تازہ تر ین

زراعت کو یرغمال بنانے والے جاگیردار

اکرام سہگل
حال ہی میں آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا نے خبردار کیا ہے کہ دنیا 2009 ءمیں ہونےوالی کساد بازاری سے بھی شدید تر مالیاتی بحران کا شکار ہونےوالی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی امریکی معیشت کی بحالی کےلئے ”ٹاسک فورس“ کی بات کررہے ہیں۔ پاکستان کو بھی کورونا وائرس سے پیدا ہونےوالے سنگین حالات سے متعلق خطرات درپیش ہیں۔ پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے کےلئے گزشتہ برسوں میں مسلسل کوششیں کی جارہی ہیں۔ دنیا میں وبا بعد میں پھیلی لیکن اس سے قبل ہی آئی ایم ایف سے حاصل کردہ قرض کی شرائط کے باعث پاکستان میں مہنگائی بڑھ چکی تھی۔ وبا کی روک تھام کےلئے جزوی یا مکمل لاک ڈاو¿ن ضروری ہے لیکن اس کے ساتھ ہی گرتی ہوئی معیشت پر اس کے اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
زراعت ہماری معیشت کا مرکزی ستون ہے اور رہے گی۔ ہمیں ہر قیمت پر اس کا تحفظ کرنا ہوگا۔ ہمیں خود سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ جو ملک اپنے تن ڈھانپنے اور پیٹ بھرنے کا سامان نہ کرسکے ، قلت اور مہنگائی سے بے حال ہو وہ انہی اشیائے ضروریہ کی برآمدات کیسے کرسکتا ہے؟ زراعت کے شعبے کو مستحکم رکھنے کےلئے مکمل ”لاک ڈاو¿ن“ نہیں ہوسکتا۔ کاشتکاروں کو کھیتی باڑی اور زمینیں آباد کرنے سے نہیں روکنا چاہیے۔ خوراک کی فراہمی میں کوئی خلل واقع ہوا تو اس کا سب سے زیادہ نقصان آبادی کے پسماندہ طبقے کو اٹھانا ہوگا جو پہلے ہی خوراک اور غذائیت کی کمی جیسے مسائل کے گرداب میں ہے۔ہماری بنیادی غذائی ضروریات کا 62فی صد اناج سے پورا ہوتا ہے۔ 2018ءکے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گندم کی مجموعی پیداوار 2کروڑ 63لاکھ ٹن تک پہنچ چکی تھی۔ 2005ءمیں ہماری مجموعی پیداوار دو براعظموں جتنی رہی۔ ایف اے او کے مطابق اُس برس پاکستان میں 2کروڑ 15لاکھ 91ہزار 4سو میٹرک ٹن گندم پیدا ہوئی جبکہ پورے براعظم افریقا کی پیداوار 2کروڑ 3لاکھ 4ہزار 5سو 85تھی۔ اسی طرح جنوبی امریکا کی مجموعی پیدوار 2کرووڑ 45لاکھ 57ہزار 784میٹرک ٹن تھی۔ گندم کی پیداوار ہماری اولین ترجیح رہنی چاہیے۔ قحط سالی سے فصل پر ہونےوالے مضر اثرات کے باعث اس میں رکاوٹ آجاتی ہے ورنہ بنیادی طور پر پاکستان خوراک کا برآمد کنندہ ملک ہے۔ پاکستان چاول، کپاس، مچھلی، پھل(بالخصوص نارنجی اور آم) برآمد کرتا ہے۔ وبا کے باعث پیدا ہونے والے معاشی بحران میں ہمارے زرعی شعبے کےلئے کئی مواقع پیدا ہوسکتے ہیں لیکن اس کےلئے پیداوار جاری رکھنا ہوگی یا اس میں اضافہ بھی کرنا ہوگا۔ اس کےلئے زرعی شعبے میں استعمال ہونےوالی اشیا کی فراہمی یقینی بنانا پڑے گی۔
کپاس کی پیداوار کے اعتبار سے پاکستان دنیا میں چوتھے نمبر پر آتا ہے۔ ہماری سب سے بڑی پیداواری صنعت ٹیکسٹائل ہے اور اس شعبے میں برآمدات کرنےوالا پاکستان ایشیا کا آٹھواں بڑا ملک ہے۔ پاکستان کی برآمدات سے ہونےوالی آمدن کا نصف ٹیکسٹائل سے حاصل ہوتا ہے۔ ملک کے جی ڈی پی میں اس کا حصہ 8اعشاریہ 5فیصد ہے۔ پاکستان کی 45 فیصد افرادی قوت کا روزگار اس شعبے سے وابستہ ہے اور صنعتکاری سے متعلق افرادی قوت میں ٹیکسٹائل کا حصہ 35فیصد ہے۔ حالیہ برسوں میں ہماری ٹیکسٹائل کی برآمدات میں غیر معمولی کمی واقع ہوئی۔ کپڑا سازی کرنےوالے متعدد ممالک خام مال اور دیگر پیداواری اشیا کی فراہمی کےلئے چین پر انحصار کرتے ہیں، ان کی مانگ میں اضافے کے ساتھ ہی طلب و رسد کے مابین خلا پیدا ہوجائے گا۔ ایسے حالات میں پاکستان اور بھارت جیسے ممالک کےلئے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ بھارت میں اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کےلئے اعلیٰ سطح پر حکمت عملی کی تیاری شروع ہوچکی ہے۔ اپنی برآمد بڑھانے کی اہلیت اور استعداد رکھنے والے پاکستانی برآمدکنندگان سے متبادل تلاش کرنے والے مغربی خریداروں نے طلب و رسد کے اس خلا کو پورا کرنے کےلئے رابطے شروع کردیے ہیں۔ دودھ کی کثیر پیداوار کے ساتھ پاکستان میں اس کا استعمال بھی بہت زیادہ ہے جبکہ پھل، سبزیوں، مچھلی اور گوشت کی کھپت ابھی تک کم ہے۔ پھلوں اور تازہ سبزیوں کےلئے ہمارا مکمل انحصار ان کی موسمی دستیابی پر ہے، کھیتوں اور باغات سے منڈیوں تک نقل و حرکت کے نظام میں نقائص کے باعث یہ مزید محدود ہوجاتی ہے۔ بالخصوص بچوں کو غذائی کمی سے محفوظ رکھنے کےلئے اشیائے خور و نوش کی رسد کے تمام ذرائع پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
لاک ڈاو¿ن کے باعث جن ایسی اشیاءیا اجناس وغیرہ کی فراہمی رکی ہوئی ہے اسے فوری طورپر جاری کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت نے تعمیراتی صنعت کے احیا کےلئے مراعات دینے کا انتہائی احسن اقدام کیا ہے۔ وفاقی و صوبائی حکومتوں کو خوراک کی رسد برقرار رکھنے کےلئے بیج، کرم کش ادویات اور کھاد کی بروقت فراہمی کےلئے بھی فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔ کروپ لائف پاکستان ایسوسی ایشن کے مطابق فصلوں کی بروقت کاشت کےلئے بیج اور کرم کش ادویہ کی فراہمی اور زراعت سے منسلک افرادی قوت کو زمینوں تک فوری رسائی کے لیے اقدامات ناگزیر ہیں کیوں اسی پر ہماری غذائی اور صنعتی ضروریات کا انحصار ہے۔ کپاس اور دیگر فصلیں متاثر ہونے کی صورت میں حالات مزید سنگین ہوسکتے ہیں۔ اس سے ہماری معیشت اور کسانوں کی آمدن پر تباہ کن نتائج مرتب ہوں گے۔ پہلے سے قائم سپلائی لائنزمتاثر ہورہی ہیں اس لیے متبادل پر تیزی سے کام کرنا ہوگا۔ اس میں رقوم کی منتقلی کے نظام کو مزید تیز اور محفوظ بنانے، ری فنڈ ادائیگیوں سے متعلق خود کار نظام کی تشکیل جیسے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔
شوگر اور گندم کی کارٹلز سے متعلق ہونےوالے حالیہ انکشاف سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ کس طرح اضافی گندم اور شکر وغیرہ کی برآمد اور ان پر سبسڈی حاصل کی گئی اور ان اشیاءکی مصنوعی قلت پیدا کی گئی۔ یہ سر چکرا دینے والے انکشافات ہیں۔ کچھ عرصہ قبل میں نے ایک ایسی شخصیت سے ، جن کی کاروباری اور سیاسی فراست کی وجہ سے میں دلی احترام کرتا تھا، درخواست کی تھی کہ وہ گندم اور چینی کی برآمد رکوانے کےلئے حکومتی سطح پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔ انہوں نے مجھے میڈیا میں اس حوالے سے بات نہ کرنے پر قائل کیا اور اس حوالے سے پوری کوشش کا یقین بھی دلایا۔ مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوگئی کہ میں نے ان کی باتوں کا اعتبار کیا۔ وہ بھی پاکستان کی لوٹ مار سے فائدہ حاصل کرنےوالوں میں سے نکلے جنھیں اہل اقتدار سے اپنی قربت بہت عزیز ہوتی ہے۔ یہ بھی تشویش ناک بات ہے کہ ہمارے ادارے اس معاملے سے کیسے بے خبر رہے؟ یہی سمجھ آتا ہے کہ درون خانہ عمران خان کی حکومت گرانے کےلئے کوششوں کا آغاز ہوچکا ہے۔ حکومت سے مسلم لیگ ق اور ایم کیو ایم کی بے سبب خفگی اور فضل الرحمن کا دھرنا یاد رہے۔ سبھی جانتے ہیں کہ یہ عمران خان کو پسپا کرنے کےلئے ”کروایا“ گیا تھا۔ احتساب سے فرار کا یہ آزمودہ نسخہ ہے کہ کوئی ایسا بحران پیدا کردیا جائے جس سے نجات کی قیمت حاصل کی جاسکے۔ حکومت کو یہ تحقیقاتی رپورٹ عام کرنے سے روکنے کےلئے بلیک میل بھی کیا گیا۔ حب الوطنی پر زبانی جمع خرچ تو بہت ہوتا ہے لیکن کس میں حوصلہ ہے کہ کون ایسے لوگوں اور ان کے کرتوتوں کی پردہ پوشی کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچائے؟ اگر یہ لوگ چین میں ہوتے تو ممکن ہے ابھی تک ان کی ساری دولت ضبط کرلی گئی ہوتی۔
وبا کے بعد دنیا کی معیشت پہلی جیسی نہیں رہے گی۔ کئی مشکلات آئیں گی لیکن ہم چوں کہ اپنا تن ڈھانپنے اور پیٹ بھرنے کے حوالے سے خود کفالت یا پیداواری صلاحیت رکھتے ہیں اس لیے اس بحران میں ہمارے لیے مواقع بھی پوشیدہ ہیں۔ لیکن ہم پاکستانی عوام کی جیب پر ڈاکا ڈال کر کارٹلائزنگ کرنےوالے ان سفاک جاگیرداروں کو تجوریاں بھرنے کی اجازت بھی نہیں دے سکتے۔ بھارت کی مودی سرکار ہم سے علی الاعلان نفرت کرتی ہے اس لیے ہماری کھلی دشمن ہے۔ ہمیں اصل خطرہ ان لوگوں سے ہے جو دوستوں کا بھیس بنا کر ہمارے فیصلہ ساز اداروں میں جابیٹھے ہیں۔ یہ ہمارے اصل دشمن ہیں۔ جنگی حالات میں ایسے منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کو گولی سے اُڑادیا جاتا ہے۔ کیا ہم انھیں بھی لوٹ کے مال سے مزے کرنے کے لیے لندن جانے دیں گے؟
(فاضل کالم نگار دفاع اور سکیورٹی امور کے تجزیہ کار ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved