تازہ تر ین

کرونا وائرس۔ سنجیدگی دکھائیں

افتخار رشید
کرونا وائرس کے بارے میں ٹی وی اور پرنٹ میڈیا پر اتنا کچھ بولا اور لکھا جا رہا ہے جبکہ سوشل میڈیا بھی اس حوالے سے معلومات سے بھرا ہوا ہے ۔اس کے باعث پہلے تو میں نے خیال کیا کہ اس موضوع پر مزید لکھنا وقت کے ضیا ع کے علا وہ اور کچھ نہیں ہو گا ۔لیکن پھر مجھے یہ خیال آیا کہ اس میں زیادہ تر مواد پرانا ہے جو کہ بار بار دہرایا بھی جا رہا ہے ،اور تصدیق شدہ بھی نہیں ہے ۔سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ان تمام کی ’جانی والی‘ باتوں میں آگے بڑھنے کا کو ئی راستہ نظر نہیں آرہا اور نہ ہی بتایا جا رہا ہے ،اسی امر نے مجھے ایک بار پھر اس حوالے سے قلم اٹھانے پر مجبور کیا ۔اس حوالے سے نظر انداز کیے جانے والی انتہائی ضروری چیزیں یہ ہیں : جامع حکمت عملی کا فقدان، تاریخی پس منظر کا تجزیہ نہ کرنا ،ان ملکوں سے سبق نہ سیکھنا جنھوں نے اس وبا پر قابو پا لیا ہے ، مینجمنٹ پلان کا فقدان ، رابطوں کا فقدان ۔
لیکن اس سے پہلے میں ایک حقیقت پسندانہ لا ئحہ عمل پیش کروں، میں اب تک کرونا وائرس کے سلسلے میں لیے جانے والے اقدامات پر ایک نظر د وڑانا چاہوں گا ۔اگر حکومت کی کا ر کردگی پر تنقید کرنے سے گریز بھی کیا جائے تو پھر بھی یہ کہنا پڑے گا کہ حکومت کا کرونا وائرس کے حوالے سے رسپانس تا خیر شدہ ،حکومتی اقدامات بے ربط اور کاغذی تھے ۔جب دسمبر کے آخر میں چین کے شہر ووہان میں کرونا وائرس کی یہ وبا پھوٹی تو پاکستانی طالبعلموں کی ایک بڑی تعداد چین میں موجود تھی اور اس کے ساتھ چینی شہریوں کی ایک بڑی تعداد کا بھی پاکستان میں آنا جانا تھا ۔ہماری حکومت کی آنکھیں اسی وقت کھل جانی چاہئیں تھیں لیکن انھوں نے اپنی آنکھیں کبوتروں کی طرح بند کیے رکھیں اور قوم کو درپیش اس سنگین خطرے پر خا طر خواہ توجہ نہیں دی گئی ۔ہماری خوش قسمتی کہ چین سے یہ وائرس پاکستان میں داخل نہیں ہوا اور اس حوالے سے تمام کریڈیٹ چینی حکومت کو جاتا ہے ۔پاکستان میں یہ وائرس ایران کے راستے سے داخل ہوا جو کہ پہلے ہی اس وائرس کا شکار ہو چکا تھا اور جہاں پر ہمارے ملک کے ہزاروں کی تعداد میں زائرین گئے ہوئے تھے اور واپس آنے کےلئے تیار تھے ۔لیکن ہم نے کیا کیا؟ بجائے کہ زائرین کو واپس لینے اور ان کی سکریننگ کے بہتر انتظامات کیے جاتے ،ہم نے 23فروری کو بارڈر بند کر دیا ۔اور پھر ایک ہفتے کے اندر اندر ہی ایران کے دباﺅ کے باعث بارڈر کھولنا بھی پڑگیا۔زائرین کے پہلے گروپ میں 1800زائرین واپس آئے ،تفتان کی سرحد پر زا ئرین کی آمد کے حوالے سے انتظامات معاون خصوصی برائے صحت ڈا کٹر ظفر مرزا کی زیر قیادت کیے گئے جنہوں نے تفتان بارڈر کا دورہ کیا اور وہاں پر زائرین کےلئے کیے جانے والے انتظامات کی تعریف بھی کی اور ان انتظامات کو قابل اطمینان بھی قرار دیا ۔لیکن درحقیقت یہ انتظامات بد ترین تھے ۔سکریننگ کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا ،زائرین کو ڈربوں میں رکھا گیا ،بیمار اور صحت مند افراد کو بغیر کسی تفریق کے ایک ہی جگہ پر اکھٹا کر دیا گیا جس کے باعث وائرس بہت تیزی کے ساتھ پھیلا ۔اطلاعات کے مطابق وہاں پر بیت الخلا جیسی بنیادی سہولیات کی بھی فقدان تھا اور طبی عملے کے پاس کوئی حفاظتی سامان بھی نہیں تھا ۔اگر ان اطلا عات میں سے آدھی بھی درست ہیں تو اس بد انتظامی کے ذمہ دار افراد سنگین غفلت کے مرتکب ہو ئے ہیں اور ان کو قانون کے سامنے جواب دہ ہو نا ہو گا ۔وزیر اعظم عمران خان فوری اس سلسلے میں انکوائری کا حکم دیں اور ذمہ داران کے خلاف سخت کاروائی کی جائے ۔ہوائی اڈوں پر انتظامات بھی کو ئی اچھے نہیں تھے۔ مسافروں سے روٹین کے فارم بھروائے جا رہے تھے کہ وہ صحت مند ہیں ۔اس سے زیادہ احمقانہ بات اور کوئی ہو ہی نہیں سکتی ۔اس حماقت کا ادراک کرتے ہوئے سول ایوی ایشن اتھارٹی نے 17مارچ کو ایک نو ٹیفیکشن جاری کیا کہ باہر سے آنے والے مسافروں کو یہ ثبوت دینا پڑے گا کہ ان کا آنے سے دو روز قبل ٹیسٹ کیا گیا ہے ۔یہ اس سے بڑی حماقت تھی کیونکہ کرونا ٹیسٹ صرف انھی مسافروں کا کیا جا رہا تھا جن میں بیماری کی علامات ظاہر ہو رہی تھیں اس حقیقت کا ادراک ہوتے ساتھ ہی یہ نو ٹیفیکشن بھی واپس لے لیا گیا ۔اس وبا کے عالمی سطح پر پھوٹنے کے 3ماہ بعد ہمارے وزیر اعظم صاحب کی انٹری ہو ئی جن کو کئی چیزوں کے لیے سراہا جا سکتا ہے لیکن اس سنگین صورتحال کو سنبھالنے کےلئے نہیں ۔انھوں نے قوم سے خطاب کیا اور اچھی نیت سے کیا لیکن اس خطاب میں قوم کو کوئی پلان ، لا ئحہ عمل اور روڈ میپ نہیں دیا گیا ۔
یہ سب کچھ ہو گیا ہے اور اب واپس نہیں لیا جا سکتا ۔اب ہمیں آگے بڑھتے ہوئے یہ دیکھنا ہے کہ ہم اب کیا کر سکتے ہیںجس سے کہ صورتحال میں بہتری لائی جاسکے۔ اس حوالے سے ایک صدی قبل ایسی ہی صورتحال سے نمٹنے اورموجودہ وبا کے تناظر میںسامنے آنے والی کامیابی کی داستانوں پر بھی نظر ڈالیں تاکہ موجودہ سنگین صورتحال سے نمٹنے کا کوئی راستہ نکل سکے ۔ موجودہ بحران کے دوران جن ممالک نے کامیابی سے صورتحال پر قابو پایا ہے ان میں چین ،ہانگ کانگ ،تا ئیوان اور سنگا پور شامل ہیں ۔چین نے سخت ترین قرنطینہ اور سماجی فاصلوں،شہروں اور صوبوں کے لا ک ڈاﺅن ،سخت سفری پابندیوںاور اپنی طبی اور قرنطینہ کی سہو لیات کی فوری بہتری اور ایکسپینشن کے ذریعے ،جبکہ باقی تینوں نے جا مع حکمت عملی ،اور سفری پابندیوںپر کم از کم قدغنوں کے ساتھ اس وبا پر قابوپا یا۔ انھوں نے اپنے حالات کے مطابق اقدامات لیے ۔ان ممالک نے سماجی فاصلوں ، قرنطینہ ، کم از کم سفری پا بندیو ں ، عوامی صحت کی مہم ، اچھی سکریننگ، بہتر صفائی اور متاثر ہونے والے افراد اور ان کے قریبی ساتھیوں کو قرنطینہ کرنے سے وائرس پر قابو پایا گیا ۔ان تینوں ممالک نے بغیر کوئی سخت اور غیر معمولی اقدامات کیے ہوئے وائرس کے پھیلا ﺅ کو روکا ۔ان ممالک نے لاک ڈا ﺅن بھی نہیں کیے ۔اور ہا نگ کانگ تو خاص طور پر قابل تعریف ہے کہ انھوں نے چین سے روزانہ کی تعداد میں آنے والے 30ہزار چینی شہریوں کو بھی نہیں روکا ، افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم روزانہ آنے والے 2000افراد کو بھی درست انداز میں مینج نہیں کر پائے ۔ہمیں بھی ان چار ممالک کے ماڈلز اور ایک صدی قبل وائرس سے نمٹنے کےلئے کیے جانےوالے کامیاب ہونےوالے اقدامات کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک عملی ،حقیقت پسندانہ اور مربوط ایکشن پلان تیار کرنا ہو گا تاکہ اس وائرس پر قابو پایا جاسکے ۔اس کےلئے ان اقدامات پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔
1۔سب سے پہلے تو ہمیں اس امر کا ادراک کرنا ہو گا کہ یہ ایک انتظامی معاملہ ہے طبی نہیں اور ڈا کٹر ظفر مرزا اس معاملہ سے نمٹنے کےلئے تربیت اور تجربہ سے عاری ہیں اور یہ معاملہ ان کے بس سے باہر ہے ۔
2۔ وزیراعظم صاحب کو اس حوالے سے ایک جا مع ، موثر پالیسی اور حقیقت پسندانہ حکمت عملی کے ساتھ سامنے آنا ہو گا جس پر کہ صوبے اپنی حالات کے مطابق عمل درآمد کر سکیں ۔
3۔اس پلان پر عمل درآمد کےلئے وزیر اعظم کی سربر اہی میں ایک چھوٹی لیکن موثر ٹاسک فورس کا قیام عمل میں لا یا جائے ۔
4۔ میڈیا ،اپوزیشن سمیت تمام اسٹیک ہولڈرزکو ایک ہی حکمت عملی کے تحت کام کرنا ہوگا ،اوراس کے لیے وزیر اعظم کو خصوصی اقدامات لینے ہوں گے۔
5۔ میڈیا کے ذریعے صحت کے حوالے سے مسلسل آگاہی مہم چلانی ہو گی ،تاکہ پاکستانیوں کو روزانہ کی بنیادوں پر اس حوالے سے حفاظتی اقدامات کی یاد دہانی کرا ئی جا سکے ۔
6۔ تمام شہروں اور قصبوں میں قرنطینہ سینٹرز بنانے کےلئے مناسب اقدامات کیے جا ئیں تاکہ تفتان جیسی صورتحال سے بچا جا سکے ۔اس حوالے سے بند کیے گئے عوامی مقامات مناسب ہیں ۔
7۔ سکریننگ کے نظام میں بہتری اور اس کو بڑھانے کےلئے موثر اقدامات لینے کی ضرورت ہے تاکہ متا ثرہ افراد کی نشان دہی کی جا سکے ۔
8۔ ان تمام اقدامات کو مربوط بنایا جائے ۔
میرے خیال میں وفاقی حکومت اس نا مناسب حکمت عملی کی ذمہ دار ہے اور ہم سب اس گڑھے سے نکلنے کےلئے وزیر اعظم کی جانب دیکھ رہے ہیں ۔
(کالم نگارمعروف بیوروکریٹ اورسابق چیئرمین پیمرا ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved