تازہ تر ین

مرگ پاش تا ریکی اور آفتاب بدست مسیحا

حافظ شفیق الرحمن
کرونا وائرس کی ہلاکت آفرینیوں کے بعد دنیا بھر میں ناقابلِ شناحت اداسی اور گھمبیر مایوسی کی ایک توانا لہر ہر انساں کو اپنی گرفت میں لے چکی ہے۔ اس تاریک فضا اور ما حول میں ضرورت ہے امید اور رجائیت کے دیپ روشن کرنے کی۔ دنیا کا ہر باشعور شہری جانتا ہے کہ زمیں نامی اس سیارے میں آکسیجن کے بعد انسانی زندگی کی بقاءکےلئے سب سے زیادہ ضروری چیز امید اور رجائیت ہے۔حکم ربی بھی یہی ہے لاتقنطو من الرحمة اللہ….جب تک سانس کی ڈوری بندھی رہے ایک باہمت انسان اپنے ہاتھ سے امید اور رجائیت کا دامن نہیں چھوڑتا۔زندگی ایک شمع ہے تو امید اور رجائیت اس کا فانوس ہے، جو اسے تند و تیز ہواﺅں کے ”سحرخور“ تھپیڑوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ اگر زندگی محض مٹی ہے تو اس کی تمام تر ثمر ریزی اور زرخیزی کا دار و مدار اسی نم پر ہے۔ امید اور رجائیت کے بادل اڑنچھو ہو جائیں تو زندگی کی لہلہاتی کھیتی مرجھا کر رہ جاتی ہے ۔ یہ تو ہر کوئی جانتا ہے کہ جب تک امید اور رجائیت کی جوت شریانوں میں لہو بن کر گردش کرتی رہے، زندگی سے محبت کا دیا روشن رہتا ہے۔یہ شاخِ امید اور رجائیت ہی ہے جس پر زندگی سے محبت کے گلاب کھلتے ہیں۔ جب ان گلابوں کی کومل پنکھڑیاں کھلکھلا اٹھتی ہیں تو چمن زارِ ہستی کی روش روش پر خوشبو کی نازک پریوں کے قافلے خیمہ زن ہو جاتے ہیں۔ یہ ایک عام انسان کا خاصہ ہے کہ زندگی میں وہ بے شمار ”اشیاءو اشخاص“ سے محبت کرتا ہے۔ اشیاءو اشخاص سے محبت کے اس جذبہ کا تجزیہ کیا جائے توبآسانی یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اس جذبہ کے پیچھے بھی امید، قوتِ محرکہ کے طور پر سرگرم عمل ہوتی ہے۔ اشیاءو اشخاص کی محبت میں جدوجہد کے مختلف صحراﺅں میں مارے مارے پھرنے والے تو اربوں کھربوں کی تعداد میں ملتے ہیں، لیکن کتنے ہیں کہ جو بذات خود زندگی سے محبت کرتے ہیں۔ زندگی سے محبت اپنے آپ سے محبت ہے۔ اپنے آپ سے محبت ہر کسی کے بس کا روگ نہیں۔
انسان کا المیہ یہ ہے کہ یوں تو وہ سارے جہاں کی خبر رکھتا ہے، لیکن اپنے جہاں سے بے خبر رہتا ہے۔ وہ جو اپنے جہاں کی خبر رکھنے اور خبر لینے کے فن پر قدرت اور مہارت حاصل کرلیتے ہیں، وقت آتا ہے کہ زمین و آسمان کے حقائق ان کی نگاہوں کے سامنے بے پردہ ہو جاتے ہیں۔ ہر حقیقت بجائے خود ایک حسن ہے۔ حسن سے حظ وہی اٹھا سکتا ہے، جس کے سینے کے آتشدان میں زندگی سے محبت کی دودھیا اور لطیف آگ فروزاں رہتی ہے۔ یہ آگ ایک طائرِ بلند بام ہے،یہ طائر ِبلند بام اپنا نشیمن ہمیشہ بہادر لوگوں کے سینوں میں بناتا ہے۔ جرا¿ت کی معراج اور بہادری کی انتہا زندگی سے ٹوٹ کر پیار کرنا ہے۔ زندگی سے پیار درحقیقت بہادر لوگوں کا شیوہ و شعار ہوتا ہے۔ بہادر لوگوں کے نزدیک زندگی محض ”دفتر شکایات“ نہیں۔ وہ اِسے رب کائنات کا عطا کردہ عظیم ترین تحفہ تصور کرتے ہیں۔ وہ اس تحفے کو سینت سنبھال کر رکھتے ہیں۔ پریشانیوں کے طوفانوں اور الجھنوں کی آندھیوں کی یورش اور ہجوم میں بھی وہ اس انمول تحفے کو گرد اور زنگ سے محفوظ رکھنے کا اہتمام کرتے ہیں۔ زندگی کی شاہراہ سدا پھولوں سے اٹی نہیں ہوتی ، اکثر و بیشتر مسافر کو کانٹوں سے پر تنگ و تاریک پگڈنڈیوں پر آبلہ پائی کرنا پڑتی ہے۔ بزدل ہوتے ہیں وہ لوگ جو زندگی کی کٹھنائیوں، تلخیوں اور مصائب سے گھبرا کر ”خودکشی آسان ترین شاہراہ“ کا انتخاب کرتے ہیں۔ ویسے مصائب، آلام اورمشکلات نہ تو آسمان سے بارش کی طرح برستے ہیں اور نہ ہی زمین سے خود رو پودوں کی طرح ان کا اکھوا پھوٹتا ہے۔قرآن کے الفاظ میں یہ فصل انسان خود اپنے ہاتھوں سے کاشت کرتا ہے۔۔۔”ما اصابکم من مصیبة فبما کسبت ایدیکم“۔
ایک سچا مومن تو موت کو بھی محض اس لئے مسکرا کر گلے سے لگاتا ہے کہ یہ اسے ”وصل حبیب“ کی آس دلاتی ہے….الموت جسر یوصل الحبیب الی الحبیب…. انسانوں کے اجتماعی اور تاریخی شعور میں حیات بعدالموت اور آخرت کے تصور کو راسخ کرنے کا بنیادی مقصد بھی اسے مایوسی اور قنوطیت سے نجات دلاناہے۔ ایک انسان جو اس دنیا میں ساٹھ ستر سال یا سو سوا سو برس زندہ رہتا ہے، اس کی یہ زندگی اس کائنات کی کھربوں سالہ زندگی کے مقابلہ کیا حیثیت رکھتی ہے؟ وہ آنکھ اٹھا کر اپنے سامنے کھڑے پہاڑ کو دیکھتا ہے تو ماہرین اسے بتاتے ہیں کہ اس پہاڑ کی عمر پانچ ارب سال ہے تو وہ مایوس ہوتا ہے، وہ سوچتا ہے کہ کیا وہ اس پہاڑ سے کم تر اور فرومایہ ہے کہ اسے اتنی مختصر زندگی عطا کی گئی۔ یہ سوچ اس کے رگ و پے میں دوڑنے والے سرخ خون کو مایوسی کے کالے زہر میں بدل دیتی ہے۔ حیات بعدالموت اور آخرت کا تصور اسے یہ امید دلاتا ہے کہ ایک دن آئے جب یہ پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح دھنک کر رکھ دیئے جائیں گے اور اس دن اسے ایک ایسی زندگی عطا کی جائے گی جو اجل ناشناس اور فنانا آشنا ہے۔ رجائیت ، انقلاب اور امید کے عظیم شاعر احمد ندیم قاسمی نے کیا خوب کہا تھا:
کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاﺅں گا
میں تودریا ہوں سمندر میں اتر جاﺅں گا
امید اور رجائیت کادوسرا نام جنت ہے جبکہ ناامیدی انسان کو دوزخ کے اندھے غار میں دھکیل دیتی ہے۔ سیانوں نے یونہی تو نہیں کہاتھا کہ ”دنیا بہ امید قائم است“۔ پُرامید انسان کو رجائی بھی کہتے ہیں اوررجائیت وہ مثبت طرز فکر ہے جو سنگ زاروں میں بھی گلابوں کی فصل کاشت کرنے کیلئے انسان کی ہمت بندھاتا ہے….اور….یہ اشرف المخلوقات انسان چاہے تو کیا نہیں کر سکتا۔ لیکن کچھ کرنے کےلئے ضروری ہے کہ اس کے دل کی دھڑکنوں میں امید کے گیت جاگتے ہوں۔ زندگی کے ساز پر امید جب اپنا نغمہ چھیڑتی ہے توانسان کو قاتل کے خنجر سے مرہم ٹپکتا، ریگزاروں سے بوئے گل کی مہکار اٹھتی اور ظلمتوں کے گریبان سے آفتاب طلوع ہوتے محسوس ہوتے ہیں۔ زندگی کے اس طویل صحرائی سفر میں امید کے بادل جب مسافر کے سر سے اپنی رس بھری چادر کھینچ لیتے ہیں تو زندگی ویران ہو جاتی ہے ، یہ ویرانی زندگی کو ایک سنسان ویرانہ بنا دیتی ہے۔
وہ تمام لوگ جو زندگی کے نقیب ہوتے ہیں امید کے پرچم کو سرنگوں نہیں ہونے دیتے۔ شاعرہوں، صحافی ہوں ، ادیب ہوں، فلسفی ہوں، سیاس ہوں، استاد ہوں یا ولی۔۔ان کے دریائے فیض سے اٹھنے والی ہر موج امید اور رجائیت کا پیغام دیتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان کا شمار محسنین کے زمرے میں ہوتا ہے۔ احسان،رب العالمین کی شان ربوبیت کا ایک ناقابل تردید مظہر ہے۔رب العالمین احسان کرنے کی اہلیت، استعداد اور صلاحیت شاعروں ، صحافیوں، ادیبوں، فلسفیوں، استادوں اور ولیوں کو بتمام و کمال ارزاں کرتاہے۔ یہ تمام انسان کے محسن بھی ہیں اور مربی بھی۔ انسانیت کے ان محسنوں کا اولاد آدم پرسب سے بڑا احسان یہ ہے کہ یہ مصائب و آلام کے طوفانی ریلوں اورمسائل و تفکرات کے تند و تیز جھکڑوںمیںبھی اسے پہاڑوں کی طرح ڈٹے رہنے کا پیغام دیتے ہیں….اور….پھر ان سب سے لاکھوں فرسنگ اور کروڑوں کوس آگے کی منزل کے جادہ شناس رسولؑ اور نبیؑ ہوتے ہیں۔ انبیاءو رسلؑ کا سب سے بڑا اعجاز یہی ہے کہ وہ مایوسی کی سنگ بستہ ظلمتوں کو امیدکی کدال اور آس کے تیشے کی گرم ضربوں سے پگھلا کررکھ دیتے ہیں۔ امید کی کدال اور آس کے تیشے کی ہر ضرب جب دھرتی کے پتھریلے سینے پر پڑتی ہے تو چنگاریاں سی اڑتی ہیں۔ان میں سے ہر چنگاری بجائے خود آفتابِ کامل ہوتی ہے۔ اس آفتاب ِکامل کی ہر کرن ”شبِ جمود“ کے تابوت کےلئے میخ کا کام کرتی ہے۔ سنگلاخ دھرتی پر ضربوں کی پیہم بارش جاری رہتی ہے اور اس نورانی بارش کا ہر قطرہ اربوں صبحوں اور کھربوں فجروں کو اذنِ طلوع دیتا ہے۔ یوں انبیائؑ و رسلؑ روشنی کے نقیب بن کر کائنات میں ہر سو انقلاب اور تغیر کااجالا پھیلاتے ہیں۔ انبیائؑ و رسلؑ صرف خدا کے پیغمبر ہی نہیں بلکہ امید اور رجائیت کے پیامبر بھی ہیں۔ وہ زندگی ، روشنی اور امیدکے مسیحا ہوتے ہیں۔ امید اور رجائیت ہی تو زندگی اور روشنی ہے۔ یہ روشنی انسان کی جبلی پیاس ہے۔ روشنی! روشنی!! اے روشنی!!!
خوشبوں ہیں تو ہر دور کومہکائیں گے ہم لوگ
باہمت لوگ امید اور آس کے اس دیئے کی سنہری لوﺅں کو مشعل راہ بنا کر جب زندگی کے سفر پر روانہ ہوتے ہیں تو شاہراہ زیست کے ذرے ذرے کو اجال کر اسے قدم قدم یادگار بنادیتے ہیں۔ قبیلہ صحافت میں کئی ایسے باہمت ہیں، جنوںنے اپناجہاں آپ بنایا ہے۔ وہ مردانِ خودساختہ ہیں،جو اپنی کدال سے اپنا راستہ آپ بنا تے ہیں۔ ایسے ہی باہمت جواں مردوں کو تاریکی کا کوئی پرستار کبھی ہراساں اورخائف نہیں کر سکتاکہ روشنی اور درخشندگی ان کی جبلت میں ہوتی ہے۔جن کی شریانوں میں امید کا اجالا لہو بن کر گردش کرتا ہو، فضا کی تاریکی انہیں کیونکر خائف کر سکتی ہے۔جوں جوں مایوسیوں کے سیاہ بادل امڈ امڈ کر حالات کے افق پر تاریکیوں کے خیمے نصب کرتے ہیں، توں توں امیدکا الاﺅ ان کے جذبات اور محسوسات کی چوپال میں روشن تر ہوتاجاتا ہے….جی ہاں! ایسے ہی عالی ہمت اور جگر دار انسانوںکی وجہ سے زندگی کی نبضیں پھڑکتی اور کائنات کا دل دھڑکتا محسوس ہوتا ہے۔ کرونا…. کرونا کی اس مرگ پاش یلغار میں ڈاکٹرز، نرسیں اور دیگر پیرا میڈیکل سٹاف اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر مایو س ذہنوں کی دھرتی پر زندگی اور امید کے گلاب کاشت کر رہے ہیں۔ ان کا ایک ایک لحظہ تیرہ و تاریک فضا میں سورج تخلیق کر رہا ہے۔
(سینئرصحافی اورقومی وسیاسی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved