تازہ تر ین

مرد سے مرد کی قانونی شادیوں کا انجام، اللہ رحم کرے

پیارے پڑھنے والے! چند روز پہلے میں نے اللہ کا عذاب‘ توبہ کریں کے عنوان سے ایک کالم لکھا تھا۔ اُن دنوں میں میںمسلسل سوچتا رہا کہ جس طرح کرونا وائرس کا عذاب بنی نوع انسان پر نازل ہوا ہے کہ نہ پتہ چلتا ہے کہ یہ بیماری کیا ہے؟ کیوں پیدا ہوتی ہے؟ نہ اس کے علاج کا پتہ چلتاہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے باوجود اب تک اس کی ویکسین تیار نہیں ہو سکی۔ کوئی طریقہ نہیں امیر ہو یا غریب اس کی پکڑ سے بچ سکے تو ایک بات جو میری سمجھ میں آئی وہ یہ کہ ہم تواتر کے ساتھ یعنی مسلسل ایسی حرکات کا اعادہ کر رہے ہیں جو اللہ پاک کو شدید ناپسند ہے۔ پس میں نے قرآن پاک اور سنت رسول صلعم سے رجوع کیا تو پتہ چلا کہ ماضی میں بھی ایک قوم پر اللہ کا عذاب نازل ہوا تھا۔ یہ حضرت لوط علیہ السلام کی قوم تھی۔ حضرت لوط نے اللہ کے حکم کے مطابق اس قوم کو سمجھانے کی کوشش کی۔ وہ لڑکیوں کو چھوڑ کر مردوں سے بدکاری کرتے تھے اور یہ وبا اتنی پھیل چکی تھی کہ بستیوں کی بستیاں اس لعنت میں شامل تھیں اور جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتے انسانی شکلوں میں حضرت لوط کے پاس پیغام خداوندی لے کر آئے تو نفس کے غلاموں نے ان سے بھی اپنی خواہشات نفسانی پورا کرنے کی کوشش کی۔ قرآن پاک میں سورہ عنکبوت اور سورہ ہود میں یہ تذکرہ موجود ہے کہ جب ان سے یہ کہا گیا کہ یہ گناہ عظیم ہے اور حضرت لوط نے کہا کہ میری قوم کی لڑکیاں موجود ہیں تم ان سے شادیاں کر لو تو لوطیوں نے اُنہیں دھتکار دیا اور کہا کہ ہم تو اپنی روش پر قائم ہیں تو اللہ نے حضرت لوط سے کہا کہ یہ بستی اَور یہ شہر چھوڑ دو کیونکہ میں ان پر عذاب نازل کرنے والا ہوں۔ حضرت لوط نے ایسا ہی کیا لیکن ان کی بیوی پیچھے رہ گئی اور وہ ساتھ نہ آئی تب اللہ نے ایک چنگھاڑ کے ساتھ عذاب مسلط کیا۔ بستیوں کی بستیاں اُلٹ دی گئیں۔ آسمان سے پتھروں کی بارش ہوئی اَور روئے زمین پر ان بستیوں کا نشان نہ رہا۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم جنسی کے مرتکب افراد کو ملعون قرار دیا۔ روایت ہے کہ فرمایا جب زمین پر ایک مرد دوسرے مرد کے ساتھ بدکاری کرتا ہے تو زمین سے آسمان تک اس پر لعنت بھیجی جاتی ہے۔ اللہ رحم کرے اَب قرآن پاک کی تفسیر سے آنے والے اس واقعے کی روشنی میں اور رسول پاک کے ارشادت کی روشنی میں ذرا آج کی دنیا کا جائزہ لیں۔ سب سے پہلے جرمنی جو آج کل کرونا وائرس کی زد میں ہے اَور بُری طرح شکار ہے، نے اپنی پارلیمنٹ میں بہت برس پہلے یہ قانون منظور کیا کہ مرد سے مرد کی شادی قانونی طور پر درست ہے چنانچہ ایسی شادیوں کی باقاعدہ رجسٹریشن ہوتی ہے اَور دو ہم جنس مردوں کو میاں بیوی قرار دیا جاتا ہے۔ وہ اکٹھے رہتے ہیں اور مسلسل ہم جنسی کا ارتکاب کرتے ہیں۔ جرمنی کی دیکھا دیکھی یورپ کے بعض دوسرے ملکوں میں بھی قانون منظور ہوا اور میرا جسم میری مرضی کے مصداق بدکاری اَور لوطی عمل کو قانون کا درجہ دیا گیا۔ مجھے خود امریکہ میں ایک GAY بچی دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ ہم سات دن کے لئے سرکاری دورے پر امریکہ گئے تھے اور بزرگ اور سینئر صحافی ارشاد احمد حقانی، مجیب الرحمان شامی، چودھری قدرت اللہ، ملک لودھی اور عروسہ عالم وغیرہ ہمارے ساتھ تھے۔ واشنگٹن میں کیپٹل ہل یعنی دارالحکومت کے دفاتر کے قریب جس ہوٹل میں ہمیں ٹھہرایا گیا وہاں کاﺅنٹر پر لکھا ہوا تھا کہ قریبی آبادی GAYS یعنی ہم جنس افراد کی آبادی ہے۔ اجنبیوں اور GAY کلچر کے مخالفوں کو اپنے درمیان پسند نہیں کرتے۔ ہمیں زبانی طور پر بھی یہ ہدایت کی گئی کہ چوک کراس کر کے اگلی آبادیوں میں نہ جائیں۔ لیکن انسانی تجسس کے مارے ہم تین افراد نے جن میں عروسہ عالم بھی تھی، جو ٹی وی کمپیئر فخرعالم کی والدہ ہیں اُنہوں نے لڑکوں جیسا لباس پہن رکھا تھا جب ہم چوک کراس کر کے GAY کلچر کی آبادی میں داخل ہوئے تو بے شمار جوڑے سرخی پاﺅڈر سے لدے ہوئے ایک دوسرے کے گلے میں بانہیں ڈالے سڑکوں پر چل پھر رہے تھے۔ پتہ چلا کہ یہ لوگ آرٹسٹ ہیں۔ اکثر گلوکار ہیں یا موسیقی کے آلات بجاتے ہیں تاہم ان میں ڈیزائنر، مصور اور ایڈورٹائزنگ کے شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی موجود ہیں۔ اتفاق سے ہمیں کسی نے روک کر نہیں پوچھا۔ ہم کافی دور سے چکر لگا کر ہوٹل کو لوٹے۔ علاقے میں بے شمار دکانیں سامان سے لدی ہوئی تھیں ہوٹل اور کیفے بھی تھے۔ کھانے کے ریسٹورنٹ جا بجا پائے گئے۔ ہمارے ایک ساتھی نے کہا کہ یہ کیسے پتہ چلتا ہے کہ GAY جوڑے میں سے شوہر کون ہے اور بیوی کون تاہم ان کے بے تکلفانہ بغل گیر ہونے سے لگ رہا تھا کہ یہاں ایک دوسرے سے جسمانی اختلاط معمولی سی بات ہے۔
امریکہ اَور دوسرے مغربی ملکوں میں GAY کلچر پر باقاعدہ فیچر فلمیں بنی ہیں جن میں اس کلچر کی نشاندہی کی گئی ہے۔ یورپ میں ناروے سے ہالینڈ تک ہر جگہ یہ کلچر پایا جاتتا ہے اور جرمنی کی طرح متعدد معاشروں میں اسے قانونی تحفظ حاصل ہے۔
پاکستان اور ہندوستان میں اگرچہ قانونی طور پر ہم جنس مردوں کی شادی نہیں ہو سکتی اَور پاکستان میں اگرچہ GAY کلچر تیزی سے پھیل رہا ہے تاہم زنخے نما مردوں کی ذاتی طور پر ہم جنسی کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں۔ خیبرپختونخوا ہو یا جنوبی پنجاب یہاں تو کم عمر اور فیشن ایبل لڑکوں کو ساتھ رکھنا اُن کے اخراجات برداشت کرنا اَور اُن سے ہم جنسی عام ہَے۔ پشاور میں ایسے لڑکوں کو نڈھا کہتے ہیں جو بڑی بڑی گاڑیوں کی پچھلی سیٹ پر فل میک اپ میں نظر آتے ہیں۔ پاکستان اور ہندوستان میں ہم جنسی کی طویل تاریخ موجود ہے اور دونوں ملکوں میں ہیجڑوں یعنی مخنثوں کا ایک ادارہ موجود ہے جسے اب عدالت کے حکم پر الیکشن میں ووٹ کا حق بھی مل گیا ہے۔ لڑکیوں کے لباس میں سرشام سڑکوں پر اَور چوکوں میں ہیجڑے پیسے مانگتے دکھائی دیتے ہیں۔ بیاہ شادیوں پر یہ مجرا بھی کرتے ہیں اَور عام لوگ ان کی اچھل کود سے لطف اُٹھاتے ہیں۔ عورتوں کے لباس میں کیا یہ ہم جنسی کی دعوت نہیں دیتے۔ اس ادارے کی اصلاح ہونی چاہئے اور قانون اور ٹیکنیکل اعتبار سے انہیں معاشرے کا کارآمد حصہ بنایا جانا چاہئے۔ صرف ہنسی مذاق اور تفریح کے لئے اس ادارے کو پرووک PROVOKE کرنا ظلم ہے۔ GAY کلچر کے تحت ایسے مرد جن میں جسمانی طور پر کوئی نقص ہوا ہی نہیں بلکہ شوقیہ طور پر اچھے بھلے نارمل لڑکوں میں بھی GAY بننے کا رجحان عام ہے، ہم سب اس ادارے سے واقف ہیں مگر اُن کے دکھوں اور انسانی مسئلوں کو ہمدردی اور عزت سے دیکھنے کے بجائے اُنہیں تفریح طبع کا ذریعہ سمجھا جانا ہے۔ حالانکہ بعض GAY افراد کو میں نے باقاعدہ کام کرتے ہوئے دیکھا ہے اور وہ لڑکیوں جیسے کپڑے بھی نہیں پہنتے کچھ پڑھے لکھے GAY افراد اپنے طبقے کو باعزت اور معاشرے کے لئے مفید بنانے میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ ضرورت ان کی عزت نفس کو بیدار کرنے کی ہے۔ اگر کسی وجہ سے جسمانی طور پر اُن میں کوئی نقص بھی ہے تو بھی اللہ نے اُنہیں دو ہاتھ دو پاﺅں اور ذہن دیا ہے وہ باعزت شہری بن سکتے ہیں اَور حکومت کو اُن کے بارے میں ہمدردانہ رویہ اختیار کرنا چاہئے۔ ان کے مسائل حل کرنے کا انتظام کرنا چاہئے اور انہیں مفید باعزت اور برسرروزگار بنانے کے لئے مہم شروع ہونی چاہئے۔ عدالت کی طرف سے ووٹ کا حق ہی کافی نہیں بلکہ اُن کو سرکاری ملازمتیں بھی ملنی چاہئیں۔ ہم جنسی کے خاتمے کے لئے باقاعدہ مہم چلانی چاہئے کیونکہ بدقسمتی سے یہ عِلت معاشرے کے ہر طبقے میں موجود ہے۔
میں نے جہاں سے بات شروع کی تھی وہ ہم جنسی کا بڑھتا ہوا رجحان ہے جسے معاشرے کی اکثریت ہنسی اور مذاق سے یاد کرتی ہے حالانکہ شروع میں میں نے بتایا ہے کہ اللہ نے ہم جنس افراد پر لعنت بھیجی ہے اور کہا کہ زمین سے آسمان تک فرشتے اس عمل پر لعنت اور پھٹکار کرتے ہیں پھر کیا آئینی طور پر مرد سے مرد کی شادی کو روا قرار دینے والے ملکوں اور معاشروں پر اللہ کا عذاب نازل نہیں ہو گا؟ کیا قوم لوط کی طرح قہر خداوندی جوش میں نہیں آئے گا اَور انسانی عذاب کا وہ نشانہ نہیں بنیں گے؟ کیا سب سے پہلے مرد کی مرد سے شادی کو قانونی قرار دینے والا جرمنی آج اللہ کے عذاب کو نہیں سہہ رہا؟ کیا ہم جس آزمائش کا شکار ہیں اس کی وجہ یہ عادتِ بد تو نہیں؟ کیا امریکہ میں GAY آبادیوں کو تحفظ دینا خدائی قہر کو دعوت دینے کے مترادف نہیں؟ اللہ کی ذات دیکھتی رہتی ہے اور جب کوئی لعنت حد سے گزر جاتی ہے تو قہر خداوندی جوش میں آتا ہے ان سطروں کو مذاق نہ سمجھیں۔ یہ تفریح طبع کا ذریعہ نہیں ہیں۔ یہ آپ کے ذہنوں کو جھنجھوڑنے کے لئے ہَے۔ غور فرمائیں ہیں اللہ کو بنی نوع انسان کی یہ بُری خصلت ناپسند تو نہیں۔ حضرت لوط کی قوم کی بستیوں کی بستیاں اُلٹ پلٹ کر دی گئی تھیں تو کیا آج ایسا تو نہیں ہو رہا کہ وسائل رزق کی فراوانی، دولت اور عیاشی والا ملک امریکہ پریشان ہے کہ وہ کرونا وائرس کا مقابلہ کیسے کرے اَور رحمت خداوندی اَور اپنی اصلاح اس معاشرے کو مقصود نہیں۔ وہ کرونا ویکسین کی تلاش میں ہے جبکہ آج بھی عالم اسلام میں اللہ سے دُعائیں مانگی جا رہی ہَیں اَور توبہ کی جا رہی ہے۔ افسوس کہ پاکستانی معاشرے میں مرد کی مرد سے بدکاری تو عام تھی ہی گزشتہ چند برسوں سے عورتوں میں ایک عورت سے دوسری عورت کی شادی کی خبریں بھی چھپ رہی ہیں۔
لہٰذا پیارے پڑھنے والے کہیں ہم پر بھی یہ عذاب اس لئے تو نہیں آیا۔ اپنی اصلاح کر لیجئے اَور خدا کے حضور دُعا کیجئے کہ ہمارا حال بھی قوم لوط جیسا نہ ہو۔ یہ قصّے کہانیاں نہیں بلکہ قرآن پاک کے الفاظ ہیں جنہیں آپ خود پڑھ سکتے ہیں اور اُن کا ترجمہ دیکھ سکتے ہیں۔ اللہ ہمیں سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے: آمین
٭٭٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved