تازہ تر ین

میر جاوید رحمان کی یادمیں

میر جاوید رحمان ایک نیک روح انسان تھے، ان سے سلام دعا اے پی این ایس کی سیاست کے حوالے سے شروع ہوئی اور بعد میں جب میں پانچ سال کے لئے روزنامہ جنگ سے وابستہ ہوا تو بھائیوں جیسے تعلقات بن گئے۔ ان دنوں ان کے اصرار پر میں نے اخبار جہاں میں لاہور سے لاہور تک کے نام سے سیاسی ڈائری بھی لکھنا شروع کی۔ میں جنگ لاہور میں جوائنٹ ریذیڈنٹ ایڈیٹر تھا اور میر شکیل الرحمان کی ماتحتی میں کام کرتا تھا۔ دوسرے شعبوں کے ساتھ جنگ فورم بھی میرے پاس تھا تاہم جنگ کے اے پی این ایس کے سلسلے میں معاملات میرے سپرد تھے۔ میر خلیل الرحمان مرحوم یا میر جاوید جنہیں مرحوم لکھتے وقت دل بھر آتا ہے لاہور آتے تو ہمیشہ میر شکیل الرحمان کے کمرے کے بجائے شکیل صاحب کے ماموں میر عبدالرب ساجد یا میرے کمرے میں بیٹھتے اور ہمیشہ کہتے آپ اپنا کام جاری رکھیں میں کچھ دیر یہاں بیٹھوں گا۔
جاوید صاحب معصوم انسان تھے، چھوٹے بڑوں کی عزت کرتے۔ انسان دوستی کے حوالے سے ان کا رتبہ بہت بلند تھا۔ انہیں دفتر کے ایک ایک کارکن کا نام یاد تھا اور بڑے میر صاحب کی تربیت کے حوالے سے ہمیشہ ہر شخص کو اس کے نام سے صاحب کہہ کر بلاتے۔ دوپہر کو میر جاوید رحمان ہمیشہ میرے ساتھ کھانے کے لیے دفتر سے باہر میری چھوٹی گاڑی میں جاتے۔ اکثر میر شکیل الرحمان اپنے کمرے سے کہتے کہ باہر جانا ہو تو میری گاڑی لے جائیں یا دفتر کی گاڑی لے لیں مگر میر جاوید رحمان درویش انسان تھے۔ ان کی طبیعت میں غرور یا بڑے پن کا کوئی جذبہ نہ تھا۔ میرے ساتھ سوزوکی میں بیٹھ کر خوش ہوتے۔ میں خود ڈرائیو کرتا اوراکثر میکلوڈ روڈ لاہور کے لاثانی ریسٹورنٹ میں لے جاتا۔ آفتاب اخبار کے ممتاز طاہر اور تجارت کے جمیل اطہر بھی ہمراہ ہوتے تھے۔ لاثانی کی گیلری میں بیٹھ کر ہم عام طور پر کڑاہی گوشت کھاتے تھے۔ انہیں لاثانی والوں کا رائتہ بہت پسند تھا۔ اس مجلس میں اے پی این ایس سے وابستہ دوسرے اخبارات کے ایڈیٹر بھی آ جاتے۔ چھوٹے اخبارات کے ایڈیٹروں سے بہت عزت اور محبت سے ملتے۔ ہر شہر میں اے پی این ایس کے رکن کو عزیز رکھتے۔ کوئی تقریب ہوتی تو اختتام پر میرے کمرے میں بیٹھ جاتے اور اصرار کرتے کہ تصویریں منگوائی جائیں۔ ایک ایک تصویر کے نیچے صحیح نام لکھواتے یا لکھتے۔ یہ عادت انہیں اپنے والد سے ملی تھی جو خود بھی ایسا ہی کرتے۔ میرا بیٹا عدنان شاہد ان دنوں گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھتا تھا۔ ان کی موجودگی میں کبھی وہ ملنے آتا تو اسے بہت پیار کرتے۔ وہ نوجوانوں سے فوراً ہی گھل مل جاتے۔ لگتا تھا کہ ان کے اندر کا بچہ ابھی زندہ ہے۔
عدنان کی شادی پر بطور خاص کراچی سے لاہور آئے۔ اخبار جہاں میں بالعموم تو بہت جوڑوں کی ایک ایک تصویر چھپتی تھی۔ عدنان شاہد کی شادی میں بہت اہم شخصیات شامل ہوئیں۔ ان میں ملک معراج خالد وزیراعظم پاکستان، میاں منظور وٹو، شہبازشریف، قاضی حسین احمد وغیرہ شامل تھے۔ اخبار جہاں میں عدنان شاہد کی شادی پر مشہور شخصیات کے ساتھ پورا ایک صفحہ چھاپا جو اپنی نوعیت کا پہلا فیصلہ تھا۔ میں کبھی کراچی جاتا تو مجھے جس ہوٹل میں ٹھہراتے رات کو گھر جانے سے پہلے ایک چکر ضرور لگاتے۔ دنیا بھر کی باتیں ہوتیں۔ ان دنوں ایم کیو ایم کا بہت زور تھا اور ان کی انتہا پسندی عروج پر تھی۔ ایک دن مجھے ہوٹل سے لیا اور لالو کھیت کے چوک میں لے گئے۔ وہاں ایم کیو ایم کے نعرے اور قدآدم تصویریں دکھاتے رہے۔ وہ متوازن انسان تھے اور انتہا پسندی سے نفرت کرتے تھے۔
ایک دن لاہور میں جنگ کے دفتر آئے تو مجھے لے کر فوٹو لائبریری میں چلے گئے۔ وہاں دو اڑھائی گھنٹے تک تصویریں منتخب کرتے رہے۔ جب ہم واپس کمرے میں آئے تو میں نے کہا کہ اتنی تصویریں کیا کرنی ہیں۔ کہنے لگے اخبار جہاں میں چھاپوں گا۔ پھر مجھ سے پوچھا ضیا صاحب اخبار جہاں میں ہر ہفتے کتنے لوگوں کے نام چھپتے ہیں۔ میں نے کہا دو تین سو تو چھپ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا پچھلے ہفتے ساڑھے پانچ ہزار کے نام چھپے۔ ہر شہر کی ڈائریوں میں ہر بار نئے نام ہوتے ہیں۔ تصویریں ہوتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اخبار جہاں ہر ہفتے بڑے بڑے روزناموں سے زیادہ چھپتا ہے کیونکہ ہر شہر کے لوگوں کو ہفت روزہ پرچے میں اپنی جھلک دکھائی دیتی ہے۔
اے پی این ایس کی سیاست میں میر جاوید رحمان نے میر خلیل الرحمان کی سیٹ سنبھالی اور بڑی محنت کی۔ مجید نظامی صاحب صدر تھے تو میر جاوید رحمان جنرل سیکرٹری مقرر ہوئے۔ وہ ہر کام آئینی اور اصول و ضوابط کی بنیاد پر کرتے تھے اور اس سلسلے میں صدر ہو یا کوئی اور کسی دباﺅ کو برداشت نہیں کرتے تھے۔ کارکنوں کے سلسلے میں عام ارکان کی طرح زبردستی کی بجائے اصول اور ضابطے کے مطابق تحریری نوٹس بازی کرتے تھے اور معاملہ زیادہ اہم ہوتا تو عدالتی جنگ لڑتے، لیکن انہی لوگوں سے بات چیت میں ہمیشہ عزت و احترام کا خیال رکھتے۔
دوستوں کے علاوہ ان کے بیوی بچوں سے بھی بہت احترام سے پیش آتے۔ ایک بار میری بیگم (یاسمین شاہد) العزیز گئی ہوئی تھیں کہ انہیں العزیز کے باہر کھڑے ہوئے نظر آئے، جو بڑے غور سے انہیں پہچاننے کی کوشش کر رہے تھے۔ یاسمین نے قریب جا کر سلام کیا تو بہت خوش ہوئے اور پوچھا ضیا صاحب کہاں ہیں۔ انہوں نے کہا وہ مصروف تھے ہمارے ساتھ نہیں آئے۔ بولے بھابھی میں تو ہمیشہ بیوی اور بیٹے کے ساتھ آتا ہوں۔ اب بھی وہ میرے ساتھ ہیں اور اندر شاپنگ کر رہے ہیں۔ میر جاوید رحمان کو اللہ نے اولاد کی نعمت نہیں دی تھی انہوں نے میر شکیل الرحمان کا ایک بیٹا لے کر پالا اور غزالہ بھابھی نے اسے بہترین تعلیم دلوائی۔ وہ جرمنی میں پڑھ رہا ہے۔
روزنامہ جنگ سے علیحدگی کے بعد اکبر علی بھٹی مرحوم کے ساتھ مل کر روزنامہ پاکستان نکالا تو ہمیشہ مجھ سے وقتاً فوقتاً ٹیلی فون پر بات کرتے رہتے۔ اخبار کامیاب ہوا تو خوشی کا اظہار کیا۔ پھر خبریں نکالا تو بھی رابطے میں رہتے۔ ہمیشہ مفید مشورے دیتے اور مخلص دوستوں کی طرح کبھی مخالفوں کی طرح بات نہ کرتے۔ وہ انسان دوست تھے اچھے اور مہربان ہونے کے ساتھ اعلیٰ انسانی قدروں سے آراستہ، ان کی خوبیاں اتنی ہیں کہ بھلائے نہیں بھولتیں۔
گزشتہ دنوں ان کی علالت کا پتہ چلا پھر ان کے بھائی میر شکیل الرحمان نے نیب کی عدالت میں درخواست کی کہ ان کے بھائی ونٹی لیٹر پر ہیں اس لیے انہیں بھائی کی عیادت کیلئے ضمانت پر رہا کیا جائے۔ یہ سطریں لکھی جا رہی ہیں تو میر شکیل کی رہائی ہو چکی ہوگی۔ میر شکیل کو اللہ نے بہت عزت دی، لیکن مزاجاً دونوں بھائی مختلف تھے۔ میر شکیل شعلہ مستعجل ہیں تو میر جاوید رحمان ٹھنڈے مزاج، دھیمے اور انسان دوست تھے۔ ایک زمانے میں دونوں بھائیوں میں کچھ اختلاف بھی ہوا معاملہ عدالت میں پہنچا جسے میر جاوید رحمان نے اپنی عادت کے مطابق صلح صفائی اور مفاہمت کی طرف قدم بڑھایا اور اپنی والدہ کو بیچ میں ڈال کر صلح صفائی کر لی۔ بیگم میر خلیل الرحمان ماشاءاللہ ابھی تک موجود ہیں اور ان بھائیوں کے درمیان مضبوط رشتے کا کام دیتی ہیں۔ میر جاوید رحمان کی وفات کا علم ہوا تو بھابھی غزالہ رحمان سے بات کرنے کی کوشش کی مگر ان کا فون بند تھا۔ میر جاوید رحمان اپنے اللہ کے پاس چلے گئے جہاں ہم سب کو لوٹ کر جانا ہے، لیکن مجھے یقین ہے کہ انہوں نے ذاتی طور پر اتنی نیکیاں سمیٹی تھیں کہ اللہ کی بارگاہ میں انہیں آسانیاں نصیب ہوں گی۔ (آمین)
٭٭٭


اہم خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved