تازہ تر ین

کرونا یا شوکاز نوٹس

نعیم ثاقب
ہم دونوں سڑک پر خاموش چلتے جا رہے تھے سڑک کے بائیں جانب عالیشان گھر اور دائیں ہاتھ اونچے اونچے درخت اور درختوں کی دوسری طرف پل کے ساتھ لاہور کا بہترین شاپنگ ایریا فوٹریس تھا۔ گھروں میں خاموشی اور سکوت کا راج تھا سڑک پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر تھی اور فوٹریس کی رونق پر کرونا کے عفریت کا خوف چھایا نظر آ رہا تھا۔ہر طرف ہو کا عالم تھا۔ ہمارے پاﺅں کے نیچے آنےوالے سوکھے پتے کی ہلکی سی چیخ خاموشی کو توڑ کر زندگی کا احساس دے رہی تھی ۔کرونا کی وجہ سے ہم دونوں پریشان تھے۔ میں اپنے لیے اور مرشد ان900 لوگوں کیلئے جن کی ذمہ داری کا بار ان پر تھا ،وہ اپنے آفس میں کام کرنے والوں کےلئے کی جانےوالی حفاظتی تدابیر کی تفصیلات بتا کر مجھے ترغیب دے رہے تھے ۔مرشد نے جب بھی کوئی بات سمجھانی ہوتی ہے تو کبھی براہ راست کوئی مشورہ یا ہدایت نہیں دیتے تشبیہوں اور استعاروں سے کام چلاتے ہیں۔ مرشد یہ کرونا تباہی اور اس کا حل کیا ہے ؟ میں نے سوال کیا۔ کچھ بھی نہیں ‘مرشد نے حسب معمول چٹکی میں مسئلہ حل کرتے ہوئے کہا!جگر !یہ وارننگ ہے اللہ کی طرف سے اپنے بندوں کےلئے ۔ اس نے اپنے بندوں کو شوکاز نوٹس بھیجا ہے جیسے ہمارے دنیاوی نظام میں کمپنیاں نالائق کام چور، قوانین پر عمل نہ کرنے والے ملازمین کو وارننگ دیتی ہیںجس کا مطلب ہوتا ہے کہ ٹھیک ٹھیک کام کرو ورنہ فارغ! اسی طرح اللہ نے اپنے بندوں کو مہلت دی ہے کہ توبہ کرلیں اور تجھے پتا ہے کہ اللہ تعالی توبہ کو بہت پسند کرتے ہیں ۔کتنا بڑا گناہ گار ہو، چور ہو، شرابی ہو حتی کہ زانی ہو ،جب سچے دل سے توبہ کرلیتا ہے تو مالک کائنات اس کو معاف فرما دیتا ہے۔ چور اور زانی کو بھی معاف کر دیتا ہے ۔میں نے مرشد کی بات کاٹتے ہوئے حیرت سے پوچھا ۔جگر صحیح بخاری شریف کی حدیث نمبر 5827 پڑھ کر دیکھ لو۔اچھا ایک بات بتاﺅ اگر تمہاری یہ جی ایل آئی کرولا چوری ہو جائے تو کیا ہوگا ۔ مرشدنے میری کار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا ۔ ظاہر ہے مجھے بہت پریشانی ہوگی میں نے جواب دیا ۔اور اگر یہ گم شدہ گاڑی تمہیں اچانک واپس مل جائے تو تمہارے کیا احساسات ہو نگے مرشد نے دوبارہ پوچھا ؟مرشد ظاہر ہے مجھے بے حد خوشی ہوگی میں نے جواب دیا ۔ہتھ سٹ!اتنی سی بات ہے مرشد نے ہاتھ آگے کرتے ہوئے کہا ۔اللہ کے نبی کا فرمان ہے کہ اللہ تعالی اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جس کا اونٹ مایوسی کے بعد اچانک اسے مل گیا ہو حالانکہ وہ ایک چٹیل میدان میں گم گیا تھا۔ یہ صحیح بخاری شریف کی حدیث نمبر6309 ہے ایسے حالات جس میں انسان بے بس ہو میڈیکل سائنس فیل ہو چکی ہو ،مرشد ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ میں نے ایک اور سوال کیا۔ اپنے نیک اعمال یاد کرکے اللہ سے دعا مانگنی چاہیے۔ تجھے ایک قصہ سناتا ہوں ۔مرشد کہنے لگے:
تین شخص کہیں باہر جا رہے تھے کہ اچانک بارش ہونے لگی انہوں نے ایک پہاڑ کی غار میں جاکر پناہ لی تاکہ وہ بارش سے محفوظ رہ سکیں اتفاق سے پہاڑ کی ایک چٹان نیچے لڑھکی اور غار کے منہ کو بند کر دیا ۔ پتھر بہت بھاری تھا اور تینوں کے لیے ممکن نہ تھا کہ زور لگا کر اس کو ہٹا سکےں۔ وہ بہت پریشان ہوئے اور کہنے لگے اب اس غار سے ہمیں نکالنے والی کوئی چیز نہیں سوائے اس کے کہ ہم اپنے نیک اعمال یاد کریں اوراللہ سے دعا کریں۔ اس پر ایک شخص نے دعا کی اے اللہ میرے ماں باپ بہت بوڑھے تھے میں اپنے گھر میں ان سے پہلے کسی کو بھی دودھ نہیں پلا تا تھا ا اپنے بال بچوں اپنے غلام وغیرہ کو بھی نہیں ایک دن مجھے ایک چیز کی تلاش میں دیر ہوگئی اور میں جب رات گئے گھر واپس آیا اور دودھ لیکر اپنے ماں باپ کے پاس گیا تو وہ سو چکے تھے مجھے یہ بات اچھی نہ لگی کہ میں ان سے پہلے دودھ اپنی بیوی بچوں اور غلام کو پلاﺅں میں ساری رات ان کے سرہانے کھڑا رہا اور ان کے جاگنے کا انتظار کرتا رہا یہاں تک کہ صبح ہوگئی ۔ میرے میرے ماں باپ جاگے تو انہوں نے اپنا شام کا دودھ اس وقت پیا۔ اے اللہ!اگر میں نے یہ کام تیری رضا کےلئے کیا ہے تو اس چٹان کی آفت کو ہم سے ہٹا دے۔ اس دعا کے نتیجے میں وہ غار تھوڑی سی کھل گئی مگر باہر نکلنا ممکن نہ تھا۔ پھر دوسرے نے دعا کی اے اللہ! میرے چچا کی ایک لڑکی تھی جو مجھے سب سے زیادہ محبوب تھی، میں نے اس کے ساتھ برا کام کرنا چاہا لیکن وہ نہ مانی کچھ عرصہ بعد قحط پڑا تو اس نے مجھ سے سودینار مانگے میں نے اس شرط پر دے دیے کہ وہ میرے ساتھ برا کام کرے۔ جب وہ خلوت میں میرے پاس آئی اور میری دسترس میں تھی تو میں نے تیری رضا کےلئے اسے چھوڑ دیا اور برائی سے باز آگیا حالانکہ وہ مجھے بہت محبوب تھی ۔اے اللہ اگر میرا یہ عمل تجھے پسند آیا ہے تو پتھر ہٹا دے۔ چٹان تھوڑا سا اور کھسک گئی پر اب بھی اتنا راستہ نہیں بنا تھا کہ باہر نکلا جا سکے۔ پھر تیسرے شخص نے دعا کی کہ اے ا!للہ میرے پاس مزدور کام کرتے تھے میں نے سب کو پوری مزدوری دی مگر ایک مزدور ایسا تھا جو اجرت چھوڑ کر چلا گیا میں نے اس کی اجرت کے پیسوں کو کاروبار میں لگا دیا اور بہت کچھ نفع ہو گیا۔ پھر کچھ دنوں بعد وہی مزدور میرے پاس آیا اور کہنے لگا اللہ کے بندے مجھے میری مزدوری دے دے۔ میں نے کہا یہ جو کچھ تو دیکھ رہا ہے اونٹ، گائے ،بکری اور غلام یہ سب تمہاری مزدوری ہیں ۔وہ کہنے لگا مجھ سے مذاق نہ کر۔ میں نے کہا میں مذاق نہیں کر رہا۔ چنانچہ اس شخص کو سب کچھ دیا اور وہ چلا گیا ایک بھی چیز میں نے اپنے پاس نہ رکھی۔ اے اللہ !اگر میں نے یہ سب کچھ تیری رضا کےلئے کیا ہے تو ہماری اس مصیبت کو دور کردے۔ چٹان ہٹ گئی اور سب باہر نکل گئے اور یہ قصہ ہمارے نبی کریم نے سنایا ہے جس کا ذکر صحیح بخاری حدیث نمبر 2272 میں ہے۔ اور اگر کوئی گناہ گار ہو پوری زندگی کوئی اچھا کام نہ کیا تو وہ ان حالات میں کیا کرے ۔میں نے پوچھا ۔لالہ یار!تو بہت بھولا ہے ،مرشد نے ہمیشہ کی طرح پیار سے کہا ۔جھلیا!جب وارننگ مل جائے اور بندے کو سمجھ آجائے وہ توبہ کی طرف چل پڑے تو اللہ خود بخود ہی راستے بناکر منازل آسان کر دیتا ہے۔ چل تجھے ایک اور واقعہ سناتاہوں مرشد بولنے لگے ۔
نبی کریم نے فرمایا بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جس نے99 خون ناحق کیے تھے پھر وہ نادم ہو کر مسئلہ پوچھنے نکلا وہ ایک درویش کے پاس آیا اور اس سے پوچھا کہ کیا اس گناہ سے توبہ قبول ہونے کی کیا صورت ہے درویش نے جواب دیاکوئی صورت نہیں۔ یہ سن کر اس نے اس درویش کو بھی قتل کر دیا اور سو خون پورے کر دیے۔ پھر وہ دوسروں سے پوچھنے لگا آخر اس کو ایک درویش نے بتایا کہ فلاں بستی میں چلا جا، وہ آدھے راستے میں بھی نہ پہنچا تھا کہ اس کی موت واقع ہوگئی۔ مرتے مرتے اس نے اپنا سینہ اس بستی کی طرف جھکا دیا۔ آخر رحمت کے فرشتوں اور عذاب کے فرشتوں میں باہم جھگڑا ہوا کہ اسے کون لیکر جائے ۔فیصلہ ہوا کہ جس بستی کی جانب اس کا فاصلہ کم ہوگا وہ فرشتے اس کو لے کر جائیں گے۔ اللہ تعالی نے نصرہ نامی بستی جہاں وہ توبہ کےلئے جا رہا تھا کو حکم دیا کہ اس کی نعش سے قریب ہو جائے اور دوسری بستی جہاں سے وہ نکلا تھا اس کو حکم دیا کہ اس کی نعش سے دور ہو جا۔ پھر اللہ تعالی نے فرشتوں سے فرمایا کہ دونوں کا فاصلہ دیکھو اور جب ناپا تو اس بستی جہاں وہ توبہ کےلئے جا رہا تھا ایک بالشت نعش سے نزدیک پایا اس لیے وہ بخش دیا گیا۔صیح بخاری بس جگر !کرونا یا کوئی بھی مصیبت دراصل اللہ کی طرف سے وارننگ اور شوکاز ہی ہوتا ہے۔ نیک اعمال یاد کرکے اللہ سے دعاکرو ، گناہوں کی معافی مانگو اور کارکردگی بہتر بناﺅ۔اللہ وارننگ کو شاباش اور شوکاز کو انعام میں بدل دے گا ۔
(کالم نگارقومی وسیاسی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved