تازہ تر ین

کرونا اور ہمارے اعمال

نجیب الدین اویسی
آج پوری دنیا کرونا کے عذاب میں مبتلا ہے۔ سائنس نے ترقی کی کتنی منازل طے کیں ہزاروں میل دور بیٹھے آپ اپنے پیاروں سے ایسے باتیں کر سکتے ہیں جیسے وہ آپ کیساتھ بیٹھے ہوں۔ مگر جب اللہ ناراض ہوتا ہے تو ایسی آفات نازل فرماتا ہے کہ انسانی دماغ ماﺅف ہو جاتے ہیں ۔ کبھی طاعون تو کبھی کالا طاعون، کبھی کانگو، کبھی ڈینگی تو کبھی کرونا۔ ایک وباءکا علاج ڈھونڈتے ڈھونڈتے کچھ عرصہ گزر جاتا ہے۔ رب کریم و رحیم ہمیں کچھ عرصہ کیلئے توبہ و استغفار کیلئے وقفہ دے دیتا ہے۔مگر جب انسان پھر بھی اپنی بد اعمالیوں سے باز نہیں آتا۔ رب جو اپنے بندوں سے بے پناہ پیار کرتا ہے۔ اسکی مثال یوں ہے جیسے ماں اپنے بیٹے کو اسکی حرکات پر بار بار منع کرتی ہے ٹوکتی ہے مگر تنگ آکر ہاتھ اٹھا دیتی ہے۔ اللہ غفور و رحیم ، قادر و کریم اپنی مخلوق سے ماں کے پیار سے بھی ستر گناہ زیادہ محبت کر دیتا ہے۔ یہ سارا تجزیہ میں نے اپنی ذاتی سوچ سے تحریر کیا ہے اگر اس میں کوئی شرعی غلطی ہو تو میرا رب مجھے معاف فرمائے۔آمین۔
کرونا نے گھروں میں مقید کر کے رکھ دیا۔ ماضی بعید میں پرنٹ میڈیا ، ماضی قریب میں الیکٹرانک میڈیا نے چند زرد صحافی، ریٹنگ کا چکر ان سب نے عوام کو بڑا پریشان کیا ہواہے۔ میں خود قلمکار ہوں قلم کی بے حرمتی انتہائی شرمناک ، بھیانک جرم ہے۔ ہمارے ملک میں ایسے لوگ بھی گزرے ہیں اب بھی ہیںجنھوں نے قلم کی حرمت پر جام ِ شہادت نوش کیا۔ الیکٹرانک میڈیا میں اچھے صاف ستھرے لوگ بھی ہیں۔ مگر مجھے آج بھی دو تین واقعات جب یاد آتے ہیں تو میں بہت دلبرداشتہ ہوتا ہوں۔ میرے قصبہ میں ایک خاتون لوگوں پر جھوٹے الزامات لگا کر FIR درج کروانے کی ماہر تھی۔ایک مرتبہ اس نے ایک شریف النفس دوکاندار پر بڑا شرمناک الزام لگا یا۔ جس میں تھوڑی سی یعنی آٹے میں نمک برابر بھی سچائی نہ تھی۔ جب FIR ہوگئی تو پوری تاجر برادری نے ہڑتال کردی۔ پولیس مجبور ہوگئی اس نے FIR خارج کرنے کی حامی بھر لی۔ جب پولیس نے اس عورت کو بیان دینے کیلئے طلب کیا تو وہ میرے پاس آئی ،روتے ہوئے مجھے کہا میرا خرچہ تو لیکر دیں ۔ میں نے بڑے غصے سے کہا : کیا خرچہ ہو ا تمہارا ؟ اس نے کہا میں نے الیکٹرانک میڈیا کے ایک صحافی کو پانچ ہزار روپے دیے۔ اگر میری آواز ٹی وی پر نہ آتی تو پولیس نے کچھ بھی نہیں کرنا تھا۔ تھانہ نو شہرہ کے علاقے میں ایک خاتون کی بکری دن کے وقت چوری ہوگئی یا گم ہوئی۔ اس نے بستی میں ، فصلوں میں اسے خوب ڈھونڈا۔ کسی نے شرارتاََ یا ویسے ہی ایک گھر کا اشارہ کردیا آپ کی بکری اس گھر میں ہے۔ گھر کے باہر لگے قفل کو دیکھے بغیر اس خاتون نے دروازہ خوب پیٹ ڈالا۔ جب دروازہ نہ کھلا تو وہ دیوار کودی۔ اس کی بد قسمتی وہ وحشی کتے کے آگے آکر گری(جو گھریلو چوکیداری کیلئے صحن میں موجود تھا) اس کتے نے اسے شدید زخمی کر دیا۔ اس کی چیخ و پکار سن کر ہمسائیوں نے دیوار پھلانگ کر اس عورت کو بچایا۔مگر عورت شدید زخمی ہوگئی۔ میڈیا نے خبر چلادی ، ایک جاگیر دار نے ایک غریب عورت پر کتا چھوڑدیا۔ جنکا گھر تھا وہ اتنے غریب لوگ تھے کہ انکا ایک آدمی ساتھ والے گاﺅں میں مزدوری کر رہاتھا تاکہ شام کو گھر آسکے۔ باقی پورا خاندان یزمان کپاس کی چنائی کیلئے گیا ہوا تھا۔ یاد رہے ہمارے علاقوں میں چند زمیندار کپاس کی چنائی کیلئے کچھ غریب خاندانوں کو مستقل اپنے ہاں رہائش دےکر اپنی فصل میںمزدوری کراتے ہیں۔ جونہی میڈیا پر خبر چلی پولیس حرکت میں آئی، گاﺅں میں رہنے والے مزدور ، یزمان میں مزدوری کرنیوالے مرد حضرات کو فوراََ پکڑ کر حوالات دے دیا۔ یہ تھے میڈیا کے مطابق جاگیردار جو بے چارے مزدوری کیلئے در بدر پردیس میں دھکے کھاتے پھر رہے تھے۔
میرے ایک بڑے جہاندیدہ صحافی 2008ءمیں میرے پاس تشریف لائے پانچ ہزار کا مطالبہ فرما دیا۔ میں نے انکار کیا تو میرے خلاف مسلسل خبریں لگانی شروع کر دیں۔ بڑ ا عرصہ وہ تھک ہار چکے تو ابھی حال ہی میں انھوں نے بڑے جلی حروف میں سرخی لگائی، میرے پاس بائیس ملازم ہیں تنخواہ سرکار سے لیتے ہیں مگر کام میرے پاس کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے چند بہی خواہوں نے بھی خوب شور مچایا۔ میں ان خبروں سے بڑا خوش ہوتا ہوں۔ 2003ء،2004 ءمیں ایک اخبار پورے بیس دن روزانہ میرے نامہ اعمال میں ایسے ایسے گناہ لکھتا رہا جن کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ میں نے کبھی تردید نہیں کی۔ ان اللہ کے بندوں کو کیا معلوم ہے اس سے میری عزت نفس پر چوٹ لگی ہے ۔ عزت نفس کی چوٹ کا مزہ اسے معلوم ہے جو تصوف کی تعلیم سے آشنا ہو۔ابھی حال ہی میں سوشل میڈیا، اخبارات نے میرے سمیت اراکین اسمبلی پرغریب لوگوں کی امداد نہ کرنے کا الزام لگایا۔ آپ لوگ کس طرح کہہ سکتے ہیں اراکین لوگوں کی امداد نہیں کر رہے ؟ اللہ تعالیٰ اس نماز کو بھی پسند نہیں فرماتا جو دکھاوے کیلئے پڑھی گئی ہو۔ جب خدا کا حکم ہے دائیں ہاتھ سے دو مگر بائیں ہاتھ کو معلوم نہ ہو۔
آج کل فراغت کے دوران کتابیں پڑھنے میں وقت گزار رہا ہوں۔ جو کتاب شروع کی تو اسے ختم کیے بغیر چھوڑنے کا دل نہیں کرتا۔ آج رات کتاب بینی کے بعد میں نے کالم لکھنا شروع کیا، ابھی یہیں تک کالم لکھا تھا تھک ہار کر گہری نیند سوگیا۔نیند میں دیکھتا ہوں ایک میدان ہے جہاں انسان ہی انسان ہیں۔ ہر شخص کے لب پر ایک ہی آوازنفسی نفسی…. میں نے بہت سے لوگوں سے پوچھا ہم کہاں ہیں؟ کسی نے نا میری بات سنی نہ ہی کوئی جواب دیا۔ میں پریشان کھڑا تھا اچانک ایک آواز گونجی : اے بندہ ِنادان تم میدانِ محشرمیں اللہ کے حضور پیش ہو۔میں کانپ اٹھا۔ پھر وہی آواز ،تمھارے اعمال کا حساب کتاب بعد میں لیا جائیگا۔ پہلے ایک خاتون کی فریاد جو آپ کے خلاف ہے اسکا جواب دو۔ خاتون : اے مالکِ کائنات ! اس شخص کو ہم نے اپنا نمائندہ منتخب کیا تھا تاکہ یہ ہماری جان و مال ، عزت و آبرو کا محافظ بنے گا۔ مگر میں بیوہ ایک یتیم بیٹے کیساتھ سال ہا سال اسکے پاس فریاد لیکر جاتی رہی۔ مگر یہ مجھے انصاف نہ دلا سکا۔ میں نے قبضہ مافیا کے سردار کو رقم دیکر صلح کی کوشش کی، اس نے ایسا بھی نہ کیا۔ میں نے کانپتی آواز سے کہا: اے رب کریم! میں نے پیسے دینے کی حوصلہ افزائی اسلیے نہ کی یہ وباءچل پڑیگی توہر شخص کسی نہ کسی کی زمین پر قابض ہو کر رقم کا مطالبہ شروع کردیگا۔ اے خالق کائنات! میں تیرا ایک نحیف و نزار انسان ہر طرح اس بیوہ کا ہمدرد بہی خواہ تھا۔ اس بیوہ خاتون سے معلوم کریں میں نے کبھی کسی لالچ کے تابع اسکی حمایت کی ہے ؟ اے رحیم و کریم رب! اس بیوہ کے کیس جن جن سرکاری افسران کی عدالتوں میں تھے میں نے بار بار ان کو کہا، مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوئے۔ مالکِ کائنات! وہ پانچ افسر دو احمد پور شرقیہ تین بہاولپور تعینات تھے، تو بہتر جانتا ہے وہ کون ہیں ؟ بڑے جوش اور غصے کی آواز میں حکم ہوا انھیں پیش کیا جائے۔جب یہ پانچوں اللہ کے حضور پیش ہوئے تو سوال کیا گیا : اس خاتون کو جانتے ہو ؟ سب نے نفی میں سر ہلا دیا۔ آواز آئی ہاں یہ خود تمہارے پاس کبھی نہ آئی ہو مگر وکالتاََ یہ سالہا سال تمہاری عدالتوں کے چکر لگاتی رہی۔ میں نے تمہیں عزت دی، تمہیں منصب عطا کیے، تمہیں اسسٹنٹ کمشنر، ایدیشنل ڈپٹی کمشنر، ایڈیشنل کمشنر جیسے بڑے عہدے دیے۔ تم نے کیا کیا؟ ایک بیوہ کو انصاف نہ دے سکے۔تمہیں اپنے افسران کی خوشنودی حاصل کرنے کا وقت تھا، تمہیں نمود و نمائش کیلئے بازاروں، گلیوں میں فوٹو گرافی کی فرصت تھی مگر ایک بیوہ کا کیس سننے کا تم کو وقت نہ ملا؟ سب نے گردنیں جھکا کر بلکہ سجدوں میں پڑ کر گڑگڑا کر معافی ، توبہ استغفار کرنا شروع کردیا۔ رب کریم نے حکم دیا لوہے کی کرسیاں انگاروں کی طرح سلگتی ہوئی لا کر ان کو ان پر بٹھا دیا جائے۔یہ روح فرسا منظر دیکھتے ہوئے میں زار و قطار روتے ہوئے سجدے میں گر کر توبہ و استغفار کرنے لگا۔ روتے روتے میری ہچکیاں بندھ گئیں۔ جب میرا پورا جسم آنسوﺅں سے تر ہوگیا تو میری آنکھ کھل گئی۔ میں بستر پر پڑا تھا مگر میرا پورا جسم پسینے سے شرا بور تھا۔ چہرہ آنسوﺅں سے تر تھا۔ میں اٹھا میں نے سجدہ کیا، اپنے رب سے توبہ استغفار کیا۔
سوچتا ہوں اس بیوہ کو کیا کہوں ؟ کس طرح اپنی کمزوری کا اعتراف کروں۔ کس طرح اس سے اپنی بزدلی، کم ہمتی، کمتری کی معافی مانگوں! کاش میں اتنا دلیر ہوتا۔۔۔۔۔کاش!
(کالم نگارمعروف پارلیمنٹیرین ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved