تازہ تر ین

معیشت اور عوام کرونا کی زد میں

چوہدری ریاض مسعود
پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی کرونا سے متاثرہ مریضوںکی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس سے عوام کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت بھی بُری طرح متاثر ہو رہی ہے‘ صنعتی تجارتی اور کاروباری سرگرمیاں معطل ہونے کی وجہ سے جہاں عوام کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے وہاں بےروزگاری کی شرح میں بھی ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ اقتصادی سروے کے مطابق لاک ڈاﺅن کی وجہ سے 41لاکھ خاندانوں کے 3کروڑ سے زائد افراد متاثر ہوں گے جن میں مینوفیکچرنگ انڈسٹریز کے 32لاکھ‘ کنسٹرکشن انڈسٹریز 12لاکھ‘ ٹرانسپورٹ سیکٹر سے 14لاکھ‘ ہوٹل انڈسٹری سے 6لاکھ، ہول سیلرز اور دیگر کاروبار سے 62لاکھ جبکہ 84لاکھ دیہاڑی دار مزدور بھی شامل ہیں۔ وفاقی حکومت لاک ڈاﺅن سے متاثرہ مزدوروں اور دیہاڑی داروں کی امداد اور بحالی کیلئے ایک جامع پلان پر عمل کر رہی ہے۔ حکومت پنجاب نے بھی اس مقصد کیلئے انصاف امداد پروگرام شروع کر دیا ہے جس کے تحت زکٰوة کے مستحق ایک لاکھ 70ہزار خاندانوں کی امداد کیلئے 87کروڑ روپے کے فنڈز بھی فوری طور پر جاری کر دیئے ہیں ۔اس کے علاوہ پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار وزیراعلیٰ انصاف امداد پروگرام کے تحت 10ارب روپے مختص کئے گئے ہیں اور 25لاکھ مستحق خاندانوں کو 4ہزار روپے کی مالی امداد دی جائے گی۔ یقیناً یہ پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کا نہایت احسن قدم ہے۔ کورونا کے متاثرین اور مستحق افراد کی مدد کیلئے دیگر صوبوں کے وزرائے اعلیٰ سمیت گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی ایسے ہی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ اس خطرناک کرونا وائرس کا مقابلہ کرنے اور لاک ڈاﺅن سے متاثرہ ہونے والے افراد‘ مزدوروں اور دیہاڑی داروں کی امداد کیلئے پوری قوم یکساں سوچ رکھتی ہے۔ ہمارے مخیر اور صاحب ثروت افراد اپنے مستحق ہم وطنوں کی امداد کیلئے میدان عمل میں آ چکے ہیں۔ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم لاک ڈاﺅن سے متاثر اور بے روزگار ہونے والے افراد خاص طور پر دیہاڑی دار مزدوروں کے صحیح صحیح کوائف اور ان کی تعداد کے بارے میں جامع معلومات اکٹھی کرکے ان کی امداد کیلئے متحد ہوکر کام کر سکیں۔ وفاقی حکومت کرونا وائرس پر قابو پانے‘ متاثرہ افراد کے علاج معالجے اور لاک ڈاﺅن سے متاثرہ افراد کی امداد کیلئے مو¿ثر حکمت عملی اپنائے ہوئے ہے۔ احساس پروگرام کے دائرہ کار کو وسیع کیا جا رہا ہے۔ بیت المال پاکستان پوری ذمہ داری کے ساتھ اپنی خدمات انجام دے رہا ہے۔ نوجوانوں پر مشتمل ٹائیگر فورس کی تشکیل کی جا رہی ہے۔ لاک ڈاﺅن سے متاثرہ افراد کی امداد کیلئے بھاری فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ ایکسپورٹ انڈسٹریز کیلئے مراعات دی جا رہی ہیں۔ شرح سود میں کمی کی گئی ہے۔ ایکسپورٹ ریفنڈ کی واپسی جلد ممکن بنائی گئی ہے۔ انکم ٹیکس کے نظام کو انڈسٹری فرینڈلی بنایا گیا ہے۔ پٹرول کی قیمتیں کم کی گئی ہیں۔ بجلی اور سوئی گیس کے بلوں کی ادائیگی کیلئے تین ماہ کی رعایتی مدت کا اعلان کیا گیا ہے۔ وزیراعظم کی سربراہی میں روزانہ کی بنیاد پر اعلیٰ سطح کے مشاورتی اجلاس باقاعدگی سے ہو رہے ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) ٹیسٹنگ کٹس‘ این 95 ماسک‘ جدید ترین آلات اور وینٹی لیٹرز کی بھاری مقدار درآمد کر چکی ہے۔ دوست ملک چین سے میڈیکل سامان اور آلات لے کر کئی جہاز آ چکے ہیں۔ ڈاکٹروں‘ نرسوں اور پیرامیڈیکل سٹاف کو حفاظتی کٹس فراہم کی جا رہی ہیں۔ ہسپتالوں میں آئسولیشن وارڈ کے ساتھ ساتھ کئی اور مقامات پر خصوصی آئسولیشن وارڈ اور قرنطینہ سنٹرز قائم کیے جا چکے ہیں۔ کرونا کی وجہ سے ہماری معیشت کو زبردست دھچکا لگا ہے اور اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے اس بحرانی کیفیت میں پاکستانی معیشت کو 4.95 ارب ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے جبکہ ایشیائی ترقیاتی بنک کے جائزے کے مطابق ہماری شرح نمو دو سے اڑھائی فیصد اور افراط زر 11 سے 12 فیصد رہے گا۔ آئی ایم ایف کی رپورٹ بھی اسی طرح کا ہی منظر نامہ پیش کر رہی ہے۔
یہ اللہ کا خاص فضل ہے کہ پاکستان میں فوڈ سکیورٹی کی صورتحال بہت بہتر ہے۔ صرف لاک ڈاﺅن کی وجہ سے رسد و طلب کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ گڈز ٹرانسپورٹر کا یہ الزام ہے کہ اشیائے خورونوش سبزیوں‘ پھل اور غذائی اجناس سے لدی ہوئی ٹرانسپورٹ کو جگہ جگہ پر بلاضرورت روکا جاتا ہے جس کی وجہ سے اشیائے ضروریہ کی قلت محسوس کی جا رہی ہے اور ان کی قیمتوں میں تقریباً سات سے دس فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ عوامی نمائندے ضلعی انتظامیہ اور پرائس کنٹرول کمیٹیاں (اگر ان کا کہیں وجود ہو تو) میدان عمل میں آئیں اور ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کے ساتھ سختی سے نمٹیں ۔ یاد رہے کہ تقریباً تین ہفتے بعد رمضان المبارک کا آغاز ہونے والا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس ماہ مقدس میں اشیائے ضروری خصوصاً پھلوں اور سبزیوں کی مانگ بڑھ جاتی ہے۔ اس لئے ابھی سے ایسے عناصر کیخلاف سخت کارروائی بے حد ضروری ہے۔ اس وقت کرونا کے خلاف جنگ میں پوری قوم کے ساتھ ساتھ ہماری مسلح افواج‘ رینجرز‘ پولیس‘ ڈاکٹرز‘ نرسز‘ پیرامیڈیکل سٹاف اور سماجی کارکن ومخیرحضرات پوری ذمہ داری کے ساتھ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس وقت قوم کا مورال بلند کرنے‘ عزم حوصلہ ہمت اور ارادے کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم کرونا کےخلاف جنگ جیت سکیں۔ حکومت کا یہ فرض ہے کہ اس نازک لمحوں میں آگے بڑھ کر اپوزیشن کا تعاون حاصل کرے اور ملکی مفاد میں سب کو اپنے ساتھ لے کر چلے۔ لیبر کلاس کے بارے ایک حقیقت انتہائی پریشان کن ہے کہ لاکھوں مزدروں کی نہ تو سوشل سکیورٹی میں رجسٹریشن ہے اور نہ ہی بوڑھے بزرگوں پنشنروں سمیت حاضر ڈیوٹی ۔ مزدوروں کی اوبی آئی میں رجسٹریشن ہے جس کی وجہ سے وہ وزیراعظم کے امدادی پیکیج سے محروم رہ سکتے ہیں۔ لاکھوں صنعتی تجارتی اور کاروباری ادارے ایسے ہیں جہاں ورکروں کو مستقل ملازمت دینے کی بجائے یومیہ اجرت اور کنٹریکٹ پر رکھا گیا ہے۔ جس کا سرکاری اداروں کے پاس کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسے ورکروں کیلئے پالیسی طے کرے تاکہ وہ وزیراعظم کے امدادی پیکیج سے استفادہ کرکے اپنی مشکلات دور کرسکیں۔ حکومت کو یہ بھی چاہیے کہ وہ رجسٹریشن کی آن لائن سہولتوں کے ساتھ ساتھ یونین کونسل میں ا نکی رجسٹریشن کروانے کی سہولتیں بھی فوراً شروع کرے تاکہ حقدار تک اس کا حق جلد ازجلد پہنچ سکے۔ایک بات طے ہے کہ کرونا کے خلاف جنگ ہم سب نے مل کر لڑنی ہے۔ اس سے بچاﺅ کی احتیاطی تدابیر سب نے اختیار کرنی ہیں اس پیغام کو گھر گھر پہنچانے کیلئے مساجد سے اعلانات کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ اس کی عملی مثال ڈپٹی کمشنر ساہیوال نے اپنے ضلع میں پیش کی ہے۔ اس سلسلے کو پورے ملک میں پھیلایا جائے۔ ہمیںاس وقت کرونا وائرس سے بچاﺅ اور اس کے خاتمہ کیلئے عبادات اور دعاﺅں کا سلسلہ رکھنا چاہیے کیونکہ یقینا دعائیں آفات بلائیں اور وبائیں ٹالتی ہیں۔ ساری قوم رب کے حضور جھک جائے گڑگڑائے‘ آنسو بہائے‘ اپنے گناہوں کی معافی مانگے‘ اللہ کائنات کا مالک ہے غفور الرحیم ہے۔ ہر چیز پر قادر ہے وہ ہماری درد بھری دعائیں ضرور سنے گا اور ہم سب پر اپنی رحمتوں‘ برکتوں اور نعمتوں کی بارش کردے گا اور ہمیں اپنی حفظ وامان میں رکھے گا۔ انشاءاللہ۔
(کالم نگارقومی مسائل پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved