تازہ تر ین

کورونا وائرس اور حکومتی پیکیج

کامران گورائیہ
دنیا بھر کی طرح پاکستان میں کورونا وائرس کی تباہ کاریاں جاری ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر کورونا کے متاثرین میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن صوبہ سندھ میں صورتحال زیادہ تشویشناک ہے۔ سندھ، پنجاب، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر میں کورونا متاثرین کی تعداد میں فکر انگیز اضافہ ہو رہا ہے جس پر وزیراعظم عمران خان نے ملک کے 22 کروڑ عوام جن میں اکثریت متوسط طبقہ اور سطح غربت سے نیچے کی زندگی گزارنے والوں کی ہے ان کےلئے ایک ہزار ارب سے زائد کے معاشی پیکیج کا اعلان کر دیا ہے۔ گو کہ حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے اس معاشی پیکیج کو اونٹ کے منہ میں زیرہ بھی کہا جاسکتا ہے لیکن کورونا وائرس کی ہولناکیوں کے پیش نظر عوام کےلئے اس ریلیف کا دیا جانا غنیمت تصور کیا جا رہا ہے اور اس معاشی پیکیج پراپوزیشن جماعتوں کی جانب سے بھی کچھ زیادہ تنقید نہیں کی گئی۔ لیکن ایک ارب سے زائد آبادی والے ہمسایہ ملک بھارت کے ساتھ کورونا کی صورتحال کے پس منظر میں اس پیکیج کو حوصلہ افزا قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بھارت میں زیادہ استعمال ہونے والی اشیا چاول اور گندم کے نرخ حیران کن حد تک کم کر دیئے گئے ہیں جبکہ یہ رعائتی نرخ اگلے چار ماہ کی مدت کےلئے مقرر کیے ہیں جو بھارتی عوام کےلئے قابل اطمینان بھی ہے۔ اگر یہ بات ذہن میں رکھی جائے کہ بھارت ایک بڑی معاشی قوت ہے اس کے وسائل بہت زیادہ ہیں۔ اسی نسبت سے پاکستان کی آبادی بھی کم اور دو سال پہلے تک اس ملک کی معیشت ترقی کی جانب رواں دواں تھی۔ اس لئے عمران خان حکومت کا اصل امتحان اگلے چند دنوں میں شروع ہوگا۔ فی الوقت ملک بھر میں دو ہفتوں کے لاک ڈاﺅن کا اعلان کیا گیا ہے اس عرصہ میں جہاں عوام کورونا وائرس سے نبرد آزما ہیں وہاں دیہاڑی دار اور مزدور پیشہ افراد کےلئے گھر کا چولہا چلانا ایک کٹھن مرحلہ ہوگا۔ کورونا وائرس کی وجہ سے دیئے گئے معاشی پیکیج کو کورونا پیکیج کا نا دیا جائے تو بے جانا ہوگا کیونکہ تحریک انصاف کی حکومت جس دن سے اقتدار میں آئی ہے عوام الناس سے تعاون کی طلبگار رہی ہے۔ کبھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر کے کبھی مختلف شعبوں میں ٹیکسز عائد کرکے ،بیروزگاری کا طوفان کھڑا کرکے اور کبھی معاشی بدحالی کی آواز سنا کر اور سابق حکمرانوں کو قصور وار ٹھہرا کر، موجودہ حکومت نے اب تک عوام ہی سے تعاون مانگا ہے۔ اس عوامی تعاون کے عوض انہیں صرف ایک جملہ کی تسلی دی گئی جو یہ ہے کہ آپ نے گھبرانا نہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے اس جملہ کا استعمال جتنی دیدہ دلیری اور بے دریغ کیاہے۔ عوام اب ان سے سچ مچ گھبرانے لگے ہیں، معاشی پیکیج نہیں کورونا پیکیج پر بھی عمران خان داد اور تحسین کے مستحق ہیں لیکن اس سے کہیں زیادہ انہیں یہ باور کروانے کی ضرورت ہے کہ عوام طاقت کا سرچشمہ ہوتے ہیں ۔کسی بھی سیاسی اور جمہوری ملک میں حکومت وقت کی حیثیت عوام کےلئے ایک ماں جیسی ہوتی ہے لیکن افسوس ہے کہ موجودہ حکومت اپنے عوام کے ساتھ سوتیلوں جیسا سلوک روا رکھتی آئی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کو دنیا بھر میں کورونا وائرس کے دل ہلا دینے والے خوفناک اثرات کا ادراک نہیں، وہ نامعلوم وجوہات کی بنا پر خود فریبی اور خود اعتمادی کا شکارہیں، خود اعتمادی اکثر اوقات نقصان دہ اور تکلیف کا سبب بھی بن جاتی ہے اسی لئے ایران سے تفتان بارڈر پر واپس وطن پہنچنے والے پاکستانیوں اور زائرین کو سنجیدگی اور ذمہ داری سے چیک نہیں کیا گیا۔ ان کی سکریننگ نہیں کی گئی اگر ایک نام نہاد قرنطینہ بنایا بھی گیا تووہاں پر افراتفری اور خوف وہراس کا وہ ماحول پیدا کیا گیا کہ کورونا متاثرین سمیت اچھے بھلے صحت مند افراد بھی بھاگ نکلے اور کسی نہ کسی طرح اپنے ملک کے طول و عرض میں پھیلے اپنے اپنے علاقوں تک پہنچے گئے۔ یہی صورت حال ایئر پورٹس اور بہت سے دیگر بارڈرز کے داخلی و خارجی راستوں پر رہی، ٹھیک سے سکریننگ نہیں کی گئی جس کا نتیجہ موجودہ ہولناک حالات کی صورت میں سامنے آگیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان عوام کو دیئے گئے کورونا معاشی پیکیج پر زیادہ خوش فہمی میں مبتلا ہونے کی بجائے آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں کیونکہ آنیوالے دن حکمرانوں کےلئے کسی بڑے امتحان سے کم نہیں ہےں۔ جہاں تک سوال عوام کی تکلیفوں اورمشکلات کا ہے تو اس حوالے سے بہت سے حقائق سے پردہ اٹھ چکا ہے اور آٹا، چینی بحران اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کے پھیلاﺅ پر معاشی پیکیج کے نام پر دیئے جانے والے کورونا پیکیج پر فخریہ انداز اپنایا جا رہاہے لیکن مہلک وبا سے بچا ﺅکےلئے قومی یکجہتی کے فروغ کےلئے کسی قسم کی سنجیدہ کوشش نہیں کی جا رہی۔ اگر کسی کے کہنے سننے پرویڈیو لنک پراے پی سی بلائی بھی گئی تھی تووزیراعظم کی مصروفیات کا عذر پیش کرکے اس اے پی سی کو سبوتاژ کر دیا گیا۔ عوام نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور سنا کہ وزیراعظم اپنا خطاب کر کے چلتے بنے جس پر اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے قائدین نے اپنی تجاویزعوام سے براہ راست شیئر کرنا مناسب تصور نہ کرتے ہوئے اس کانفرنس سے واک آﺅٹ کر دیا۔ وزیراعظم عمران خان کی خوش قسمتی ہے کہ ملک کی دو بڑی اپوزیشن جماعتیں انہیں کورونا کی صورتحال پر اپنے غیر مشروط تعاون کی پیش کش کر رہی ہیں لیکن وہ ایسی کسی پیش کش کو قبول کرنے کے موڈ میں نظر نہیں آ رہے۔ برسر اقتدار جماعت ہو یا اپوزیشن جماعتیں دنیا بھر اورخاص طور پر پاکستان میں کورونا کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرنا پڑے گا۔ عوامی نمائندوں اور عوام کو ایک پیج پر آنا پڑے گا ورنہ وقت ہاتھ سے نکل جائے گا اور گزرا وقت لوٹ کر آیا نہیں کرتا۔
اگر حکمران یہ سمجھتے ہیں کہ کورونا سے عوام کو بچانا ہے تو تمام سٹیک ہولڈرز کو ایک پیج پر آنا پڑے گا ایک دوسرے سے قدم ملا کر چلنا ہوگا اگر ایسا ہو جاتاہے تو ایک ہی معاشی پیکیج کورونا وائرس کے بحران سے نکال لائے گا۔ دوسری صورت میں 10 کورونا پیکیج بھی ہمیں تاریکیوں میں ڈوبنے سے نہیں بچا پائیں گے۔ اب حکمرانوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری نبھائے اور اپوزیشن جماعتوں اورعوامک کوساتھ ملا کر ایک متفقہ لائحہ عمل طے کرےںاور اس لائحہ عمل پر بلا تاخیر عملدرآمد کیا جائے۔ اس بات کو کبھی بھی فراموش نہیں کیا جانا چاہیے کہ پاکستان کورونا وائرس کے آنے سے پہلے بھی بہت سے بحرانوں کا شکاررہ چکا ہے ۔
(کالم نگارسینئر صحافی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved