تازہ تر ین

زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے

نسیم غالب….( یادرفتگان)
نہیں ہے۔ دنیا میں لوگ آتے اور چلے جاتے ہیں تاہم بعض افراد ایسی متحرک اور شاندار زندگی گذارتے ہیں کہ ان کی وفات کے بعد تادیر، ان کا خلاءپُر کرنا مشکل ہو تا ہے۔ ایسے لوگ اپنی وفات کے بعد بھی لوگوں کے دلوں پر حکومت کرتے رہتے ہیں ۔ انہی زندہ جاوید شخصیات میں ایک نام عبدالاحد ملک کا ہے جنہیں بزمِ رفتگاں کا حصہ بنے کئی سال بیت چکے ہیں لیکن انھوں نے خیر کا جو ذخیرہ چھوڑا ہے وہ ان کی میزانِ عمل کو ہمیشہ جھکاتا رہے گا ۔ آپ تو یقینا وہاں چلے گئے، جہاں ہرایک کواپنے اپنے وقت پرجاناہے لیکن آپ اپنے اوصاف جمیلہ اور زندہ دل شخصیت کی وجہ سے گردشِ شام و سحر کے درمیان ہمیشہ یاد آتے رہیں گے ۔ان کے درخشاں کام وقت کے ساتھ مزید گہرے اور روشن تر ہوتے جا رہے ہیں ۔ بقول شاعر
موت نے ان کو عطا کی ہے حیات جاوداں
عبدالاحد ملک 1940ءمیں اندرون لاہور رنگ محل میں پیدا ہوئے۔شکل و صورت اللہ تعالیٰ نے خوب عطا کی تھی اور صفات بھی نام کی طرح یکتا تھیں۔کسی انسان کی خوبیوں اور خامیوں کا اندازہ اس کے طرز زندگی سے پتہ چلتا ہے ۔ احد ملک صاحب نے جس جرا¿ت ، ہمت اور حوصلہ مندی سے زندگی گذاری وہ اپنی مثال آپ ہے۔ وہ نہ کبھی جھکے اور نہ بکے اور نہ کبھی اصولوں پر کوئی سمجھوتہ کیا۔ آپ نے اپنے علم وعمل سے اپنی منفرد شناخت بنائی۔ 1970ءمیں آپ گلبرگ منی مارکیٹ ایک بلاک میں رہائش پذیر ہوئے۔ اسی سال فلم انڈسٹری میں قدم رکھا اور اس شعبہ میں بھی اپنا بلند مقام بنایا۔ آپ نے کئی شاہکار فلمیں بنائیں۔ ” دنیا پیسے کی“، ” چور مچائے شور“، ” لاکھوں میں ایک“ جیسی کئی دیگر شہرہ آفاق فلمیں بنا کر اپنے تخلیقی ذہن کا ثبوت دیا۔ یہ وہ دور تھا کہ جب انسان کو کچھ بننے کیلئے بڑی محنت کرنا پڑتی تھی ۔ بھٹو دور عروج پر تھا ، پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ طویل سیاسی زندگی میں پرویزالٰہی اور شہباز شریف کے مدمقابل الیکشن بھی لڑا۔احد ملک نے بے باکانہ انداز میں زندگی بسر کی اور آپ کی ہونہار صاحبزادی عائشہ احد ملک نے بھی اپنے والد محترم کی پیروی میںمشکل سے مشکل حالات کا بڑی بہادری سے مقابلہ کیا اورہر امتحان میں سرخرو ٹھہریں۔
اللہ تعالیٰ نے احد ملک کو اتنی کامیابیوں سے یوں ہی نہیںنواز دیا تھا وہ ہر لمحہ اپنے رب کو راضی کرنے میں لگے رہتے تھے۔ آپ نے بیشمار لوگوں کی بغیر دکھاوے کے مدد کی،غریب بچیوں کی شادیاں کروائیں، لڑکوں کو کاروبار کیلئے پیسہ دیا، بھوکوں کو کھانا کھلایا۔ آپ کی کوشش ہوتی کہ کسی کو خالی ہاتھ نہ لوٹائیں۔ بے شمار خاندانوں کی مالی اعانت کی۔ آپ کہا کرتے تھے کہ سب سے پہلے اپنے رشتہ دار اور اردگرد کے لوگوں کو دیکھو ، ان میں اگر کوئی مستحق ہے تو اس کی مدد کرو کیونکہ یہ تمہاری امداد کے زیادہ حقدار ہیں۔آپ کی زوجہ ایک دیندار اور باپردہ خاتون تھیں جنہوں نے گھر کی چاردیواری میں رہ کر اپنی اولاد کی بہترین انداز میں تربیت کی۔ یہ جو کہا جاتا ہے کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے ، یہاں بالکل صادق آتا ہے۔ آپ لاہور کے حلقہ پی پی 151سے ممبر صوبائی اسمبلی بھی منتخب ہوئے۔ چیئرمین فلم سنسر بورڈ بھی رہے۔آپ ایک کامیاب بزنس مین تھے۔ عبدالاحد ملک کی کامیابی کئی لوگوں کو کھٹکنے لگی تھی ، یہی ہوا اور آپ کے ساتھ بھی صاحب اقتدار لوگوں نے زیادتیاں کیں، آپ کے پلازہ کو گرایا گیا ۔ عمر بھر کی کمائی اور عزت یوں لٹتے دیکھ کر وہ اندر ہی اندر کڑھنے لگے ، مگر انسان کب تک غم سہتا رہے یہی ہوا اور آپ 2007ءمیں شدید بیمار ہو گئے۔ احد گروپ کا مالک اپنی محنت سے بنی جاگیر کی بربادی دیکھ نہ پایا اور فالج جیسی مہلک بیماری میں مبتلا ہو گیا۔جب درد حد سے تجاوز کر جاتا ہے تو زبان خاموش ہو جاتی ہے۔آپ 30مارچ2013ءکو اپنے پیاروں کو روتا چھوڑ کر خالق حقیقی سے جا ملے۔ اللہ تعالیٰ آپ کے درجات بلند کرے اور آپ کے اہل خانہ پر اپنا خاص فضل وکرم فرمائے۔ آمین۔
(کالم نگار سماجی وسیاسی امورپرلکھتی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved