تازہ تر ین

قرنطینہ۔ پرندوں کے ساتھ

جاوید کاہلوں
بڑوں کے پاس تو بارہ بور کی بندوقیں ہوتی تھیں‘مگر چھوٹوں کے پاس دو ایک ائیرگنز ہی ہوتی تھیں۔ ساون ‘بھادوں کے موسم میں بارشیں بھی خوب ہوتی تھیں اورکشمیر سے نکلے ندی نالوں میں پانی کی بہتات کی وجہ سے جل تھل ایک ہو جاتاتھا۔ کشمیر سے ملحق پنجاب کے اضلاع میں تقریباً ایک ساہی منظر ہوتا۔ نارووال بھی ایسے علاقوں میں سے ایک ہے جہاں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر ہی برساتی نالوں کی بہتات ہے اور ان میں تیزی سے رواں دواں بارشوں کاپانی کچھ ہی دور جاکردریائے راوی میں شامل ہو جاتاہے۔سو! سرما کے موسم میں سائبیریا سے ہجرت کرکے آنےوالے پرندوں سے قبل ہی‘ پانی کے پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ نارووال وسیالکوٹ کی فضاﺅں میں اڑتے پھرتے نظر آتے تھے۔ پرندے ہوں اور ان کے تعاقب میں شکاری نہ ہوں‘ یہ کیونکر ممکن ہے؟ مگر ہمارے بچپن تک چونکہ بارہ بورگن کاباقاعدہ لائسنس لینا پڑتاتھا‘ اس لئے کچھ خال خال لوگوں اورزیادہ تر ریٹائرڈ فوجیوں یا پولیس ملازمین ہی کے پاس یہ سہولت دیکھنے کو ملتی تھی۔ بہرحال یہی گنز اٹھائے بڑے اپنے شکار کو ڈھونڈتے پھرتے تھے تو بچے بھی ائیرگنز پکڑ کر فاختاﺅں‘ کبوتروں اورخرگوشوں کی تلاش میں سرگرداں رہتے۔ بڑے کچھ حاصل کر پاتے یا نہیں‘ہم نوجوان اکثر اپنے اپنے شکار بیگ میں کچھ نہ کچھ رونق بہم پہنچا کر لوٹتے تھے اور چھٹی گزارنے کا اس سے بہتر طریقہ اور کیا ہو سکتا تھا۔
بچپن گزرا‘ فوج میں چلے گئے‘ کاکول پہنچے تو معلوم ہواکہ یہ بھی علیحدہ سے ایک دنیا ہے۔ اس پیشے سے منسلک ہوکر تین دہائیاں گزار دیں۔ ادھر کیا کھویا اورکیاپایا؟ یہ بحث نہیں مگر وہ گاﺅں‘ اس کے شغل‘ وہ پرندے اور ان کاشکار‘ وہ قدرت‘ اس کاحسن اوراس سے قربت ، وہ کھیت اور وہ کھلیان‘ وہ رہٹ کاپانی اورگنے کارس‘ وہ لہلہاتی فصلیں اور ان کے پھل پھول۔ ادھر لگے شہد کے چھتے اورجھاڑیوں میں بنے پرندوں کے گھونسلے‘ وہ دن کے میلے ٹھیلے اوررات میں بڑوں کی لمبی باتیں(داستانیں) وہ ناشتے میں چاٹی کی لسی اور سہ پہر کی دودھ جلیبیاں‘ وہ عالم لوہار کے تھیٹر اورعنایت حسین بھٹی کے پڑھے حسن وعشق کے قصے‘ یہ سب کچھ بیت چکاتھا‘ کہیں بہت پیچھے رہ گیاتھا۔ وہ گاﺅں تو آج بھی ادھرہی ہے مگر شاید یہ سب کچھ ابھی ادھر نہیں ہے۔
دہائیوں کے بعد ،یادوں کے ایسے دریچے کیونکرکھلے ؟ اس کی وجہ وہ لاک ڈاﺅن ہے جوکہ ایک ان دیکھے جرثومے کی وجہ سے پاکستان بھر میں لگاہے۔ یہ جرثومہ جیسا تیسا بھی ہے اس کی پھیلائی دہشت سر چڑھ کربول رہی ہے۔ ایسی دہشت ساری دنیا کے ممالک میں ہے اوراس کی نوعیت حقیقی بھی ہے۔ اس کروناوائرس کوکچھ ترقی یافتہ معاشروں نے ابتدائی طورپر فقط ایک ”فلو“ ہی تصور کیا تو اب یہ ان کے پلے پڑ چکاہے۔ سارامغربی یورپ اورامریکہ اس کی ہلاکت آفرینی سے متاثر ہوچکاہے۔
پاکستان میں جیسے تیسے بھی حالات ہیں‘ ہمارے سامنے ہیں۔ یہاں پر حکومتی فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق حالات ابھی تک کنٹرول میں ہیں اورہلاکتیں بھی معمولی ہیں‘ مگر ساری دنیا کے ساتھ پاکستان میں بھی فقط احتیاطی تدابیر اختیارکی جارہی ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے بڑی احتیاط خود کو محدود(SELF ISOLATION) کرناہے۔ اس مرض کی کوئی دوائی تو ابھی بنی نہیں۔ اس محدود کرنے کی پالیسی کے تحت راقم بھی لاہور چھاﺅنی میں واقع اپنے مناسب سے گھر پر کینٹ میں ہرسو پھیلے خوشبودار پھولوں کے اس موسم بہار میں ”قرنطینہ“ کیے ہوئے ہے۔ حسنِ اتفاق ہے کہ میٹھا میٹھا موسم بہارہے جس میں کہ پاکستان کی چھاﺅنیوں میں وہاں کی انتظامیہ پرانی روایتوں کے تحت جی بھرکر پھول اُگاتی ہیں بلکہ تقریباً سبھی چھاﺅنیوں میں اس مناسبت سے پھولوں کی نمائش کا انعقاد بھی ہوتاہے اور جیتنے والوں کو انعامات سے بھی نوازا جاتاہے۔ سو اس میں کوئی شک نہیں کہ ”محدود“ ہو جانے میں تو بہت بوریت ہوتی ہے مگر جاری موسم بہار اورچھاﺅنیوں میں اگائے گئے پھول بوریت کے اس منظر میں بھی رنگ وخوشبو بھر دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہمارے ایک بہت ہی پیارے عزیز اورچھوٹے بھائی ڈاکٹر مشتاق احمد ساہی کاذکر کرنا مناسب ہوگا۔موصوف برسہا برس سے سیالکوٹ چھاﺅنی میں اپنا گھربناکر رہتے ہیں اوروہیں صد ربازار میں اپنا ذاتی کلینک بھی چلاتے ہیں۔ اگلے دن بات ہوئی تو پتہ چلا کہ وہ بھی حکومتی ہدایات کے مطابق کافی ”محدود“ ہو چکے ہیں اورگھرپر ہی رہتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب ایک مسیحا سے بھی آگے قدرتی حسن اور فطرت کے مناظر کے بھی بہت دلدادہ ہیں۔ اس موسم میں ان کا گھراس کاباغیچہ رنگ وخوشبو میں نہائے ہوئے ہیں۔ اگر کبھی ان ایام میں ان کے ہاں جاناہوتو ہمیں ایک لمحے کےلئے بھی ان کے لان سے اٹھنا گوارا نہیں ہوتا۔ ہر طرف قدرت کے حسین رنگ پھولوں کی شکل میں جلوہ کروا رہے ہوتے ہیں۔ ان کا گھر ہرسال سیالکوٹ کینٹ بورڈ کی طرف سے اول ودوم انعام کا حقدار ٹھہرتا ہے۔ گوکہ ڈاکٹر صاحب کی بیگم صاحبہ بھی اس سلسلے میں صاحب کمال ہیںمگر زیادہ تر ذوق صاحبِ خانہ ہی کا ہوتاہے۔ ہماری خواہش تھی کہ ڈاکٹرصاحب کروناوائرس کے اس قرنطینہ ماحول کو اپنے گھر بسرکرنے کی دعوت دیتے تو ہم ایک لمحہ ضائع کیے بغیر لاہور کے گیراج سے اپنی رنگدار چارپائی کے اوپر پڑے دیسی رنگوں کے کھیسوں سمیت اٹھاکرلے جاتے اوران کے باغیچے میں دو ہفتے قدرتی حسن سے ہم آہنگ رہ کربخوشی گزاردیتے۔ مگر اے کاش!
بہرحال!لاہور چھاﺅنی کی کیولری گراﺅنڈ کایہ گھر ڈاکٹر صاحب کے گھر سے توکسی طورمشابہ نہیں ہوسکتا مگر پھر بھی یہ ہمیں ہر روز کھینچ کراپنی گاﺅں میں گزاری نوجوانی سے ضرور جوڑ دیتاہے۔گیراج سے ملحق کھلے برآمدے میں بچھی چارپائی پر لیٹے ہم روزانہ قرنطینہ تو کرتے ہی ہیں مگر ایسی فرصت میں ہمیں گھونسلے بناتی چڑیا اوروہ بھی درجنوں میں‘ سارا دن چہچہاتی نظر آتی ہیں۔ ہماری بیگم حسب عادت ان کےلئے کھانے پینے کاسامان مہیا رکھتی ہیں جس سے کہ دور ونزدیک سے فضاﺅں میں حسن بکھیرتے یہ پرندے ہمارے گھرکی دیوار پر بلاخوف اترتے ہیں اورخورونوش سے اپنا پیٹ بھرتے ہیں۔ سینکڑوں جنگلی کبوتر ہیں جوکہ اپنی سریلی غٹ غوں غٹ غوں کرتے ارد گرد منڈلاتے رہتے ہیں۔ طوطے‘میناءبلبلیں اور کوے بھی آتے ہیں جب کوے اترتے ہیں تو سب چڑیا‘ مینا پھرسے اڑ جاتی ہیں۔ البتہ جنگلی کبوتر ان سے نہیں ڈرتے۔ چند جوڑے فاختائیں بھی ہیں جنہوں نے بالکل سامنے ہی دیوار پربلند بیل میں اپنے گھونسلے بنالیے ہیں۔شہر کے ماحول میںچونکہ ہم نے رکھوالی کےلئے گھر میں ایک کتا بھی پال رکھاہے لہٰذا اس کے خوف سے بلیاں ہمارے گھر نہیں آتیں۔ اگر بلی آئے توظاہرہے کہ گھریلو فاختائیں اورکبوتر وغیرہ قریب ونزدیک گھونسلے نہیں بناتے اورڈر کر کہیں اور چلے جاتے ہیں۔ اب اس ریٹائرڈ عمر میں جہاں اس ماحول میں قرنطینہ خوب گزر رہاہے وہیں ہمیں اپنی وہ ائیرگن بھی یادآتی ہے اوراپنے اوپرغصہ بھی آتاہے۔آج ہمیں اپنی نوجوانی میں کیے شکار کے شوق سے سخت چڑہو چکی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اگر یہ پرندے ابھی ہمارے ہاتھوں پر بھی آبیٹھیں تو ہم نہ تو انہیں پکڑیں گے اورذبح کرنا توبڑی دورکی بات ہے۔نہ جانے اس عمر میں ایسی چنگیز خانی کاشوق کہاں سے درکرآیاتھا۔ لیکن اگر قرنطینہ نہ ہوتا تو شاید ادھر ہماری نظربھی نہ پڑتی۔
بہرحال!جوگزرناتھا وہ توگزرچکا۔ضروری امرتو یہ ہے کہ جانا جائے کہ حسن وہ ہی ہے اوروہیں ہے کہ جدھرفطرت نے اسے رکھا ہو‘ مگر یہ بات بھی طے ہے کہ یہ زمین وآسمان اورجوکچھ ان میں ہے سب کچھ بنی آدم ہی کے لئے تو ہے۔
(کرنل ریٹائرڈ اور ضلع نارووال کے سابق ناظم ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved