تازہ تر ین

عمران خان پر اعتماد رکھیں!

ڈاکٹر نبیل چودھری
میں گجرانوالہ کے جس علاقے میں رہتا ہوں اس کا نام پیپلز کالونی ہے ۔جس دن عمران خان نے کہا کہ لوگ باہر نہ نکلیں، یہ اسی دن کی بات ہے میں نے اپنی گاڑی نکالی۔ سوچا اب بندش ہو گئی ہے سودا سلف لے آﺅں ۔گھر کے قریب ایک پارک ہے۔ میں نے دیکھا وہاں لڑکوں کا ایک ہجوم ہے جو کھیل رہا ہے، انہیں کسی نے نہیں بتایا کہ موت کے خطر ناک سائے تمہارے اوپر ہیں۔ یہ وہ عمر ہے کہ انسان بالکل بھی نہیں سوچتا کہ اس کے اس فعل سے کیا نقصانات ہو سکتے ہیں۔ کرونا وائرس ایک انتہائی خطر ناک وائرس سے جو انسان کو بڑی تیزی سے اپنی گرفت میں لے سکتا ہے ۔ان بیسیوں لڑکوں میں سے کسی ایک کو بھی اگر یہ مہلک بیماری اور جان لیوا وائرس ہو گیا تو وہ ایک نہیں اپنے ساتھ کئیوں کو لے جائے گا ۔گاڑی کے شیشے سے میں نے ان کی ایک فلم بنائی، گھر کے پاس سپیڈبریکر سے آگے نکلا تو سوچا کہ یہ نسل کتنی بد نصیب ہے جسے بے فکر ہونے کی قیمت شاید موت کی شکل میں دینا ہو گی۔میرے ساتھ گاڑی میں میری بچی تھی عنایا جس نے ضد کی کہ مجھے بھی آپ کے ساتھ جانا ہے ۔میں بہت پیچھے چلا گیا کافی پیچھے۔ 1986میں ہم لوگ والد صاحب کے پاس دمام پہنچے اس وقت دہران ایئر پورٹ تھا ۔اس وقت چھوٹی فیملی تھی ۔بڑے بھائی نوید ،میں، والدہ اور والد محترم جو وہاں گاڑیوں کی کمپنی میں سپر وائزر تھے ،مجھے بعد میں پتہ چلا یہ کمپنی جس کا نام الجمیح ہے یہ مڈل ایسٹ کی بڑی کمپنیوں میں سے ہے۔ ہمیں اس بات کی بالکل بھی خوشی نہیں تھی کہ ابو سے ملنے جا رہے ہیں یا ہم سعودی عرب میں رہیں گے۔ ہماری خوشی یہ تھی کہ ہم جہاز میں جھولا لے کر آئے ہیں۔ چھوٹے سے ایئر پورٹ پر ابو ہمیں کسی دوست کی گاڑی میں لینے آئے تھے جو بعد میں انکل جاوید اور بھابی صبیحہ کے نام سے جانے گئے ۔دمام میں شارع خالد بن ولید کے ساتھ ہی ایک کمرے کا گھر تھا جس کا ایک ڈرائنگ روم ،یہیں میں نے کچھ کچھ ہوش سنبھالی ۔
میری گاڑی آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی ہے، گراﺅنڈ میں کھیلنے والے بچوں کا شور اپنی جگہ ،میں نے باآواز بلند کہا گھر جاﺅ ،ان میں سے ایک نے کہا نہیں جاتے کیا تم پرچہ کرا لو گے۔میں نے محسوس کیا کہ منہ زور نسل ہے ۔ہمیں جب والد صاحب کے آنے کا پتہ چلتا ہم خاموش ہو جاتے تھے ۔جدہ آئے تو منجد والے مکان میں رہے، یہ گھر پاکستان ایمبیسی سکول والی گلی میں ویڈیو بندر کے پیچھے والا گھر تھا۔ گراﺅنڈ فلور پر بائیں ہاتھ یہ گھر ایک سعودی مصطفی نامی شخص کا تھا اس گھر کے باہر ایک کھلی جگہ تھی، مالک مکان نے وہاں چار دیواری نہیں بنائی تھی۔ ہم وہاں کھیلتے تھے ،ساتھ میں انکل حامد اسلام خان کے بیٹے فہد اور حماد بھی تھے ۔ہمیں یہ علم تھا کہ ابو آنے والے ہیں ہم اس سے پہلے چپکے سے گھر میں داخل ہو جاتے ،سامنے بھی بہاولپور کی ایک فیملی تھی انکل شیخ رفیق ان کے دو بیٹے عالی اور بہاول جبکہ اوپر کے فلور سے ایک دو اور آ جاتے ،کوئی دس بارہ لڑکوں کا گروہ ہماری سائیکلیںاور فٹ بال وہاں پاکستانی لڑکے الگ کھیلتے، عرب الگ۔میں نے سوچا میرے کہنے سے یہ بچے کیوں اندر جائیں گے ہم بھی تو گھر میں ڈر کے مارے اس وقت جاتے تھے جب ابو آیا کرتے تھے۔ میں نے گاڑی آگے بڑھائی انسان کبھی ماضی کو نہیں بھولتا۔ والد صاحب کے پاس بیٹھو تو وہ اپنے قصے سناتے ہیں وہ باتوں باتوں میں بتایا کرتے ہیں کہ انہوں نے کس مشکل سے ہمیں پروان چڑھایا ہے۔ یہ ہر باپ کی کہانی ہے مجھے بھی علم اور میں بھی جانتا ہوں کہ اپنے تین ننھے منوں کو کس طرح پروان چڑھا رہا ہوں۔ زندگی اب اتنی آسان نہیں مہنگائی کا طوفان ہے اور اخراجات کی دکان ہے جس میں دکان جیت جاتی ہے ۔ گاڑی بائیں ہاتھ موڑنے سے پہلے مجھے یاد آیا ہمارا بچپن میرے اپنے بچوں سے زیادہ حسین نہ تھا ۔میں ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے باپ کا بیٹا تھا جس کے بعد میں تین اور بچے ہوئے تو پانچ بچوں کا باپ بن گیا جو ہمیں وہاں کے گرامر سکول میں نہیں پڑھا سکا، میرے دو بچے گرامر سکول میں پڑھتے ہیں ،میں سارا دن کام کرتا ہوں میری بیگم ڈاکٹر ہے لیکن آج احساس ہوتا ہے ماں نے کبھی گندے کپڑے پہنا کر سکول نہیں بھیجا اس وقت اگر گڈ ڈریس کا ایوارڈ ہوتا تو ہمیں ملتا۔ ہم دمام سے حی السلامہ میں آئے تھے چند دن انکل ظفر کے گھر رہے۔ اور جب ہم دو بھائی سکول جانے لگے تو عزیزیہ میں آئے وہاں بھی پہلے پہل فانوس مارکیٹ کے پاس بعد میں ہم سکول والی گلی میں آئے۔ اس سے پہلے ابو سینا مارکیٹ کے سامنے والے گھر میں جہاں انکل طاہر جن کا تعلق کشمیر سے تھا وہ ہمیں سائیکل پر چھوڑنے آتے ۔ حی المنارہ میں بابا جدی کے گھر بھی تھوڑا عرصہ گزارا۔ کرائے کے گھروں میں رہنے کے اپنے ہی عذاب ہوتے ہیں ۔کرائے دار ہونا ہندوﺅں کے شودر ہونے کے برابر ہے، محلے میں شناخت بھی ایک کرائے دار کے نام سے ہوتی ہے۔ ان سے ملئے یہ بٹ صاحب کے نئے کرائے دار ہیں۔ بٹ صاحب بھی کہیں گے ان سے ملئے یہ دانتوں کے مشہور ڈاکٹر ہیں اور میرے نئے کرائے دار ہیں۔ملازم پیشہ آدمی کو اپنی تنخواہ سے زیادہ کرایہ دینے کی فکر ہوتی ہے۔ کچھ لوگوں نے سوشل میڈیا پر شور مچا رکھا ہے کہ اس بار مالک مکان کرایہ نہ لیں لیکن میڈیا والوں کو یہ بھی بتائے اگر مالک مکان کا خرچ بھی کرائے دار کے پیسوں سے ہوتا ہے تو وہ کیا کرے۔
قارئین میرا مزاج مختلف سا ہے ،میں چیزوں کو بڑے قریب سے دیکھتا ہوں سوچتا ہوں احساس کرتا ہوں جیسے کہ میں کرایہ دوں گا ،اس کی بجائے کہ وہ مجھے معاف کرے ۔میں سوچتا ہوں مالک کیا کرے گا۔بس ایسے ہی زندگی گزرتی جا رہی ہے ۔
قارئین! اس دن نیٹ پر ایک تصویر دیکھی جو ابو کے ایک دوست یاسر خان بلوچ نے اپنی وال پر لگائی تھی۔ ایک امریکی فوجی اپنے کندھے پر گدھا اٹھائے جا رہا ہے ساتھ چار چھ اور فوجی تھے یہ افغانستان کا کوئی علاقہ تھا۔ساتھ میں لکھا ہوا تھا اس امریکی کو گدھے سے کوئی پیار نہیں اس نے اسے کمر پر اس لئے اٹھا رکھا ہے کہ کہیں گدھا راستے میں بچھی ہوئی مائینز پر پاﺅں نہ رکھ دے جس کی وجہ سے ہم سب مارے جائیں ۔سچ پوچھئے عمران خان وہ فوجی ہے جس نے اپنی کمر پر بہت سارے گدھے لاد رکھے ہیں جن کا وہ ذکر بھی کرتے ہیں جو کہسار مارکیٹ میں بیٹھتے ہیں۔اب آپ اندازہ لگائیں یہی وہ لوگ ہیں جو کبھی کبھار مائینز پرپاﺅں رکھ دیتے ہیں اور عمران خان کو جواب دینے میں ہفتے لگا دیتا ہے۔ اب مجھے کوئی بتائے کہ ہفتہ رفتہ میں عمران خان کے سامنے جو اینکرز بٹھائے گئے تھے وہ کس نے بٹھائے تھے ۔ایک نے تو کہا بتائیے میں کس کا گریباں پکڑوں ،آپ کا یا باقر کا ۔کیسا آدمی تھا ؟ ۔میں عمران خان کا چاہنے والا ہوں ،اس کی لڑائی لڑتا ہوں۔ میڈیا میری سپیشلیٹی ہے لیکن مجھے بتائیں یہ فواد چودھری کیا ہیں۔ یہ ان گائیڈڈ میزائل کبھی نعیم الحق پر داغا جاتا ہے کبھی کسی اورپر۔مانا کہ آپ کو وزیر اعلی نہیں بنایا لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں ہے کہ آپ ہر روز عثمان بزدار پر حملہ کریں۔ سچ پوچھیں فیاض چوہان چپ ہیں ۔انجینئر افتخار نے بھی آپ کو جواب دیا ہے۔سرکار سوچ لیجئے لدھڑ ہاﺅس کا اصل ہیرو فرخ الطاف ہے آپ نہیں نہ ہی کوئی اور ۔میں نے گاڑی اب دکان کے سامنے کھڑی کر دی ہے بچوں کے ماموں حمزہ کے گھر کے پیچھے ایک سٹور ہے یہ سوچتے ہوئے کہ کیا ہم اپنے بچوں کو اس افتخار سے پال سکیں گے ،کیا ہم عمران خان جیسے لیڈر کو اپنی خرمستیوں سے کھو دیں گے۔لگتا ہے ہم ایک دندان شکن لیڈر کو سمجھ نہیں پا رہے۔
گاڑی کی ہینڈ بریک کھینچ دی ہے ،عنایا ساتھ ہے دادا ابو‘ اسے کہتے ہیں گول گول گومے گی میری موٹو گھومے گی۔کیا ہم ان بچوں کو اس مشکل سے باہر نکال پائیں گے؟ کیا دنیا اسی طرح گول گول گھومے گی ۔کہہ دیں انشاءاللہ۔
(مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات تحریک انصاف ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved