تازہ تر ین

سی پیک کو سمجھا نہیں جا سکا

مصطفی حیدر سید
جنوبی ایشیا کےلئے امریکہ کی سینئر سفارت کار ایلس ویلز نے 21جنوری کو ایک مرتبہ پھر سی پیک کے منصوبے پر تنقید کی اور پاکستان کو یہ باور کروانے کی کو شش کی کہ سی پیک منصوبہ کیوں پاکستان کےلئے فائدہ مند نہیں اور پاکستانی گزشتہ ساڑھے پانچ سالوں کے دوران سی پیک منصوبے سے حاصل ہونے والے فوائد کے بارے میں بھی غلط فہمی کا شکار ہیں ۔امریکی سفارتکار 21نومبر کو بھی ایک امریکی تھنک ٹینک سے خطاب کرتے ہوئے سی پیک پر تنقید کے نشتر چلا چکی ہیں ۔لیکن اب یہ ضروری ہو گیا ہے کہ سی پیک کے حوالے سے ریکارڈ کو درست کیا جائے ۔ایک تیسرے ملک کےلئے دو ملکوں کے باہمی امور پر اس انداز میں تبصرہ کرنا ان ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے کے برابر ہے ۔پاکستان میں سیاسی معاملات نہایت ہی پیچیدہ اور تقسیم کا باعث بنتے ہیں اور تمام سیاسی جما عتوں کا کسی ایک مدعا پر متفق ہونا بہت ہی مشکل ہوتا ہے ،لیکن پاک چین دوستی اور سی پیک کے حوالے سے تمام سیاسی جماعتیں ،سٹیک ہولڈرز اور ادارے ایک ہی صفحہ پر ہیں ۔جیسا وزیر اعظم عمران خان نے ڈیوس سمٹ کی سائڈ لائنز پر سی این بی سی کو انٹر ویو دیتے ہوئے کہا کہ ہم چین کے بہت شکر گزار ہیں کہ انھوں نے مشکل حالات میں ہماری مدد کی ۔پاکستان پر چینی قرضوں کے اندر دبے ہونے کا تا ثر بے بنیاد ہے ۔وزیر اعظم نے یہ کہہ کر ان پاکستانیوں کی ترجمانی کی جو کہ پاکستان کو بیلٹ اینڈ روڈ کے مرکزی منصوبے کا حصہ ہونے پر خوش قسمت سمجھتے ہیں ۔بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت پانچ را ہداریاں تعمیر کی جا رہی ہیں ،جن میں ایسٹ ایشیا ،وسطی ایشیا ،مشرق وسطی اور یورپ شامل ہیں لیکن گوادر بیلٹ اینڈروڈ منصوبے کا مرکز ہے ۔سلک روڈ اکنامک بیلٹ کے سمندری اور زمینی راستوں کے ملا پ کی جگہ ہے ۔پاکستان میں سی پیک منصوبے کے شروع ہونے کے بعد پاکستان کی سٹریٹیجک اہمیت میں اضافہ ہوا بلکہ پاکستان ایک بار پھر بہترین سرمایہ کاری اور سیاحت کا مرکز بن گیا ۔2013ءسے قبل پاکستان کو بد امنی کا شکار ،طالبان کی آماجگاہ ،اور انتہا پسندی کے شکار ملک کے طور پر دیکھا جاتا تھا ۔ آج چین کی سرمایہ کاری کی بدولت دیگر ممالک کو بھی پاکستان میں سرمایہ کا ری کرنے کا حوصلہ ہوا ہے ۔سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات گوادر میں آئل ریفا ئنریز لگا رہے ہیں ۔قطر بھی 3ارب ڈا لرکی سرمایہ کا ری کر رہا ہے اور ایران ،جرمنی اور آسٹریلیا جیسے ممالک نے عوامی سطح پر سی پیک منصوبے میں شمولیت اختیار کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے ۔سی پیک پاکستانی معیشت کےلئے قرضوں کا پہاڑ نہیں بلکہ ہوا کا ایک تازہ جھونکا ثا بت ہوا ہے ۔سی پیک کے تحت پاکستان کو آسان شرائط پر قرضے حاصل ہوئے جو کہ 2سے 2,39فیصد کی انتہائی کم شرح سود پر پاکستان کو دیے گئے ہیں ۔ان قرضوں کو پاکستان نے 20سال کے عرصے میں واپس ادا کرنا ہے اور نہ صرف یہ بلکہ ان قرضوں کی ادایئگی کےلئے 10سال کا ایک گریس پیریڈ بھی موجود ہے ۔سی پیک کے تحت پاکستان کو حاصل ہو نے والے قرضے پاکستان کے کل بیرونی قرضہ کا 7فیصد حصہ بنتے ہیں ۔74ارب ڈالر کے کل بیرونی قرضے میں چین کے قرض کا حصہ صرف 4.9ارب ڈا لر ہے باقی کا قرضہ پاکستان نے عالمی اداروں سے حاصل کر رکھا ہے ۔ سی پیک توانا ئی منصوبوں کی بد ولت پاکستان کے نیشنل گرڈ میں 5,320میگا واٹ بجلی کا اضافہ ہواہے جو کہ پاکستان کی کل بجلی کی پیدا وار کا 30فیصد حصہ بنتا ہے ۔
2013ءمیں پاکستان میں سی پیک منصوبے کے آغاز کے بعد 75,000پاکستانیوں کو اس منصوبے کی بدولت روزگار کے مواقع میسر آ چکے ہیں ۔ ملتان ،سکھر موٹر وے منصوبے جو کہ سی پیک کے تحت بننے والا ایک اہم سٹرک کا منصوبہ ہے جس کے تحت 29ہزار پاکستانیوں کو روزگار کے موا قع میسر آئے ہیں ۔کراچی کے پورٹ قاسم میں سی پیک کے تحت بننے والا 1320میگا واٹ کے پاور پلانٹ منصوبے میںکام کرنے والے 400ماہرین پاکستانی ہیں جن کی تربیت چین میں کی گئی ہے ۔اس کے علاوہ بھی 4ہزار مقامی ورکرز اس منصوبے کے تحت کام کر رہے ہیں ۔
سی پیک نے پاکستانی شہریوں کی زندگی میں مثبت تبدیلیاں برپا کی ہیں ، یہ منصوبہ پاکستان میں تبدیلی لایا ہے اور یہ منصوبہ پاکستان چین کی ہر آزمائش پر پورا اترنے والی آزمودہ سٹریٹجک شراکت داری کا مظہر ہے ۔پاکستان او پاکستانیوں کو غلط اور گمراہ کن حقائق کے ذریعے تشکیل دیے ہوئے بیانیہ کے ذریعے مسلسل سی پیک سے متنفر کرنے کی کوششیں سفارتی ذمہ داریوں کے دائرہ کار سے باہر ہیں ۔ سی پیک پر عوام کو حقائق سے آگاہ کرنے کے لیے ایک سے بڑھ کر ایک پاکستانی اور چینی ما ہرین اسلام آباد میں موجود ہیں ۔سی پیک پر اس نوعیت کی تنقید خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے حوالے سے اس کی بے چینی کو ظا ہر کرتا ہے ۔سی پیک پر امریکی تنقید اس کی ایشیا کی جانب زیادہ توجہ دینے کی پالیسی کو ظاہر کرتا ہے اور اس پالیسی کا بنیادی مقصد چین کے بڑھتے اثر ورسوخ کو روکنا ہے ۔ امریکہ اگر اس حوالے سے چین کے ساتھ مقابلہ کرنا ہی چاہتا ہے تو اس کےلئے بہترین حکمت عملی یہ ہو گی کہ پاکستان کو ایک ایسی تجارتی معاہدہ کی پیشکش کی جائے جو کہ بغیر کسی خفیہ شرائط کے ہو ۔اور امریکی کمپنیوں اور پاکستانی معیشت دونوں کے مفاد میں ہو ۔جب پاکستانی عوام پاکستان امریکہ کے اوینچ نیچ کا شکار اور مفادات پر مبنی تعلقات کی تاریخ کا جائزہ لیتے ہیں اور دوسری طرف پاکستان چین کی لازوال اور گہری دوستی پر نظر ڈالتے ہیں جو کہ اب سی پیک منصوبے کی شکل میں آگے بڑھ رہی ہے تو ان کے لیے امریکہ اور چین میں سے پاکستان کا مرکزی اتحادی کون ہو گا اس سوال کا جواب دینا مشکل نہیں رہتا ۔
(پاکستان چائینہ انسٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved