تازہ تر ین

کرونا کی وبا؟

آغا امیر حسین
ملک کے نامور معالج ڈاکٹر جاوید سبزواری نے سوشل میڈیا پر کرونا وائرس کے سلسلے میں ایک اہم پیغام جاری کیا ہے، جو حسب ذیل ہے:-
”وائرس کی اپنی بائیو سینتھیٹک مشینری نہیں ہوتی، جس کا مطلب ہے یہ خوراک نہیں کھا سکتا، یہ خوراک کو توڑ کر اس سے اپنی روزمرہ کی سرگرمیاں سرانجام دینے کےلئے انرجی حاصل نہیں کرسکتا، یہ خود سے اپنی تعداد نہیں بڑھا سکتا، یہ اپنے نیو کلیک ایسڈز کو ریپلیکیٹ نہیں کرسکتا، حرکت نہیں کرسکتا۔ وائرس کو یہ سارے کام سرانجام دینے کیلئے ایک ہوسٹ کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے تمام وائرسز کو (Obligate Endoparasites ) کہا جاتا ہے، یعنی یہ کسی دوسرے زندہ جاندار کے جسم میں اندر رہ کر ہی افزائش کرسکتے ہیں، عمل تولید کرسکتے ہیں، انہیں لیبارٹری میں آرٹی فیشل میڈیا پر growنہیں کیا جاسکتا، وائرس چونکہ خود سے حرکت نہیں کرسکتا اس لئے یہ Passivelyہی کسی ہوسٹ تک پہنچتا ہے، ہوسٹ تک پہنچ کر سب سے پہلے یہ اسکے جسم کے سیلز میں گھستا ہے ، وائرس کی آمد سے پہلے ہوسٹ کے جسم کے سیلز ہوسٹ کیلئے کام کررہے ہوتے ہیں، اس کیلئے انرجی یعنی ATP پیدا کررہے ہوتے ہیں، بیماریوں کےخلاف لڑرہے ہوتے ہیں، مختصر یہ کہ جسم کو توازن یعنی homeostasis میں رکھنے کیلئے اپنا اپنا بہترین کام کررہے ہوتے ہیں، جونہی وائرس ہوسٹ کے ان سیلز میں داخل ہوتا ہے تو سب سے پہلے انکا مکمل کنٹرول اپنے اختیار میں کرتا ہے، سیلز کے میٹابولزم یعنی وہ ری ایکشنز جو ہوسٹ کے سیلز ہوسٹ کیلئے کام کررہے ہوتے ہیں اب وہ وائرس کیلئے کرنا شروع کردیتے ہیں، وائرس اپنے ہوسٹ کے سیلز سے سب سے پہلے اپنے نیوکلیک ایسڈز کی کاپیز تیار کرواتا ہے ، ایک سے دو ،دو سے چار اور اسی طرح وائرس کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے، وہ ایک ہوسٹ سیل جس کو آغاز میں ایک وائرس نے ہائی جیک کیا تھا اب وہ ہزاروں وائرسز کی آماجگاہ بن چکا ہوتا ہے، اسی دوران ہوسٹ سیل پھٹ جاتا ہے جسے لائسز کہا جاتا ہے ، ایک سیل کے پھٹنے سے ہزاروں وائرسز برآمد ہوکر ہوسٹ کے جسم کے ہزاروں نئے سیلز میں گھس جاتے ہیں، ایک بار پھر سے وہ تمام سیلز وائرس کی تعداد بڑھانے میں لگ جاتے ہیں اور لاکھوں نئے سائیکلز شروع ہوجاتے ہیں، ان سارے مراحل کے دوران ابھی تک ہوسٹ بظاہر صحت مند رہتا ہے ، کیونکہ ہوسٹ کا اپنا جسم بھی کھربوں سیلز کا بنا ہے اور لاکھوں سیلز تباہ ہونے کے باوجود نارمل دکھائی دیتاہے، ان مراحل کو وائرس کا انکیوپیشن پیریڈ (incubation period ) کہا جاتا ہے، بیماری کی علامات ظاہر ہونے تک یہ انکیوبیشن پیریڈ جاری رہتا ہے، جس ہوسٹ کے باڈی سیلز ایک خاص تعداد تک تباہ ہو جائیں تب جسم نارمل فنکشنز نہ کرسکنے کی وجہ سے بیماری کی علامات ظاہر کرنا شروع کردیتا ہے“۔
ان ساری معلومات کا مقصد آپ کو یہ یقین دلانا ہے کہ اگر آپ ابھی کرونا میں مبتلا نہیں بھی ہیں پھر بھی آپ خود کو اور دوسروں کو بچائیں، آپ میں سے کوئی بھی وائرس کا شکار ہوسکتاہے مگر وائرس انکیوبیشن پیریڈ میں ہونے کی علامات ظاہر نہیں کررہا۔
بہت سے لوگ سوال کررہے ہیں کہ اگر کرونا وائرس کا اب تک کوئی خاص علاج دریافت نہیں ہوا تو کرونا وائرس میں مبتلا لوگوں کی ایک خاص تعداد ہسپتالوں سے صحتیاب ہوکر کیسے ڈسچارج ہورہی ہے، تو اسکا جواب یہ ہے کہ ہسپتالوں اور قرنطینہ قائم کرنیکا واحد مقصد کرونا میں مبتلا لوگوں کو صحت مند لوگوں سے الگ تھلگ رکھنا ہے تاکہ بیمار لوگ اپنے ارد گرد صحت مند لوگوں تک وائرس کی منتقلی کا سبب نہ بنیں، آئسولیشن سینٹرز میں داخل مریضوں کو دنیا بھر میں صرف سادہ پین کلرز دی جارہی ہیں، سانس اکھڑنے پر وینٹی لیٹر پر شفٹ کیا جارہاہے، جو لوگ صحت یاب ہورہے ہیں وہ اپنے جسم کے مدافعتی نظام کے باعث ہورہے ہیں، مدافعتی نظام بیماری پیدا کرنےوالے جراثیموں کیخلاف ہمارے جسم کا ایک قدرتی حفاظتی نظام ہے اور یہی قدرتی حفاظتی نظام لوگوں کو کرونا سے محفوظ کررہاہے۔
لوگوں کا دوسرا سوال بھی ہے کہ کرونا وائرس جسم کے کن حصوں کو متاثر کرتا ہے ، کرونا وائرس سانس کی نالیوں اور پھیپھڑوں کو متاثر کرتا ہے، شروع میں جب وائرس سانس کی نالیوں کی دیواروں کے سیلز میں گھستا ہے تو ری ایکشن کے طور پر نزلہ ،زکام، کھانسی اور چھینکیں آنا شروع ہوجاتی ہیں، جسم وائرس کا قلع قمع کرنے کیلئے نارمل باڈی ٹمپریچر جوکہ 37ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے کو بڑھا دیتا ہے، اس وجہ سے بخار کی علامات ظاہر ہوتی ہیں، ان سارے عوامل سے یا تو وائرس کا قلع قمع ہوجاتا ہے اور مریض کے کرونا ٹیسٹ منفی آنے لگ جاتے ہیں یا پھر اگر یہ سارے عوامل کام نہ دکھا پائیں تو ہم کہتے ہیں مریض کا امیون سسٹم کمزور ہے اور پھر پھیپھڑوں کی تباہی شروع ہوتی ہے ، اس کے بعد ہر لمحہ مریض کو بچایا جانا مشکل سے مشکل تر ہوتا چلا جاتا ہے۔
ان ساری تفصیلات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہمیں اس عالمی وباءکیخلاف کھڑے ہوکر خود کو بچانا ہے، اپنے ملک کو بچانا ہے ، اپنے اہل خانہ کو بچانا ہے، اور تمام نسل انسانی کو اس بحران سے پار اتارنا ہے، اپنے گھروں میں قیام کریں اپنے ہاتھوں کو دھوتے رہیں، مصافحہ اور معانقہ سے پرہیز کریں، پرہجوم جگہوں سے دور رہیں، سیر سپاٹے ترک کردیں، پنجگانہ نماز اداکریں، وضو سے ہاتھ اور منہ دھل جائیں گے اور یقین پختہ ہونے پر بیماری کیخلاف مدافعت بڑھے گی، اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو (آمین) ۔
چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے امریکہ پر یہ الزام لگایا کہ اس نے امریکی فوجیوں کے ذریعے یہ وائرس ووہان میں پھیلایاتھا، امریکہ کی حکومت نے نہ صرف اس بات کی تردید کی بلکہ الٹا چین پر یہ الزام لگادیا کہ یہ چینی وائرس جس نے آج ساری دنیا میں تباہی مچا دی ہے ۔ اسکے چند روز بعد صدر ٹرمپ نے یہ اعلان کیا کہ یہ وائرس 12اپریل تک ختم ہو جائیگا، لیکن امریکہ میں ہونیوالی زبردست تباہی کے باعث ٹرمپ نے وائرس کے ختم ہونے کی تاریخ میں توسیع کردی، انکا کہنا ہے کہ اب یہ وائرس 18اپریل کو ختم ہوگا، اللہ کرے ایسا ہی ہو، روس کے صدر پیوٹن نے امریکہ اور یورپ کے ممالک کو تنبیہ کی ہے کہ وہ دنیا کی آبادی کم کرنے کے اس منصوبے بائیوجیکل پر عمل درآمد فوری ختم کریں۔آج اس سے ہٹ کر کہ یہ حملہ کس نے کیا ۔یہ ایک حقیقت ہے کہ اس حملے نے دنیا کی صنعتی ،معاشی اور معاشرتی جڑیں ہلا کر رکھ دی ہیں،لاکھوں افراد اس وائرس کی لپیٹ میں آچکے ہیں، یہاں اگر ایک اور کردار کا ذکرنہ کیا جائے تو زیادتی ہوگی۔ یوں تو موصوف گجرات کے مسلمانوں کے قتل کا تمغہ اپنے سینے پر سجائے پھرتے ہیں، بھارت کی وزارت عظمیٰ پر قبضے کے بعد انہوں نے 5اگست 2019کو کشمیر میں بھیانک قسم کا لاک ڈاو¿ن کیا ہوا ہے، اس لاک ڈاو¿ن کا مطلب مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کروانا ہے، یا سرے سے نام و نشان مٹا کر آر ایس ایس کے غنڈوں کو لاکر آباد کرنا ہے۔ عمران خان نے کشمیریوں کا وکیل بن کر جس بےباکی سے دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑا اس کی کوئی مثال نہیں ملتی، نریندر مودی اور اسکے ہم خیال ممالک کو یہ آخری وارننگ ہے کہ وہ طاقت کے نشے میں چور ہوکر ظلم اور ناانصافی کا راستہ ترک کر دیں۔
(کالم نگارمعروف دانشور اورصحافی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved