تازہ تر ین

کرونا‘بہترہے انسان انسان بن جائے

وزیر احمد جوگیزئی
کرونا وائرس کی شکل میں یہ آفت اللہ تعا لیٰ نے نازل کی ہے ۔کئی لوگ اس وائرس کو لیبا رٹری میں تیار کردہ ایک انسان کا بنایا ہوا ہتھیار سمجھتے ہیں جس کو کہ چین کو اور چین کی اقتصادی قوت میں کمی لا نے کے لیے سامنے لایا گیا ۔دنیا میں اس نوعیت کی بہت ساری آفات آ ئی ہیں اور ان آفات کو مختلف ناموں سے پکارا گیا ہے ۔امریکی صدر ٹرمپ نے اپنی ایک تقریر میں کرونا وائرس کو چینی وائرس کے نام سے پکارا ہے اور اب اس کے بعد کرونا وائرس کو چینی وائرس کے نام سے پکار نے کے حوالے سے مغربی میڈیا میں با قاعدہ ایک مہم سی چل پڑی ہے ۔اور مغرب اس وائرس کے پھیلاﺅ کا ذمہ دار بھی چین کو ٹھہرا رہا ہے۔ مغرب کے اس طرز عمل سے بھی کسی حد تک ان خدشات کو تقویت ملتی ہے کہ یہ وائرس امریکہ نے چین کی معیشت کو تباہ کرنے کے لیے چین میں پھیلایا ۔بہر حال صورت حال جو بھی ہو آفت تو اللہ کی طرف سے ہی آئی ہے اور میری رائے میں تو انسان کو انسان بنانے کے لیے آئی ہے ،انسان حالیہ کچھ دہائیوں میں بے قابو ہوتا چلا گیا ہے ۔انسان کے ہاتھوں اس دنیا اور اس کے قدرتی نظام کو جتنا نقصان پہنچا یا گیا ہے وہ شاید ہی اس قبل پہنچا ہو ،اس وائرس کے نتیجے میں جب سے انسان گھروں میں بند ہو ئے ہیں اور دنیا بھر میں ہو گئے ہیں اس کے اس دنیا کے قدرتی نظام پر بہت ہی مثبت اثرات دیکھنے میں آرہے ہیں ۔اب اس حوالے سے میں روم کی مثال دوں گا ،اٹلی اور روم میں لاک ڈا ﺅن کے نتیجے میں پرندوں کی تعداد میں اضا فہ دیکھنے میں آرہا ہے۔دریاوں اور جھیلوں میں مچھلیاں واپس آ گئیں ہیں ۔
ہماری صورتحال بھی ایسی ہی تھی ہم بھی پیٹرول اور ڈیزل جلا کر ماحول کو نقصان پہنچانے کی کو ششوں میں لگے ہو ئے تھے ۔لیکن اب صورتحال بہتری کی طرف آنا شروع ہو گئی ہے ۔یہ اللہ کی طرف سے ہم پر عذاب نازل ہوا ہے اور ہمیں انسان بنانے کے لیے نازل ہو ا ہے ورنہ ہم تو انسانیت کا سبق بھی بھول چکے تھے ۔حرم شریف بند ہے مسجدیں بند ہیں اس سے بڑا کوئی عذاب ہو نہیں سکتا اور اس سے بڑی سزا اور کوئی ہو نہیں سکتی ۔پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلا ول بھٹو زرداری نے اس بحران سے نمٹنے کے لیے حکومت کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھایا ۔لیکن اس حکومت میں اتنی قابلیت نہیں تھی کہ اپوزیشن کا ہاتھ پکڑ لیتی ۔وزیراعظم صاحب ایک جانب تو لاک ڈاون کے نفاذ کے حوالے سے مکمل کنفیوژن کا شکار دکھائی دے رہے تھے اور دوسری طرف پنجاب حکومت نے لاک ڈا ﺅن کا اعلان کر دیا ۔اسی طرح ہمیں وفاق اور سندھ کے درمیان بھی کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے پالیسی میں شدید اختلافات دکھائی دے رہے ہیں ۔وزیر اعظم مکمل لاک ڈاﺅن کی مخا لفت جبکہ حکومت سندھ اس پر عمل درآمد کے لیے کو شاں دکھائی دی ۔اس شدید بحران کے وقت میں ہمیں بطور قوم ایک حکمت عملی اپنانے کی اشد ضرورت ہے اور نظر آنا چاہیے کہ پاکستان کی وفاقی حکومت اس کڑے وقت میں ملک اور اس کی تمام اکا ئیوں کو لیڈ کر رہی ہے ۔لیکن بد قسمتی سے زمینی صورتحال اس سے قطعی مختلف ہے ۔ہمیں بطور قوم ہر صورت یقینی بنانا ہو گا کہ ان حالات میں قومی یکجہتی کا بھرپور مظا ہرہ کیا جائے ۔دیہات میں بھی کرونا وائرس کے حوالے سے حفاظتی اقدامات لینے کی اشد ضرورت ہے ۔لیکن بد قسمتی سے دیہا توں میں بھی وہ اقدامات نہیں لیے جا رہے جو کہ لینے چاہئیں میں نے اپنے گاﺅں میں فون کرکے پتہ کیا کہ وہاں کیا صورتحال ہے تو معلوم ہوا کہ لوگ کام پر بھی جا رہے ہیں اور ہجوم کی شکل میں اکٹھے بھی ہو رہے ہیں اس حوالے سے کوئی احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کی جا رہی جوکہ بہت ہی تشویش ناک بات ہے۔ میں بھی لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ اشد ضرورت یا خوراک لینے کے علاوہ گھر سے نہ نکلا جائے۔ہماری حکومت نے اس حوالے سے بہت سستی کا اظہار کیا ہے ،لیکن یہ چیلنج بھی بہت بڑا ہے صرف حکومت اس حوالے سے ہی اکیلی کام نہیں کر سکتی اسے عوام کی سپورٹ اور مدد کی بھی بہت ضرورت ہے بطور قوم اس کا مقابلہ کرنا ہو گا ۔بطور قوم ہی اس کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے ۔ہمیں اس سنگین صورتحال میں ایک قوم بننے کا نادر موقع ملا ہے ہمیں اس موقع کو ضا ئع نہیں کرنا چاہیے ایک قوم بن کر اس وبا کا مقابلہ کرنا چاہیے ۔اس بیماری کا علاج یہ ہی ہے ۔ایک دوسرے سے جتنا فاصلہ رکھیں اتنا بہتر ہے ۔وزیر اعظم عمران خان نے کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے ایک معاشی پیکج کا اعلان کیا ہے جوکہ بہت اچھی بات ہے ۔وزیر اعظم کو فکر ہے کہ ان حالات میں مزدور گزا را کیسے کرے گا ۔لیکن اس حوالے سے ایک مربوط سسٹم قائم کرنے کی ضرورت ہے مربوط سسٹم کے قیام کے بغیر غریبوں کی مدد بہت مشکل ہو جا ئے گی ۔ہر خاندان کو 3ہزار روپے دینے سے ان کا گزارا نہیں ہو گا ۔ہمیں اللہ سے معافی مانگنی ہو گی ۔ہمیں اچھا انسان بننے کی ضرورت ہے ،انسانیت کی جانب واپس آنے کی ضرورت ہے ۔اچھا انسان بن کر ہی اچھا مسلمان بنا جا سکتا ہے ۔میں غامدی صاحب کو سن رہا تھا وہ فرما رہے تھے کہ ان حالات میں نماز گھر میں بھی پڑھی جا سکتی ہے ۔یہ بات ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ بصورت مجبوری نماز گھر میں پڑھی جا سکتی ہے ۔پاکستان میں تبلیغی جماعت بھی کرونا پھیلانے کا باعث بن رہی ہے ۔حکومت کو اس حوالے سے بھی کرونا کی روک تھام کے لیے فوری طور رپر ایک پلان بنانے کی ضرورت ہے ۔
(کالم نگار سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved