تازہ تر ین

مولوی سعید اظہر کیلئے دُعائے خیر

ریاض صحافی
عہد ساز صحافی اورصاحب طرز کالم نگار مولوی محمد سعید اظہر کی بیماری دن بدن بگڑ رہی ہے۔ علاج معالجہ کے باوجود مرض میں افاقہ ہونے کی بجائے اضافہ ہو رہا ہے۔ وہ کھانے پینے سے قاصر ہیں‘ اتنے لاغر اور ناتواں ہو چکے ہیں کہ وہ بستر پر کروٹ بھی نہیں لے سکتے۔ جسم و جاں کا رشتہ بحال رکھنے کیلئے ڈاکٹروں نے ڈرپ کے ذریعے وٹامن کی فراہمی تجویز کر رکھی ہے جبکہ سرنج کے ذریعے ان کے منہ میں قطرہ قطرہ پانی ٹپکایا جاتا ہے۔ پروسٹیٹ کے مرض نے بڑھتے بڑھتے کینسر کی شکل اختیار کر لی ہے۔ ”کرونا“ کی وباءپھیلنے کے باعث ان کے اہل خانہ انہیں ڈاکٹروں کی رضامندی سے گھر لے آئے ہیں جہاں صبح و شام ایک پرائیویٹ ڈاکٹر ان کے دوا دارو کیلئے آتے ہیں۔ وہ اپنے اخبار کیلئے دو ماہ قبل بستر علالت پر بھی باقاعدگی سے کالم لکھتے رہے ہیں مگر اب ان کا کالم پڑھنے کو آنکھیں ترس گئی ہیں۔
سعید صاحب کافی عرصہ سے علیل ہیں۔ پروسٹیٹ (مثانہ) کے مرض کے باعث وہ ڈیڑھ سال قبل فیصل ٹاﺅن کے ایک نجی ہسپتال میں داخل ہوئے جہاں کے مسیحا ان کیلئے قصاب ثابت ہوئے۔ انہوں نے لاکھوں روپے فیس ہتھیانے کے باوجود ان کا غلط آپریشن کر دیا۔ ادویات‘ آپریشن کے علاوہ یہاں کمرہ کا کرایہ 6 ہزار روپے یومیہ تھا۔ اس ہسپتال میں وہ ڈیڑھ ماہ تک زیر علاج رہے۔ مرض میں افاقہ نہ ہونے کے باعث معروف سرجن پروفیسر ڈاکٹر ریاض تسنیم کے ایما پر انہیں سروسز ہسپتال داخل کرا دیا گیا۔ یہاں ان کے معالج پروفیسر ڈاکٹر محمد ایوب ٹھہرے جو اب جنرل ہسپتال میں تعینات ہیں۔ سعید صاحب سروسز ہسپتال کے پرائیویٹ وارڈ میں زیرعلاج تھے کہ ان کی بیماری کی خبریں قومی اخبارات کا عنوان بنیں جس پر وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے احکامات پر انہیں سروسز ہسپتال کے VIP وارڈ میں شفٹ کر دیا گیا۔ یہاں مجیب الرحمن شامی‘ شعیب بن عزیز‘ سہیل وڑائچ‘ قدرت اللہ چودھری‘ ایثار رانا‘ ناصر نقوی‘ چودھری خادم حسین‘ اصغر عبداللہ‘ رﺅف طاہر‘ راشد اللہ خان‘ تاثیر مصطفی‘ حافظ عبدالودود ‘ ضمیر آفاقی‘ عبدالستار عاصم اور زاہد عباس سمیت دیگر سینئر اور جونیئر صحافی ان کی عیادت کیلئے آتے رہے۔
اسی طرح پیپلز پارٹی کے بیرسٹر عامر حسین‘ ان کی مزاج پرسی کیلئے اکثر یہاں موجود ہوتے جبکہ سندھ کے وزیر سعید غنی‘ سابق وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کی صاحبزادی نفیسہ شاہ ان کی عیادت کیلئے خصوصی طور پر سندھ سے آئیں۔ پیپلز پارٹی کے اورنگزیب برکی‘ وزیراعلیٰ پنجاب کے سابق مشیر اکرم چودھری بھی ان کی عیادت کیلئے آتے رہے جبکہ راقم الحروف اور معین بٹ دن کا بیشتر وقت ہسپتال میں گزارتے جس پر سعید صاحب کے دیرینہ رفیق …. مولوی رفیق کو اپنے گھر جانے کے مواقع ملتے۔ مولوی رفیق‘ سعید صاحب کا دیرینہ رفیق ہے جو بڑھاپے میں بھی اپنے بوڑھے دوست کا ساتھ نبھا رہا ہے اور دن رات ان کی خدمت اور نگہداشت میں مصروف ہے۔
74 سالہ مولوی سعید اظہر نے اپنے نصف صدی سے زائد صحافتی کیریئر میں روزنامہ ”کوہستان“، ”جمہور“، ”پاکستان ٹائمز“، ”نوائے وقت“، ”مشرق“، ”آزاد“، ”پاکستان“ اور ”جنگ“ میں مختلف عہدوں پر خدمات سرانجام دیں۔ وہ آغا شورش کاشمیری کے ویکلی ”چٹان“ مولانا کوثر نیازی کے ”شہاب“ شریف فاروق کے ”جہاں نما“ اور سرور سکھیرا کے ماہنامہ ”دھنک“ سے بھی منسلک رہے۔ جنرل ضیاءالحق کے دور آمریت میں ان جرائد کا طوطی بولتا تھا اور یہ پاپولر سیاسی جرائد تھے۔ ضیاشاہد صاحب کے ہفت روزہ ”صحافت“ کی اشاعت بھی ایک لاکھ کے لگ بھگ تھی اس پرآشوب عہد میں سعید صاحب نے حسن نثار اور مظفر محمد علی کے ساتھ مل کر رسالہ ”زنجیر“ کا آغاز کیا جو محترمہ بینظیر بھٹو شہید کا پسندیدہ جریدہ تھا۔
مولوی سعید اظہر کا رجحان اوائل میں ”دائیں بازو“ کی طرف تھا مگر بھٹو کی پھانسی کے المیہ نے انہیں ”دائیں سے بائیں“ کر دیا۔ ”دائیں بازو“ سے مراد مذہبی سیاسی جماعتیں اور ان کی قیادت تھی اور ”بائیں بازو“ سے مراد پیپلز پارٹی اور ذوالفقار علی بھٹو کی سحرانگیز شخصیت تھی۔ اس وقت ”لیفٹ“ اور ”رائٹ“ کی سیاست کا غلغلہ تھا۔ وہ پیپلز پارٹی کی سیاست کے ایسے اسیر ہوئے کہ تب سے لے کر اب تک پیپلز پارٹی کی قیادت کے ہی گن گا رہے ہیں۔ بینظیر بھٹو شہید کا عہد ہو یا آصف علی زرداری کا دور …. ان کے قلم کی جولانیاں انہی کا دم بھرتی ہیں۔ اس وقت کپتان عمران خان کے عہد حکمرانی میں پیپلز پارٹی کو جو حمایتی دانشور اور کالم نگار میسر ہیں ان میں مولوی سعید اظہر کا نام سب سے نمایاں ہے۔ ان کا بھٹو سے عشق کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اپنی تحریروں میں کبھی نہیں لکھا کہ ”بھٹو کو پھانسی ہوئی“ بلکہ جب کبھی انہیں اس سانحہ کا ذکر کرنا مقصود ہوا تو وہ اپنے قائد کیلئے ”بھٹو نے تختہ دار کو سرفراز“ کیا سے کرتے ہیں۔ سعید صاحب نے طویل صحافتی کیریئر کے دوران نواب اکبر بگٹی‘ ولی خان‘ نبی بخش زہری‘ شیرباز مزاری اور اصغر خان سمیت کئی بڑے سیاستدانوں کے انٹرویوز کیے جو نہایت دھماکہ خیز ثابت ہوئے۔ انہوں نے فیلڈ مارشل ایوب خان‘ شیخ مجیب الرحمان کی تقریبات اور محترمہ فاطمہ جناح کے جلسوں کی کوریج بھی کی۔ اسی طرح انہوں نے بینظیر بھٹو شہید اور آصف علی زرداری کی حمایت میں سینکڑوں کالم لکھے مگر کبھی پیپلز پارٹی کے قائدین سے ان کی بالمشافہ ملاقات نہ ہو سکی۔
مگر اب وہ پیرانہ سالی میں شدید علیل ہیں تو پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ان کی عیادت کیلئے ہسپتال چلے آئے۔ تو ان کی خوشی دیدنی تھی۔ بھٹو کا نواسہ انہیں پھول پیش کر رہا تھا تو مریض کا چہرہ گل گلزار بنا ہوا تھا۔ بینظیر کا صاحبزادہ ان سے ہاتھ ملا رہا تھا تو مریض کا چہرہ زندگی آمیز مسکان سے لبریز تھا۔ اللہ کرے کہ ہمارے پیارے دوست کی مسکراہٹ سدا ان کے لبوں پر سجی رہے۔ آپ بھی مولوی سعید اظہر کیلئے دعا کریں کہ رب کائنات انہیں جلد صحت یاب کرے اور وہ صحافتی اُفق پر یونہی چمکتے اور دمکتے رہیں۔
(کالم نگار سماجی‘ ثقافتی اورسیاسی امور پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved