تازہ تر ین

کھرب پتی لیڈر اور ککھ پتی سیاسی کارکن

حافظ شفیق الرحمن
جن دنوںسیاستدان اپوزیشن اپوزیشن کھیلتے ہےں،حصولِ اقتدار کےلئے دی گئی کال پر بلا سوچے سمجھے لبیک کہنے اور کفن باندھ کر سڑکوں پر نکل آنے والے سیاسی کارکن ان کے بہت عزیز اور چہیتے دکھائی دیتے ہےں۔ اِن کی آﺅ بھگت اُن کا معمول بن جاتا ہے ۔ وہ انہےں مجاہد،ہیرو، شیر، قومی سرمایہ اور نہ جانے کن کن ہےوی ویٹ الفاظ سے یادکرتے ہےں۔مت پوچھئے !عوامی اجتماعات اور پارٹی میٹنگزمیں وہ کس کس انداز میں ان کی خوشامدکرتے ہیں۔نظریہ¿ ضرورت کے تحت اُن دنوں امیرترین سیاستدانوں کا ” وظیفہ“ اور” وِرد“ غریب ترین کارکنوں کی تعریف ہوتا ہے۔ حساس اور باخبر لوگوں نے ےہ حیران کُن اور پریشان کُن مناظر کئی باردیکھے ہےں۔ انہیں دیکھتے ہوئے انہیں ےوں محسوس ہوتا ہے کہ عہد ملوکیت کا کوئی” کنگلاشاعر“جیسے کسی ”عالم پناہ“ کے دربار میں قصیدہ پڑھ رہا ہو۔ےہ عیار + مکار+پرکار اور فنکار سیاستدان تاثر دےتے ہےں کہ وہ ان سیدھے سادے، بھولے بھالے ، معصوم لیکن ”جنونی اورنظریاتی“کارکنوں کو اپنی جماعت کے ”ڈھول سپاہی“کا درجہ دےتے ہیں۔ وہ ان کی راہوں میں اپنی پلکوں کی جھالریں اور دیدہ و دل کے پھول نچھاور کرنے کی اداکاری کرتے ہےں۔احتجاجی تحرےک جاری ہو تو اِن ارب پتی اور کھرب پتی سیاستدانوں کے عالی شان محلات کے دروازوں پر پرائیویٹ ہسپتالوں کے دروازوں کا گماں گذرتا ہے۔ےہ غریب کارکنوں کے استقبال کےلئے چوبیس گھنٹے کھلے رہتے ہیں….تو….وہ امیر مریضوں کے سواگت کیلئے۔ اپوزیشن کے دنوں میں انتظار کی آنکھ کی طرح وا رہنے والے ےہ دروازے مطلب نکل جانے کے بعد کنجوس کی مٹھی اور نشئی کی آنکھ کی طرح بند ہو جاتے ہےں۔
نام نہاد بڑی جماعتوں کے یہ کھرب پتی قائدین اپنی نجی مجالس میں ان سادہ لوح کارکنوں کو غریب غربائ، فقیر فُقرائ، کمی کمین، ماجھا ساجھا، مہاترشاتڑ اور ”عقل سے پیدل “ ایسے” عظیم القابات “سے یاد کرتے ہیں۔ پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے اپنے ان سودائیوں اور شیدائیوں کے استقبال اور خیر مقدم کے لیے”خاص اےام “مےں وہ مع اہل و عیال اپنے عالی شان محلات کے صدر دروازوںپرچلمنوںکی طرح ایستادہ اور میٹ (MAT) کی طرح ہروقت فرش پا انداز ہوتے ہیں…. ریاستی مشینری کی رکاوٹوں کو پھلانگ کر جب کوئی کارکن ان کے در ِدولت اور آستانہ¿ عالیہ پر حاضر ہوتا ہے تواس کے ذوقِ خوش خوراکی کی تسکین اور ضیافتِ طبع کے لیے رنگ رنگ مشروبات و ماکولات، ثمرات و فواکہات اور مفرحات و مقویات کے دسترخوان سجا دےے جاتے ہےں۔ جنم جنم کے بھوکے سیاسی کارکن جب اس دسترخوان پر ہاتھ صاف کر چکتے ہیں تو اُن کی تواضع مہنگے ترین انرجی اور سافٹ ڈرنکس سے کی جاتی ہے۔ کارکن بھی جانتے ہیں کہ یہ ’ ’اعزاز و اکرام،یہ ”موج میلہ“یہ عیش و عشرت،یہ ”کھابے“اوریہ ”چھابے“ صرف چند دنوں کےلئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کھابہ خوری کےلئے قائدےنِ حزب اختلاف کے محلات کی جانب یوں بے تابانہ اور والہانہ لپکتے رہے ہیںجیسے طویل صحرائی سفر کے بعد بھوکے اور پیاسے اونٹ نخلستانوں کی جانب بڑھتے ہیں۔
ہر کسی کے علم میں ہے کہ ماضی مرحوم کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین ”ولایتی دور“کی دیسی ریاستوں کے خودمختار راجوں کی طرح اس پاک سرزمین پر جدی پشتی اور موروثی راج قائم کرنا چاہتے ہیں اور ہمہ وقت اسی کے سندر اور سہانے سپنے دیکھتے ہیں۔ان کے ہونٹوںپر تو جمہوریت کے دعوے ہیں اور ان دعوﺅں کے باوجود ان کا طرز سیاست اور انداز حکومت اس بات کی چغلی کھاتا ہے کہ یہ قرونِ مظلمہ کے شہنشاہوں کی طرح مطلق العنان فرمانروا بننا چاہتے ہیں۔ ریکارڈ اس امر کی شہادت دیتا ہے کہ ان کا چلن، روش اور خواہش تو یہی رہی کہ جب یہ مسندِ اقتدار پر فروکش ہوں تو ریاست کے تمام ادارے ”جل جلالہ“ کا ورد کرتے ہوئے صبح و شام ان کے حضور” سجدہ ہائے تعظیمی“ کا نذرانہ ¿ عقیدت پیش کریں۔
بے چارہ عام سےاسی کارکن تو انہیں منزل اقتدار تک پہنچانے کےلئے بے خطر ”آتش نمرود“ میں کود پڑتاہے اور منہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا ہونے والے ان شیشہ مزاج، شبنم نہاد اور گل بدن و گل پیرہن شہزادوں اور شہزادیوں نے جب کسی جلسہ، جلوس، ہڑتال یا ہنگامے کے دوران ایک بھی لاٹھی کھانا ہوتی تو اس کی ”باقاعدہ منصوبہ بندی“ کی جاتی۔ جاگیرداروں اور صنعت کاروں کے ”شاہی“ خانوادوں سے تعلق رکھنے والے ان وڈیروں، فصلی بٹیروں، سیاسی مچھیروں، سدابہار لٹیروں اور ملکی و قومی مقدر کے اُفق پر چھائے ان اندھیروں کے ہٹے کٹے اور نرم و نازک جسموں پر کبھی کسی تحریک کے دوران ہلکی سی خراش بھی نہیںآتی۔ان کےلئے تو جیلیں آج بھی بھی پکنک پوائنٹ ہیں۔ اے کلاس سے تعلق رکھنے والی اے کلاس لیڈر شپ کو جیل میں بھی اے کلاس ہی عطا کی جاتی ہے۔یہ جیلیں جو غریب سیاسی کارکنوں کےلئے عقوبت خانوں، بوچڑخانوں اور دوزخ کی حیثیت رکھتی ہیں، ان صاحب بہادروں کےلئے وینس اور کیپری کا جزیرہ بن جاتیں۔انہیں تو جیلوں میں ہنی مون تک منانے کی سہولتیں بھی حاصل رہیں، ان کے بھائی بند پسِ دیوارِ زنداں ہوں تو انہیں باقاعدگی سے تینوں وقت فائیو سٹار ہوٹلوں کے سیون سٹار کھانے فراہم کیے جاتے ۔ ان کو اجازت تھی کہ یہ جیل کی بیرکوں کو بھی واجد علی شاہ کا مٹیامحل، راجہ اندر کا اکھاڑہ اور محمد شاہ رنگیلا کا قلعہ معلیٰ بنانا چاہتے ہیں تو بنالیں۔ دورانِ اسارت ان کی گردن میں ہلکی سی موچ بھی آ جاتی تو ان کے ”خون کی پیاسی حکومتیں“ جانِ عالم پیا کی ”نازک گردنیا“ کے پٹھوں کی مالش کےلئے سرکاری خزانہ سے 30لاکھ خرچ کر کے مساج مشین یورپ سے درآمد کرتیں….اور….اس کے برعکس انہی حکومتوں کے ہتھے کبےر تاج، بودی پہلوان، شوکی جٹ، عارف خان، تنویر عالم بٹ، طارق گل، خواجہ جمشید امام، چیئرمین صدیق، سائیں ہرا، سہیل ملک یا روشن علی رکشہ ڈرائیور جیسا کوئی عام سیاسی کارکن چڑھ جاتا تو اس کے جسم کے ہر ٹانکے اور بخیے کو ادھیڑ کر رکھدیا جاتا۔
سو، اے سیاسی کارکنو! یہ تو ہوتا آیا ہے کہ دکھ ”بی فاختہ“ سہتی ہے اور انڈے ”کوے“ کھاتے ہیں۔ ماضی میںبھی انڈے کوﺅں نے کھائے تھے، اب بھی کوے کھا رہے ہیں اور مستقبل میں بھی کوے ہی کھاتے رہیں گے۔ ہرمرتبہ بی فاختہ کا مقدر دکھ سہنا ہوگا اور انڈے کھا کھا کر کوﺅں کی توندوں کا حجم بڑھے گا اور بالآخر دکھی بی فاختہ انڈے دینا چھوڑ دے گی۔ پس اے سیاسی کارکنو! بس تمہارا کام یہی ہے کہ پیٹ پر پتھر اورآنکھوں پر پٹی باندھ کراپنی اپنی قیادتوں کے گن گاﺅ،ان کی عظمتوں کے ترانے الاپو، ان کی شان و شوکت کے قصیدے پڑھو۔ پلوں کے نیچے سے کتنا پانی کیوں نہ بہہ جائے، پل بیٹھ ہی کیوں نہ جائیں،تم تھک ہار کر نہ بیٹھنا۔ تمہارے لیے بیٹھنا منع ہے، اٹھو! لرزتے، کانپتے اور تھرتھراتے ہوئے پلوں پر کھڑے ہو کر ان کی تعریفوں کے پل باندھو۔بھلے سے تمہارا لیڈر عدالتوں کو للکارتے ہوئے ادھم مچائے کہ ”مجھے کیوں نکالا“۔ بعد از ”خرافاتِ بسیار“جب وہ اپنی کالی کرتوتوں کی وجہ سے جیل جائے تو بیمار پڑجائے اور یہی عدالتیں انہیں6ہفتوں کے علاج کےلئے برطانیہ جانے کی اجازت دیدیں اور 12 ہفتے گزرنے کے بعد بھی جب وہ وطن واپسی کا نام نہ لیں تو عوام عدالتوں سے زیر لب اور پسِ لب یہ استفسار کریں کہ” اسے کیوں نکالا؟“ یہ برطانیہ کے قصر نما فلیٹس میں بیمار ہونے کے باوجود انیس انیس ڈشیں کھاکر توند شریف پر ہاتھ پھیریں اور فرنچ منرل واٹر نوشِ جاں کریںاور انہیں لاک ڈاﺅن کی حالت میں گندم کے ایک ایک دانے اور صاف پانی کے ایک ایک قطرے کو ترستے اپنے سیاسی کارکنوں کا خیال تک بھی نہ آئے توکھرب پتی قائدین کے ککھ پتی کارکن بھی سوچیں کہ وہ اس لا پروا قیادت کو اقتدار دلانے کےلئے کیوں ہلکان ہورہے اور مرے جا رہے ہیں۔ حالانکہ اے کارکنو! تمہارے پاس غم کھانے اور غصہ پینے کے سوا کچھ بھی نہیں۔ ذرا سوچو تو سہی کہ آپ کی قیادت دریائے ٹیمز کے کنارے دل کشا فضا میں مٹرگشت کرتے ہوئے ہوا خوری کر رہی ہے اور اس کے بچے مے فئیر اور ایون فیلڈ کے نائن سٹار اپارٹمنٹس میں دنیا جہان کی نعمتوں سے اپنی جہازی سائز توندوں کو بھر رہے ہیں اور تمہارے بھوک سے نڈھال بچوں کی ماں چولہے پر واسا کے جراثیم آلود پانی سے بھری ہنڈیا میں روڑے ڈال کر چمچہ ہلارہی اور چولہے کے آس پاس فرشِ زمین پر اوندھے منہ پڑے خالی پیٹ بچوں کو تھپکیاں اور تسلیاں دے دے کر سلانے کی کوشش کر رہی ہے ۔ حیرت ہے کہ تم اس کے باوجود نعرے لگاتے نہیں تھکتے کہ” قائد تمہارا اک اشارا: حاضر حاضر لہو ہمارا“۔
(سینئرصحافی اورقومی وسیاسی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved