت کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ لہذاسندھ حکومت سمیت پاکستان کے دیگر صوبوں تک جہاں کہیں یہ میری تحریر پہنچے ان لوگوں سے اپیل ہے کہ براہ کرم وہ اپنے اپنے گھروں میں رہیں ، بلاوجہ گھروں سے باہر نہ نکلیں، ہوٹلوں میں نہ جائیں ، مارکیٹوں میں نہ جائیں ، ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے اورگلے ملنے سے گریز کریںاور زیادہ سے زیادہ ہینڈسینیٹائز اور ماسک کا استعمال کریں۔ اس کے علاوہ اپنے اہلخانہ سے بھی کہیں وہ ایک دوسرے سے کچھ دور ہوکر بیٹھیں یعنی وہ تمام احتیاطی تدابیر جو صوبائی اور وفاقی حکومت کی جانب سے عوام کو بتائی جارہی ہیں ان پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے ،اور کوشش کریں کہ اپنے اپنے گھروں میں رہتے ہوئے توبہ استغفار کا عمل زیادہ سے زیادہ کریں کیونکہ یہ خدائی آفت ہے جو یقینی طورپر اللہ کی ناراضگی کی وجہ سے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے ۔اس لیے کوشش کرےں کہ اللہ سے گڑگڑا کر اپنی گناہوں کی معافی مانگیں ۔
اس وقت صوبائی اور وفاقی حکومتیں اپنا اپنا کام کر رہی ہیں ، ایک دوسرے کی مدد کر رہی ہیں مگرمسئلہ یہ ہے کہ کرونا اتنی بڑی وبا ہے کہ اس کو کنٹرول کرنااتنا آسان نہیں ہے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اقدامات اس طرح سے نہیں ہو سکے جیسے ہونے چاہئے تھے،لیکن اگر عوام ہمار ا ساتھ دیگی تو انشاءاللہ ہم اس مسئلے کو ضرورکنٹرول کر لیں گے ۔میں ان دنوں خود اپنے دوستوں کو یہ پیغام دے رہا ہوں کہ ہم نے ساری زندگی سیاست کی ہے لیکن اس ایشو پر کوئی سیاست نہیں ہوگی کیونکہ زندہ رہیں گے تو سیاست بھی ہوگی۔ آج پور ے پاکستان میں وزیراعظم کرونا سے بچاﺅ کےلئے کیے جانیوالے اقدامات کو لیڈ کر رہے ہیں جبکہ سندھ میں سند ھ حکومت تمام معاملات او ر اقدامات کی سربراہی کر رہی ہے اور وفاق سندھ سمیت تمام صوبائی حکومتوں کے ساتھ مکمل تعاون کر رہا ہے۔ میں خود بھی کرونا سے بچاﺅ کے لیئے سندھ حکومت کے ساتھ کھڑا ہوں، جب کہ ہمیں اس مشکل کی گھڑی میں تما م ڈاکٹرز ، پیرا میڈیکل اسٹاف اور نرسز کو خراج تحسین پیش کرنا چاہیے جو انسانیت کو اس وبا سے بچانے کے لیے اپنی زندگیاں داﺅ پر لگابیٹھے ہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ مستقبل میں یہ وبا آگے چل کر کیا شکل اختیا رکرتی ہے مگر اس بات کا قوی امکان ہے کہ ہم ایک قوم بن کر ضرور اس وبا سے چھٹکارا حاصل کرسکتے ہیں ورنہ اٹلی جیسے ممالک ہمارے سامنے زندہ مثالیں ہیں جن کی لاپرواہی کا یہ نتیجہ نکلا ہے کہ آج ان کے ہسپتالوں میں تو دور کی بات وہاں کے قبرستانوں میں بھی لاشوں کی تدفین کے لیے جگہ باقی نہ بچی ہے۔ لہٰذا خدارا اس کروناوائرس کو مذاق نہ سمجھا جائے بلکہ ایک سنجیدہ قوم بن کر اور نظم ضبط کا مظاہر ہ کرتے ہوئے اس آفت کا مقابلہ کیا جائے۔ میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ قدرتی آفات کے ساتھ حکومتیں نہیں قومیں لڑا کرتی ہیں ، اور آج وہ دن آگیاہے کہ بحیثیت ایک قوم ہم سب کو کرونا وائرس کا مقابلہ کرنا ہے۔
(کالم نگار سندھ اسمبلی میں تحریک
انصاف کے پارلیمانی لیڈرہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved