تازہ تر ین

کرونا یا طوفانِ نوح ثانی

شفیق اعوان
میرا یقین ہے کہ کرونا وائرس کا عذاب خالقِ کائنات کی اس کی تخلیق سے طوفان نوح کے بعد دوسری بڑی ناراضگی ہے۔ خدا تعالی قوم نوح علیہ اسلام کی نافرمانی سے اس قدر ناراض ہوئے کہ اپنی ہی تخلیق کو فنا کرنے کی ٹھان لی لیکن انسانی نسل کی بقا کےلئے ایمان والوں اور چرند پرند سمیت دوسری تخلیق کو حضرت نوح کی کشتی کے ذریعے بچا لیا۔ اسی لیے حضرت نوح ؑتاریخ انسانی میں آدم ثانی کہلائے۔ نبوت کا سلسلہ نبی کریم کے ساتھ ہی ختم ہو چکا ہے لیکن مجھے یقین ہے خدائے بزرگ برتر نے اس عذاب سے اپنی مخلوق کی نجات کےلئے اپنے ہی بندوں میں سے کسی کو چن لیا ہو گا۔
کرونا کا عذاب بغیر کسی مذہبی و لادینی ، رنگ و نسل و قومیت و حیثیت کی تفریق کے سب پر نازل ہے۔ خدا کی ناراضگی کی حدت اس حد تک ہے کعبہ و کلیسا، دیوار گریہ، مندر ، گوردوارہ، ٹیمپل سمیت ہر مذہب کی عبادت گاہ کے دوازے اس کے ماننے والوں پر بند ہیں ۔ اجتماع اور مجلس ہر مذہب کی اساس تھی جو ممنوع قرار پائی۔ کرونا کا عذاب اس کرہ ارض پر اب تک کے نازل ہونےوالے جملہ عذاب سے بدترین ہے۔ خالق کائنات قادر مطلق ہے اور انسان کے خدائی دعوﺅں اور اس کی تمام تر جدیدیت اور طب میں نت نئی ایجادات کے باوجود اس کے ایک نظر نہ آنیوالے وائرس کے سامنے ہیچ ہے۔ ہمارے رب نے اپنی خدائی کو نہ ماننے والے ایک لادین ملک چین سے اس وائرس کا اجرا کر کے اپنے ہی تخلیق کردہ تمام عقائد و مذاہب کو اس کی لپیٹ میں لا کر ان کا زعم ختم کرنے کے ساتھ ساتھ ان مذہبی پیشواﺅں کو بھی خبردار کیا ہے کہ ان سے کہیں نہ کہیں بڑی لغزش ہوئی ہے۔ خالق نے اپنی خلق کو یہ بھی سبق دیا ہے کہ اس کی کھینچی ہوئی حدود سے تجاوز کرو گے تو حشر یہی ہو گا۔
ماہرین طب اور سائنسدان اس بیماری کی جو بھی سائنسی توجیح دیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ انسانی عقل اس کے سامنے بے بس ہے۔ جیسا کہ پہلے بھی ذکر کیا ہے اور میرا یہ بھی ایمان ہے کہ اس سے نجات بھی خالق کائنات کے پاس ہی ہے اور وہ ایک دن اپنی خلق سے کسی کو چن کر اس کے دماغ میں اس کا حل ڈال دے گا۔ اور وہ اس چناﺅ میں کسی مذہب کی تفریق نہیں کرے گا کیونکہ وہ رب العالمین ہے محض رب المسلمین نہیں۔ یہ اعزاز اس کو ہی ملے گا جو حکم ربی کے مطابق انسانیت کی بھلائی کےلئے علم و تحقیق پر یقین رکھتا ہے۔
انبیاءکی قوموں پر جتنے بھی عذاب آئے وہ سب ان کی نافرمانی کی وجہ سے آئے۔ چاہے وہ نافرمانی کاروباری معاملات کی صورت میں ہو یا آپس میں تعلقات کی صورت میں ہو یا عبادات کی صورت میں ہو۔ اللہ تبارک و تعالی نے انکی ان نافرمانیوں کی وجہ سے قیامت تک کےلئے آنےوالی انسانیت کےلئے انہیں نشان عبرت بنا دیا۔ آج بھی دنیا میں ایسے کئی مقامات موجود ہیں جہاں ان کے آثار نمایاں ہیں۔ اور ایسے عذاب کا اقرار جدید سائنس بھی اپنی ریسرچ میں کر چکی ہے۔ جن باتوں کی وجہ سے وہ عذاب خداوندی کی لپیٹ میں آئے وہی باتیں آج ہمارے معاشرے میں بھی نمایاں ہیں۔انسانی تاریخ میں قوم نوح، قوم ہود، قوم صالح ، قوم سبا ، قوم عاد و ثمود ، قوم شعیب، اصحاب مدین، قوم لوط کے طرز فکر و بداعمالی پر مختلف عذاب آئے تھے۔ لیکن ایک معمولی جرثومے کرونا کا عذاب سب پر بھاری ہے۔ اللہ پاک آج کی دنیا کو بھی کبھی سونامی، کبھی سیلاب، کبھی ٹڈی دل، کبھی متعدی امراض، کبھی طاعون، کبھی ڈینگی،کبھی جنگلوں کی آگ، کبھی زلزلوں کی صورت میں خبردار کرتا رہا۔ہم میں سے بعض اسی زعم میں نافرمانیاں کرتے رہے کہ ہم تو فاصلے پر ہیں اور محفوظ ہیں۔ لیکن جب ہم نے روش نہ بدلی تو پھر کرونا وائرس کا عذاب نازل کر دیا جس نے تمام فاصلے ختم کر کے کسی بھی مذہب کے ماننے والے یا لادین کوئی بھی نہ بچا۔
اس عذاب سے نجات کی فوری صورت اجتماع سے گریز لیکن آج کے بعض مذہبی پیشوا اپنی دکانداری چمکانے کےلئے مفارقت کی بجائے اجتماع پر بضد ہےں۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ نبی آخرالزمان حضرت محمد نے غار حرا میں مصلحت کے تحت مفارقت اختیار کی تھی ۔ پھر اصحاب کہف کی مثال بھی سامنے ہے۔ تمام انسانیت مذہبی پیشواوں کی بجائے سائنسدانوں اور موجدوں کی طرف دیکھ رہی ہے کہ کب میرا رب ان کو اتنی فہم، علم اور عقل دے کہ وہ اس وائرس کے توڑ کےلئے کوئی دوائی ایجاد کر لیں۔ یقینا میرا رب برداشت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا ہے۔ کاش ہم مسلمان بھی نفرت کے پرچار یا فرقہ پرستی کی بجائے اپنی نسلوں کو سائنسی تعلیم کی طرف توجہ دیں کیونکہ میرے نزدیک پھونکوں، منتروں، چلوں ، فرقوں کی بجائے کوئی ویکسین ہی اس درد کی دوا ہو گی۔ بدقسمتی سے مسلمان اس میدان میں عنقا ہیں۔ اسی لادین چین نے آج سائنس، ٹیکنالوجی اور موثر حکمت عملی کے ذریعے اس پر کافی حد تک قابو بھی پا لیا ہے کامیابی حاصل کی ہے اور ہم آج بھی مذہبی انا کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں۔
قیامت ہے ہی اجتماعیت سے انفرادیت کا مقام جہاں ہر شخص کو اپنے اعمال نامے کی فکر پڑی ہو گی۔ غور کریں تو یہ قیامت صغریٰ ہی ہے جہاں ہر کسی کو اپنی پڑی ہے۔ خود غرضی کی انتہا یہ ہے کہ اپنے پیاروں کو جنہیں آنکھوں سے اوجھل نہیں ہونے دیتا تھا ان سے دوری اور فاصلہ میں ہی بقا ٹھہری۔ تمام مذاہب اجتماع کا درس دیتے ہیں لیکن میرے رب کو شاید یہ دکھاوے کی عبادت پسند نہ تھی اس نے ایسا عذاب نازل کیا کہ اجتماع ہی عذاب بنادیا ۔ اس کرونا نے بڑے بڑے تکبر اور غرور والوں کو خاک چٹا دی ہے۔ کھربوں ڈالرز کا جدید اسلحہ، نت نئے ڈرونز، ان گنت میزائل، تباہ کن ایٹمی اسلحہ ، خلاءکو مسخر کرنے کے دعویدار، طبی میدان میں خدائی کے دعویدار ،اس ان دیکھے انجانے دشمن کے آگے بے بس ہیں۔ ایک وائرس نے سائنسی ترقی، معاشی غرور، مذہبی تکبر، سماجی تفاخر ، فلسفوں اور نظریات کا پول کھول دیا ہے۔لادین چین کا سربراہ حکومت اس کے مداوے کےلئے مسجد، چرچ، ٹیمپل میں ماتھا رگڑتا ہے۔ بے شک اس میں عقل والوں کےلئے خوب نشانیاں ہیں اگر ہم سمجھیں تو۔
جو مذہبی پیشو وائرس کو چین کی لادینت کا شاخسانہ قرار دے رہے تھے میرے رب نے بلا تفریق ہر مذہب کے ماننے والوں کو اس امتحان اور آزمائش میں ڈال کر کہہ دیا کہ ہم بطور انسان اپنا قبلہ درست کریں۔ پوری دنیا میں پسے ہوئے طبقات پر مظالم ، کشمیر کو لاک ڈاﺅن،فلسطینیوں پر مظالم کی انتہا اور مسلم امہ اور انسانی حقوق کے علمبردار مغرب کی اس پر مجرمانہ خاموشی کا یہی نتیجہ نکلنا تھا۔ آج حجاز مقدس سے لےکر چاروں بر اعظم تک کوئی بھی اس سے محفوظ نہیں۔ ہمیں بطور انسان اپنی غلطیوں کو درست کرنا ہو گا۔ وگرنہ اگلی پکڑ اس سے بھی تباہ کن ہو گی۔ اللہ ہم سب پر رحم کرے۔ آمین۔
گزشتہ کالم’ بعد از خرابی بسیار۔لاک ڈاﺅن ‘کے حوالے سے اکثر قارئین نے کرونا وائرس کی تباہ کاریوں سے بچنے کے حوالے سے پوچھا ہے تو ان کےلئے عرض ہے کہ اس کےلئے حکومت کی طرف سے دی گی تمام ہدایات پر عمل کریں۔ ایمر جنسی کی صورتحال میں روزنامہ خبریں اور چینل ۵پرتمام رابطہ نمبر دیے جاتے ہیں۔ جو قارئین اس وائرس کو یہود و ہنود کی اسلام کے خلاف سازش قرار دے رہے اور با جماعت نماز پرمصر ہیں۔ تو ان کےلئے عرض ہے ارض یہود و ہنود اسرائیل اور بھارت بھی اس کی لپیٹ میں ہیں۔ یہ ایک وباہے اسے اسی طرح نمٹیں مذہب کی چھتری استعمال نہ کریں۔ مسلمانوں کےلئے حرم کعبہ اور مسجد نبوی افضل ترین ہیں اگر وہاں انسانیت کی بھلائی کےلئے وقتی طور پر نماز کے اجتماعات پر پابندی ہے تو ہمیں بھی ان کی تقلید کرنی چاہیے۔ اللہ پاک سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں ۔
آشوب آگہی میں گماں کی بساط کیا
وہ آندھیاں چلیں کہ یقین تک بکھر گئی
قارئین کرام اپنی رائے کا اظہار اس واٹس ایپ نمبر 03004741474 پر کریں۔
(کالم نگار سینئر صحافی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved