تازہ تر ین

فاروق عبداللہ کی رہائی عالمی مداخلت کا نتیجہ؟

عارف بہار
بھارت کشمیر کی فضا میں ”ٹارزن “ بنا پھرتاہے۔ اس اعتماد اور طاقت کی حیثیت پانیوں کے دوش پر تیرتی کاغذ کی ناﺅ سے زیادہ کچھ نہیں کیونکہ کشمیر کی زمین بھارت کے پیروں تلے ہے نہ عوام اس کے ساتھ ہیں ۔عوام ایک الگ مقام پر حالات کی دیوار سے لگے بیٹھے ہیں تو بھارت دوسری سمت اور متضاد مقام پر کھڑا منصوبے بنا رہا ہے۔اس طرح کشمیریوں اور بھارت کے درمیان اعتماد کی ایک نہ ختم ہونے والی خلیج حائل ہے ۔بھارت کے اعتماد کا راز فوج کا جماﺅ،ریاستی طاقت،فیصلوں کو سنانے اور منوانے کی صلاحیت ہے۔یہ اول وآخر طاقت کے استعمال کی کارفرمائی کا اصول ہے۔ایک بڑی آبادی اور علاقے کو جیل میں بدل کر فیصلے ٹھونسے جا نے کا سلسلہ جاری ہے مگر طاقت کے اس اصول کا اختتام آخر کار اس خلاءکو پر کرنے کی صورت میں ہی ہوسکتا ہے ۔بھارت کا کشمیر کے حالات میں ”ٹارزن “ بن کر پھرنا تصویر کا ایک رخ ہے جبکہ تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ بھارت ایک دیدہ ونادیدہ دباﺅ کی زد میں ہے۔یہ دباﺅ امریکہ ،اقوام متحدہ اور پاکستان سمیت بہت سے حلقوں کی جانب سے قائم اور برقرار ہے ۔اضافی فوجی دستوں کی علامتی واپسی اور انٹرنیٹ کی پابندیوں کے جزوی خاتمے کے بعد اب کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور ان کے بیٹے عمر عبداللہ کی وقفوں سے رہائی بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ دونوں باپ بیٹوں کو ایک ہفتے کے وقفے سے رہا کیا گیا ۔فاروق عبداللہ نے تو سیاسی معاملات پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے مگرعمرعبداللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ کورونا بحران کے بعد سیاست پر لب کشائی ضرور کریں گے ۔عین ممکن ہے کہ اس کے بعد محبوبہ مفتی کو بھی رہائی مل جائے ۔تینو ں سابق وزرائے اعلیٰ کا ڈنگ نکال دیا گیا ہے اور انہیں سسٹم کے ساتھ چلنے پر آمادہ کیا گیا ہے ۔گویا نریندر مودی جن خاندانوں کی اجارہ داری ختم کرنے کی بات کرتے تھے حالات نے انہیں ان خاندانوں کو دوبارہ دھوم دھام سے واپس سیاست اور اقتدار میں لانے پر مجبور کر دیا ہے ۔
یہ حقیقت ہے کہ کشمیر کے حالات سے بین الاقوامی کھلاڑی اس طرح کبھی الگ نہیں رہے جیسا کہ مختلف ادواراور مواقع پر نظر آتا ہے ۔کشمیر میں نوے کی دہائی میں زوردار عسکریت کی لومدھم کرکے ایک سیاسی عمل بحال کرانے میں امریکہ کا پس پردہ کردار کسی سے ڈھکا چھپانہیں ۔اس دور میں امریکہ کے دہلی میں مقیم سفیر رابرٹ بلیک ول اس سارے مفاہمتی فارمولے کو زمین پر نافذ کرنے کے لئے سرگرم ادا کرتے رہے ۔عسکری تنظیموں کی بندوقوں کو اس انداز سے خاموش کرانے میں بھی امریکہ نے فعال کردار ادا کیا تھا کہ کشمیر میں سیاسی عمل کو ایک راہ مل سکے اور نیشنل کانفرنس کے وابستگان کسی خوف کے بغیر بالائے زمین آکر اپنی سرگرمیاں جا ری رکھ سکیں۔امریکہ نے پاکستان کو بھی اس حوالے سے مزاحمانہ کی بجائے مفاہمانہ کردار ادا کرنے پر آمادہ کیا تھا۔امریکی اہلکاروں نے درہ آدم خیل سمیت پاکستان کے مختلف علاقوں کا دورہ کرکے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی تھی کہ کشمیری حریت پسندوں کو اسلحہ کی ترسیل کہاں سے ہو رہی ہے ۔ پاکستان کی طرف سے خاموش ضمانت ملنے کے بعد امریکیوں نے کشمیر میں سیاسی عمل کی بحالی کےلئے بھارت سمیت تمام متعلقہ کوارٹرز کےلئے سبز جھنڈی لہرا دی ۔اس طرح کشمیر میں سیاسی عمل کا آغاز اور فاروق عبداللہ کو وزیر اعلیٰ بنوانے میں امریکہ کا کردار اہم تھا ۔ کشمیر میں مفتی سعیدکی قیادت میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے قیام کو بھی امریکہ اور برطانیہ کی خصوصی حمایت حاصل تھی۔ ایک مرحلے پر ان دونوں جماعتوں کو بدل کر حریت کانفرنس سے وابستہ ایک اہم شخصیت شبیر احمد شاہ کو بھی امریکیوں نے شیشے میں اُتار لیا تھا اور انہیں وزیر اعلیٰ بننے کی راہ دکھائی تھی مگر شبیر احمد شاہ بہت جلد اس معاملے میں محتاط ہوکر پیچھے ہٹ گئے ۔اس کی وجہ یہ تھی کہ انہیں باور کرادیا گیا تھا کہ بھارت انہیں ماضی کے کرداروں کی طرح مطلب براری کےلئے استعمال کرنے کے بعد چھوڑ دے گا۔نائن الیون سے کچھ ہی پہلے کشمیر میں حزب المجاہدین کی یکطرفہ جنگ بندی میں بھی امریکہ کا کردار اہم تھا ۔ کہا جاتا ہے جنگ بندی کر کے دنیا کو ورطہ¿ حیرت میں ڈالنے والے کشمیری کمانڈر عبدالمجید ڈار برطانوی اور امریکی سفارتکاروں سے رابطوں میں تھے ۔ اسی طرح فاروق عبداللہ اور مفتی سعید دونوں امریکہ کے قریب رہے ہیں ۔جنرل مشرف اور منموہن سنگھ کے درمیان کشمیر پر جو امن فارمولہ روبہ عمل ہوا اس میں امریکہ ایک مضبوط ضامن کے طور پر موجود تھا۔کشمیر میں سیاسی عمل کی بحالی، پابندیوں میں نرمی کےلئے امریکہ کا یہ دباﺅ بھارت پر اب بھی قائم ہے۔فاروق عبداللہ کی رہائی اسی دباﺅ کا نتیجہ معلوم ہو رہی ہے ۔کشمیر میں سیاسی عمل کی بحالی سے پہلے بھارت اپنی صفوں کو ازسرنو ترتیب دینے کی کوششوں میںمصروف ہے کیونکہ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کے بیرونی رابطوں کے باعث بھارت ان سیاسی قوتوں پر پوری طرح اعتماد کرنے سے گریزاں ہے اسی لئے ان دونوں جماعتوں کو ایک حد میں رکھنے کےلئے پی ڈی پی کے منحرف الطاف بخاری کی قیادت میں ”اپنی پارٹی“ کے نام سے ایک نئی سیاسی جماعت کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔کشمیر میں کئی سیاسی تجزیہ نگاروں نے اس پر ”مودی کی اپنی پارٹی“کی پھبتی کسی ہے۔اس دوران را کے سابق چیف اے ایس دولت نے ایک معنی خیز بات کی ہے کہ کشمیر کے اگلے وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ ہوں گے ۔را کے سابق سربراہ کی بات اگر درست ہے تو پھر یہ سمجھنا چاہئے کہ کشمیر پر عالمی قوتیں اس طرح لاتعلق نہیں جیسا کہ نظر آرہا ہے ۔پردے کے پیچھے سرگرمیاں جا ری ہیں اور عالمی طاقت کا اونٹ خیمے میں سر دئیے بیٹھا ہے ۔گویاکہ مسئلہ کشمیر مودی کے اندازسے حل نہیں ہوا کشمیریوں کے اندازمیں حل ہونا ابھی باقی ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ بھارت نواز کشمیری لیڈروں فاروق عبداللہ ،عمر عبداللہ ،محبوبہ مفتی کو حریت پسند قیادت کی طرح کسی عتاب یا عقوبت کے طور پر جیلوں میں نہیں رکھاگیا بلکہ مستقبل کے منظر نامے پر ان سے بات چیت کا عمل جاری ہے ۔یہ بات چیت بھارت بھی کررہا ہے اور اس میں عالمی ضامن بھی کہیں نہ کہیں موجود ہیں۔یہی عالمی ضامن یہاں سے مڑ کر پاکستان کی طرف آئیں گے اور دوسرے مرحلے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی خلیج کم کرانے کی کوشش کریں گے ۔پاکستان سے مفاہمت ہوجانے کااندازہ حریت پسند کیمپ کے ساتھ ہونے والے سلوک سے ہوگا ۔حریت پسندوں پر سے عتاب کا کوڑا کسی حد تک ہٹ گیا اور ان کی رہائی عمل میں آنا شروع ہوئی ۔منہ موڑے بیٹھی بھارتی عدالتوں نے انہیںریلیف دینا شروع کیا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ مفاہمت کا جادو چل گیا ہے ۔ سردست پاکستان اور بھارت میں کسی ٹھوس مفاہمت کے آثار نظر نہیں آتے ۔پاکستان اور بھارت کے درمیان مفاہمت کے آثار کشمیر کی زمین پر دکھائی دیں گے ۔
(کالم نگارقومی وسیاسی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved