تازہ تر ین

”کرونا-جہادِ عالم“

ثاقب رحیم
لفظ جہاد نے دنیا میں اسلام فوبیا کی بنیاد رکھی۔ جبکہ اسی لفظ جہاد میں چھپی گہرائی اور وسعت کو شاید مغربی دنیا پہنچ نہ سکی یا انہیں اسکا صحیح مطلب بتایا نہیں گیا۔ ان اقوام کو اسلام دشمنی کی وجہ سے اسکا صرف ایک ہی مطلب سمجھایا گیا یا انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کے استحکام کیلئے اسکا ایک مطلب اپنایا۔ یعنی وہ جہاد جس میں قتال بھی شامل ہو‘ جو ہر اس قوم کے خلاف خلیفہ وقت کے حکم کے بعد لڑی جاتی ہے اور جو دنیا بھر کے مسلمانوں پر فرض ہے۔ یہ درست ہے کہ جہاد اکبر اسی کو کہتے ہیں۔ لیکن یہ ہر چھوٹے بڑے پر فرض نہیں بلکہ اس کے چند لوازمات ہیں اور جو اس معیار پر پورا اترے صرف وہی اس جہاد اکبر میں شریک ہو سکتا ہے۔ جبکہ جہاد کے عمومی معنی تو بے حد وسیع ہیں اور اگر اسی کو کوشش اور محنت کہا جائے تو شاید غلط نہ ہو۔ اگر کوشش کو جو انسانی اور معاشرے کی بھلائی کے لیے کی جائے کو جہاد مان لیا جائے تو پوری دنیا کا ہر وہ فرد جو رزق کمانے سے لیکر بھلائی کے کسی کام کو کرنے کیلئے محنت کرتا ہے وہ جہاد ہے۔ اس میں کسی مذہب یا مسلک کا دخل نہیں کہ یہ جہاد بین الاقوامی فرض اور ضرورت ہے۔ اس جہاد میں بچوں، خواتین اور مرد حضرات کا یکساں کردار ہوتا ہے۔ معاشرے میں اچھے انسان کی طرح گزر بسر کرنے کیلئے جتنی بھی اور جو بھی کوئی کوشش کرے گا وہ جہاد ہو گا۔ اب بھلا اس لفظ جہاد سے خوف کھانے کی کیا ضرورت ہے۔ اس لفظ نے دراصل اسلام دشمنی کی ایک باریک سی راہ کھولی ہے۔ جہاد قتال اور اس کو غلط رنگ دے کر اس لفظ کی آفاقیت کو آفاقی دشمنی میں بدل دیا گیا ہے۔ جو بہت کوتاہ ذہنی کی دلیل ہے۔ لیکن چونکہ کوئی نہ کوئی حجت چاہیے کہ ایک جنگ کی صورت بنی رہے اور اس صورت حال کو آہستہ آہستہ معاشی رنگ دے کر جنگی صورت حال بنا دیا جائے اور پھر اپنی اپنی اسلحہ فیکٹریوں کو استعمال کر کے بے شمار دولت کمائی جائے اور بے وقوف قوموں کو مہنگے داموں اسلحہ یا اس سے منسلک تمام ضروریات کو فروخت کر کے کنگال کر دیا جائے۔ اور خود کو طاقت ور سے طاقت ور ترین بنایا جائے۔ اسلحہ اور اس سے منسلک اشیاءخریدنے والی اقوام خود مقروض بھی ہوتی ہیں۔ اور ایک وقت آتا ہے کہ وہ لڑنے کے قابل بھی نہیں رہتیں کہ ان کے پاس وہ اسلحہ استعمال کرنے کی مہارت نہیں ہوتی جسے حاصل کرنے کیلئے خطیر رقم خرچ کر کے متعلقہ اداروں کو تربیت کی ضرورت ہو تی ہے جو وہی اقوام یا ممالک دیتے ہیں جن سے وہ اشیاءخریدی جاتی ہیں۔ اور ایک وقت ایسا بھی آتا ہے وقت گزرنے پر وہ تمام اسلحہ اور اشیاءاپنی عمر کھو دیتے ہیں اور وہ استعمال کے قابل ہی نہیں رہتے اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک سپر پاور کمزور اقوام کو اپنا مکمل غلام نہ بنا لیں یا اپنا پورا مقصد نہ حاصل کر لیں۔ اسکی مثال موجودہ دور یا ماضی قریب میں ایران، عراق، شام، کویت، یمن، لیبیا اور افغانستان ہیں۔ جہاں مختلف طریقوں سے مقاصد حاصل کیے گئے۔
جہاد کی نفی کرنے والے ممالک آج خود اجتماعی جہاد کر رہے ہیں۔ کرونا وائرس نے پوری دنیا میں اپنا سکہ جما دیا ہے اور ثابت کر دیا ہے۔ پھر اس حکم کو جس کی نفی سیاسی یا معاشی بنیادوں پر کی گئی تھی وہی آج ان سب کیلئے وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔
کوئی سوچ سکتا تھا کہ ایک معمولی سا وائرس پوری دنیا کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیگا۔ اگر یہ وائرس واقعی چند اقوام یعنی امریکہ،چین، برطانیہ اور اسرائیل کی ملی بھگت سے انسانی بربادی کیلئے یا اپنے دشمنوں کو برباد کرنے کی غرض سے تخلیق کیا گیا تھا۔ تو افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان کا یہ وار ا لٹا انہیں اقوام کی تباہی میں بھی کار گر ہوا ہے۔ چین عنقریب دنیا میں تجارتی اور معاشی طور پر حاکمیت کے قریب پہنچ چکا تھا۔ جو شاید چند ترقی یافتہ ممالک کو ہضم نہیں ہو رہا تھا۔ جس کی وجہ سے چین میں ہی اس وائرس کا استعمال کیا گیا جس نے واقعی پورے ملک کی اکانومی کو برباد کر دیا۔ لیکن پوری دنیا کے لیے بھی ایک آفتِ نا گہانی بن گیا۔ شاید ہی دنیا کا کوئی خطہ ایسا ہو جو اس وائرس کی تباہ کاریوں سے متاثر نہ ہوا ہو۔
اب سوچنا یہ ہے کہ اسکا مقابلہ کیسے اور کون کریگا اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔ مالی طور پر پس ماندہ ممالک تو بربادی کے قریب ہیں۔ جبکہ ترقی پذیر یا مالی طور پر تھوڑے مستحکم ممالک اس کے خلاف جہاد میں مصروف ہیں لیکن بیشمار ایسے اسلامی ممالک اپنی عیاشیوں اور تساہل کی بدولت بیرونی امداد کے بغیر اس وائرس پر قابو پانے سے قاصر ہیں جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔
پاکستان میں یہ وائرس کیسے داخل ہوا کے بارے میں بہت سے بیانات داغ دیئے گئے جن میں سچ اور جھوٹ کی آمیزش سے جس کا ذکر اس بحث میں ایک بے کار اضافہ کے سوا کچھ نہیں ہو گا۔ اس لیے یہ دیکھا جائے کہ کیا ہم پاکستانی من حیث القوم اس خطرناک وائرس کا مقابلہ کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں یا صرف زبانی جمع خرچ پر ہی ہمیشہ کی طرح گزارا کر رہے ہیں۔
سربراہ مملکت عمران خان کی جا نفشانی اور محنت پر شک کرنا زیادتی ہو گی۔ لیکن دنیا کو لاحق اس عظیم مصیبت سے اس ملک میں صرف ایک فرد واحد مقابلہ کر سکتا ہے نہیں۔ تو کس امر کی ضرورت ہے کہ سب جانتے ہیں کہ اس ملک میں صرف ایک ادارہ ہے جو ہر مصیبت کی گھڑی میں سینہ سپر رہتا ہے وہ ہے افواج پاکستان۔ کیا ہر کام جو سول اتھارٹیز اور دیگر اداروں کے کرنے کا ہے وہ فوج کی ہی ذمہ داری بن جاتی ہے۔ آخر کار یہی سول ادارے کہتے ہیں کہ افواج کا کام سرحدوں کی حفاظت ہے اور اپنی چھاونیوں میں یا سرحدوں پر اپنی ڈیوٹیاں انجام دیں تو کیوں ہر مصیبت کے وقت جائز یا نا جائز کاموں کیلئے ان کو ہی مدد کیلئے بلایا جاتا ہے اور کام نکل جانے کے بعد کامیابی کا سہرہ اپنے سر سجا کر افواج کو پھر ان القاب سے نواز دیا جاتا ہے یعنی ڈکٹیٹر یا پاکستان کو لوٹ کر کھانے والے۔
چلیں یہ بھی چھوڑیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اکیلے وزیر اعظم سے کتنی بھاگ دوڑکی توقع رکھنی چاہیے اس قوم کو جس نے اسے اپنے حلقوں میں اپنی اپنی پسند کے نمائندے منتخب کر کے ایوانوں میں بھجوائے ہیں۔ اس مصیبت کی گھڑی میں کہاں چھپے ہیں وہ ووٹ کے بھکاری جو الیکشن کے دوران میں گھر گھر جا کر ووٹوں کی بھیک مانگتے تھے اور عوام کو سبز باغ دکھا کر دھوکے سے منتخب ہو کر عوام کو بے حال چھوڑ کر رنگ رلیوں اور بد مستیوں میں لگ جاتے ہیں۔ کیا عوام کو نہیں چاہیے کہ ایسے جھوٹے اور بلوں میں گھس کر چھپ جانے والے نمائندوں کو باہر نکال کر عوام کی خدمت پر مجبور کریں اور جو نہ مانے اُسکی مرمت کی جائے۔صرف وزیراعظم اپنے چند نالائق حواریوں کے ساتھ مل کر کیا نتائج دے سکتا ہے، جبکہ یہ کام پوری قوم اور نمائندوں کو مل کر جہاد سمجھ کر کرنے کا ہے۔ کیا وزیراعظم کو نہیں چاہیے کہ ان تمام نمائندگان کو چاہے وہ کسی بھی پارٹی سے تعلق رکھتا ہو۔ صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو حکم دے کر عوامی خدمت پر مامور کیا جائے۔ تا کہ وہ گھروں میں بیٹھے تنخواہ لیکر عیش کرتے رہیں یا زیادہ سے زیادہ اپنے ڈرائنگ رومز سے وقتاََ فوقتاََ بیانات داغ کر اپنی شمولیت کا ڈھنڈورہ پیٹتے رہیں۔
ٹھیک ہے کہ قوم قرنطینہ میں ہے لیکن متعلقہ اداروں کے ذمہ دار تو خدمت خلق میں لگے ہوئے ہیں کیا ہمارے ڈاکٹر، نرسیں، پولیس، افواج پاکستان کے جوان اور افسران زندہ انسان نہیں انہیں یہ وائرس اثر انداز نہیں ہو سکتا؟ اگر وہ سب اپنی جانوں کی پروا کیے بغیرخدمت انسانیت کے فرائض ادا کر رہے ہیں تو وہ نمائندے کیوں اس وقت اپنی اپنی ذمہ سے استثنیٰ لیے ہوئے ہیں؟
انہیں بھی چاہیے کہ حکومت یا وزیراعظم کی طرف دیکھے بغیر انسانی خدمت کریں جو کسی حکم اور قانون کے متقاضی نہیں ہیں بلکہ یہ وہ فرائض ہیں جو پوری دنیا کے انسانوں پر یکساں لاگو ہوتے ہیں اور جس کیلئے کسی یونیورسٹی یا کالج سے سند کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لیکن ہمارے نمائندگان کو بنیادی تعلیم اور انسانیت کی تعلیم سے بھی نا واقف ہیں وہ بیچارے تو صرف دولت جمع کرنے کے ہنر سے واقف ہیں۔ وہ اس ابتلا کی گھڑی میں تو ہر نا جائز طریقوں سے دولت کے انبار اکٹھے کرنے میں لگے ہیں۔ نہیں جانتے کہ اﷲ کی لاٹھی بے آواز بھی اور جب برستی ہے تو آواز بھی دیتی ہے۔ اس کی شہادت قرآنِ پاک میں اﷲ کی طرف سے نازل بہت سی قیامتوں کے سلسلے میں کی گئی ہیں۔
ہمارے علماءدین ماشا اﷲ ان کے بھی کیا کہنے نبی اکرم غزوہ خندق کے وقت خندق کھودنے کے دوران میں اپنے پیٹ پر دو پتھر باندھے مشقت یا جہاد کر رہے تھے اور ان کے صحابہ کرام ایک ایک پتھر باندھ کر اپنی بھوک پر قابو پا کر مقصد کیلئے جہاد میں رسول پاک کے ساتھ شامل رہے جبکہ آجکل ہمارے علماء میں سے چند ایک نے اپنے پیٹ کے ساتھ پانچ چھ مزید پیٹ باندھ رکھے ہیں۔ اور اپنے آپکو نبی کا فرمان بجا لانے والا ثابت کرتے ہیں۔ شاباش اتنا کھاﺅ کے پیٹ پھٹ جائے۔
ایک رویت ہلال کمیٹی ہے جو اسلامی چاند نکالنے اور دیکھنے کیلئے جتنی مشقت کرتی ہے اتنی کسی انسان کے بس میں نہیں۔ بلکہ چاند دیکھنے کی فوج ہے جسے حرام کھلا کھلا کر حکومت پال رہی ہے اور وہ کمیٹی بھی شرم سے عاری ہے کہ اس آسان سے کام کیلئے ملازم جیسے ان کے دیکھے یا حکم کے بغیر چاند کی جرا¿ت نہیں کہ وہ نمودار ہو اور ہم بھی ایک بے وقوف قوم کی حیثیت سے ایک کائناتی معمول کے مطابق آنے جانے والے چاند اور سورج کی اسی طرح پوجا کرتے ہیں جس طرح ستارہ پرست قوم کیا کرتی تھی۔ اب بھلا ایسی قوم انسانیت کی بھلائی کے لیے کیا کام کر سکتی ہے جن کے علماءصرف زبانی جمع خرچ کے کوئی کام نہیں کرتے کہ وہ اس کی اہل ہی نہیں۔ تاہم جہاد کی اہمیت کو دیگر منکر اقوام تو مان ہی گئی ہونگی اب تک اﷲ اپنی حقانیت کو اپنے طریقے سے ہی منواتا ہے۔
(کالم نگارسیاسی وسماجی ایشوزپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved