تازہ تر ین

جومحدود ہے وہ محفوظ ہے

عبدالستار عاصم
آج پوری دنیا میں کرونا وائرس نے اپنے پنجے گاڑ رکھے ہیں اورلوگوں کو طرح طرح کے خوف و ہراس میں مبتلا کیا ہوا ہے ۔ انسانی تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی قوموں کو اُن کی بد اعمالی کی وجہ سے عذاب میں مبتلا کیا گیا تو اُس کا حل بھی ساتھ ہی بتا دیا گیا ۔ اس لیے کرونا کا واحد علاج یہ ہے کہ جب تک یہ وبا اور عذاب ختم نہیں ہوتا اُس وقت تک ہر روز عالمی او رملکی سطح پر اجتماعی طور پریوم توبہ منانے کا اعلان کیا جائے ۔ ممتاز دانشور پروفیسر ڈاکٹر اے آر خالد نے بھی لوگوں سے قومی سطح پر یومِ توبہ منانے کی اپیل کی ہے۔ اسی طرح بابا جی عرفان الحق نے بھی ایک طریقہ کار بتایا ہے جو سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوا۔ وہ بھی قارئین کرام پڑھ سکتے ہیں:
پوری دنیاہی پریشانی میں مبتلا ہے، اس میں نہ مذہب و ملت کی بات ہے نہ کسی علاقے اور ملکوں کی بات ہے یہ انسانیت کا معاملہ ہے اور انسانیت کی خدمت انسانیت کی معراج ہے۔ میں اس کے بارے میں بہت پہلے سے سوچ رہا تھا اس پر میں نے مختلف ذرائع سے لوگوں تک پیغامات پہنچانے کی بھی سعی کی ۔ اللہ سے بھی ہر وقت دعاﺅں کے ساتھ جڑا رہتا ہوںا ور اللہ سے التجا کرتا رہتا ہوں کہ اس آزمائش یا عذاب سے یا جو بھی مشکل انسانیت پر آگئی ہے اس سے تُو ہمیں نجات عطا فرما اور ہم پر رحم فرما۔ جو سمجھنے کی بات یہ ہے کہ جب ہر خیر اور شر کا مالک اللہ ہی ہے تو وہی اس شر کو ہم سے دور کر سکتا ہے۔ اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میںہمیں یونس علیہ السلام کے حوالے سے ایک پیغام دیا کہ جب یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں پہنچ گئے تووہاں انہوں نے ایک دعا فرمائی جس کو ہم کہتے ہیں : لا الہ الا انت سبحنک انی کنت من الظلمین یہ دعا اس لیے تعلیم فرمائی گئی کہ یونس علیہ السلام کے پاس کوئی اس کی ریمیڈی کے چانسز نہیں تھے، کوئی حل نہیں تھا ،کوئی اسباب نہیں تھے تو اس دعا کی تعلیم دینے کا مقصد یہ ہے کہ جس چیز کے آپ کے پاس اسباب نہ ہوں او رآپ کے پاس حل موجود نہ ہو اُس وقت اللہ سے یہ دعا کریں کہ قرآن حکیم میں ہے کہ یونس علیہ السلام تاقیامت مچھلی کے پیٹ میں رہتے اگر ذکرکرنے والوں میں نہ ہوتے اور ذکر ہے کیا ؟ یہ غلطیوں کا اقرار ہے ، اللہ کی پاکی کا بیان ہے ، اللہ کی بڑائی اور بزرگی کا بیان ہے اور اللہ سے معافی ہے۔ اگر ہم لوگ جتنے بھی ہیں اس ذکر کوجو قرآن نے تعلیم فرمایا ہے اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں اور ہر گھر اور ہرشخص ہر ادارے میں جہاں بھی بیٹھا ہے ، چھوٹا ہے بڑا ہے، تعلیم یافتہ ہے ، غیر تعلیم یافتہ ہے لا الہ الا انت سبحنک انی کنت من الظلمین کا ذکر کرے تو انشاءاللہ کوئی وجہ نہیں ہے کہ پروردگارعالم اس مصیبت سے آپ لوگوں کو نکال نہ دے اور اپنی پناہ میں نہ رکھ لے۔
ایک بات ضروری ہے جو میں کرنا چاہتا ہوں۔ ابھی تک جو اس کا علاج تلا ش کیا جارہا ہے وہ صرف ایلوپیتھک سسٹم میں کیا جارہا ہے ۔ کیا دنیا میں صرف ایلوپیتھک سسٹم ہی انسانوںکی بیماریوں کے رفع کرنے اور شفا کا طریقہ ہے؟ دنیا کی سات ارب یا اس سے کم و بیش کچھ آبادی ہے جس میںسے شاید 20% لوگ ایلوپیتھک سے مستفید ہوتے ہیںباقی ریمیننگ جو 80% دنیا ہے جس میں مختلف مذاہب کے طریقے ہیں، علاقائی طریقے ہیں، Historical طریقے ہیں، جس میں چائنا ہے۔ چائنا کے اپنے طریقے ہیں۔ انڈیا میں آئیرویدک کے اپنے طریقے ہیں۔ ایک مستند طریقہ جو سب سے زیادہ مستند ہے وہ طب نبوی ہے کہ رسول اللہ نے انسانیت کی ہر بیماری کاعلاج فرمایا اور رسول اللہ کا ایک فرمان مبارک موجود ہے کہ اللہ نے آسمان سے دو چیزوں کاعلاج نہیں اتارا باقی ہر چیز کا علاج اتارا ۔ ایک موت کا اور ایک بڑھاپے کا۔موت بھی آکر رہے گی بڑھاپا بھی آکر رہے گا۔ باقی جتنی بھی بیماریاں ہیںسب کا علاج موجود ہے۔
حکیم ابن سینا کے زمانے میں ایک علاقے میں ایک بیماری پھیلی وہ دستوں کی بیماری تھی اور لوگوں کی بے شمار اموات شروع ہوگئیں۔ لوگوں نے حکیم ابن سینا ؒسے رابطہ کیا ۔ انہوں نے کہا مجھے علاقے میں آنا پڑے گا۔ وہ اُ س علاقے میں تشریف لے گئے او رپوچھا کہ بستی کا جو سب سے بوڑھا آدمی ہے اُس کو بلاﺅ جب اُن کو بلایا گیا کہنے لگے کہ آپ کو جڑی بوٹیوں کی پہچان ہے ؟ انہوں نے کہا کچھ شناخت کر سکتا ہوں۔ کوئی ایسی جڑی بوٹی جونئی اُگی ہو اس سے پہلے اس علاقے میں نہ ہو۔ انہوں نے فرمایا ایک بوٹی یہاں نئی پیدا ہوئی ہے۔ حکیم صاحب نے فرمایا مجھے اُس کے پاس لے چلو۔ آپ نے وہ بوٹی ساری کی ساری اکھڑوا لی اوراُس کو پیس کر لوگوں کو پلایا تو سارے لوگ صحت مند ہوگئے۔پوچھا گیا کہ یہ کیا حکمت تھی؟ فرمایا یہ اللہ تعالیٰ کی سنت نہیں ہے کہ کسی بیماری کو وارد کرے اور پہلے اُس کا علاج نہ بھیجا ہو۔ ہمیں صرف اُس کو تلاش کرنا ہے کہ اُس کا علاج کس میں ہے؟ یہ نہیں ہوسکتا کہ اُس کا علاج اس وقت آپ کے ارد گرد موجود نہ ہو۔ میں نے لوگوں کو ایڈوائس کیا ہے کہ طب نبوی سے فائدہ اٹھائیں اور شہد پئیں۔
رسول اللہ کا فرمان مبارک ہے کہ جس نے آج شہد پی لیااُسے آج کوئی بڑی بیماری لاحق نہ ہوگی۔کست شیریں ، کلونجی، مہندی کے پتے یہ،اور شہد بھی پئیں اور اس کو سفوف کی شکل میں یا کیپسول میں بھر کے صبح دوپہر شام کھائیں۔ یہ وہ چیز ہے جو ایڈز، کینسر، ٹی بی اور ایسے موذی امراض جو کسی بھی دوائی سے قابو نہ آئیں وہ اس سے الحمد للہ بچ نہیں سکتی وہ کتنا بڑی وائرس ہو کتنا ہی خوفناک ہو طب نبوی میں ہر چیز کا علاج موجود ہے صرف موت اور بڑھاپے کا علاج سرکار نے نہیں فرمایا۔تیل زیتون پئیں۔ کیونکہ یہ نمونیا کی طرح اس کا جرثومہ ورک کرتا ہے اور سانس کی نالی میں اور پھیپھڑوں میں جو پانی ہوتا ہے اس کو وہ فریز کر تا ہے۔ اس کو یہ ٹکڑے بنا دیتا ہے جس سے سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے جیسے ڈبل نمونیا ہوتا ہے مریض کی یہ شکل ہوجاتی ہے۔ آپ پانی بھی گرم پئیں،جسم کو صاف رکھیں، وضو میں رکھیں، لباس صاف پہنیں اور میل جول بالکل نہ کریں۔
اللہ کے رسول نے منع فرمایا کہ جس بستی میں وبا پھیل جائے نہ اس میں داخل ہو اور نہ کوئی وہاں سے نکلے ۔ انسانی جان کی قدر و منزلت اللہ نے قرآن میں یہ بھی فرمایا کہ جس نے ایک انسان کو قتل کیا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا اور جس نے ایک انسان کی جان بچائی اُس نے پوری انسانیت کا تحفظ کیا، اُس نے پوری انسانیت کی جان بچائی۔اپنی جان بچائیں اپنے اہل و عیال کی جان بچائیں۔اپنے محلے اپنے شہر اپنے ملک میں لوگوں کی جانوں کو تحفظ دیں ۔ میں نے ایک سلوگن دریافت کیا اور وہ ملک کے بڑوں کو بھی گوش گزار کیا کہ ”جو محدود ہے وہ محفوظ ہے اپنے آپ کو محدود کر لیں آپ محفوظ ہوجائیں گے“۔ اگر دس دن کہیں نہیں گھومیں پھریں گے تو کوئی پریشانی آپ پر نہیں آجائے گی۔ توبہ کثرت سے کریں۔
رسول اللہ کا ایک فرمان مبارک موجود ہے ۔ ایک کلمہ ہے جو آپ نے تعلیم فرمایا۔ ہرقسم کی مصیبت ، پریشان اور بیماری سے حفاظت کا کلمہ:© ان ربی علی کل شیئی حفیظ جواسے صبح 100 دفعہ پڑھے گا اللہ وعدہ کرتا ہے کہ میں شام تک اُس کی حفاظت کروں گا اور جو شام کو پڑھے گا اللہ وعدہ کرتا کہ میں صبح تک اس کی حفاظت کروں گا۔ ہر مسلمان، ہر پاکستانی، دنیا میں ہر انسان اس کلمے کو سیکھ لے اور اس کو پڑھتا رہے صبح و شام۔ انشاءاللہ وہ محفوظ رہے گا ۔ایک طریقہ اور ہے جب آفات آتی تو مسجدو ں میں گھروں کی چھتوں پر اذانیں دی جاتیں۔ یہ بہت بڑا حل ہے، یہ دعاکا ایک خاص انداز ہے ایک خاص طریق ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ذکر و اذکار کریں اور صاف ستھرے رہیں۔
میں یہاں ایک تاریخی بات آپ سے بیان کرتا چلوں۔ حضرت عمر فاروق ؓ جب امیرالمومنین تھے تو آپ بیت المقدس کے وزٹ پر تشریف لے گئے جب وہاں پہنچے تو وہاں طاعون پھیل رہا تھا۔عبیدہ بن جراح ؒ جو وہاں کے ہیڈ تھے انہوں نے کہا کہ اے امیر المومنین آپ لوٹ جائیے، واپس مدینہ چلے جائیے۔تو آپ واپس پلٹے تو معاذ بن جبل ؓ بھی وہاں تشریف فرما تھے کہنے لگے عمرؓ ! تقدیر سے بھاگتا ہے؟ حضرت عمر ؓ نے کہا نہیں جبلؓ! میں تقدیرہی کو بھاگتا ہوں جو تدبیر کرتا ہے وہ بھی تقدیر کا حصہ ہوتا ہے ۔ عمر ؓ نے تو بعد میں کافی عرصہ حکومت بھی کی اور جبل ؓ اُسی طاعون میں وہیں بیت المقدس میں شہید ہوئے۔یہ بہت بڑی ٹیچنگ ہے ۔اس کو نہ فرار کہتے ہیں ، نہ توکل میں کمی کہتے ہیں۔ تدبیر کرنا، احتیاط کرنا۔ ہم اُس رسول اکرم کی امت ہیں کہ جو فرماتے ہیں کہ جوتا جھاڑ کر پہن مباداکہ اس میں کوئی کیڑا بیٹھا ہو تجھے کاٹ لے اور تُو کہے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہوا ہے ۔ اللہ نے عقل و شعور دی ہے احتیاط کے انداز اور طریقے بتائے ہیں پوری احتیاط کریںمگر توکل اللہ پر رکھیں کہ وہی اس مصیبت سے نکالے گا اور ہم پر فضل و کرم فرمائے گا۔ اپنے جسموں کی طرح اپنے ذہنوں او ردلوں کو بھی صاف کرلیں ، کدورتیں نکال دیں اور اللہ پر بھروسہ بڑھا لیں ۔ اللہ تعالیٰ آپ کا حامی و ناصر ہو۔
(کالم نگار ادبی اور سماجی مسائل پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved