تازہ تر ین

نیویارک سین …. محسن ظہیر کا طویل ٹیلی فون

پیارے پڑھنے والے گزشتہ رات نیویارک سے عزیزم محسن ظہیر کا ٹیلی فون آیا اور کئی گھنٹے ان سے طویل گفتگو رہی۔ محسن ظہیر سے خبریں کے قارئین اور چینل ۵ کے ناظرین واقف ہوں گے کہ وہ ایک عرصے تک خبریں کے چیف رپورٹر اور ڈپٹی ایڈیٹر رہے ہیں اور لاہور میں دفتر میں کام کرتے تھے۔ پھر میں انہیں اپنے ساتھ نیویارک لے گیا اور وہاں خبریں کا بیورو چیف بنایا۔ آج کل بھی وہ اس ذمہ داری کے ساتھ اردو ہفت روزہ صدائے وطن کے ایڈیٹر ہیں اور نیویارک میں بڑی محنت سے صحافتی حلقوں‘ اقوام متحدہ اور امریکی حکومتی حلقوں میں انہوں نے اپنی جگہ بنائی۔ انہوں نے کہا آج کل کرونا کے بحران کے باعث گھر میں بند ہوں اور اخبار اور دفتر بھی بند ہیں۔ گھر میں‘ میں اور میری بیوی اور تینوں بیٹے جہاں تک ممکن ہو سکے‘ دوگز کے فاصلے پر رہتے ہیں جو 6 فٹ بنتا ہے۔ سڑکیں بند ہیں‘ ٹریفک انتہائی کم ہے اور صرف گھریلو سامان‘ کھانے پینے کی چیزوں اور دواﺅں کیلئے باہر جانا پڑتا ہے۔ کاروں کیلئے پٹرول پمپ کھلے ہیں اور انتظامیہ کی طرف سے بار بار الگ تھلگ رہنے کی ہدایت ہو رہی ہے۔ امریکہ میں کل تین لاکھ سے زیادہ لوگ کرونا میں مبتلا ہو چکے ہیں اور یہ تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ نیویارک اس کا مرکز ہے اور کل مریضوں میں سے پچاس فیصد یعنی ڈیڑھ لاکھ مریض صرف نیویارک میں پائے جاتے ہیں۔ ہسپتالوں میں اتنی جگہ نہیں اس لیے زیادہ تر مریضوں کو گھروں پر ہی علاج کیلئے ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ ٹیکس اعدادوشمار کے مطابق بیروزگاروں کو تنخواہ کا بڑا حصہ گھر بیٹھے مل رہا ہے اور یوں گزر بسر ہو جاتی ہے۔
محسن ظہیر نے بتایا کہ امریکہ میں شہروں کی رونقیں ختم ہو چکی ہیں۔ بڑے بڑے جوا¿ گھر بند ہیں۔ شراب خانے مقفل ہیں۔ ناچ گھر‘ نائٹ کلب بند ہو چکے ہیں۔ بدکاری کے مراکز بھی بند ہیں۔ جسم فروش عورتیں بیکار ہو گئی ہیں۔ ننگے ڈانس اور اس قسم کی واہیات حرکتیں بھی وقتی طور پر ہی سہی رک گئی ہیں۔
امریکہ کے مالدار ترین شخص اور آئی ٹی کاروبار کے مالک بل گیٹس نے اعلان کیا ہے کہ جو کرونا کی ویکسین ایجاد کرے گا اسے بھاری انعام دیا جائے گا‘ لیکن ہنوز دلی دور است۔ لگتا ہے ساری سائنسی ترقیاں بیکار ہیں۔ ادارہ صحت کے انچارج اور معروف سائنسدان ڈاکٹر انتھونی امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ پریس کانفرنسوں میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ وہ ادارہ صحت کے امور کے انچارج بھی ہیں اور وقتاً فوقتاً ہدایات جاری کرتے رہتے ہیں۔
محسن ظہیر نے بتایا کہ امریکہ میں یہ وبا چین سے آنے والے ہزاروں افراد نے پھیلائی۔ نیویارک میں سب سے پہلا پاکستانی جو کرونا سے چل بسا وہ اور اس کا دوست خاور یہ مرض چین سے لے کر آئے تھے۔ کرونا کی افواہیں پھیلیں تو دونوں متاثر ہو چکے تھے۔ وہ مر گیا اس کے دوست خاور کی بیوی کرونا کا شکار ہو گئی۔ جنون گروپ کے بین الاقوامی شہرت یافتہ ڈاکٹر سلمان احمد کرونا کا شکار ہو چکے ہیں۔ ان کی اپنی بیوی بھی ڈاکٹر ہیں اور آج کل گھر پر ہی ان کا علاج کر رہی ہیں۔ عام طور پر ملیریا کی دوا سے کرونا کے بخار اورکھانسی کا علاج کیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں ملیریا کیلئے عام اور سستی دوائیں بھی طلب بڑھنے کے باعث مہنگی ہو گئی ہیں۔ سرکاری طور پر اسے تسلیم نہیں کیا جاتا‘ لیکن ڈاکٹروں نے کرونا کے صحت یاب مریضوں کے خون اور پلازما سے صحت مند لوگوں کا علاج کیا ہے۔ یہ علاج پرانے اور آزمودہ اصولِ صحت کی بنیاد پر وضع کیا گیا ہے یعنی کرونا سے صحت یاب ہونے اور اس وائرس پر قابو پانے والے کے خون اور پلازما کو صحت مند لوگوں کے جسم میں انجکشن کے ذریعے داخل کر دو تاکہ اس کے جسم میں اینٹی باڈی پیدا ہو جائے جو کرونا کو لڑ کر اسے مار سکے۔ محسن ظہیر نے بتایا کہ یہاں کرونا کا سفر توڑا جاتا ہے یعنی جس چیز یا شخص پر کرونا وائرس حملہ کرتا ہے اسے آگے بڑھنے سے روکنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کرونا کا وائرس جب تک کسی انسان میں منتقل نہ ہو باہر چیزوں پر چند گھنٹے سے زیادہ زندہ نہیں رہتا۔ اسے پلنے کیلئے دوسرا انسانی جسم درکار ہوتا ہے۔ لہٰذا اس سے پہلے کہ وہ کسی صحت مند انسان کے جسم میں داخل ہو اسے روک لیا جاتا ہے۔ لاک ڈاﺅن کا یہی مقصد ہے۔ محسن ظہیر نے بتایا کہ مجھے اتنے دنوں سے اپنے چھوٹے بیٹے سے گفتگو کرنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ کرونا کے جراثیم انسانی لعاب سے نکلتے ہیں اور دوسرے انسان تک پہنچتے ہیں۔ سانس کے ذریعے بھی انسانی لعاب کے چھوٹے چھوٹے ذرات مخاطب تک پہنچتے ہیں جس سے بچنے کیلئے دوگز یعنی 6 فٹ کا فاصلہ ہونا چاہئے۔ کرونا سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد بھی کم نہیں تاہم سو میں سے اوسطاً بیس افراد ہلاک ہو جاتے ہیں۔ اس ضمن میں تیز بخار اور کھانسی کے علاوہ سانس کی تکلیف ہو جاتی ہے اور یہ انتہائی مشکل ہے۔ اس کا علاج صرف وینٹی لیٹر کے ذریعے مصنوعی سانس دلوانا ہے۔کرونا کی وبا سے پہلے وینٹی لیٹر سترہ ہزار ڈالر کا مل جاتا تھا جس کی قیمت اب پچاس ہزار ڈالر ہے۔ نیویارک میں بیماروں کیلئے پورے وینٹی لیٹر میسر نہیں۔ محسن ظہیر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں صورتحال اس سے بہت زیادہ خراب۔ لاہور کی ایک کروڑ آبادی کیلئے چند ہزار وینٹی لیٹر موجود ہیں۔ محسن ظہیر نے کہا کہ میرے خیال میں درست نہیں کہ ویکسین تیار ہو گئی تو فوراً دنیا بھر کے بے شمار ملکوں میں میسر ہو سکے گی۔ کہا جاتا ہے کہ اگر آج ویکسین تیار ہو جائے تو دنیا کے کونے کونے تک پہنچنے میں بارہ سے اٹھارہ مہینے لگ جائیں گے۔ گویا اس طرح کروڑوں انسان اس سے محروم رہ جائیں گے۔ محسن ظہیر نے کہا کہ پاکستان میں یہ خیال درست نہیں کہ گرمی آنے پر کرونا وائرس خود بخود مر جائے گا البتہ 15 اپریل کی تاریخ اس لیے دی جاتی ہے کہ کرونا وائرس کے جسم میں داخل ہونے کا سائیکل اور مرض کی علامت ظاہر ہونے کا اعلامیہ اگر اسے نئے جسموں تک پہنچنے سے روک لیا گیا تو یہ مدت 15 اپریل تک ختم ہو جائے گی گویا مرض کی شدت میں کمی واقع ہو جائے گی۔
محسن ظہیر نے کہا کہ نیویارک میں ہسپتالوں میں صرف سنگین نوعیت کے مریضوں کو داخل کیا جاتا ہے ورنہ ابتدائی کیٹیگری کے مریض گھروں پر ہی قرنطینہ میں چلے جاتے ہیں اور ان کا علاج نہیں ہوتا۔ عام پیناڈول اور ملیریا کی دواﺅں سے مرض کا علاج کیا جاتا ہے البتہ صحت یاب مریضوں کے خون اور پلازمہ سے عام لوگوں کا علاج کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔
محسن ظہیر نے بتایا کہ مین ہٹن سے آگے نیویارک کا سب سے بڑا چڑیا گھر ہے جس کے پنجروں میں 6 ہزار جانور موجود ہیں۔ گزشتہ دنوں ایک مادہ ٹائیگر جو بہت قیمتی نسل سے ہے کو شدید کھانسی ہو گئی۔ چیک کرنے پر معلوم ہوا کہ اس کی دیکھ بھال کرنے والے کیئر ٹیکر انسان سے اس کو کرونا منتقل ہوا ہے اور جب دوسرے شیروں کو چیک کیا گیا تو چار اور شیروں کو کرونا ہو چکا تھا کیونکہ سب شیر ایک ہی علاقے میں رہتے ہیں۔ کرونا کی پہلی شکار مادہ ٹائیگر کا نام نادیہ ہے اور اب باقی شیروں کا بھی علاج ہو رہا ہے۔ کہتے ہیں شروع میں چین کے صوبے ووہان میں ایک چمگادڑ سے کرونا پھیلا تھا گویا جانوروں سے یہ مرض انسانوں میں منتقل ہوا‘ لیکن اب نیویارک کی مادہ ٹائیگر نادیہ اور دیگر چار شیروں کی مثال یہ کہتی ہے کہ اب انسانوں سے دوبارہ جانوروں میں منتقل ہو رہا ہے۔ امریکی انتظامیہ کی نظر میں یہ بہت تشویشناک امر ہے کیونکہ امریکہ میں کتے‘ بلیاں پالنے کا رواج عام ہے۔ بعض لوگ سانپ بھی پالتے ہیں۔ اگر جانوروں میں کرونا وائرس چلا گیا تو یہ مزید پھیلے گا اور اس پر قابو پانا مشکل ہو جائے گا کیونکہ کتوں‘ بلیوں سے لپٹنا اور پیار کرنا عام ہے۔ اکیلے رہنے والے لوگ تو جانوروں کے بغیر رہ نہیں سکتے۔
محسن ظہیر کا کہنا ہے کہ 5 مارچ کو کرونا سے ہلاک ہونے والے امریکیوں کی تعداد گیارہ تھی جبکہ 5 اپریل تک یہ تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی۔ گویا ایک ماہ میں کئی سو گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ آگے چل کر نیویارک ہی میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد امریکہ سمیت اسی ہزار ہو سکتی ہے۔
محسن ظہیر نے بتایا کہ امریکی صدر ٹرمپ مقامی وقت کے مطابق تین‘ ساڑھے تین بجے روزانہ اپنی ٹیم کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہیں جو پاکستانی وقت کے مطابق رات دو بجے بنتی ہے۔ ادھر دن میں نیویارک کے گورنر اور میئر بھی مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہیں جو روزانہ کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ ٹرمپ نے بار بار ہائیڈروکسی کلوروکوئن‘ پلیوکوئنل کا نام لیا تو اخبار نویسوں نے کہا کہ آپ ان دواﺅں کو پرموٹ کر رہے ہیں حالانکہ آپ ڈاکٹر نہیں۔ اس پر ٹرمپ نے جواب دیا کہ ہمارے جمع کردہ اعدادوشمار کے مطابق ان دواﺅں سے کرونا کے مریضوں کو فائدہ ہو رہا ہے لہٰذا میں کیوں نہ انہیں پرموٹ کروں‘ جو کرونا کے علاج میں افاقہ دے سکتی ہیں۔ ٹرمپ نے کرونا کی خدائی آفت کا مقابلہ کرنے کیلئے 5 اپریل کو پام ڈے کے موقع پر خدا کے حضور دعا کرنے کی اپیل کی۔ پام ڈے حضرت عیسیٰ ؑ کے یروشلم میں داخل ہونے کا دن ہے اور اسے مذہبی تہوار کی طرح منایا جاتا ہے۔ امریکہ میں ہلاکتوں کی تعداد اٹلی اور سپین کی ہلاکتوں سے بڑھ گئی ہے اور اس میں روز اضافہ ہو رہا ہے۔ نیویارک کے چڑیا گھر میں جانوروں میں کرونا وائرس کی موجودگی کا انکشاف ہونے پر امریکہ میں خوف کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ یہاں پالتو کتوں اور بلیوں سے محبت کا عالم یہ ہے کہ ان سے جانور چھینے گئے تو کہیں اکثر لوگ خودکشی نہ کر لیں۔ پاکستان میں بھی ویٹرنری ڈاکٹروں کا چڑیا گھر کے علاوہ گائے‘ بھینسوں اور بکریوں اور پالتو جانوروں کے ٹیسٹ کرنے چاہئیں کہیں کرونا ان میں تو داخل نہیں ہو گیا۔ نیویارک کی مثال میں نے اس لیے دی کہ دنیا کے سب سے بڑے ملک کے مالدار ترین شہر میں کرونا کی حالت یہ ہے تو پاکستان میں تو حالات اس سے کہیں زیادہ تشویشناک ہو سکتے ہیں۔
٭٭٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved