تازہ تر ین

کرونا وائرس اور عالمی مالیاتی بحران

ڈاکٹر شاہد رشیدبٹ
پاکستان کی معیشت کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے اور گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان کی معیشت ایک مشکل دور سے گزری ہے ،اب بھی کئی مشکلات باقی ہیں لیکن ایک بہتری کی امیدنظر آنا شروع ہو گئی تھی ۔امید کی جا رہی تھی کہ مستقبل قریب میں نہ صرف پاکستان کی برآمدات بلکہ دیگر شعبوں میں بھی ترقی کی رفتار میں بہتری دیکھائی دے گی ،اور معیشت ایک بار پھر اپنے پیروں پر کھڑی ہو سکے گی ۔حکومت نے بھی برآمدی شعبے کی بہتری کے لیے سنجیدہ اقدامات لیے اور ہر ممکن کو شش کی جا رہی تھی کہ پاکستان کی برآمدات میں جلد از جلد اضافہ کیا جاسکے ۔لیکن اب اچانک نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کو کرونا وائرس کی صورت میں ایک نا گہانی آفت کا سامنا کرنا پڑگیا ہے جس سے معیشت کی بحالی کی کوششوں کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔کرونا وائرس کے نتیجے میں دنیا بھر میںمینو فیکچرنگ کی سپلائی چین شدید متاثر ہے ۔اس مہلک وائرس نے دنیا بھر میں اشیا ء،سرمایہ اور لوگوں کی نقل وحرکت کو محدود کر دیا ہے جس کے باعث کوئی بھی شعبہ خلل سے محفوظ نہیں ہے ۔دنیا کی بہت ساری کمپنیاں اپنے کا ر خانوں کو اپنے ملک میں منتقل کرنے کے لیے سنجیدہ ہیں جو کہ عالمی معیشت کے لیے ایک بڑی تبدیلی ہو گی۔ جو حلقے عالمگیریت کو ما حولیاتی تبدیلی ،آلودگی ،مو سمی تغیرات ،تنا زعات اور بڑھتی ہوئی غربت کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں وہ اب اس کے خلاف دوبارہ فعال ہو رہے ہیں ۔
عالمی ما لیاتی بحران ، امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی جنگ اور اب کرونا وائرس کی وجہ سے بہت سا رے ماہرین آزادانہ تجا رت کو عالمی منصوبہ سازوںکا ناکام منصوبہ قرار دے رہے ہیں جس کا مقصد وسائل میں اضافے کے علاوہ کچھ نہیں ۔عالمگیریت کے باوجود دنیا معیشت، ماحول ،صحت اور تعلیم کے بارے میں روڈ میپ نہیں دے سکی ہے جس کے باعث اکنامک نیشنل ازم کا تصور دوبارہ جڑیں پکڑ رہا ہے اور برطانیہ کی یورپی یونین یونین سے علیحدگی اس کی واضح مثال ہے ۔چین اور امریکہ کے درمیان تنازعات کے باعث بہت ساری کمپنیاںاپنی مینو فیکچرنگ چین سے باہر لے کر جارہی ہیں،تاہم اس سے چین کا کچھ نہیں بگڑے گا،کیونکہ اب چین کاانحصار نچلی سطح کی مینو فیکچرنگ پر نہیں رہا۔امریکی عزائم کے پیش نظر چین نے اپنے سرمائے کو ویلیو ایڈڈ پروڈکشن میں لگانا شروع کر دیا ہے جس سے چین کو نہایت ہی حوصلہ افزا نتائج حاصل ہو رہے ہیں۔ کرونا وائرس کے نتیجے میںچین کودنیا پر ضرورت سے زیادہ انحصار کرنے کے فوائد اور نقصانات کا اچھی طرح اندازہ ہو گیا ہے جبکہ امریکہ کو بھی جلد ہی نئی سرد جنگ کسی کے مفاد میں نہ ہو نے کا اندازہ ہو جائے گا ۔دنیا کو غربت، وبا ﺅں ،جہالت اور آلودگی کے خلاف مشترکہ جدو جہد کرنے کی ضرورت ہے ۔ کرونا وائرس ایمرجنسی پر قابو پانے کے لئے صحت کے شعبہ کا بجٹ بڑھایا جائے اورہیلتھ سیکٹر کے تمام ٹیکس معاف کر دئیے جائیںتاکہ ان کی مصنوعات اور خدمات کی قیمت کم ہو سکے ۔جن شعبوں کے ٹیکس معاف کرنا مشکل ہو ان کی ڈیڈ لائن میں توسیع کی جائے، جرمانے معاف کئے جائیں۔ایف بی آرموجودہ حالات سے متاثر ہونے والے پیداواری شعبہ کی مشکلات کا تعین کرنے اور ٹیکس دہندگان کو سہولت فراہم کرنے کے لئے خصوصی سیل قائم کرے جس کی سفارشات کی روشی میں معیشت کے لئے بھرپور پیکج کا اعلان کیا جائے۔ حکومت ہیلتھ انشورنس کی حوصلہ افزائی بھی کرے تاکہ عام افراد بھی صحت کی معیاری سہولیات حاصل کر سکیں۔ صحت کی معیاری خدمات مہنگی ہونے کے سبب ایک چھوٹے سے طبقہ تک محدود ہیںکیونکہ ان کا حصول ملکی آبادی کی اکثریت کے لئے ناممکن بنا دیا گیا ہے جس کا نوٹس لینے کی اشدضرورت ہے ۔
کرونا وائرس پاکستان کی معیشت پر شدید اثرات مرتب کرے گا اور اس بحران کے نتیجے میں پاکستان کی معیشت شدید گرواٹ کا شکار بھی ہو سکتی ہے ۔حکومت کو فوری طور پر اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے عالمی ما لیاتی اداروں سے رابطہ کرنے کی ضرورت ہے ۔پاکستان کی معیشت کو فوری طور پر 5ارب ڈا لر کا ریلیف درکار ہو سکتا ہے ۔کرونا وائرس سے بچا ﺅ کے لیے اپنا ئے گئے اقدامات کے نتیجے میں ڈیمانڈ میں شدید کمی دیکھی جا رہی ہیں اور بہت ساری کمپنیاں اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے اپنے ورکرز کو بھی فارغ کریں گی جس سے ملک میں بے روزگاری کا ایک نیا سیلاب آنے کا اندیشہ ہے ۔کرونا وائرس اور اس سے بچاﺅ کے لیے کیے جانے والے لاک ڈا ﺅن کے نتیجے میں پاکستان کی معیشت کے تمام شعبوں میں نقصانات کا تخمینہ 1.4کھرب روپے لگایا گیا ہے ۔اس کے نتیجے میں پاکستان کی ترسیلات زر میں کمی ،برآمدات میں کمی، ائر لائنز کو شدید نقصانات سمیت بڑی تعداد میں مزدوروں اور ورکرز کے بے روزگار ہونے کے بھی خدشات ہیں ۔برآمدی شعبے کو ملنے والے ایکسپورٹ آرڈرز بھی تقریبا ختم ہو چکے ہیں ،پاکستان کی معیشت کو اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک نہایت ہی موثر حکومتی پیکیج درکار ہے ۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے گزشتہ دنوں میں شرح سود میں 75بیس پوائنٹس کی کمی کی گئی جو کہ موجودہ صورتحال کے تنا ظر میں نہایت ہی کم اور ناکافی ہے ۔دنیا کی بڑی معیشتوں نے اپنے ممالک میں کاروبار کو سہارا دینے کے لیے شرح سود میں نمایاں کمی کی ہے لیکن پاکستان میں صورتحال اس سے برعکس ہے اور باقی دنیا سے متضاد دیکھائی دیتی ہے ۔سٹیٹ بینک کی جانب سے کیے جانا والا فیصلہ ما یوس کن ہے۔ اگر پاکستان نے موجودہ صورتحال سے کامیابی سے نمٹنا ہے اور اپنے معاشی مفادات کا تحفظ بھی یقینی بنانا ہے تو پاکستان اپنے کاروباری طبقے کو ہر حال میں سہارا دینا ہو گا اور اس کے لیے تمام ضروری اقدامات لینے ہو ں گے بصورت دیگر پاکستانی معیشت کے لیے آنے والے دن مشکل سے مشکل ہو تے جا ئیں گے ۔
( کالم نگار پاکستان میں گھانا کے قونصل جنرل اور
سابق صدر اسلام آباد چیمبر آف کامرس ہیں )
٭….٭….٭


اہم خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved