تازہ تر ین

تفتان سے رائے ونڈ تک

قسور سعید مرزا
آسمانی آفات آتی رہتی ہیں‘ کبھی زلزلہ تو کبھی سیلاب، طوفان بھی آتے رہتے ہیں۔ مختلف ممالک میں کئی قسم کی وبائیں بھی پھوٹ پڑتی ہیں۔ ہمارے معاشروں میں تو بیماریاں بھی ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ امیر‘ غریب کی بیماری مختلف ہوتی ہے۔ کبھی آپ نے نہیں سنا ہو گا کہ کسی امیر شخص کو ٹی بی ہوئی ہو‘ لیکن موجودہ آفت نما وبا نے نہ امیر کو چھوڑا ہے اور نہ غریب کو معاف کیا ہے۔ تیل سے مالا مال مشرق وسطیٰ بے بس ہے۔ وسائل سے مالا مال امریکہ حواس باختہ ہے۔ یورپ ہکا بکا ہے۔ کبھی کسی نے سوچا تھا کہ یہ وقت بھی آئے گا کہ آپ اپنے گھر میں رہتے ہوئے اپنے بچوں سے فاصلہ رکھو گے۔ بھائی‘ بھائی کے گلے نہیں لگ سکتا‘ ماں بیٹی کو پاس نہیں بٹھا سکتی۔ باپ اپنے بیٹوں سے ہاتھ نہیں ملا سکتا۔ خاوند کو کھانسی ہو جائے تو بیگم کہتی ہے کہ 1166 کو مطلع کروں کہ آپ کو لے جائے ۔ اپنے گھروں میں لوگ گھبرا کر رہ گئے ہیں اور اللہ جی اس طرح ناراض ہو گئے ہیں کہ اپنے گھر کا طواف روک دیا ہے۔ صفاءمروا کے درمیان سعی بند ہے۔ روضہ نبی پاک کی زیارت معطل ہے۔اب تو مدینہ منورہ میں 24 گھنٹے کا کرفیو لگا دیا گیا ہے اور پوری مسجد نبوی شریف بند ہے۔ صرف اذان ہو رہی ہے یا پھر چار پانچ حضرات نماز ادا کر رہے ہیں۔ ہمارے ہاں بھی بڑے شہروں میں تقریباً لاک ڈاﺅن ہے اور ایسی ہی صورتحال ہے۔
راقم کو یاد نہیں کہ 1963ءسے کبھی جمعہ کی نماز ادا نہ کی ہو۔ جمعہ نماز اور جمعہ کا خطبہ سننے سے ہمیشہ وارفتگی رہی ہے۔ شعوری زندگی میں یہ پہلا موقع تھا کہ گزشتہ جمعہ کی نماز مسجد میں ادا نہیں کر سکا اور ڈی ایچ اے لاہور کی مساجد سے امام جمعہ حضرات کی آواز تک لاﺅڈ سپیکر پر بھی نہیں ابھری ورنہ سڑک پر یا نزدیک کسی عمارت کے برآمدے میں جائے نماز بچھا کر نماز ادا کر لیتے۔ لاہور ڈیفنس کی تمام مساجد بند تھیں۔ جمعہ کے دن اپنا آبائی شہر شجاع آباد بہت یاد آیا کہ جہاں پر بڑی مسجد میں نماز جمعہ ادا کی گئی اور دعائیں مانگی گئیں۔ اس آفت اور وبا نے جو صورتحال پیدا کر دی ہے اس میں بار بار دھیان مقبوضہ کشمیر کی مظلوم ماﺅں اور بیٹیوں کی طرف گیا جو اگست 2019ءسے بدترین لاک ڈاﺅن کا شکار ہیں۔ نہ جانے کس مظلوم بہن‘ بیٹی کی آہ سات آسمانوں کو چیرتی ہوئی اوپر گئی اور دنیا پر قدرت الٰہی نے اپنا عذاب نازل کر دیا اور عذاب بھی وہ کہ جس کا اب تک نہ علاج دریافت ہوا ہے اور نہ ہی یہ وائرس نظر آتا ہے۔سائنس اور ٹیکنالوجی دھری کی دھری رہ گئی ہے۔ مظلوم کشمیریوں کے حوالے سے عالمی ضمیر مردہ ہو گیا تھا۔
اللہ کے راز اللہ ہی جانتا ہے۔ اس کی اپنی حکمت ہوتی ہے۔ اس کے ہاں دیر سویر ہو جاتی ہے‘ لیکن وہ اندھیر برداشت نہیں کرتا۔ ایک ان دیکھے وائرس نے بڑے بڑے عالمی چوہدریوں کی چیخیں نکلوا دی ہیں۔ کسی کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی۔ دنیا کا سپر مین ٹرمپ کبھی قرآن پاک سن رہا ہے تو کبھی بائبل پڑھ رہا ہے۔ دنیا سر بسجود ہو گئی ہے۔ ہمیں کرونا کے ساتھ ساتھ اپنے کرتوتوں سے بھی ڈرنا ہے۔ وہ ذاتِ مقدس ناراض ضرور ہے اور ناراضگی ایسی ہے کہ ہم بھی بری طرح پھنس چکے ہیں۔ حکومت بھی شروع میں بوکھلائی ہوئی تھی۔ لاک ڈاﺅن کریں تو لوگوں کے بھوک سے مرنے کا خوف ہے۔ لاک ڈاﺅن نہ کریں تو وبا سے مرنے کا اندیشہ ہے۔ اور تو اور ہمارے علماءکرام بھی فکری طور پر بے یقینی کا شکار رہے اور مساجد میں نمازیں اور جمعہ کی نماز ادا نہ کرنے کا معاملہ ریاست پر ڈال دیا اور کہا کہ اگر ریاست یہ اعلان کرے تو ہم پابندی کریں گے۔ عید کے چاند پر ریاست کی بات نہیں مانتے اور مساجد میں نمازیں باجماعت نہ ادا کرنے کی ذمہ داری ریاست پر ڈال دی۔ خیر صدر مملکت عارف علوی نے ایوان صدر میں علماءکرام سے مشورہ کر کے ان کی عزت بچا لی ورنہ کیا امریکہ‘ برطانیہ اور یورپ نے پوپ سے پوچھ کر چرچوں میں عبادت کرنے پر پابندی لگائی ہے؟ کیا سعودی عرب نے امام کعبہ سے پوچھ کر بیت اللہ کا طواف بند کرایا ہے؟ ایک جانب خدا کی قدرت ہے اور دوسری طرف مخلوق خدا کی مجبوری اور بے بسی ہے۔ بے یقینی کی کیفیت ہے۔ دنیا تنگ ہو کر رہ گئی ہے۔ گھٹنے ٹکوا دیئے ہیں اس کیڑے نے جو نظر بھی نہیں آتا۔ احتیاط اور علاج اپنی جگہ مگر یہ وقت اللہ سے رَجوع کرنے کا ہے۔ اللہ کہتا ہے کہ میرے بارے میں سُستی نہ کرو۔ تم ہی غالب ہو اگر مومن ہو۔ یہ مالک حقیقی کا فرمانِ مبارک ہے۔ اللہ کو ایسے یاد کرو جیسے اپنے آباﺅ اجداد کو یاد کرتے ہو۔ اللہ کو اپنے ذہن میں اُس کا مقام دے دو اگلے دِن وہ آپ کو مل جائے گا۔ اللہ کو دُنیا کی اشیا کی طرح نہ چاہو سَب کچھ عطاءکرنے والے کو آخری درجہ نہ دو۔ جو اللہ کو اپنی پہلی ترجیح نہیں سمجھتا وہ اللہ کا سراغ نہیں پا سکتا۔ کوئی تفتان کی آڑ میں شیعوں کے خلاف بھڑاس نکال رہا ہے تو کوئی رائے ونڈ کا واویلا کر کے تبلیغیوں میں کیڑے تلاش کر رہا ہے۔ رَاقم نے تفتان کا سرحدی علاقہ دیکھا ہوا ہے۔ یہ انتہائی پسماندہ علاقہ ہے۔ وہاں پر ایک دَم زائرین کی بھاری تعداد کو سنبھالنا بلوچستان حکومت کے بس کی بات ہی نہیں تھی۔ ہنگامی بنیادوں پر انتظامات کرنے میں دیر دکھائی گئی۔ روائتی انتظامی غفلت کا مظاہرہ کیا گیا اور وبا پھیلی۔ تفتان میں برتی گئی لاپرواہی کو دبانے کےلئے تبلیغی جماعت کے لوگوں کے ساتھ بعض مقامات پر بدتمیزی کی گئی اور توہین آمیز روّیہ اختیار کیا گیا جس پر لوگوں کا احتجاج جائز تھا۔ تبلیغی جماعت والوں نے انتظامیہ کا پورا ساتھ دیا اور کسی بھی شہر میں صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔
ان حالات میں مدرسہ فاروقیہ شجاع آباد نے بہترین کردار ادا کیا اپنے مدرسہ کو تبلیغی جماعت کے لوگوں کےلئے قرنطینہ میں بَدّل دیا اور ساتھ ساتھ مستحق حضرات کےلئے راشن کا وَسیع پیمانے پر انتظام کیا۔ شجاع آباد کے اِس مدرسہ نے جدید اور سائنسی حوالوں سے اپنے دینی مدرسے کو متحرک کیا اور ایک ماڈل کے طور پر اُبھرا جس کےلئے مولانا زبیر احمد صدیقی مبارکباد کے مُستحق ہیں۔ ملک کے دوسرے دِینی و مذہبی مَدرسے مدرسہ فاروقیہ شجاع آباد کو مثال بنائیں۔ جن کو مساجد بند کرانے کا شوق تھا اُن کا شوق پورا ہو گیا ہے۔ جمعہ نماز بھی گھر پر منتقل ہو گیا ہے۔ لیکن بصیرت کا تقاضا یہ ہے کہ اِس وبائی دَور میں مَساجد سے بہت ہی اہم کام لیا جا سکتا ہے۔ بے شک نیویارک سے نیو کراچی تک لوگ خوف زدہ ہیں۔ لیکن ایسے حالات میں ہی مَواقع بھی بہتری کے پیدا ہوتے ہیں۔ مدینة المنورہ سے عزیزم منیر محمود ٹرنک والا نے بہت خوبصورت تجویز بھیجی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ لوگ لاک ڈاﺅن توڑتے ہیں۔ گھر سے باہر نکلتے ہیں پوچھو کہ کیوں نکلتے ہو تو کہتے ہیں کہ کمانا ہے۔ کیوں کمانا ہے۔ کیونکہ کھانا ہے۔ مسئلہ کھانے کا ہے۔ مَساجد میں سارے بنیادی انتظامات موجود ہیں۔ چار دیواری بھی ہے۔ بڑے بڑے ہالز ہیں۔ کمرے بھی ہیں۔ لاک سسٹم بھی ہے حکومتی اہلکار علاقوں میں موجود ہیں۔ پٹواری، پرائمری سکول ٹیچرز اور رفاعی ادارے موجود ہیں۔ مساجد کو سنٹرل پوائنٹ بناﺅ۔ امام مسجد کو بھی شامل کرو۔ راشن بہتر انداز میں تقسیم ہو سکتا ہے۔ پیشہ ور گداگروں سے بھی بچ جاﺅ گے۔ محلے کے محلے ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔ یہ علاقے کے امام مسجد، پٹواری، اساتذہ، محلے کے معززین مل کر بہتر انداز میں سرانجام دے سکتے ہیں۔ ٹائیگرز فورس سے لینے والا کام لو۔ مزاجِ قوم کو سمجھو۔ یہ موقع ہے کہ حکومت سول ڈیفنس کے ادارے میں نئی روح پھونک دے اور اس ادارے کو فوری طور پر قومی پیمانے پر بحال اور فعال کرنے کا اعلان کرے اور ہر عمر کے رضا کاروں کو اپنی خدمات پیش کرنے کی دعوت دے۔
بے فکر رہو۔ بھوک سے کوئی نہیں مرے گا۔ بھوک کے بارے میں سوچنا ضرور ہے۔ مخیر حضرات باہر نکل آئے ہیں۔ پاکستانی معاشرہ انسانیت کے حوالے سے بہت جاندار ہے۔ جتنے اجلاس اور وفاقی کابینہ کی میٹنگز آپ نے کی ہیں پاکستان کی تاریخ میں کسی وزیراعظم نے نہیں کیں۔ ٹیکنو کریٹس اور مشیروں کو انتخابی جگہ نہ دو۔ اندر کھلبلی پھیلنی شروع ہو چکی ہے۔ منتخب حضرات اپنی تضحیک محسوس کر رہے ہیں۔ آپ کے منتخب اراکین خود صحافیوں کو اپنی بپتا سناتے ہیں۔ بات اور طرف نکل جائے گی۔ واجد ضیاءکی رپورٹ نے گھنٹی بجا دی ہے۔ ایک طرف یہ کہہ رہے ہو کہ کرونا پھیلے گا آنے والے دِن بہت سخت ہو سکتے ہیں۔ تو خان صاحب وقت ہے کہ قومی یکجہتی پیدا کرو اور وَبا کے خلاف جدوجہد کی قیادت کرو اور اجتماعی توبہ کرنے کی اپیل کرو۔ استغفار کی تلقین بھی کرو۔ آپ ملک کے وزیراعظم ہو۔ بڑے فیصلے کرنا اوراُن پر عمل کرانا آپ کا کام ہے۔ قارئین کرام کی خدمت میں دست بستہ عرض ہے کہ جو کچھ مجھ ناچیز کو مکہ المکرمہ سے مولانا مکّی صاحب نے عطیہ کیا ہے وہ آپ کی خدمت میں بھی پیش کر دوں۔ اِس وبائی ماحول میں اگر صبح شام اٹھارویں پارہ شریف کی سورة المومنون کی آیت نمبر115 سے 118 تک یعنی اَفحَسِب±تُم اَنَّمَا خَلَق±نَکُم±….اَن±تَ خَی±رُ الرَّحَمِنَی±نo اوّل آخر دَرود شریف کے ساتھ تین تین بار پڑھ لی جائیں تو بیماری سے بچا رہے گا۔ اسی طرح یہ درود شریف بھی صبح شام ورد میں رہے تو خیر رہے گی۔ ”اللھم صلی وسلم و بارک علی رُوحِ سیدنا مولانا محمد فی الاروح و صلِ عَلٰی قلبِ سیّدنا محمد فی قلوب۔ و صل علی جَسد سیدنا محمد فی الاجساد و صلی علی قبر سیدنا محمد فیی القبور۔“
مجھ ناچیز کو بھی اپنی دُعاﺅں میں یاد رَکھیے گا۔ اللہ آپ تمام کو اپنی امان میں رکھے (آمین)
(کالم نگارایوان صدر پاکستان کے
سابق ڈائریکٹرجنرل تعلقات عامہ ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved