تازہ تر ین

کرونا وائرس – قوم کی آزمائش

چوہدری ریاض مسعود
قوموں کی زندگی میں حادثات، سانحات، جان لیوا بیماریاں، زلزلے، سیلاب اور دیگر قدرتی آفات آتی رہتی ہیں لیکن زندہ اور جرا¾ت مند قومیں ایسی آفات اور آزمائشوں کا مقابلہ پوری ہمت، عزم، حوصلے، صبر اور جرات کے ساتھ کرتی ہیں۔ ہمارے دوست ملک چین کی مثال آپکے ساتھ ہے کہ جہاں چند ماہ پہلے کرونا وائرس نے سر اٹھایا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس سے ہزاروں لوگ موت کا شکار ہو گئے اس وبائی مرض نے 3 ماہ کی مختصر مدت میں دنیا کے 197 ممالک کو اپنی ہلاکت خیزیوں کی زد میں لے لیا اور اب تک مختلف ممالک کے تقریباََ 29 ہزار لوگ زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ چین نے کرونا وائرس کا مقابلہ نہایت جُرات، بہادری، دانشمندی اور جامع حکمت عملی کے تحت کیا۔ چینی عوام نے مکمل احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے اپنے آپ کو گھروں تک محدود کر لیا۔اگر ہم پاکستان کا جائزہ لیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ ہمارے ہاں اس وباءسے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس سے عوام میں خاصی تشویش پائی جاتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اس موقع پر بالکل درست کہا ہے کہ آزمائش کی اس گھڑی میں عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے بلکہ ایک قوم بن کر کرونا کا مقابلہ کرینگے۔
پاکستان میں کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر حکومت نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کو وافر فنڈز فراہم کر دیئے ہیں جس سے یہ اتھارٹی حفاظتی لباس اور ماسک، ٹیسٹنگ کٹس، وینٹی لیٹرز کی فراہمی کیلئے جنگی بنیادوں پر کام کر رہی ہے۔ دوست ملک چین سے ابھی تک کئی خصوصی پروازوں کے ذریعے طبی سامان اور آلات پاکستان پہنچ چکے ہیں اور ابھی یہ سلسلہ جاری ہے وزیر اعلی گلگت بلتستان حفیظ الرحمن کی درخواست پر چین کے شجیاگ خطے کے گورنر نے 2 لاکھ فیس ماسک 2 ہزار این 95 ماسک 5 جدید طرز کے وینٹی لیٹرز 2 ہزار آرسٹیٹنک کٹس اور ڈاکٹروں و طبی عملے کیلئے 2 ہزار حفاظتی لباس کا عطیہ دیا ہے جو گلگت پہنچ چکا ہے۔ اگرچہ چین خود کرونا وائرس کا بُری طرح شکار ہوا تھا لیکن اس کے باوجود اُس نے مصیبت کی اس گھڑی میں پاکستان سے اپنی لازوال دوستی کا عملاََ ثبوت پیش کیا ہے۔ یاد رہے کہ چین سے امدادی سامان کی آمد کا سلسلہ تسلسل سے جاری ہے۔ اس وقت پاکستان میں ہیلتھ ایمرجنسی کی صورتحال ہے لوگوں کو کرونا وائرس سے بچانے کیلئے لاک ڈاﺅن کے ذریعے گھروں میں ہی رہنے کی تلقین اور تنبیہ کی جا رہی ہے انہیں ان کے اپنے مفاد میں سوشل آئسولیشن اختیار کرنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے لیکن لوگ نہ جانے کیوں حکومتی ہدایات پر مکمل طور پر عمل نہیں کر رہے جس سے معاملہ لاک ڈاﺅن سے کہیں آگے بھی جانے کے امکانات ہیں۔ حکومت اور طبی ماہرین عوام کے اس رویے سے بے حد نالاں ہے حالانکہ گھروں تک محدود رہنے سے کرونا وائرس سے محفوظ رہا جا سکتا ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ لاک ڈاﺅن کے ذریعے سماجی رابطے محدود کرنے کی اہمیت اور افادیت کو عام کرنے کیلئے حکومت، میڈیا، سوشل میڈیا، سماجی تنظیمیں، سیاسی جماعتوں اور علما ئے اکرام کو مل کر وسیع پیمانے پر کام کرنا ہو گا۔
حقیقت یہ ہے کہ اب تو سفید پوش متوسط طبقہ بھی مہنگائی کی چکی میں پِس کر خطِ غربت کے دائرے میں آچکا ہے۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ ہم کرونا وائرس کا مقابلہ احتیاط اور صرف احتیاط کے ساتھ ساتھ عملی تدبریں اور اقدامات کر کے ہی کر سکتے ہیں۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ حکومت فوڈ سیکورٹی کو یقینی بنانے کیلئے عملی اقدامات کر رہی ہے گذشتہ سال کے N40 کوٹن کے مقابلے میں N82 کوٹن گندم خریدنے کا ہدف ہے اس مقصد کیلئے 280 ارب روپے مختص کئے گئے ۔ چاول ملکی ضروریات سے دوگنا یعنی N70 کوٹن موجود ہے‘ آلو، پیاز، ٹماٹر، دالیں اور گھی کا بھی وافر ذخیرہ موجود ہے، مٹی کا تیل اور پٹرول کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی ہو چکی ہے۔ اشیائے ضرورت کی سستے داموں فراہمی کیلئے یوٹیلٹی سٹورز کو مزید 50 ارب روپے فراہم کئے گئے ہیں ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری کو روکنے کیلئے انتظامیہ کو متحرک کیا گیا ہے۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ حکومت نے کرونا وائرس کا مقابلہ کرنے کیلئے سب سے پہلے فوڈ سیکورٹی کو یقینی بنایا ہے اور اب ہیلتھ سیکورٹی کو بہتر بنانے کیلئے ملک بھر میں کوششیں جاری ہیں نئے ہیلتھ کیئر سے متعلقہ تمام سازو سامان میدیکل آلات، ادویات اور وینٹی لیٹرز اور حفاظتی ماسک این 95 درآمد کیے جا رہے ہیں۔ ڈاکٹروں، نرسوں، لیبارٹری ٹیکنیشن اور دیگر پیرامیڈیکل سٹاف کی نئی بھرتیوں کیلئے فوری اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ حکومت پنجاب نے گذشتہ ہفتے 10 ہزار نئے ڈاکٹرز پیرامیڈیکل سٹاف اور ہیلتھ پروفیشنل کی خدمات حاصل کرنے کی منظوری دی ہے۔ اس وقت پورے ملک میں آئسولیشن وارڈز اور رومز کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے اور ابھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ بلوچستان میں چشمہ اچوزئی کے مقام پر 50 ایکڑ رقبے پر محیط ایمرجنسی ہیلتھ سٹی کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے صوبے میں دو ہزار مریضوں کو مدنظر رکھ کر میڈیکل آلات اور ادویات خریدی جا رہی ہیں۔ اس بات کو سب تسلیم کرتے ہیں کہ سندھ حکومت نے کرونا وائرس کا مقابلہ کرنے کیلئے سب سے پہلے اقدامات کیے اور لاک ڈاﺅن کا فیصلہ کر کے مزید شہریوںکو کرونا کا شکار ہونے سے بچایا۔ گلگت بلتستان اور آزادکشمیر کی حکومتوں نے بھی ہنگامی بنیادوں پر ایسے ہی اقدامات کیے۔ کے پی کے کی حکومت لاک ڈاﺅن کے بجائے شٹ ڈاﺅن کی اصطلاح نہ جانے کس کو خوش کرنے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔
وفاقی ایوان ہائے صنعت و تجارتی کے صدر میاں انجم نثار کا موجودہ حالات کے پیش نظر یہ مطالبہ بالکل جائز ہے کہ موجودہ شرح سود کو سنگل ڈیجٹ یعنی دس فیصد سے بھی کم رکھا جائے۔ اگرچہ حکومت نے چند دن پہلے اسے کم کر کے گیارہ فیصد کر دیا تھا‘ لیکن صنعتی معیشت کو مضبوط کرنے اور برآمدات بڑھانے کیلئے میاں انجم نثار کا سود میں مزید کمی کا مطالبہ ملکی مفاد میں ہے حکومت کو چاہیے کہ وہ مزدوروں اور دیہاڑی داروں کی امدادی رقوم اور اشیاءفراہم کرنے کیلئے مربوط اور صاف شفاف طریقہ کار اپنایا جائے۔ عوام کو بجلی پانی گیس کے بلوں میں کم از کم پچاس فیصد کی رعایت فوری طور پر دی جائے۔ ہماری آبادی کا ایک بڑا حصہ کرائے کے مکانوں میں رہتا ہے اسی طرح چھوٹے دوکاندار بھی کرائے کی دوکان میں کاروبار کرتے ہیں لہٰذا موجودہ صورتحال کے پیش نظر یہ قانون بنایا جائے کہ ان کے موجودہ کرائے میں بچاس فیصد کمی کی جائے اور ایک سال تک مکان اور دوکان کے موجودہ کرائے میں کسی قسم کا اضافہ نہ کیا جائے۔ کسی مزدور اور ملازم کو کسی صنعتی اور تجارتی ادارے سے نہ نکالا جائے اور انہیں لاک ڈاﺅن کی وجہ سے پورا پورا معاوضہ اور تنخواہ دی جائے۔ ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری کے خاتمے کیلئے انتظامیہ کو زیادہ فعال کیا جائے۔ کرونا وائرس کے نقصانات اور پہلے بچاﺅ کیلئے آگہی مہم کو وسیع پیمانے پر پھیلایا جائے اس سلسلے میں اخبارات و جرائد، الیکٹرونک میڈیا، سوشل میڈیا کا بھر پور استعمال کیا جائے علمائے اکرام، سماجی تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کو اس معاملے میں آگے بڑھ کر کام کرنا چاہیے حکومت کو بھی کرونا وائرس کے خاتمے کیلئے اپنی ذمہ داریوں کو بھر پور طریقے سے ادا کرنا ہو گا یہ بات سب کے ذہنوں میں رہے کہ اس قدرتی آفت کا مقابلہ کرنے کیلئے قوم کے درمیان اتحاد و اتفاق، عزم، حوصلہ، ہمت، جرات، ایثار، بیداری اور یک جہتی بے حد ضروری ہے پاکستانی قوم نے 2005ءکے تباہ کن زلزلے اور 2010ءکے سیلاب کے درمیان بے مثال یکجہتی جذبے ہمت اور عزم کا عملی مظاہرہ کیا تھا جس کی آج پھر ملک کو ضرورت ہے لہٰذا آگے بڑھیے اور ہم میں سے ہر ایک اپنی اپنی قومی اور دینی ذمہ داریاں پوری ایمانداری اور خلوص کے ساتھ ادا کرے اس قدرتی آفت سے نجات کیلئے پوری قوم کو اﷲ تعالیٰ کے حضور سجدے میں جا کر توبہ و استغفار بھی کرنی چاہیے۔ یقیناََ اﷲ تعالیٰ ہم سب پر اپنا خاص کرم کرتے ہوئے کرونا وائرس سے محفوظ رکھیں گے ۔
(کالم نگارقومی مسائل پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved