تازہ تر ین

کچھ یادیں نئی پرانی

اعتبار ساجد
ایک بے تکلف قریبی دوست میری یادداشتیں پڑھ کر ایک دن گلہ کرنے لگا کہ یار! تم یہ کیا ”من گھڑونچہ“ کے واقعات لیکر بیٹھ گئے۔ اللہ کے بندے ،آج کے لوگوں کی بات کرو، ان سے تعلقات بڑھاو¿، فائدے اٹھاو¿۔ میں نے فی الفور کہا ” دیکھو میرے بھائی جورفتگاں ہیں وہ اس جہاں سے جاچکے ہیں، ان پر لکھنے کا قرض ہم پر باقی ہے، چنانچہ وہ سلسلہ وار بشرط فرصت اداکررہے ہیں، آخر ہم نے بھی ایک دن اس دنیا سے جانا ہے، اگر ہم اپنے رفتگاں کو یاد نہیں کرینگے تو ہمیں کون یاد رکھے گا“ بات اسکی سمجھ میں آگئی ، فوراً اس نے مجھ سے معذرت کرلی۔ بات معذرت کی چلی ہے تو بے ساختہ احمد ندیم قاسمی صاحب یاد آگئے۔ عدیم ہاشمی مرحوم بہت اچھا شاعر تھا، لیکن چونکہ اسکی کسی تقریب میں قاسمی صاحب نے حسب توقع تعریف نہیں کی تھی لہٰذا وہ ان سے ناراض ہوگیا، ناراضگی اگر اصولی ہو تو کوئی بری بات نہیں لیکن اسے طول نہیں پکڑنا چاہیے، ختم ہوجاناچاہیے، لیکن افسوس کہ مرحوم عدیم ہاشمی نے اس ناراضگی کو ایسا طول دیا ، کہ باقاعدہ دشمنی میں ڈھال دیا۔ اس کا شعری مجموعہ تھا ”ترکش“ اس میں کلام اچھا تھا کیونکہ وہ شاعر اچھا تھا لیکن یہ کتاب اٹھ نہیں رہی تھی، کتاب کو اٹھانے کیلئے اس نے ”جیک“ لگایا ،یہ جیک کتاب کا دیباچہ تھا۔ ابتدائی دیباچہ ایسا کڑوا کسیلا تھا کہ لوگوں کو تجسس پیدا ہوا کہ دیکھیں تو سہی کہتا کیا ہے؟اس دیکھیں تو سہی کے چکر میں اسکی شاعری تو دب گئی دیباچوں کی وجہ سے جیک لگ گیا۔ میں ان دنوں اسلام آباد کے ایک فیڈرل کالج میں پڑھا رہاتھا، عدیم پنڈی میں رہتا تھا، ایک تقریب میں ملاقات ہوئی تو میں نے صاف کہہ دیا، عدیم آپ شاعر تو اچھے ہیں لیکن خدا کیلئے فضول قسم کے دیباچے لکھ کر اور لوگوں کی پگڑیاں اچھال کر اپنی صلاحیتیں برباد نہ کریں، اللہ نے آپ کو اچھا شعر کہنے کی صلاحیت دی ہے، بس اچھا شعر کہیں اور دیگر بیکار قسم کی باتوں سے گریز کریں۔ میری بات سن کر اس نے جواب تو کچھ نہیں دیا البتہ کسی کے ذریعے مجھ تک یہ پیغام ضرور پہنچایا کہ تم بھی احمد ندیم قاسمی کے چمچے ہو۔ مجھے توقع تھی کہ وہ اس قسم کی بات کہیں نہ کہیں میرے بارے میں ضرور کریگا، کیونکہ میں جب بھی لاہور آتا تھا قاسمی صاحب کی خدمت میں ضرور حاضر ہوتاتھا، وہ برصغیر پاک و ہند کے نامور ادیب، شاعر اور صحافی تھے۔ سب سے بڑی بات یہ کہ میرے بزرگ تھے اور مجھ سے انتہائی شفقت فرماتے تھے۔ لہذا اگر میری سعاوت مندی یا نیاز مندی عدیم ہاشمی کی نظروں میں چمچہ گیری تھی تو مجھے اس کی کوئی پروا نہیں تھی۔کچھ دنوں بعد میں نے اسلام آباد میں سنا کہ عدیم بہت علیل ہے۔ شاید امریکہ جانا پڑے۔ بیمار لوگوں کی صحت کے لیئے میں دُعا ضرور کرتا ہوں۔ چاہے وہ میرا دوست ہو نہ ہو۔ میں نے بھی فون پر اس کی مزاج پرُسی کی۔ خلافِ توقع اس کا لہجہ بہت دھیمابلکہ گلوگیر تھا۔میں نے دعائے صحت کے ساتھ ہی کہہ دیا ”عدیم“ خدا کو جان دینی ہے۔ کسی کے بھی خلاف لکھنا یا بولناچھوڑ دو۔ تم اچھے ہو جاﺅ گے۔ خاصی دیر وہ چپ رہا۔پھر اسے کھانسی کا دورہ پڑا۔ پھر ہانپ ہانپ کر صرف اتنا کہا ”اچھا۔۔۔ٹھیک ہے“۔ یہ امریکہ روانگی سے پہلے اس سے میری آخری بات چیت تھی۔ پھر امریکہ ہی میں دوران علاج اس کا انتقال ہوگیا۔ اس کی موت نے مجھے دو باتوں کا سبق دیا۔ اوّل تو یہ کہ کبھی کسی کے ساتھ رنجش کو دشمنی میں نہ بدلو۔ دوم یہ کہ ہمیشہ واپسی اور معذرت کا راستہ کھلا رکھو۔ میں نے اس کی موت کے بعد کوشش یہی کی کہ جو لوگ حسد کی بنا پر بلا وجہ میری مخالفت کرتے ہیں۔ ان سے ناراض تو ہو جاﺅں مگر ناراضگی کو دشمنی میں نہ بدلوں۔ پتہ نہیں میں اس میںکس حد تک کامیاب رہا البتہ دل کو اطمینان یہ رہتا ہے کہ میری رنجشیں وقتی اور عارضی ہوتی ہیں۔ چند گھنٹوں یا چند دنوں بعد مجھے ناراضگی کی وجوہات بھی صحیح سیاق و سباق کے ساتھ یاد نہیں رہتیں۔
ہمارے ایک ماسٹر امیر علی زوار تھے، حساب کے استاد تھے۔ کسی لڑکے نے ان سے بدتمیزی کی۔ وہ تیزی سے بڑھے اور صاحبزادے کے دو تین تھپڑ رسید کیئے۔ لڑکا سہم گیا۔ چھٹی ہو گئی۔ چھٹی کے بعد کیا دیکھتا ہوںکہ ماسٹر امیر علی نے اس لڑکے کو گلے سے لگا رکھا ہے۔ پیار کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں۔ ”کیا باپ کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنے بیٹے کی بد تمیزی پر اسے سرزنش کرے؟ کل میں میوے والا گُر لاﺅں گا اور اپنے بیٹے کو کھلاﺅں گا۔ اچھا”یہ بتا تجھے چوٹ تو زیادہ نہیں لگی میرے بیٹے؟“ ہائے۔ کیا لوگ تھے۔ کیا زمانے تھے؟ اب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کر۔
وہ لوگ وہ زمانہ تو گیا۔ اب وباﺅں، آفتوں اور رشتوں سے لا تعلقی کا زمانہ ہے۔ لیکن اب بھی سینئر دوستوں میں رشتہ محبت کچھ نہ کچھ باقی ہے مثلاََ ”دھنک“ جیسے مقبول عام رسالے کے سابق ایڈیٹر سرور سکھیرا، جو گاہے بگا ہے خود فون کر کے خیریت پوچھ لیتے ہیں۔ ہمارے عزیز شاعر دوست گلزار بخاری، نہایت پیارے اور زبان غالب میں جدید ترین جہات کے خالق شارق جمال خاں، محترمہ قرة العین سیدہ، آغا امیر حسین، لندن سے ہماری عزیز ترین بہنوں جیسی بہن اور نامور کالمسٹ براڈ کاسٹر سعدیہ سیٹھی، گوجرانوالہ سے پیارے بھائی ڈاکٹر سعید احمد سعدی، جان کاشمیری اور بہت عزیز ترین چھوٹا بھائی صدام ساگر، لاہور ہی سے مفکر اور پروفیسر فرخ محمود جن کی کتاب ”افکار فرخ“ کے بہت چرچے ہیں۔ طارق چغتائی بزم چغتائی کے بانی ہیں اور ہمارے ان عزیز ترین دوستوں میں ہیں جو ہر ماہ بزم آرائی کرتے ہیں اور بطور خاص ہمیں یاد کرتے ہیں۔ یاد کرنے والوں میں پروفیسر دُرنجف زیبی اور برادرم ریاض رومانی، خلش بجنوری اور بے شمار احباب ہیں جو انتہائی بے لوث، مخلص اور مہذب ہیں۔ یہ تو وہ نام ہیں جو پچھلی وضعدارانہ روش کے حوالے سے فی الفور ذہن میں آ گئیں۔ اب اگلے کالم میں تفصیل سے ان احباب گرامی کا ذکر کریں گے جن میں آغا امیر حسین اور ”تخلیق“ کے سونان اظہر، آپا سلٰمی اعوان کے ساتھ ان مخلصوں کا ذکر بھی کریں گے جنہیں آج کے عہد ناپرساں میںبھی اس لیئے امتیازی حیثیت حاصل ہے کہ ان کے اندر محبت، انسانیت اور وضع داریاں زندہ ہیں!!
(کالم نگار شاعر، ادیب اور معلم ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved