تازہ تر ین

عمران خان کو روحانی شخصیات کی حمایت حاصل ہے

کنور محمد دلشاد
چندروز قبل پاکستان مسلم لیگ نون کی پارلیمانی کمیٹی نے اپنے اجلاس میں جمہوری طرز کے مطابق اپنے قائدین پر عدم اعتماد اور پارٹی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے پارٹی کے چار کے ٹولے کے خلاف اپنے جذبات کا اظہار کر کے وزیراعظم عمران خان کی حکومت کو دشوار گزار راہوں سے نکال لیا ہے ۔ اپوزیشن لیڈر نے اپنے مینڈیٹ سے انحراف کرتے ہوئے قوم کی مشکل وقت میں رہنمائی نہیں کی ۔ اجلاس میں شہباز شریف سے وطن واپسی کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا۔ شریف خاندان کی پراسرار حکمت عملی سے عوام میں مایوسی کی لہر دوڑ گئی ہے اور قوم جب مہنگائی اور حکومت کی ناقص پالیسیوں سے بیزار ہوتی ہوئی اپوزیشن لیڈر کی طرف دیکھ رہی ہے تو ان کو شدید دھچکا لگا ہے۔ ماضی میں سید خورشید شاہ نے اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے اپنے ذاتی مفادات کو مدنظر رکھا تھا۔ پیپلز پارٹی صرف سندھ کے دیہی علاقوں تک ہی محدود ہو کر رہ گئی ہے اور اب شہبازشریف کی وجہ سے پاکستان مسلم لیگ نون آئندہ لوکل گورنمنٹ کے الیکشن میں اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکے گی اور اسی خلا کو پاکستان مسلم لیگ ق تیزی سے پر کر رہی ہے اور قدآور شخصیات پاکستان مسلم لیگ ق میں شمولیت اختیار کر رہی ہیں۔ جبکہ پاکستان مسلم لیگ نون کے اندرونی ڈھانچہ میں شگاف پڑ چکا ہے اور پاکستان مسلم لیگ نون کے صوبائی ارکان اسمبلی نے وزیراعلی عثمان بزدار کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کردیا ہے۔ اس طرح اب پاکستان مسلم لیگ ن فلور کراسنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔اور اس کی آڑ میں پاکستان مسلم لیگ نون کے ارکان کا چودھری پرویز الہی سے رابطہ برقرار ہے۔ چودھری پرویز الہٰی کو چاہیے کہ سیاست کی اس گرمی سے فائدہ اٹھائیں اور سیاسی پارلیمانی مفاہمت کے ذریعے ان ارکان کو اپنی جماعت میں شامل کرنے کیلئے ان سے مذاکرات کریں۔ اصولی طور پر پاکستان مسلم لیگ نون کے ارکان پاکستان مسلم لیگ سے پارلیمانی مفاہمت کا معاہدہ کر لیتے ہیں تو ان کے خلاف آئینی طور پر تادیبی کارروائی نہیں ہو سکے گی کیونکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان میں پاکستان مسلم لیگ، جون 2002 ءسے قاعدہ رجسٹرڈ ہے۔ پاکستان مسلم لیگ میں شمولیت کا اعلان کرتے ہیں تو ان کا قانونی حق ہی تصور کیا جائے گا۔ غالباً نون لیگ کے ارکان پارلیمنٹ کو احساس ہو گیا ہے کہ ان کی جماعت کے قائدین لندن میں شاہانہ زندگی بسر کر رہے ہیں اور ریکارڈ پر ایسا کچھ نہیں کہ ایک دن بھی کسی ہسپتال میں داخل ہو رہے ہوں۔ ایسا لگتا ہے کہ شہباز شریف نے پاکستان مسلم لیگ نون کا شیرازہ بکھیر دیا ہے اپوزیشن میں حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا دم خم نہیں رہا اور عمران خان کی عقابی نگاہیں اپنی پارٹی کے نااہل وزرا پر لگی ہوئی ہیں اور کسی بھی لمحے وہ نااہل وزرا کو فارغ کر دیں گے۔
ہم اپنے کالموں میں مسلسل نشان دہی کررہے ہیں کہ تحریک انصاف کی حکومت مالیاتی امور پر قابو پانے پر ناکام رہی ہے۔وزیراعظم کی نیت صاف ہے اور ان کو ملک کی روحانی شخصیات کی مکمل حمایت حاصل ہے۔حضرت مولانا محمد بشیر فاروق چیئرمین سیلانی عالمگیر ٹرسٹ جن کے اندرون اور بیرون ملک کروڑوں چاہنے والے ہیں ان سے میری چند روز قبل کراچی میں تفصیلی ملاقات ہوئی ۔ان کا کہنا تھا کہ سیلانی عالمگیر ٹرسٹ عوام کی فلاح وبہبود کے لیے حکومت کے ساتھ تعاون کر رہی ہے لیکن وہ حکومت سے کسی قسم کی بھی گرانٹ لینے کے روادار نہیں ہیں۔ صدر اردگان کے دورہ پاکستان کے موقع پر ایوان صدر کے عشائیہ میں انہوں نے اوران کے قریبی ساتھی محمد افضل اور امجد نے شرکت کی تھی اور قارئین حیران ہوں گے کہ انہوں نے صدر کی شاہی ٹیبل پر لگے ہوئے کھانوں سے اجتناب کیا اور پانی تک نہیں پیا۔صدر عارف علوی کے بار بار اصرار پر انہوں نے کہا وہ غریب عوام کے ٹیکسوں کی مد سے لگے ہوئے یہ شاہی خانے پر ہاتھ لگانے کے روادار نہیں۔صدر اردگان نے جب یہ صورتحال دیکھی تو انہوں نے کہا کہ یہی درویشوں کی پہچان ہے۔اسی طرح حکومت نے احساس پروگرام کے تحت سیلانی عالمگیر ٹرسٹ کو پچاس کروڑ روپے کا عطیہ دیا تو مولانا محمد بشیر فاروق نے چیک لینے سے انکار کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے نزدیک عمران خان ایماندارانہ طورپر فلاحی مملکت بنانے کا عزم رکھتے ہیں اسی لئے ان کے لئے دعا گو ہےں لیکن حکومت سے گرانٹ لینے کی انہیں ضرورت نہیں ہے۔عمران خان کو جب اللہ کے نیک بندوں کی حمایت حاصل ہے تو انہیں اپنے وزرا اور مشیران پر نگاہ رکھنی چاہیے ۔ان کے وزرا اور مشیران کے درمیان اختیارات کی سرکشی سے ان کی حکومت نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ دراصل یہی وہ کمزوری ہے جو عمران خان کے ویژن کو مشکوک اور بے وقعت بنانے میں کردار ادا کر رہی ہے۔ اقتدار کے آغاز میں آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں سابق وزیر خزانہ اسد عمر اور وزیراعظم عمران خان کے درمیان یہ بات طے ہی نہیں ہوپا رہی تھی کہ چین،ترکی، سعودی عرب، ملیشیا اور دوست ممالک سے ہاتھ ملانے کے بعد آئی ایم ایف کے پاس جانے کی ضرورت ہے یا نہیں۔ ملک کے ممتاز ماہر معیشت دان ڈاکٹر اشفاق احمد خان نے وزیراعظم عمران خان سے دردمندی سے آئی ایم ایف کے جارحانہ معاہدہ کے خلاف اپنا مقدمہ ان کے سامنے پیش کیا اور عمران خان کے نام نہاد اقتصادی ایڈوائزی کونسل کے کسی فرد نے ان کے نقطہ نظر کی حمایت نہ کی اور اس کے پراسرایت راز ڈاکٹر اشفاق احمد خان کے پاس موجود ہیں۔ یہی صورت حال اور بھی معاملات میں درپیش ہے۔آٹا، چینی اور دیگر اشیائے ضروریہ کی پراسرار مہنگائی کے اسباب کا سراغ نہیں لگایا جاسکا۔ حالانکہ ایف آئی اے کے انتہائی غیر جانبدار ڈائریکٹر جنرل واجد ضیا نے اپنی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کر رکھی ہے وزیراعظم عمران خان کے دوستوں دشمنوں کی آرا میں ہم آہنگی پائی جانے لگی۔ کرونا وائرس کے ساتھ مہنگائی کا وائرس کہاں سے اور کس کے ذریعہ پاکستان میں داخل ہوا وزیراعظم عمران خان کو بخوبی علم ہے اور ایک ماہ سے قوم کو لولی پاپ دے رہے ہیں کہ ایسے عناصر کو وہ نہیں چھوڑیں گے اور قوم عمران خان سے توقع کررہی ہے کہ عمران خان اپنے وزیراعظم ہاﺅس کی تلاشی لیں کہ اس میں یا تو تین دہائیوں سے اختیارات کا استعمال کرنے والے نیلی آنکھوں والے بیوروکریٹس کی نااہلیت شامل ہے یا اپنے وزرا اور مشیران کی دانستہ غفلت کہ ملک میں مصنوعی مہنگائی کا بحران پیدا کردیا گیا۔ ان دنوں وزیراعظم کی اقتصادی ٹیم میں اختیارات کی سرکشی بھی سامنے آگئی ہے۔ اسد عمر اور عمر ایوب کے درمیان سیاسی اختیارات کی جنگ شروع ہوچکی ہے جس سے عمران خان شدید ذہنی دباﺅ میں ہیں۔ اسی طرح ڈالر کا بحران پیدا کرکے ملک کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا اس کی انکوائری آج تک نہ ہوسکی۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنی حکومتی ٹیم کے نااہلیت پر پردہ ڈالنے کے لیے اپوزیشن کے خلاف شدید محاذآرائی کا ریکارڈ قائم کر رکھا ہے سپریم کورٹ آف پاکستان میں چند اہم کیسز کا فیصلہ بھی ہونا ہے اور تحریک انصاف کے بارے میں فارن فنڈنگ کیس پراسراریت کے ٹنل میں داخل ہوچکا ہے۔
اسرار و رموز سے ادراک رکھنے والے جانتے ہیں کہ نواز شریف نے کسی بھی دور میں اپوزیشن کے لیڈر کی حیثیت سے سرگرم کردار ادا نہیں کیا۔جب بھی اپوزیشن میں آئے حکومت کے مخصوص اداروں سے مراعات خود لیتے رہے اور شہباز شریف کو نام نہاد اپوزیشن کے لئے آگے کردیا۔اسی پس منظر میں مولانا فضل الرحمان ایک بار پھر متحرک اور فعال ہوچکے ہیں۔گذشتہ دنوں میں ایک انٹرویو میں انہوں نے واضح طور پر اشارہ دیا ہے کہ اسلام آباد کے احتجاجی دھرنے کے دوران چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الہی نے کسی اور قوت کے ایما پر مذاکرات میں حکومت کو فارغ کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی چوہدری برادران نے تو بین السطور میں مڈل مین کا کردار ادا کیا۔اصل میں ان سے وعدہ کسی اور نے کیا تھا جن کی یقین دہانی پر انہوں نے دھرنا ختم کرکے راہ لی مگر اب تک دوسری طرف سے وعدہ پورا نہیں کیا گیا اور اگر اس وقت طے پانے والے معاہدہ پر عملدرآمد نہ ہوا تو معاہدہ کرنے والوں کے نام منظر عام پر لانے پر مجبور ہوں گے۔ اس کا اگر گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو راز ظاہر کرنے کی صورت میں حکومت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا تاہم چوہدری برادران کی سیاست کو نا قابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ موجودہ حالات میں مولانا فضل الرحمن کے عزائم ہولناک دکھائی دے رہے ہیں۔ لہذا عمران خان ملک کو مہنگائی سے نجات دلائیں اور اپنے وزرا کو فارغ کریں اور 80 ترجمانوں نے جو افراتفری پھیلا رکھی ہے اس کا ازالہ کریں۔
(الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سابق سیکرٹری ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved