تازہ تر ین

بہاولپور ، ملتان یا کچھ اور ….

جاوید کاہلوں
چودہ صدیاں قبل دنیا میں ایسی صورتحال نہیں تھی، چھوٹی چھوٹی بستیاں تو اپنی جگہ پر تھیں ،بڑے بڑے شہر بھی تب محدود تھے۔اکثر بڑے شہروں کے گردا گرد دفاع کیلئے فصیلیں بنائی گئی تھیں، داخلے کیلئے ان میں بڑے بڑے گیٹ لگے ہوتے تھے، دشمن کے حملے کی صورت میں اگر کھلے میدان میں مقابلہ کرنے کی ہمت نہیں ہوتی تو یہ گیٹ بند کرکے شہر میں محصور ہوکر مقابلہ کیا جاتا تھا۔ غزوہ خندق کے موقع پر کفار عرب ایک بہت بڑا اتحادی لشکر تشکیل دیکر مدینہ کے چھوٹے سے قصبے پر حملہ آور ہوئے تو سرکارمدینہ علیہ السلام نے دفاعی حکمت عملی اپنا کر شہر کی حفاظت کیلئے اس کے شمال مشرق کی جانب ایک دفاعی خندق کھودی تھی ،اس کو پار کرنا کسی پیدل یا سوار کیلئے انتہائی مشکل کام تھا۔ جنگ یمامہ میں جب مسیلمہ کذاب کی فوج کے پاو¿ں اکھڑے تو انہوں نے بھاگ کر ایک قریبی حفاظتی دیوار کھچے باغ میں پناہ لی، یہ جگہ سعودی عرب کے دارلحکومت الریاض اور ایک بڑے شہر الخرج کے بیچ آج بھی موجود ہے، یہ ایک نخلستان ہے ،وافر پانی کا چشمہ اور کھجور کے درخت آج بھی وہیں ایستادہ ہیں۔ راقم کو اپنی سروس کے دوران کئی بار سعودی عرب میں وہاں سے گذرنے کا اتفاق ہوا ، حضرت خالد بن ولیدؓ نے گرم تعاقب کرکے مسیلمہ کے حفاظتی دروازے کو کھول کر ، اس کو اس کے باغیچے ہی میں واصل جہنم کردیاتھا۔
ہمارا آج کا موضوع ہمارے شہر ،ان کا سائز اور ان شہروں کو چلانے کے انتظامی امور سے متعلق ہے۔ بڑی بڑی فتوحات کے بعد صحرائی عربوں کا پہلی بار واسطہ قیصر و کسریٰ کے بڑے شہروں سے پڑاتھا، لاکھوں مربع میل کے مفتوحہ علاقوں میں شمال کی جانب شہر دمشق اور جنوب کی جانب مدین وغیرہ اسلامی سلطنت میں شامل ہوئے تھے۔ حضرت عمر ؓبن خطاب کے پاس اتنے بڑے علاقے اور انکے شہروں کا انتظام و انصرام پہلی حکومتی ترجیح تھے، اسی غور و غوص میں فاروق اعظمؓ کی زبان سے چودہ سو برس قبل ایک خالص حکیمانہ فقرہ ارشاد ہوا، فرمایا !”اپنے شہروں کو ایک حد سے آگے نہ بڑھنے دو، اگر پھر بھی توسیع مقصود ہو تو نئے شہر آباد کرلو“، اسی سوچ کے تحت آپ نے اپنے دور حکومت میں بیشمار چھاو¿نیاں اور نئے شہر تعمیر کرائے، شہر کوفہ بھی آپ ہی کے وقت میں آباد ہوا تھا۔ آپ کے اس قول کی حکمت وطن عزیز کی مثالوں سے سمجھنی ہو تو شہر کراچی پر ہی غور کرلیں۔ پچھلی صدی ستر کی دہائی تک یہ شہر کچھ زیادہ نہیں پھیلا تھا، پرانے کراچی سے میلوں دور ملیر چھاو¿نی آباد تھی اور درمیانی علاقہ سب خالی تھا، فقط ایک بین الاقوامی ہوائی اڈہ ڈرگ کالونی کے بالمقابل موجود تھا۔جب نیا نیا پاکستان بنا تو اس نوزائیدہ مملکت کو ایک نئے دارالحکومت کی ضرورت پڑی ،بیوروکریسی چونکہ اکثریت سے اہل زبان لوگوں کی تھی اس لئے انہوں نے کراچی شہر سے ملحقہ ہی فیڈرل اے اور بی ایریاز وغیرہ متعین کرکے وہاں اندھا دھند تعمیراتی کام شروع کروادیا، اس طرح ایک ساحلی بندرگاہ ہونے کے علاوہ کراچی کو کپیٹل سٹی بھی بنا دیا گیا، قدرتی امر تھا کہ آناًفاناًرونقیں بڑھیں اور ملک بھر سے روزگار کے سلسلے میں کراچی شہر کی طرف نقل مکانی شروع ہوگئی، آبادی کے اس بے ہنگم دباو¿ کے تحت لاتعداد سماجی، سیاسی اور معاشرتی مسائل پیدا ہونے شروع ہوگئے ۔ ایوب خان نے اپنے دور میں اس کو محسوس کرلیا اور دارالحکومت کے طور پر اسلام آباد کو نیا شہر بنانے کا فیصلہ کیا، مگر دیر ہوچکی ،تیر کمان سے نکل چکا تھا، اسلام آباد کا نیا شہر تعمیر ہوتے ہوتے سالوں بیت گئے، کراچی بڑھتا رہا۔ اسی کی دہائی ہی میں لسانی فسادات شروع ہوگئے، شہر کا انتظام وانصرام مشکل تر ہوتا گیا، سہولت کےلئے اس کے ایک کی بجائے چار ضلع بنادیئے گئے، مگر بات پھر بھی نہ بنی، مختلف وجوہات کی بناءپر معاشرے میں سلگتی آگ بڑھتی ہی گئی۔ ایک پرسکون ،امن پسند اور ہنستے بستے شہر میں امن کی رتی بھر مقدار بھی ناپید ہوگئی، برسہا برس کے بعد پھر افواج پاکستان کو بلانا پڑا جنہوں نے طویل اور صبر آزما جدوجہد کے بعد درجنوں شہادتیں دیکر ابھی کچھ امن بحال کیا ہے۔ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے، ہمیں زندگی کے ہر مرحلے میں روشنی کیلئے مدینہ کی طرف رجوع کرنا ہوتا ہے کہ ہمارا آخری سہارا وہیں پر ہے، اے کاش کہ کراچی شہر کو بے ہنگم وسعت دینے سے قبل فرمان فاروق اعظمؓ کو دھیان میں لے آتے، ہمیں یقینا کراچی میں ایسا کرنے سے امن و سکون ہی ملتا جس کے کہ آج ہم وہاں پر سب سے بڑے متلاشی ہیں اور آئے دن اس سلسلے میں افسران کی اکھاڑ پچھاڑ میں بھی پڑے دکھائی دیتے ہیں۔ خیر کراچی میں تو جو ہونا تھا سو ہوگیا، پچھلے برسوں میں وطن عزیز میں دواور کام بھی بڑی تیزی سے ہوئے ہیں، اور اگر ان پر غور کرکے ان کے حدود و قیود متعین نہ کئے گئے تو ادھر بھی ہمیں کراچی جیسی صورتحال کیلئے تیار رہنا پڑیگا، کیونکہ ان دو کاموں کا یہ ایک فطری نتیجہ ہوگا۔
پہلا کام تو یہ ہے کہ پچھلے پچاس برسوںمیں مغربی پاکستان (حالیہ پاکستان) کی آبادی ساڑے پانچ کروڑ سے تجاوز کرکے کوئی بائیس تیئس کروڑ ہوچکی ہے، ظاہر ہے کہ لامحالہ طور پر ایسی بڑھتی آبادی کیلئے خوراک کے علاوہ بودوباش کو بھی اتنا ہی وسعت دینے کی ضرورت ہے ، اس پہلے کام سے لہٰذا دوسرا بڑا جڑا ہوا کام بڑھتی آبادی کیلئے اسی بودو باش اور مکانات وغیرہ کا ہے، ”خوراک“ آج کا ہمارا موضوع نہیں۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس بڑھتی آبادی نے تیزی کے ساتھ شہروں کا رخ اختیار کیا ہے۔ ایک یہ بڑھتی آبادی دوسری ہماری تقسیم درتقسیم ہوتی زراعتی معیشت نے ہمارے شہروں پر آبادی کے دباو¿ کو اس قدر بڑھا دیا ہے کہ ہمارے سب شہر مقامی حکومتوں کی عدم موجودگی میں پھیلتے ہی چلے جارہے ہیں، بڑے بڑے شہر اس سے خصوصی طور پر متاثر ہوئے ہیں، اس سے پہلے کہ مبادا ہمارے لاہور و فیصل آباد ،گوجرانوالہ و ملتان وغیرہ بھی کراچی بن جائیں ہمیں اس مسئلے کا حل فاروق اعظمؓ کے قول زریں سے ڈھونڈنا ہوگا۔
آجکل پنجاب کا ذکر کریں تو آبادی کا ایک بے ہنگم دباو¿ اسی صوبے میں ہے، شنید ہے کہ جنوبی پنجاب کو ایک الگ صوبہ بنانے کی طرف اقدامات اٹھائے جارہے ہیں کہ یہ تحریک انصاف کا ایک انتخابی نعرہ تھا، میڈیا میں اس سلسلے میں بحث ہورہی ہے ، مضامین لکھے جارہے ہیں کہ اس مجوزہ صوبے کا دارالحکومت ملتان ہو یا بہاولپور، دونوں اطراف کے لوگ اس سلسلے میں اپنے اپنے وزنی دلائل دے رہے ہیں۔ ہم اس سلسلہ میں اپنی تجویز حضرت عمر فاروقؓ کے قول کے مطابق دینا چاہیں گے کہ یہ وطن تو ہمارا ہی ہے ، خواہ صوبہ کوئی بھی ہو، ہم مشورہ دینگے کہ جنوبی پنجاب کا دارالحکومت نہ تو شہر ملتان میں ہو اور نہ ہی بہاولپور میں، کیونکہ جنوبی پنجاب کے یہ پہلے سے ہی دو بڑے شہر ہیں، انکی مزید وسعت ٹھیک نہ ہوگی، لہٰذا دارالحکومت کو اس طرح ریگستانی علاقہ میں سائٹ کرنا چاہیے کہ وہ سارے جنوبی پنجاب کا پرکار پکڑ کر مرکز بنتا ہو، یہ ایک بالکل نیا شہر ہوگا، جیسے کہ ہمارا اسلام آباد یا دوسری جنگ عظیم کے بعد جرمنی کا بون شہر وغیرہ، دوسرے اس سوال کا مزید بہتر جواب حاصل کرنے کیلئے ہمیں سیاستدانوں کے چنگل سے اسے نکالنا ہوگا، کیا ہی اچھا ہو کہ کوچہ اقتدار والے اس سلسلہ میں جناب ضیاشاہد صاحب (جوکہ خود بھی جنوبی پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں) کی سربراہی میں دانشوروں کی ایک کمیٹی تشکیل دیکر ان کی بہترین رائے سے استعفادہ کریں، کیونکہ ایسے یگانہ روزگارلوگ اپنی بہترین رائے سے ہی صوبہ جنوبی پنجاب کو مستقبل کیلئے سنوارنے کا فریضہ انجام دینگے۔
(کرنل ریٹائرڈ اور ضلع نارووال کے سابق ناظم ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved