تازہ تر ین

ڈاکٹر رفیق احمدکا وصال ۔ عہد زرّیں کا اختتام

نعیم احمد
تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن‘ نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین اور پنجاب یونیورسٹی و اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد 25 مارچ 2020ءکو رضائے الٰہی سے انتقال کر گئے۔ انا ﷲ و انا الیہ راجعون۔ خدائے بزرگ وبرتر ان کی مغفرت اور درجات بلند فرمائے (آمین)۔ وہ ان معدودے چند بزرگوں مےں سے اےک تھے جنہےں 23مارچ 1940ءکو لاہور کے منٹو پارک(گرےٹر اقبال پارک) مےں منعقدہ آل انڈےا مسلم لےگ کے اُس جلسے مےں بطور طالبعلم شرکت کا اعزاز حاصل تھا جس مےں قراردادِ پاکستان منظور ہوئی تھی۔ اس وقت ان کی عمر محض 13برس تھی۔ بعدازاں اُنہوں نے مسلم سٹوڈنٹس فےڈرےشن کے پلےٹ فارم سے قےام پاکستان کیلئے شب و روز جدوجہد کی جس کے اعتراف مےں قائد ملت نوابزادہ لےاقت علی خان نے انہےں ”مجاہد پاکستان“ کی سند اپنے دستخطوں کے ساتھ عطا کی۔ تحریک پاکستان میں آپ کی شاندار خدمات پر پاکستان موومنٹ ورکرز ٹرسٹ کی طرف سے بھی 1999ءمیں آپ کو گولڈ میڈل دیا گیا۔ وہ وطن عزیز کے عالمی شہرت یافتہ ماہر تعلیم اور ماہر معاشیات تھے۔ آپ نے ملکی و بین الاقوامی درسگاہوں میں 35سال سے زائد عرصہ تک تدریسی فرائض سرانجام دیے۔ تعلیم کے شعبے میں ان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں پنجاب یونیورسٹی نے انہیں ” پروفیسر امریٹس“ کے منصب سے سرفراز کیا۔
پروفےسر ڈاکٹر رفےق احمد تحرےک پاکستان کے سرگرم کارکن اور نظرےہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے سابق چےئرمےن مجےد نظامی کے نہاےت قرےبی دوست تھے۔ ان ہی کے اصرار پر اُنہوں نے 1999ءمیں نظرےہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری کی ذمہ دارےاں سنبھالےں اور اسے اےک قومی نظرےاتی ادارے کی صورت عطا کرنے مےں کلےدی کردار ادا کےا۔2008ءمیں وہ اس ادارے کے وائس چیئرمین کے منصب پر فائز ہوئے اور اس حےثےت سے آپ نے قائداعظمؒ اور علامہ محمد اقبالؒ کے نظرےات و تصورات کے مطابق وطنِ عزےز کو اےک اسلامی‘ فلاحی اور جمہوری مملکت بنانے کےلئے مسلسل جدوجہد کی۔ پاکستان کی نسل نو ان کی توجہ کا محور ومرکز تھی۔وہ اسے پاکستان کا مستقبل قرار دیتے تھے اور اس کی نظریاتی تعلیم و تربیت پر بڑا زور دیتے تھے۔ نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے پاکستان آگہی پروگرام اور نظریاتی سمر سکول میں ان کی دلچسپی دیدنی تھی اور وہ ان پروگراموں کے بانیوں میں سے تھے۔ اسی طرح اساتذہ¿ کرام کیلئے نظریاتی تربیتی ورکشاپس کے سلسلے کا آغاز بھی انہوں نے ہی کیا۔
پروفیسر داکٹر رفیق احمد متعدد ملکی و بین الاقوامی جامعات اور دیگر علمی اداروں مثلاً امرےکن اکنامک اےسوسی اےشن (نےشول)‘ رائل اکنامکس سوسائٹی (لندن)‘ پاکستان اکنامک اےسوسی اےشن اور سی اےس سی ڈی (مارگا انسٹےٹےوٹ‘ کولمبےا) کے بھی رکن رہے ۔ آپ پاکستان انسٹےٹےوٹ آف ڈوےلپمنٹ اکنامکس‘ نےشنل ےونےورسٹی آف کمپےوٹر اےنڈ اےمرجنگ سائنسز(FAST)‘ انسٹےٹےوٹ آف لےڈر شپ اےنڈ مےنجمنٹ اور پاک اےمز کے بورڈ آف گورنرز کے بھی رکن رہے ۔ آپ نے 1981ءتا 1982ءاور 1987ءتا 1988ءوائس چانسلرز کمےٹی کے چےئرمےن کی حےثےت سے خدمات سرانجام دیں ۔ آپ پنجاب ےونےورسٹی کے سنٹر فار ساﺅتھ اےشےن سٹڈےز کے بھی مشےر رہے ۔آپ کو متعدد بار بےرون ملک سےمےناروں اور کانفرنسوں مےں پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز حاصل رہا۔ 1984ءمیں آپ کو پنجاب یونیورسٹی کا وائس چانسلر مقرر کیا گیا۔ اسی سال جرمنی کی مختلف ےونےورسٹےوں کا دورہ کرنے والے پاکستانی اہلِ علم و دانش کے وفد کی بھی قےادت کی ۔آپ کو محرکاتی معاشےات‘ علاقائی معاشےات‘ اسلامی معاشےات اور تعلےمی معاشےات کے موضوعات پر مہارتِ تامہ حاصل تھی۔ آپ اعلیٰ پائے کی سات کتب کے مصنف تھے۔
آپ کے درجنوں تحقےقی مقالہ جات ملکی و بےن الاقوامی جرائد کی زےنت بن چکے ہےں۔علاوہ ازےں آپ نے مالےاتی امور پر شائع ہونے والے جرائد “Economic Insight” اور “Pakistan Economic and Social Review” کی ادارت کے فرائض بھی سرانجام دیئے۔ پاکستان کے نووےں پنج سالہ منصوبے مےںشامل تعلےم کے حوالے سے رپورٹ آپ کی تحرےر کردہ تھی۔
سابق صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان و چیئرمین نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ محمد رفیق تارڑ، چیئرمین تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ چیف جسٹس( ر) میاں محبوب احمد، جسٹس (ر) خلیل الرحمن خان، میاں فاروق الطاف، سرتاج عزیز، شوکت ترین، ڈاکٹر صفدر محمود، کارکنان تحریک پاکستان کرنل(ر) محمدسلیم ملک ، چودھری ظفر اللہ خان ، خواجہ خورشید وائیں ،چوہدری محمد طفیل ، میاں ابراہیم طاہر، ایم کے انور بغدادی، بیگم ثریا خورشید،بیگم مہناز رفیع، ڈاکٹر اجمل نیازی، ڈاکٹر پروین خان اور نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید نے اپنے ایک مشترکہ تعزیتی بیان میں پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد کے ا نتقال پر گہرے دکھ اور غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پروفیسر ڈاکٹررفیق احمد کی شخصیت سراپا پاکستان تھی۔ انہوں نے تحریک پاکستان کے تمام مراحل میں بنفس نفیس حصہ لیا اور قیام پاکستان کے بعد آخری سانس تک وطن عزیز کی خدمت اور نظریاتی استحکام کےلئے کوشاں رہے۔ نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ اور ایوان قائداعظمؒ کی تعمیر کے لیے ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور اپنے تعزیتی پیغام میں سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اﷲ تعالیٰ مرحوم کی روح کو جوار رحمت میں جگہ اور غمزدہ خاندان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد نے ایک بیان میں کہا کہ پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد نظریہ¿ پاکستان کے محافظ تھے اور ان کے انتقال سے ہمارا ملک اپنی نظریاتی سرحدوں سے ایک عظیم محافظ سے محروم ہو گیا ہے۔ ڈاکٹر رفیق احمد ایک عظیم استاد اور بہترین منتظم تھے اور تعلیمی اداروں میں ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد کا انتقال ایک عہد زرّیں کا خاتمہ ہے۔ وہ پاکستان کے عاشق‘ بانی¿ پاکستان کے سچے پیروکار‘مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ کے شیدائی اور مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ کے عقیدت مند تھے۔ ان کا شمار نظرےہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے عظےم الشان منصوبے ”اےوانِ قائداعظمؒ“ کے بانےوں مےں ہوتا ہے۔ اس منصوبے سے ان کی قلبی وابستگی تھی اور وہی اسے عملی جامہ پہنانے والے تھے۔ وہ اسے افکار قائد کے ابلاغ کا عالمی مرکز بنانے کے متمنی تھے اور اس سلسلہ مےں آخر دم تک بڑے متحرک رہے۔ قائداعظمؒ کے سچے پےروکار کی طرح وہ بھی اس مملکت خداداد کو تحفہ¿ خداوندی اور حضور پاک کا روحانی فےض سمجھتے تھے اور اس کی تعمےر و ترقی کےلئے محنت کرنے کو عبادت کا درجہ دےتے تھے۔انہیں نہ صرف تحریک پاکستان بلکہ تعمیر پاکستان میں بھی نمایاں خدمات انجام دینے کا شرف حاصل رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ”جب پاکستان قائم ہوا تو ہم نے صفر سے اپنے سفر کا آغاز کےا۔ ہم مادی وسائل سے تہی دامن تھے۔ پورے ملک مےں صرف اےک ہی پنجاب ےونےورسٹی تھی مگر آج 72سال گزر جانے کے بعد ہم دنےا کی ساتوےں اور عالم اسلام کی پہلی اےٹمی قوت ہےں۔ اگرچہ ہمارے ازلی بدخواہ بھارت نے اسلام دشمن عالمی طاقتوں کی ملی بھگت سے ننگی جارحےت کے ذرےعے 1971ءمےں ہمارا مشرقی بازو ہم سے الگ کردےا مگر موجودہ پاکستان پوری شان شوکت سے دنےا کے نقشے پر موجود ہے اور ہرگزرتے دن کے ساتھ مضبوط تر ہوتا جارہا ہے۔ پاکستان بےش بہا قدرتی وسائل سے مالا مال ہے مگر ہم مطلوبہ تکنےکی صلاحےت اور وسائل مےں کمی کے باعث ان سے بھرپور استفادہ نہےں کر پائے۔ ہمارے پاس ستاروں پر کمندےں ڈالنے والا وژن اور اےک زبردست نظرےہ موجود ہے۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے آئےن و قانون کے ہتھےاروں اور ووٹ کی طاقت سے حصولِ پاکستان کی جنگ جےتی‘ لہٰذا وفاقِ پاکستان کی مضبوطی کے لئے ضروری ہے کہ ےہاں جمہوری اقدار کو فروغ دےا جائے۔ جس حق خودارادےت کی بنا پر پاکستان آزاد ہوا‘ وہ بعد ازاں دنےا کی دےگر محکوم اقوام بالخصوص مسلمان ممالک کے لئے بھی آزادی کی نوےد ثابت ہوا۔ ہمےں چاہےے کہ پاکستان کی عظمت اور اہمےت کو اپنے دل و دماغ پر نقش کرلےں اور اس کی تعمےر و ترقی کے لئے اپنی خداداد صلاحےتوں کو بھرپور طرےقے سے بروئے کار لائےں۔“
پروفےسر ڈاکٹر رفےق احمد کی عمر 92برس تھی تاہم اس ضعیف العمری میں بھی وہ نوجوانوں جےسے جذبوں اور ولولوں کے مالک تھے۔ اےوانِ کارکنان تحرےک پاکستان مےں منعقدہ تقرےبات مےں جب صدارتی ےا کلےدی خطاب کے لئے انہےں دعوت دی جاتی تو وہ سٹےج پر اپنی نشست سے اظہارِ خےال کی بجائے روسٹرم پر جاکر خطاب کرنے کو ترجےح دےتے اور کہتے کہ حاضرےن مےں نسل نو کی کثےر تعداد دےکھ کر ان مےں بھی جوانوں جےسا حوصلہ اور طاقت پےدا ہوگئی ہے۔ ٹھےک تےن سال قبل 25مارچ 2017ءکو انہیں اےک شدےد جسمانی عارضہ لاحق ہوامگر اُنہوں نے بے پناہ قوت ارادی اور بلندحوصلگی سے اس پر قابو پالےا اور کچھ ہی عرصہ بعد پہلے والے جذبے اور توانائی سے قومی خدمات مےں مصروف ہوگئے۔ گزشتہ ماہ 12وےں سالانہ سہ روزہ نظرےہ¿ پاکستان کانفرنس مےں بھی ےہی منظر دےکھنے مےں آےا اور اُنہوں نے ضعےف العمری کے باوجود روسٹرم پر کھڑے ہوکر تفصےلی خطاب کےا جس کے دوران ہال بار بار تالےوں سے گونجتا رہا۔ بلاشبہ ان کی ذات ہر اس پاکستانی کے لئے سرچشمہ¿ فےض تھی جو اس ملک کو حقےقی معنوں مےں قائداعظمؒ اور علامہ محمد اقبالؒ کا پاکستان دےکھنا چاہتا ہے۔
(نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے ڈائریکٹر
ریسرچ اینڈ پبلی کیشنز ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved