تازہ تر ین

لیڈر شپ کا فقدان

وزیر احمد جوگیزئی
قوم اس وقت مرض میں مبتلا ہے ،لیکن اس قوم کو جو عرصہ دراز سے مرض لاحق ہے وہ لیڈشپ کی کمی کا مرض ہے ۔کرونا وائرس کا مرض تو اللہ کی طرف سے آیا ہے اور جو مصیبت اللہ تعا لیٰ کی جانب سے نازل ہو تی ہے ،اللہ تعا لیٰ کی طرف سے واپس بھی چلی جا یا کرتی ہے ۔لیکن یہ اس ملک کی بد قسمتی ہے کہ عرصہ دراز سے لیڈرشپ کی کمی ہے ۔ایک طویل عرصے سے اس حوالے سے ملک میں ایک قحط کی صورتحال ہے ۔ایک لیڈرشپ ہمارے ملک میں آصف علی زرداری کی صورت میں موجود ہے ۔دوسری نواز شریف کی صورت میں اور تیسرے ہمارے وزیر اعظم عمران خان صاحب ہیں ۔ اگر ان تینوں لیڈان کرام کا تفصیلی موازنہ کیا جائے تو ہر ایک لیڈر میں ایک بنیادی خامی ہے اور وہ خامی تینوں میں مشترک ہے ۔یہ تینوں جمہوریت اور عوام کے حق حکمرانی پر تو یقین رکھتے ہیں لیکن حکومت میں آنے کے بعد عوام سے رابطہ توڑ دیتے ہیں ۔مثال کے طور پر ایک سیاسی جماعت ہوتی ہے اس کی لیڈرشپ ہوتی ہے ۔اس کے بنیادی ممبر ہوتے ہیں ان ممبران سے کونسل کی تشکیل ہو تی ہے ،کونسل سے ورکنگ کمیٹی بنتی ہیں اور پھر یہ ورکنگ کمیٹیز لیڈرشپ کی مدد کیا کرتی ہیں ۔لیڈرشپ کے سامنے عوام کو درپیش مشکلات اور پھر ان کا حل بھی تجویز کرتے ہیں ۔جب سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے کو چیئرمین آصف علی زرداری صدرتھے تو صدر کی حیثیت سے کو ئٹہ تشریف لائے ،ان کا کوئٹہ آنے کا مقصد پارٹی کنونشن میں شرکت کرنا تھا ۔وہ کنونشن میں آئے خطاب کیا اور گورنر ہاﺅس میں کھانا کھانے چلے گئے ۔حالانکہ پا رٹی کنونشنز میں صرف خطاب نہیں کیا جاتا لوگوں سے ملا جاتا ہے ،وقت گزارا جاتا ہے لوگوں کی بات کو سنا جاتا ہے ان کے مسائل کو سمجھا جاتا ہے ۔علاقائی قیادت ان کونشنز میں اپنے مطا لبات قومی قیادت کے سامنے رکھتی ہے ۔اسی سے ایک لیڈر کا عوام سے رابطہ اور ان کے حقیقی مسائل سے آ گاہی ہو تی ہے ۔
اس کے برعکس،میںنے ذوالفقار علی بھٹو صاحب کے کنونشن بھی دیکھے ہیں ۔بھٹوصاحب صرف صوبائی ہی نہیں بلکہ ڈویژن کی سطح پر بھی کنونشن منعقد کروا لیا کرتے تھے ،اور ان کنونشنز میں بھرپور شرکت بھی کیا کرتے تھے ۔بغیر اونگھے آٹھ آٹھ گھنٹے بیٹھے رہتے تھے ۔مطالبات سنتے رہتے تھے اور ناراض لو گوں اور ورکرز کو منا یا بھی کرتے تھے اور ان کے اس طرز عمل نے پارٹی میں ایک نئی جان ڈا ل دی تھی اور وہ خود علاقائی صورتحال سے واقف ہو جایا کرتے تھے ۔لیکن جو حال میں نے زردار ی صاحب کے کنو نشن کا دیکھا وہی حال نواز شریف صاحب کے کنونشنز کا ہے اور کچھ ایسی ہی صورتحال عمران خان صاحب کے ساتھ بھی ہے ۔ابھی حالیہ دنوں کی ہی بات ہے حکومت کی جانب سے ملکی سیاسی لیڈرشپ کی ایک ویڈیو کا نفرنس بلائی گئی ۔ملکی معاملا ت پر بات کرنے کے لیے ملکی لیڈر شپ کو بلا یا گیا ،لیکن وزیر اعظم صاحب کا نفرنس میں اپنی تقریر کرکے دوسروں کی بات سنے بغیر ہی چلتے بنے ۔ضرورت تو اس بات کی تھی کی وزیر اعظم صاحب اس کانفرنس میں آ خر تک بیٹھتے ۔سب کی بات سنتے اور پھر ملک کو درپیش مسائل کا کوئی حل نکالا جاتا ،اسی طرح بات آگے بڑھتی ہے اور سیاسی معا ملات کو آگے بڑھایا جاتا ہے ۔آج کے دور کی جو سیاسی جماعتیں وہ ممبران کی وجہ سے ہیں نہ کہ ممبران ان کی وجہ سے ۔شاید کچھ لوگ آج کے دور میں بھی ہوں جو کہ پارٹی کی وجہ سے آگے آتے ہوں لیکن اکثریت الیکٹیبلز کی ہے ۔لیکن زیادہ تر تعداد الیکٹیبل افراد کی ہے جو کہ اسمبلیوں میں وارد ہوگئے ہیں ۔ان افراد کو عوامی معا ملا ت میں کو ئی دلچسپی نہیں ہے ۔نہ ہی اس وقت ملک میں ایسی لیڈرشپ موجود ہے جو کہ ممبران اسمبلی کو عوام کے مسا ئل کے حل کے لیے استعمال کر سکے ۔یہ بات نہیں ہے کہ لوگ با صلاحیت نہیں ہیں۔ یہ بہت با صلا حیت لوگ ہیں ۔لیکن قیادت کا شدید فقدان ہے ۔آج کے حالات میں ہمیں جو ایک چیز بہت ہی واضح طور پر نظر آ رہی ہے وہ یہ ہے کہ ہماری لیڈرشپ قومی سوچ بنانے میں ناکام ہو چکی ہے ۔قومیں بنتی ہی مصیبت کے وقت میں ہیں اور راحت کے حالات میں بکھر جاتی ہیں ۔آج زیادہ ذمہ داری وزیر اعظم عمران خان صاحب کی ہے کہ وہ تمام ملکی لیڈر شپ کو اکٹھا کرکے ان سے مشورہ کریں اور اس وبا کا سدباب کریں ۔اور اس حوالے سے عوام کی ذمہ داری بھی بہت زیادہ بڑھ چکی ہے کہ وہ بھی نہایت ہی احتیاط سے کام لیں اور خوا مخواہ گھروں سے نہ نکلیں اور وبا کے پھیلا ﺅ کو روکنے میں اپنا اہم قومی کردار ادا کریں ۔ہمارے تبلیغی جماعت کے کا رکنان کو اس حوالے سے بہت احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہے ۔
میری اپنے لیڈران سے گزارش ہے کہ موجودہ حالات میں قومی سوچ کو بلڈ اپ کریں اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا راستہ چھوڑ دیں ۔آج کے اس ما حول میں جہاں سیاسی لیڈرشپ کو یکجا کرنے کی ضرورت ہے وہاں میڈیا کو بھی قومی آگاہی پھیلانے میں حکومت کا بھرپور ساتھ دینے کی ضرورت ہے ۔لیکن میں اس حوالے سے ایک بات یہاں پر ضرور کرنا چاہوں گا کہ حال ہی میں وزیر اعظم صاحب نے اینکروں کے ساتھ ایک نشست کی جن میں ان سے کچھ تلخ اور کچھ سخت سوالات بھی کیے گئے لیکن اس کے بعد ہم نے جو رویہ صحا فیوں کے ساتھ دیکھا یہ کسی بھی جمہوری مہذب ملک میں کسی صورت قابل قبول نہیں ہے ۔ اس رویہ سے ہمیں یہ محسوس ہوا کہ وزیر اعظم صاحب اپنی تعریف کے علاوہ اور کچھ سننے کے روا دار ہی نہیں ہیں ۔اس دنیا میں میڈیا بہت ترقی کر گیا ہے اور اس میڈیا کو قومی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے ۔میڈیا کو دبانے سے نہ صرف معاشرے میں کرپشن بڑھے گی بلکہ عوام کو اقتدار کے ایوانوں تک رسائی بھی بہت محدود ہو جائے گی ۔ایک مضبوط میڈیا ہی ایک مضبوط قوم بنانے کا زینہ ہے ۔میڈیا کو پابند سلا سل کرنا کسی صورت کو ئی دانش مندانہ رویہ نہیں ہے ،حکومت کو اس راستے پر چلنے سے ہر صورت گریز کرنا چاہیے ۔
(کالم نگار سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved