تازہ تر ین

اِک امتحان

ایم اے ڈیال….(اظہار خیال)
اِس ناگہانی آفت نے دنیا کو اِک ہیجان میں مبتلا کر دیا ہے۔ کرے تو کیا کرے، بچے تو کیسے۔ ہدایات پر عمل کریں تو کیسے ؟ اور اگر مبتلا ہو جائے تو علاج کیونکر ہوگا۔ اِس ہیولے نے ذہنوں کو چکرا اور حواس کو باختہ کر دیا ہے۔ یہ اِمتحان تو اب آن پڑا۔ مسئلہ یہ ہے کہ اِس سے نبردآزما کیسے ہوا جائے۔ اگر ہم اِس کے نقصانات کا فہم اور اِس کے معاشرتی، معاشی، اِخلاقی اور اِنتظامی معاملات پر اثر کا ادراک رکھتے ہیں تو کچھ چیزیں روزِ روشن کی طرح عیاں ہیںکہ جن پرعمل درآمداب کوئی آپشن نہیں رہا اب تو یہ فرض عین ٹھہر چکا۔ قدرت اِبنِ آدم کو کس موڑ پر لے آئی جہاں وہ بے بس اور دم بخود کھڑا ہے آج اِس سے سوال صرف یہ نہیں کہ کیا تمہارا کوئی بنانے والا نہیں ہے بلکہ یہ بھی ہے کیا تم اِنسان نہیں ہو؟ اگر نہیں، تو کب بنو گے ا ور اگر آج اِبنِ آدم غلطی کا مرتکب ہوا تو کیا یہ عالمی اجتماعی غلطی نہ ہو گی۔ جس کے بارے میں تاریخ تو یہ کہتی ہے کہ قدرت اجتماعی غلطی کو معاف نہیں کرتی بلکہ نشانِ عبرت بنا دیتی ہے اور اب دنیا اِس کے بعد جس بھی راہ کا تعین کرتی ہے وہ عالمی ضمیر کا اِجتماعی فیصلہ ہو گا ۔ کیونکہ انسان کی جان کاری اُس مقام پر آن پہنچی کہ ہر شخص اقوامِ عالم کے احوال سے ہر لمحہ آگاہ ہے اور ترقی کی وہ اِنتہا کہ دنیا کی ہر چیزگویا اِنسان کی آنکھوں میں سمٹ آ ئی ہو۔ کیایہ مالک کی طرف سے اتمامِ حجت کاوہ مقام نہیںکہ اِبنِ آدم کے پاس اب لا علمی اور بے عملی کا کوئی بہانہ نہیں رہا؟ اور ہے تو صرف اقرار ً بالسان و تصدیق بالقلب یا پھر صریح اِنکار کا۔ دونوں ہی صورتوںکے نتائج سے خوب واقف ہے یہ زمانہ۔ اب بھی اگر ہم اخلاقی اقدار تو درکنار، کم از کم انسانی معیار پر ہی پورے اتر جائیںتو شاید ہم ایک دوسرے کا منہ دیکھنے کے قابل رہ جائیں۔
اِ س امتحان سے نکل کر دنیااگر رقابتِ باہمی اور رنگ و نسل سے بالا تر ہو کر اجتماعی بہتری و خوشحالی اور امنِ عامہ کی راہ پر گامزن نہ ہوئی تو بلا شبہ مو¿رخ یہ لکھنے پر مجبور ہو گاکہ ایک قوم تھی جس نے فضاءمیں پرندوں کی طرح اڑنا اور پانی میں مچھلی کی طرح تیرنا سیکھ لیا تھا۔ لیکن زمین پر اِنسانوں کی طرح رہنا نہ سیکھ سکی اور دنیا کے صفحوں میں گم ہو گئی۔ اوراب بحیثیت قوم ہم پر نا گزیر ہو چکا کہ ہم اپنی سمت کا تعین، معاشرے کی اِصلاح اور اِنتظامیہ کو منظم کریں۔ اب یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری بن چکی ۔ اِس سے روگردانی اور اِنحراف ملک اور معاشرے کی
اجتماعی خود کشی کے مترادف ہو گا۔کیونکہ اب یہ ہماری بقا کا مسئلہ بن چکا ہے۔ خدا نہ کرے کہ اِس وبا کو دوام نصیب ہو ۔اور اگر ہوا تو یہ صحت سے زیادہ اِنتظامی مسئلہ بن جائے گا۔ لوگ لاشیں تو اٹھا لیں گے لیکن بد اِنتظامی سہہ نہ پائیں گے اور اِن سب کےلئے وقت بہت کم بچا ہے۔ اور اتنا بھی کم نہیں کہ صیحح فیصلے کےلئے نا کافی ہو۔ کیونکہ یہ وقت فیصلے کا ہے۔ وقت جتنا کم ہے اتنا ہی موزوںبھی۔ اس کا فائدہ اٹھا کر درست فیصلے کریں۔سمت کا تعین ملکی سطح پر ہو اورعملدرآمد کی ذمہ داری تحصیل کی سطح پر۔پھر امن ہو، اِنصاف ہو، علاج ہو یا اِمداد۔اگر کوئی محروم رہے یا عمل درآمدی میں کوتاہی تو پھر وفاقی اور صوبائی حکومت ذمہ داران کو موقع پر قرار واقعی سزا دے یہی اس وقت حالات کو قابو اور لوگوں کو مطمئن کرنے کا آسان ذریعہ ہے۔
(کالم نگارمختلف امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved