تازہ تر ین

تحریک پاکستان اور میرا بچپن….(1)

آغا امیر حسین
23 مارچ 1940ءکو جب قرارداد لاہور منظور ہوئی میری عمر پانچ چھ سال تھی۔ میں نے ابھی سکول جانا شروع کیا تھا۔ ہم لوگ دہلی کے علاقہ باڑہ ہندو راﺅ کے محلہ عزیز گنج میں رہتے تھے ظاہر ہے میری عمر ابھی ایسی نہیں تھی کہ ماحول میں پائی جانے والی سیاسی ہل چل کو شعوری سطح پر سمجھ پاتا۔ لیکن اگلے سات برس میں جیسے جیسے تحریک پاکستان آگے بڑھی میں بھی شعور کے زینے طے کر رہا تھا۔ سڑکوں پہ ہونے والے جلسے جلوسوںکی جھلکیاں میرے ذہن پر نقش ہو رہی تھیں۔ گھر میں بڑی عمر کے مرد مثلاً دادا، پھوپھا اور والد آپس میں یا دیگر بزرگوں سے جو باتیں کرتے تھے وہ اگرچہ ہم بچوں کے فہم سے بالاتر تھیں لیکن بہرطور ان کا بار بار تذکرہ ہمیں کچھ ناموں اور واقعات سے مانوس کر رہا تھا مثلاً قائداعظم، گاندھی جی، پنڈت نہرو، لیاقت علی خان، ہٹلر، چرچل، جاپان، جرمنی وغیرہ۔ ان دنوں جنگ عظیم بھی جاری تھی۔ چنانچہ ہمارے بزرگ دونوں موضوعات پر گفتگو کیا کرتے تھے۔ لیکن ہم بچوں کےلئے ابھی ان کی گفتگو میں ابہام تھا جو وقت کے ساتھ ساتھ دور ہوگیا۔ میں نے اپنے بچپن کی باتیں اپنی خود نوشت سوانح ”زندگی کا سفر“ میں درج کر رکھی ہیں اور وہ تمام واقعات تحریر کئے ہیں جو تحریک پاکستان کے زیر اثر گلی محلے کے لڑکوں کی سطح پر رونما ہوئے مثلاً جلوسوں میں شامل ہونا، خود محلے میں ہم عمر لڑکوںکی ٹولیوں کا پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے گھومنا، سبز ہلالی پرچم آویزاں کرنا اور یہ سب کچھ ہندوستان میں رہنے والے مسلمان گھرانوں کے افراد ہونے کی بدولت اس تحریک سے وابستگی کا اظہار کرتے ہیں۔میں ان واقعات اور یادوں کو آپ سے الگ طور پر شیئر کرتا ہوں۔
دھلی میں، میں گورنمنٹ ہائی سکول میں پڑھتا تھا۔ جو ہمارے محلے سے زیادہ فاصلہ پر نہیں تھا۔ محلہ عزیز گنج کے بالمقابل ہندوﺅں کے محلے تھے۔ البتہ ہندوﺅں کے محلہ میں کسی مسلمان کی رہائش یا دُکان وغیرہ نہیں تھی اور اسی طرح مسلمانوں کے محلہ میں ہندوﺅں کا کوئی گھر یا دُکان نہیں ہوتی تھی لیکن مجھے یاد پڑتا ہے کہ ایک دوسرے کے محلوں میں آنا جانا تھا۔ ابھی کشیدگی غالب نہیں آئی تھی لیکن اب سمجھ آتی ہے کہ نفرت کے بیج پھوٹ رہے تھے اور یہ کونپلیں تیزی سے خاردار جھاڑیوں میں تبدیل ہو رہی تھیں ۔ میرے والد نارتھ ویسٹرن ریلوے میں انڈین پوسٹل سروس کے ملازم تھے، چنانچہ ان کا انٹرایکشن دوسرے شہروں کو آنے جانے والے لوگوں سے بھی تھا اور دوسرے شہروں کے سیاسی درجہ حرارت سے وہ آگاہ رہتے تھے۔ میرے والد مرحوم کو مطالعے کا شوق تھا۔ ان کے کمرے میں بہت سی کتابیں ہوتی تھیں جن سے میں کھیلتا رہتا تھا۔میری خودنوشت میں یہ سب واقعات تحریر ہیں۔ یہاں ان کا تذکرہ غیر متعلقہ ہے۔ بہرحال اب میں عمر کے اس حصہ میں تھا جہاں حالات و واقعات کو ان کے پس منظر میں سمجھنے لگا تھا۔
میرے بچپن اور لڑکپن کا دور ٹھیک وہی تھا جب تحریک پاکستان روز بروز توانا ہو رہی تھی اور برصغیر کے مسلمانوں کی اکثریت کانگریس کو چھوڑ کر مسلم لیگ کی ہم نوا ہوتی جا رہی تھی۔ ہم عمر مسلمان لڑکوں میں کانگریس کے ترنگے (سہ رنگے جھنڈے) کے مقابلہ میں مسلم لیگ کا سبز ہلالی پرچم لہرانے کی تحریک چل پڑی۔ گھروں میں، گلی محلے میں پہلے تو جنگ کی باتیں ہوتی تھیں مگر اب ہندوستان کی آزادی کی باتیں سب کا موضوع تھیں۔ دھلی کی گلیوں اور سڑکوں پر ہر روز جلوس نکلتے تھے۔ میں بھی محلے کے بچوں کے ساتھ مسلم لیگ کے جلوسوں میں شامل ہو جاتا تھا۔ ابھی چھٹی جماعت کا طالب علم تھا۔ ایک روز گلی میں کسی نے مجھے سبز رنگ کا ہلالی پرچم دیا اور کہا کہ اسے بجلی کے اس کھمبے پر باندھ آﺅ۔ میں بے دھڑک بندر کی طرح کھمبے پر چڑھ گیا اور تاروں کے بیچ میں سے ہوتا ہوا کھمبے کے اوپر جا پہنچا اور پرچم کے بانس کو تاروں کے بریکٹ میں پھنسا دیا۔ نیچے کھڑے ہم عمر لڑکوں نے خوب تالیاں بجائیں۔ میں نے نیچے جھک کر دیکھا تو ایک ہجوم موجود تھا۔ بڑوں نے سرزنش کی اور مجھے نیچے اترنے کو کہا۔ میرے نیچے اترنے تک یہ بات ہمارے گھر تک پہنچ چکی تھی۔ میری پھوپھی اور ماں بھاگم بھاگ آئیں اور مجھے جھپٹ کر گھر لے گئیں۔ اب عجیب منظر تھا۔ ماں مجھے بے تحاشا پیار بھی کر رہی تھی اور ساتھ ساتھ ڈانٹ بھی رہی تھی کہ اگر تمہیں کچھ ہو جاتا تو میرا کیا بنتا۔ تب مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ ماں رو رو کر اپنا بُرا حال کیوں کر رہی ہے۔ اب مجھے ماں کی وارفتگی یاد آتی ہے تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔
کانگریس اور مسلم لیگ کے علاوہ خاکسار تحریک کے جلوس بھی زبردست دلچسپی کا سامان ہوتے تھے۔ ہم انہیں بیلچہ برداروں کا جلوس کہتے تھے کیونکہ اس جلوس کے شرکا خاکی یونیفارم میںکندھوں پہ بندوقوں کی طرح بیلچے رکھے۔ چپ راست چپ راست کیا کرتے تھے۔ پھر انتخابات کا شور مچا۔ نتیجہ نکلا تو گھر کے لوگ خصوصاً پھوپھا، دادا اور والد بہت خوش تھے کہ مسلم لیگ نے تمام نشستیں جیت لی ہیں۔اب صرف قائداعظم کی بات مانی جائے گی۔ بعد میں سمجھ آئی اس کا مطلب تھا کہ ہندوستان کے مسلمانوں نے صرف مسلم لیگ کو اپنا نمائندہ منتخب کیا ہے اور مسلم لیگ کے سربراہ قائداعظم ہیں۔ ہندو کہتے تھے کہ جناح (قائداعظم) ہندوستان کو توڑنا چاہتا ہے۔ لیکن ہم بھارت ماتا (ہندوستان) کو توڑنے کی اجازت نہیں دیں گے۔مسلمانوں میں قائداعظم کی مقبولیت اور احترام کا مظاہرہ میں نے متعدد مرتبہ دیکھا۔ مسلمان ان کے خلاف کوئی بات سننے کی بجائے مرنے مارنے پر اتر آتے تھے۔
میرے مڈل سکول کے دن تھے جب سڑکوں پر جلوس گزرنا ایک معمول بن گیا تھا۔ پہلے تو جلوسوں میں صرف آزادی اور سوتنترا کے نعرے لگتے تھے پھر بٹ کے رہے گا ہندوستان، بن کے رہے گا پاکستان اور اس کے ساتھ اللہ اکبر کے نعرے سننے میں آنے لگے یعنی یہ مسلمانوں کے جلوس کے نعرے تھے۔ کانگریس کے جلوس میں ہندو مسلمان سبھی ہوتے تھے لیکن پھر جب پاکستان کے نعروں والے جلوس نکلنے لگے تو پتہ چلا کہ یہ مسلم لیگ کے جلوس ہیں۔ ان میں صرف مسلمان ہوتے تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ شعور بڑھتا گیا۔ چنانچہ گلی محلہ میں ہم لڑکوں کی ٹولیاں قائداعظم زندہ باد، مسلم لیگ زندہ باد اور بن کے رہے گا پاکستان کے نعرے لگاتے ہوئے ایک گلی میں سے دوسری گلی میں جاتے، ہمارے دلوں میں یہ بات بیٹھ چکی تھی کہ ہم مسلمان ہیں اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگانے ہیں۔ دھلی میں تحریک پاکستان کا عروج جنگ عظیم کے خاتمہ کے بعد دیکھنے میں آیا۔ گھر میں بڑے لوگ انگریز اور جرمن کی لڑائی اور پھر جاپانیوں کے حملوں کا ذکر کیاکرتے تھے۔ پھر پتہ چلا کہ جاپان میں بم گرائے گئے ہیں اور جنگ ختم ہوگئی ہے۔ اب جنگ، جرمنوں اور جاپانیوں کی بجائے ہندوستان کی آزادی ور پاکستان کے قیام کی باتیںہوتی تھیں۔
ہمارے رہائشی محلے عزیز گنج اور سکول، گورنمنٹ ہائی سکول کے درمیان ایک میدان تھا۔ میرے ذہن میں خیال آیا کہ عام پتنگ تو سبھی اڑاتے ہیں۔ کیوں نہ انوکھی قسم کی پتنگ اڑائی جائے۔ میں نے موٹے کاغذ سے پتنگ بنائی۔ ڈور کے بجائے اسے سوتلی سے اڑایا لیکن یہ پتنگ میدان میں اسی روز اڑائی جب آندھی چلی۔ آندھی میں جب پتنگ اڑائی تو اس کا اتنا زور تھا کہ میں نے بجلی کے کھمبے کو پکڑ کر اپنے آپ کو اڑنے سے بچایا۔ لیکن سوتلی کو مضبوطی سے پکڑنے کی وجہ سے دونوں ہاتھ زخمی ہوگئے۔ (جاری ہے)
(کالم نگارمعروف دانشور اورصحافی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved