تازہ تر ین

یہ تو ہونا ہی تھا !

مسز جمشید خاکوانی
نظام قدرت ہے جب کوئی چیز عروج کو چھو لیتی ہے تو واپسی کا سفر شروع ہو جاتا ہے ،کہتے ہیں چھوٹی چھوٹی بیماریوں پر چھوٹی چھوٹی تکلیفوں پر دل برا نہیں کرنا چاہیے نہ اللہ سے شکوہ کرنا چاہیے یہ آپ کو کسی بڑی مصیبت سے بچانے کا سبب بن جاتی ہیں۔ایک کہانی میں نے کہیں پڑھی تھی ایک آدمی کو جانوروں کی بولیاں سمجھنے کا ہنر آتا ہے۔ ایک دن وہ بیٹھا کھانا کھا رہا ہوتا ہے جب اس کا مرغا اور کتا آپس میں لڑنے لگتے ہیں ۔ مرغا کہتا ہے لڑتے کیوں ہو کل مالک کی بھینس بیمار ہوگی مالک اسے حلال کرے گا تمہیں بھی کھانے کو بہت سا گوشت مل جائے گا ۔مالک جب یہ سنتا ہے فوراً اٹھتا ہے اور بھینس بیچ آتا ہے ۔ دوسرے دن پھر کھانے کے وقت مرغے اور کتے کی تکرار ہوتی ہے۔ اب مرغا کہتا ہے کوئی بات نہیں اب مالک کا گھوڑا بیمار ہوگا ، مالک کے دوست پوچھنے آئیں گے بہت سا کھانا بنانا پڑے گا جو بچ جائے گا تم کھا لینا ۔کنجوس مالک جب سنتا ہے تو وہ جا کر گھوڑا بھی بیچ آتا ہے۔ اب کتے کو بہت غصہ آتا ہے وہ مرغے سے لڑتا ہے تو مرغا کہتا ہے اب میری بات جھوٹی نہیں نکلے گی۔ اب مالک کا بیٹا بیمار ہو کر مر جائے گا قل ہونگے چاول بنیں گے گوشت والے تم کھا لینا اب تو مالک گھبرا جاتا ہے کف افسوس ملتا ہے کاش میں بھینس یا گھوڑا ہی قربان ہونے دیتا لیکن اب کیا ہو سکتا تھا ہونی ہو کر رہی۔
سچ پوچھیں تو ہم بھی اپنے عروج کو چھو چکے تھے ۔ کرپشن ،ظلم ،حسد ،منافع خوری ،ذخیرہ اندوزی ،عیش و عشرت کے لاتعداد سامان ،بے حیائی عروج پر ،قتل و غارت گری عروج پر سب سے بڑا ظلم زینب جیسی معصوم بچیوں سے زیادتی اور اس کے بعد بہیمانہ ظلم اور تشدد کے بعد قتل ۔کیا کیا نہیں ہوا اس ملک میں، مگر کسی کو لب کشائی کی اجازت نہیں تھی۔ انصاف شاید ختم ہوگیا تھا، مجرم وکٹری کا نشان بناتے باہر آنے لگے تو مایوسی دو چند ہو گئی۔ ہم نے سمجھ لیا بس اب یہی ہمارا مقدر ہے اور ہمیں اسی ظلم کے ساتھ زندگی گذارنی ہے۔
یہ میری بات یاد رکھنا ہم واپس لوٹ رہے ہیں۔ ہماری ڈور کٹ چکی ہے کہاں گئی ترقیاں ؟ جب انسان باقی نہ رہے تو یہ سامان تعیش ،بنگلے ،موٹر گاڑیاں، اونچے پلازے، سامان سے بھرے مالز، یہ کس کام کے؟ حد تو یہ ہے کہ ابھی بھی ڈرامے اور سیاست کھیلی جا رہی ہے۔ ایک تیس پینتیس سال حکومت کرنے والا تجربہ کا رحکمران خاندان جو اپنے دور میں ڈینگی کا عذاب بھگت چکا تھا اس نے کیا کیا زلزلہ زدگان کے فنڈ کھا گیا ۔2011ءمیں ڈینگی مچھر کے کاٹنے سے پنجاب میں 12ہزار سے زائد مریض موجود تھے۔ لاہور میں ایک دن میں 400مریض جاںبحق ہوئے سرکاری ہسپتال کم پڑ گئے تو شہباز شریف نے نجی ہسپتالوں سے مریضوں کو ٹریٹمنٹ دینے کی درخواست کی لیکن جب یہ بحران ٹلا تو جانتے ہیں شہباز شریف نے کیا کیا ؟ اس نے لاہور میں میٹرو بس کی تعمیر کے منصوبے کی بنیاد رکھ دی۔ لیہ ،بھکر،ملتان وزیر آباد اور دیگر شہروں کے ہسپتالوں کی تعمیری منصوبوں کا تمام پیسہ اٹھا کر لاہور میٹرو پر لگا دیا گیا صرف الیکشن جیتنے کے لیے ،اس میں کوئی شک نہیں کہ اس قوم کی نفسیات سیٹ کرنے میں نواز شریف کا بڑا کردار ہے۔
نسلوں کی آبیاری میں ٹیکنالوجی بہت اہم ہوتی ہے ۔یہ نسل تو ویسے ہی مکمل میڈیا کے رحم و کرم پر پلی ہے اس لیے ان میں ذہنی مسائل زیادہ ہیں وہ نہ تو ماں باپ کی مانتے ہیں نہ ہی حکومت کی سنتے ہیں ۔جس طرح بعض علماءنے اپنا امیج بنا لیا ہے روشن خیالی کو پروموٹ کرتے کرتے وہ اپنے مقام سے ہٹ گئے ہیں۔ اپنی آسائشوں کو ترجیح دی اور ہر طرف سے کان لپیٹ لیے۔ والدین ویسے ہی اولاد کے آگے سرنڈر کر چکے ہیں وہ کہتے ہیں ابا جی اپنا زمانہ بھول جاﺅ لوگ اس پوسٹ سے اربوں کماتے ہیں آپ نے غریب رہنا ہے تو رہیں ہم نے غریب نہیں مرنا اور والدین تھر تھر کانپنا شروع ہو جاتے ہیں۔۔ میرا جسم میری مرضی ایک پلانٹڈ منصوبہ ہے جس میں رشتوں کی آخری ڈور بھی ٹوٹ جائے گی ۔اس کو شغل میلہ نہ سمجھیں۔ فی الحال مجھے کرونا وائرس پر بات کرنی ہے، دیکھیں ان وباﺅں ،ان عذابوں کی پیش گوئی صدیوں پہلے ہمارے پیغمبر کر چکے ہیں۔ اب بحث اس پر نہیں کہ کس کی کوتاہی ہے نہ سیاست چمکانے کا وقت ہے ۔یہ آفت پوری دنیا پر آئی ہے۔ یہ الارم ہے کہ ہم سنبھل جائیں لیکن ہم ابھی بھی ایک دوسرے کو نوچ رہے ہیں۔ رہی بات آسانیاں فراہم کرنے کی تو موجودہ حکومت اپنے وسائل سے بڑھ کر کام کر رہی ہے۔ اس نے انا کا مسلہ نہیں بنایا جو جتنا میسر ہے عوام سے شیئر کیا ہے۔ یہ وہ حکمران نہیں جو اپنی جائیدادیں خریدنے کے لیے پیسہ باہر ٹرانسفر کر دے گا وہ حالات سے مسلسل لڑ رہا ہے اپوزیشن ہر وقت اس کو سیخ میں پروئے رکھتی ہے لیکن اس نے ہارنا نہیں سیکھا۔ ضیا شاہد صاحب نے بہت اچھی بات کی ہے کہ عمران خان چونکہ کھلاڑی رہ چکا ہے اس لیے وہ ہمیشہ جیت کی امید رکھتا ہے ۔واقعی اگر کوئی اور وزیر اعظم ہوتا تو اب تک تماشہ چھوڑ کے جا چکا ہوتا۔ اللہ عمران خان کو ہمت دے۔ اب لاک ڈاﺅن کی آپشن آ چکی ہے جس سے حکومت محض اس لیے بچ رہی تھی کہ غریب دیہاڑی دار بھوکا نہ مر جائے لیکن لاک ڈاﺅن کا فیصلہ ہو چکا ہے تو اس سلسلے میں انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں جن میں اشیائے خوردونوش کی فراہمی اور تین ہزار روپے مہینہ دیہاڑی دار کو دیا جائے گا۔ فوج اور پولیس اس سلسلے میں الرٹ ہے ۔
لوگوں کا عمومی رویہ بچگانہ بلکہ جاہلانہ ہے۔ میری ایک عزیزہ جو کینڈا میں رہتی ہیں ان کو بڑی حیرت تھی کہ پاکستانی قوم کس طرح کی فرمائشیں اپنی حکومت سے کر رہی ہے ہم تو کئی دنوں سے لاک ڈاﺅن میں ہیں صرف گروسری کی اجازت ہے۔ نو میڈیسن نو ہیلپ لائن۔ حالانکہ یہ ترقی یافتہ ممالک ہیں ان کے بھی اتنے وسائل نہیں کہ ہر جی کی ناز برداریاں کر سکیں بلکہ سختی سے نمٹا جا رہا ہے۔ اس طرح کی بات وقار ملک نے بھی کی کہ ہم نے خود ہی اپنے آپ کو بند کر لیا ہے۔ ہمیں ہدایات دی گئی ہیں کہ آپ کو کوئی بھی بیماری ہو آپ نے ہمیں فون نہیں کرنا اپنے آپ کو آئسولیشن میں رکھیں اپنا علاج خود کریں حتی کہ کسی کو ہارٹ اٹیک تک نوبت آ جائے تب بھی ہاسپیٹل جانے کی اجازت نہیں اور ایک ہماری عوام ہے جس کے نخرے ہی ختم نہیں ہو رہے ہر بات کا ذمہ دار عمران خان کو ٹھہرا کر آپ نے کیا ثابت کرنا ہے۔ اب کہتے ہیں چین سے طلبا منگوائے نہیں ،ایران سے زائرین کو کیو آنے دیا ؟ طلبا کا ویزہ تین سال کا ہوتا ہے جبکہ زائرین اٹھائیس دن سے اوپر نہیں ٹھہر سکتے، انہوں نے وہاں سے آنا ہی تھا ایران خود پابندیوں کا شکار ہے وہ کب تک رکھتا جبکہ ہمارے لوگ خود بھی بھاگ پڑے۔ اسی طرح سعودیہ سے عمرہ کرنے والوں کوجب نکالا گیا وہ بھی اپنے ساتھ لے کر آئے بلکہ شہباز شریف لندن سے آئے تو آتے ہی پریس کانفرنس کر ڈالی فوٹو سیشن کروایا ۔کیا یہ عقلمندی کا کام تھا ؟
پیپلز پارٹی کے صوبائی وزیر تعلیم وائرس کا شکار ہو چکے ہیں لیکن وہ میٹنگیں کرتے رہے چیئرمین بلاول سے اور اپنی کابینہ ارکان سے ۔اس کا رزلٹ کیا آتا ہے یہ تو اللہ ہی جانے ۔بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے لیکن احتیاط تو نبیوں اور خلفاءراشدین نے بھی کی تھی اور حضور کی طرف سے واضح احکام تھے جہاں وبا پھیلے اس جگہ کو چھوڑ کر نہ جاﺅ اور جہاں وبا ہو اس کے قریب نہ جاﺅ ۔حضرت عمر فاروقؓ کے عہد میں طاعون کی وبا پھیلی تو موجودہ دور کی طرح قرنطینہ کا اصول اپنایا گیا اور اس پر سختی سے عمل کیا گیا کہ وبا شام اور عراق سے باہر نہ نکل سکی۔ اس اثنا میں حضرت عمرؓ شام کی جانب روانہ ہو چکے تھے کہ مفتوحہ علاقوں کا نظم و نسق اپنے ہاتھوں درست فرمائیں۔ تبوک کے قریب پہنچے تو تو وبا کی اطلاع ملی اسی اصول کے تحت آگے جانے کی بجائے واپس لوٹ آئے۔ پچیس ہزار مسلمان طاعون کی نذر ہوئے جس میں حضرت ابو عبیدہ جیسے جلیل القدر صحابہ بھی تھے ۔کیا ان حضرات سے زیادہ سچا اور ایمان والا کوئی تھا ؟ اور کیا ان کی ایمانی طاقت کم تھی ؟ لیکن طاعون نے انہیں بھی شہید کر دیا ۔ ثقیف کے وفد میں ایک کوڑھی شخص بھی دربار رسالت میں حاضر ہوا رسول نے اسے اسی مقام سے واپس لوٹا دیا اس کا سامنا تک نہیں کیا نہ بیعت لی نہ مصافحہ کیا نہ سامنا کیا (صحیح مسلم 2231)۔ جو لوگ کہتے ہیں ہمارا ایمان ہے ہمیں احتیاط کی کوئی ضرورت نہیں غلط کہتے ہیں ۔وبا سے احتیاط سنت ہے۔ بے شک اللہ پر توکل کرو موت کا خوف نہ کرو کیونکہ وہ جب آئے گی کوئی بچا نہ سکے گا لیکن احتیاط لازم ہے، بے احتیاطی کر کے اس کا ملبہ حکومت پر مت ڈالو۔ دنیا کی کوئی طاقت اتنے وسائل رکھنے کے باوجود کروڑوں لوگوں کی دیکھ بھال نہیں کر سکتی آپ مرغیاں نہیں ہو جن کو ڈربوں میں بند کر کے خوراک ڈالنی شروع کر دیں ۔اپنی حفاظت کو یقینی بناﺅ !
(کالم نگارسماجی اورسیاسی ایشوز پرلکھتی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved