تازہ تر ین

بیسویں صدی کا بغداداور کرونا کا ہلاکو

مسز جمشید خاکوانی
ہسٹری ہمیشہ سے میرا پسندیدہ مضمون رہا ہے۔ فطرت میں تجسس ہوتو جاننے کا عمل ہمیشہ جاری رہتا ہے ۔تقریباً ہر دور کی ہسٹری پڑھی یہ اور بات اتنا یاد نہیں رکھ سکی۔ قران مجید پڑھنے بیٹھتی تو اس سے زیادہ ترجمہ پڑھتی۔ یہ بات میں نے بارہا پڑھی کہ بھلا ایک عالم اور جاہل برابر کیسے ہو سکتے ہیں۔ جہالت کی اصطلاح عربوں کی تاریخ میں اسلام کی آمد سے قبل کے زمانے کےلئے استعمال کی جاتی ہے۔ یہاں جہالت سے مراد لاعلمی کا زمانہ نہیں ہے نہ ہی علم کی کمی یا تمدن اور ثقافت سے محرومی ہے بلکہ بنیادی طور پر یہ ایک طرز عمل ہے جو نخوت ، انانیت ،تند خوئی اور نامناسب رویوں سے عبارت ہے۔ یہ تند خوئی اور انانیت اس دور کی قبائلی زندگی میں رچی بسی ہوئی تھی جسے مٹا کر اسلام نے ایک نئے انداز فکر کی بنیاد رکھی ۔اگر کسی معمولی بات پر دو آدمیوں میں تکرار ہو جاتی تو یہ قبیلوں کی جنگ بن جاتی اور پورے ملک میں یہ آگ پھیل جاتی کسی بات پر اڑ جاتے تو ٹلتے نہ تھے اور جھگڑا بڑھتا ہی جاتا۔ جنگ بسوس جو بکر اور تغلب نامی دو قبیلوں کے درمیان ہوئی چالیس سال تک جاری رہی چار عشروں پر محیط اس جنگ میں لاکھوں افراد مارے گئے حالانکہ اس جنگ کا آغاز نہایت ہی معمولی بات پر ہوا تھا ۔ بسوس ایک عورت کا نام تھا جس سے یہ جنگ منسوب ہے اور ایک اونٹنی جس کا نام سراب تھا اس لڑائی کی وجہ ٹہری۔ یہی وجہ ہے کہ یہ دونوں عربوں میں ضرب المثل بن گئیں۔ کسی کی نحوست بتانے کےلئے کہا جاتا ہے یہ بسوس سے بھی زیادہ منحوس ہے یا سراب سے بھی بڑھ کر منحوس ۔
بعض اوقات انانیت جنون میں بدل جاتی ہے اور قوموں کےلئے نقصان کا باعث بنتی ہے۔ اسی جہالت کو ختم کرنے کےلئے اسلام میں رواداری، تحمل اور بھائی چارے کا درس دیا گیا۔ لیکن مسلمان یہ کب یاد رکھتے ہیں اس فلسفے کو بھول کر عیش و عشرت کی زندگی کو ہی ترقی سمجھتے ہیں۔ جب سقوط بغداد ہوا ۔اس سے زیادہ ترقی یافتہ خطہ روئے زمین پر نہ تھا۔ دور دور سے لوگ کھینچے چلے آتے تھے۔ حرفت و صنعت کے دریا بہتے تھے لوگوں کے پاس وقت ہی وقت تھا ۔لوگ مجسمے بناتے، شاعری کرتے ،شطرنج کھیلتے، سر شام روشنیاں جل جاتیں ،جھیلوں میں سجی ہوئی کشتیاں چلتیں، جن میں امرا بیٹھ کر اپنی خوبصورت محبوباﺅں اور لونڈیوں کے ساتھ داد عیش دیتے، سونے چاندی کے برتنوں میں کھانے کھائے جاتے ،علم اور علما کی بھی کمی نہ تھی، کتابیں اتنی تھیں کہ جب ہلاکو نے دریا میں پھینکوائیں دجلہ کا پانی سیاہ پڑ گیا اور جب اس نے مسلمانوں کا قتل عام شروع کیا دجلہ کا پانی سرخ ہو گیا۔ کہتے ہیں ہلاکو لشکر لے کرآ رہا تھا تب بھی علما یہ بحث کر رہے تھے کوا حلال ہے یا حرام ؟ یہ ضرب المثل بن چکی ہے۔ خلیفہ کے آگے کھانے کےلئے ہیرے جواہرات رکھے گئے۔ اس نے کہا یہ میں کیسے کھا سکتا ہوں ؟تو ہلاکو نے کہا تب یہ جمع کیوں کیے تھے ؟اپنے سپاہیوں کو کیوں نہ دیے جو آج تمھارے لیے لڑتے ۔گویا اس نے ان کو اپنے دفاع سے غافل قوم قرار دیا۔ جو لوگ آج سوال اٹھاتے ہیں کہ ایف سکسٹین کی قیمت میں کتنے وینٹی لیٹر آسکتے تھے حالانکہ ملکی دفاع سب سے مقدم ہوتا ہے۔ وہ لوگ یہ سوال کیوں نہیں کرتے کہ میٹرو اور اورنج لائن ٹرین کی قیمت میں کتنے ہسپتال جدید مشینری سے لیس ہو سکتے تھے، کتنے وینٹی لیٹر آسکتے تھے۔ بھارت کے بزنس ٹائیکون مکیش امبانی نے ایک پورا ہسپتال وقف کیا ہے ایک لاکھ ماسک ڈیلی مہیا کر رہا ہے کروڑوں اربوں کی امداد دے رہا ہے جبکہ ہمارے بزنس ٹائیکون دور دور تک نظر نہیں آرہے یا خود کو بچا رہے ہیں یا میڈیا کو یا پھر کرونا کےلئے وقف فنڈپر رال ٹپکا رہے ہیں۔ پاکستان بھی بغداد کی طرح بہت ترقی کر چکا تھا نا ؟گو یہ ترقی صرف لاہور تک محدود تھی لیکن آج یہ محلات ،یہ زیورات، یہ پلاٹ ،زمینیں، جائیدادیں، برانڈڈ لباس سب ہمارے لیے بیکار ہیں۔ ہمیں تو یہ بھی نہیں پتہ دفن کے لیے دو گز زمین بھی میسر ہوگی یا نہیں ۔کرونا ایک ہلاکو کی طرح ہمارے عیش و عشرت اور ترقی پر ٹوٹ پڑا ہے اور ہمیں کہیں جائے امان نہیں مل رہی۔ نہ امیر کو دیکھتا ہے نہ غریب کو ،نہ گورے کو نہ کالے کو ،نہ پڑھے لکھے کو نہ جاہل کو۔ یہ عجب تماشہ ہے کہ ہم اپنے گھروں میں قید ہیں۔ لاکھوں روپے فیس لینے والے پرائیویٹ سکول جو اپنی فیس گھٹانے پر تیار نہیں تھے اب بند پڑے ہیں ،ملیں فیکٹریاںجن میں فرعون بیٹھا کرتے تھے اب اپنے ہاتھوں بند کر کے نقصان اٹھا رہے ہیں مگر بے بس ہیں۔
نون لیگ اور پیپلز پارٹی لاکھ ڈرامے کر لےں حقیقت یہ ہے کہ سندھ حکومت اپنے غریب شہریوں کو ابھی تک راشن تک نہیں پہنچا سکی نہ کوئی طبی سامان مہیا کیا گیا۔ ٹیسٹنگ کٹس کے نام پر جو ڈرامہ میڈیا کی مدد سے رچایا گیا وہ خود ان کے گلے میں فٹ ہونے والا ہے۔ سندھ نے لاک ڈاﺅن کیوں کیا، صرف مرکزی حکومت کو دباﺅ میں لانے کے لیے۔ یہ لاک ڈاﺅن سندھ کے دیہی علاقوں میں تو ہو ہی نہیں سکتا عمران خان نے اس لیے مکمل لاک ڈاﺅن کی مخالفت کی ہے یہ جزوی لاک ڈاﺅن بہتر ہے چلو لاک ڈاﺅن ہو جاتا ہے تو ہو گا کیا ۔ساری فیکٹریاں بند جو مال فیکٹریوں میں تیار ہوتا ہے پورے ملک کو جاتا ہے ریفائینز بند تو پورے ملک کو تیل کی سپلائی معطل ہو جائے گی خوراک کی قلت ہو جائے گی ڈبوں کا دودھ، اجناس، دالیں، چاول، آٹا اور دوسری ضروری چیزیں سب کی قلت ہو جائے گی۔ جب سامان خورونوش کی قلت ہو گی تو لوگ کرفیو توڑ کر حکومت کے خلاف باہر آ جائیں گے معیشت بیٹھ جائے گی درآمدات اور برآمدات ختم ہو جائیں گی اور یوں حکومت خود مجبور ہو جائے گی گھر چلی جائے ۔اور پھر سیاست شروع ہو گی جو ہو رہی ہے۔ خدا کےلئے عمران خان کرفیو مت لگانا ،جو سیاستدان اور میڈیا پرسن کرفیو کرفیو کر رہے ہیں یہ کرفیو یہ خود پر کیوں نہیں لگاتے نہ نکلیں باہر ۔یہ قوم کی بھلا کیا مدد کر رہے ہیں ۔وہ بڑے بڑے لوگ جو ہر پرابلم میں آگے ہوتے تھے اب کہاں ہےں، اس لیے کہ اب بدلے میں دس گنا زیادہ ملنے کی امید نہیں ۔الیکشن کے دنوں میں کروڑوں صرف اپنے بوتھوں اور جھنڈیوں پر لگانے والے آج ایک پیسہ قوم پر لگانے کو تیار نہیں۔ اپنے کسی حلقے میں لوگوں کو خالی دلاسہ تک دینے نہیں گئے ۔کم از کم راشن تو عام سفید پوش آدمی بھی بانٹ دیتا ہے۔ ایک سندھی وڈیرہ اپنے ملازم کو لائف بوائے کی ایک ٹکیہ دے کر بھی تصویر بنوا رہا تھا ۔یہ تو حال ہیں ان کے اور مطالبہ ہے بس کرفیو لگا دو تاکہ ساٹھ فیصد دیہاڑی دار طبقہ بھوکوں مر جائے انڈسٹری جس کو حکومت نے بڑی مشکل سے کھڑا کیا ہے دوبارہ بیٹھ جائے۔ یہ ملک کے مفاد کا نہیں سوچ رہے ان کے پیٹ میں مروڑصرف کرفیو کا ہے ۔ابھی کرونا سے صرف چند لوگ مرے ہیں اگر سعید غنی ٹھیک ہو سکتے ہےں تو اسی دوا سی دوا سے عوام کیوں نہیں ٹھیک ہو سکتی؟تھر میں سینکڑوں بچے بھوک سے مر گئے سندھ حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ ایسے لگتا ہے کہ اب بیرونی امداد بٹورنے کےلئے بڑا عوام کا درد اٹھ رہا ہے۔ کچھ خدا کا خوف کرو ،اب ٹائیگر فورس پر بھی اعتراض ہے۔ ادارے بھی الگ رہےں بس سارے فنڈ ان کے ہاتھ پر رکھ دو یہ کھائیں، ریکارڈ کو آگ لگائیں اور باہر جا بیٹھیں ،بخشو بی بلی چوہا لنڈورا ہی بھلا !
(کالم نگارسماجی اورسیاسی ایشوز پرلکھتی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved