تازہ تر ین

دوریاں

کامران گورائیہ
عمران خان کو جب ان کی22 سالہ سیاسی جدوجہد کے نتیجہ میں 2018ءکے عام انتخابات میں ملک گیر کامیابی حاصل ہوئی تو اس کے پیچھے صرف ان کی ذاتی کوششیں اور جستجو ہی شامل نہیں تھی بلکہ اس ملک کے تمام مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والوں نے اپنا اپنا کردار ادا کیا تھا۔ عمران خان کی طلسماتی شخصیت اور دوٹوک اندازِ بیان خاص طور پر نوجوانوں کے دلوں پر گہرے اور خوشگوار اثرات مرتب کر چکا تھا۔ شہری آبادیوں میں رہنے والے ہوں یا دیہاتوں اور مضافات میں بسنے والے، صنعتکار ہوںیا چھوٹے تجارت پیشہ، مظلوم ہوں یا محکوم عمران خان ہر کسی کے دل کی دھڑکن بن چکے تھے۔ عمران خان کو اقتدار کے ایوانوں تک پہنچانے میں جہاں چند منجھے ہوئے اور زیرک سیاستدانوں کا عمل دخل رہا وہیں میڈیا نے بھی وزیراعظم عمران خان کی صدائیں بلند کرنا شروع کر دی تھیں۔ 2018ءکے عام انتخابات میں پہلی مرتبہ دیکھا گیا کہ لوگوں کو گھروں سے نکالنے کےلئے امیدواروں کو ٹرانسپورٹ کے انتظامات کی کوئی خاص صعوبت برداشت نہ کرنا پڑیں بلکہ عوام اپنے اپنے طور پر گھروں سے نکلے اور انہوں نے اپنے پسندیدہ ترین امیدواروں اور سیاسی جماعتوں کے حق میں ووٹ ڈالا۔ 2013 ءکے بعد 2018ءکے انتخابات میں ٹرن آﺅٹ اس حد تک حوصلہ افزا تھا کہ اسی ٹرن آﺅٹ کی وجہ ہی سے سیاسی اکھاڑے کے بڑے بڑے محققین چاروں شانے چت ہوگئے۔ انتخابات سے قبل ’نیا پاکستان‘ کا نعرہ اس قدر دلفریب تھا کہ عوام کی اکثریت نے نہ چاہتے ہوئے بھی عمران خان کی سیاسی پارٹی کے ٹکٹ پر کھڑے امیدواروں کو ووٹ ڈالے اور یوں عمران خان کووفاق سمیت ملک کے تین صوبوں میں حکومت بنانے کے مواقع میسر آئے۔یہاں پر اس حقیقت کو بالائے طاق رکھنا بھی غیر ضروری ہوگا کہ 2013ءمیں خیبرپختونخوا میں حکومت بنانے کے بعد اپنی پانچ سالہ کارکردگی کی وجہ سے پاکستان تحریک انصاف اس صوبہ کی سب سے زیادہ پسندیدہ ترین سیاسی جماعت نہیں بن سکی تھی لیکن عوام نے ناصرف خیبرپختونخوا کا مینڈیٹ پاکستان تحریک انصاف کے سپرد کر دیا بلکہ وفاق میں حکومت سازی کے لئے بھی اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان تحریک انصاف نے سب سے بڑا سرپرائز پنجاب میں دیا جہاں پر اس جماعت کے ناپختہ امیدواروں نے بھی حیرت انگیز طور پر کامیابیاں حاصل کر لیں لیکن اس تمام تر صورت حال کا سہرا ملک کے مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کو جاتا ہے جن میں زیادہ تعداد باشعور اور پڑھے لکھے عوام بالخصوص نوجوان کی تھی۔
عمران خان کو وزارت عظمی کا منصب سنبھالے ڈیڑھ سال سے زائد عرصہ ہو چکا ہے ، اس عرصہ میں عمران خان نے بحیثیت وزیراعظم اپنے سیاسی مخالفین کے ساتھ اپوزیشن لیڈر کا سا کردار ادا کیا۔ یہی نہیں بلکہ اداروں کو ساتھ لیکر چلنے کا سیاسی علم بلند کرنے والے عمران خان کو اقتدار کے گھوڑے پر سوار ہو کر تنقید کرنے والوں سے چڑ ہونے لگی۔ جن نوجوانوں کو انہوں نے نیا پاکستان میں کروڑوں نوکریاں دینا تھیں وہ بے روز ہوگئے، صنعتیں بتدریج بند ہوتی ہی گئیں۔ لاکھوں گھروں کے خواب ریت کی دیوار ثابت ہوئے۔ اساتذہ کو کرپشن کی بنا پر ہتھکڑیاں لگائی گئیں، سیاسی مخالفین ڈاکو، چور، لیٹرے اور غدار قرار پائے۔ میڈیا کو بے لگام گھوڑا ثابت کرنے کی سر توڑ کوششیں کی گئیں۔ حتی کہ عمران خان حکومت نے میڈیا اوربعض سیاستدانوں کو ملک کا سب سے بڑا مخالف اور غدار قرار دلوانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا گیا۔ پھر ہواﺅں کا رخ تبدیل ہونے لگا، سیاسی رفیق ساتھ چھوڑنے لگے۔22 سالہ جدوجہد میں کندھے سے کندھا ملا کر ساتھ چلنے والے عمران خان کے دشمن اور چاپلوس اور موقع پرست ان کی آنکھوں کا تارا بن گئے۔ ذرائع ابلاغ سے تعلق رکھنے معاشی بحران ، داخلی و خارجہ پالیسیوں کی ناقص منصوبہ بندی پر تنقید کرنے والے دوست ناصرف عمران خان کے دشمن قرار دیئے جانے لگے بلکہ ان کی حب الوطنی پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا جانے لگا۔
یوں تو عمران خان کے اقتدار میں آنے کے بعد ہی سے جب انہوں نے ایک لمبی چوڑی اور بھاری بھرکم کابینہ تشکیل دی تب ہی سے تاجروں، صنعتکاروں، ذرائع ابلاغ، سیاسی مخالفین اور سیاسی تجزیہ کاروں سے عمران خان کی عداوتیں شروع ہو چکی تھیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان تمام معاملات میں کمی نہیں آئی بلکہ دوریاں بڑھتی گئیں اور آج یہ عالم ہے کہ عمران خان کی کابینہ میں اکثریت غیر منتخب افراد یا ایسے ناعاقبت اندیش لوگوں کی ہے جو خود تو سیاسی شعور سے معذور ہیں ہی لیکن وہ اپنے لیڈر کو بھی کوئی ڈھنگ کا مشورہ دینے کے قائل نہیں ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ عمران خان اپنے اقتدار کے انتہائی مختصر عرصہ میں یوٹرن لینے اور غلطیاں کرنے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ عمران خان جو اس ملک کو دنیا کا ٹائیگر بنانے کے دعوے دار تھے لیکن اپنی ناکام داخلی و خارجہ پالیسیوں کی وجہ سے ناصرف اپنے خیرخواہوں سے محروم ہو چکے ہیں بلکہ ان کی سیاسی ساکھ بھی وقت کے ساتھ ساتھ کم ہوتی چلی جا رہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے صرف اپنا ایک وعدہ نبھایا ہے اور وہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے سیاسی مخالفین پر مقدمات بنوانے اور انہیں نیب زدہ کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ یہی وجہ ہے کہ آج ملک کے اہم سیاسی رہنما اور قائدین برملا کہتے ہیں کہ ملک میں نیب، نیاز ی گٹھ جوڑ کا دور دورہ ہے اسی لئے صرف ان کے سیاسی مخالفین ہی کو گرفتار کیا جاتا یا زیر حراست رکھا جاتا ہے لیکن خود ان کی صفوں میں موجود نیب کو مطلوب ان گنت لوگ مکمل آزادی کے ساتھ سکھ اور چین کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ماضی میں بھی سیاسی جماعتوں کے ارکان میں اختلاف رائے دیکھنے میں آیا لیکن کبھی کسی بھی سیاسی جماعت یا رہنما نے پوائنٹ آف نو ریٹرن کی طرف جانے کی کوشش نہیں کی۔ اس کے برعکس وزیراعظم عمران خان سیاسی جماعتوں کے رہنماﺅں کو اس قدر بے وقعت سمجھتے ہیں کہ پارلیمان میں آ کر کسی بھی مخالف سیاسی رہنما سے راہ مراسم رکھنا بھی گوارہ نہیں کرتے۔
کورونا وائرس کا بحران ملک کی جڑوں میں تیزی سے سرائیت کر رہا ہے۔ ملک کی دونوں بڑی اپوزیشن جماعتیں پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کو ہر قسم کے تعاون کی پیش کش کی گئی ہے۔ انہیں بارہا باور کروانے کی کوشش کی گئی ہے کہ یہ وقت اختلافات کا نہیں بلکہ متحد ہونے کا ہے تا کہ اس کی عالمی وبا سے بچاﺅ کے لئے مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جاسکے لیکن عمران خان ایسی کسی پیشکش کو خاطر میں لانے کے موڈ میں نظر نہیں آتے۔ میڈیا کے ساتھ بھی وزیراعظم عمران خان کے معاملات زیادہ خوشگوار نہیں بلکہ یہ کہنا درست ہوگا کہ اب کسی بھی شعبہ کے لوگوں کیساتھ ان کے تعلقات ناخوشگواری کی انتہائیوں کو چھو رہے ہیں۔ دوریاں بڑھتی جا رہی ہیں اس موقع پر میری وزیراعظم عمران خان سے ذاتی حیثیت میں یہ درخواست ہے کہ وہ کبھی کسی اور سے بھی مشورہ کر لیا کرتے تھے اور بعض اوقات ان مشوروں پر من و عن عمل بھی کیا کرتے تھے لیکن اب ان کے اطوار کیوں تبدیل ہو گئے ہیں اس ملک کے عوام نے جس عمران خان کو وزارت عظمی کے منصب تک پہنچایا ہے وہ انہیں ابتدائی طور پر کپتان کی حیثیت سے پیار کرتے ہیں۔ان کی امیدوں کو ٹوٹنے نہ دیں۔
(کالم نگارسینئر صحافی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved