تازہ تر ین

رابطہ عالم اسلامی کا ریلیف پیکیج

ڈاکٹر تنویرقاسم
سعودی حکومت پاکستان کے قیام سے لیکر سے لے کر آ ج تک ملکی تعمیر وترقی میں ہمارے شانہ بشانہ رہی ہے۔ سیاسی وسفارتی محاذوں سے لیکر، اقتصادی وعسکری میدانوں تک الغرض زندگی کے ہرشعبے اور تاریخ کے ہرموڑ پر سعودی عرب نے پاکستان کے ساتھ اپنی لازوال اوربے مثال دوستی کاثبوت دیا ہے۔مشکل کی کوئی گھڑی ہو، زلزلہ آئے یاسیلاب کاسامنا ہو،دشمن کی جارحیت ہو یااقتصادی بحرانوںکی دلدل،لاکھوںلوگوں کے روزگار کے مواقع ہوں ،بھاری بھرکم امداد یایٹمی صلاحیت کے حصول کا موقع ہو،سعودی عرب نے ہمیشہ مثالی کردار اداکیا۔ سعودی عرب کی سب سے فعال تنظیم رابطہ عالم اسلامی اور اسکا دنیابھر میں پھیلا فلاحی نیٹ ورک اس بات کا ثبوت ہے ۔ گزشتہ دنوں رابطہ عالم اسلامی کے علاقائی دفتر اسلام آباد میں حکومت پاکستان کو کورونا وائرس کے پھیلاو کو روکنے کےلئے طبی حفاظتی سامان فراہم کیا گیا۔ اس موقع پرپاکستان میں سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی اور دیگر عہدیداروں نے بھی شرکت کی، وفاقی وزیر مذہبی امور نورالحق قادری بھی موجود تھے۔رابطہ عالم اسلامی کے ریجنل ڈائریکٹر سعد بن مسعود الحارثی نے بتایا کہ رابطہ عالم اسلامی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسی کی ہدایات اور ان کی زیرنگرانی یہ خصوصی کاوش کی گئی ہے۔
رابطہ عالم اسلامی پاکستان کےلئے مختلف اوقات میں تعلیم اور صحت کے میدان میں ریلیف پیکیج فراہم کرتا رہتا ہے۔رابط عالمی اسلامی کے اہداف ومقاصد پر نظر دوڑائی جائے تو دکھائی دیتا ہے کہ یہ امت مسلمہ کو شرعی اصولوں کے مطابق اخوت اور یکجہتی کے مفاہیم پر عمل پیرا ہونے اور تفرقہ اور اس کے خطرات سے گریز کی ضرورت پر زور دیتی ہے ۔ ایسے حالات میں جبکہ امت مسلمہ کی صفوں میں انتشار ہے ۔ یہ تنظیم اسلامی ممالک کے درمیان موجود خلا کو پر کرنے میں کوشاں اور ان کے درمیان پل کا کردار اداکرتی ہے ۔ امت مسلمہ کو اس نازک دور میں مزید ہم آہنگی اور باہمی تعاون کی ضرورت ہے ۔ رابطہ عالم اسلامی کا مقصد اسلام کے حقیقی پیغام کو واضح کرنا اور سب کے ساتھ اسلامی اور انسانی تعاون کے فروغ میں پل کا کردار ادا کرنا ہے۔ اس کے ایجنڈے میں اقوام عالم کو عمومی طور پر انسانیت کی فلاح اور اس کی بھلائی اور ان کے درمیان سماجی انصاف، بہتر انسانی معاشرے کی تخلیق میں مسابقت کی دعوت دیناہے ۔ یہ عزم رکھتی ہے کہ ہم کسی کے کام کے بگاڑ ،کسی پر تسلط اور نہ کسی پر غلبہ کا ارادہ نہیں رکھتے۔ بلکہ ہم مسلمانوں کے اتحاد اور کرہ ارض پر موجود جملہ مسلم برادری کو تقسیم کرنے والے عوامل کا سدّ باب کریں گے۔ہر بھلائی کی طرف دعوت دینے والے شخص کی حمایت کریں گے اس لیے کہ اسلام میں لسانی اور نسلی تقسیم نہیں۔ان مقاصد کے حصول کےلئے رابطہ عالم اسلای کا یہ فورم مثبت اور صحیح طورپر اپنی کوششوں کو جاری رکھے ہوئے ہے ۔ قرآن کریم اور سنت مطہرہ کی روشنی میں اسلام کی روادارانہ اقدار کا تعارف بھی ان کے پیش نظر رہتا ہے، مسلم امہ کے ذہن میں وسطیت اور اعتدال پسندانہ تصورات کو راسخ کرناامت مسلمہ کے مسائل کا حل اور تنازعات و اختلافات کے عوامل کو دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کرناتہذیبی رابطہ کی اہمیت اور ثقافتی مکالمہ کو عام کرنامسلم اقلیات اور ان کے مسائل میں دلچسپی اور ان کے مسائل کے حل کےلئے مقامی حکومتی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے رابطہ کرنا ۔ امت کی اسلامی شناخت کی حفاظت اور دنیا میں اس کے اثر ورسوخ کا فروغ اور اس کی یکجہتی کو قائم رکھنا اس کے ایجنڈے کا حصہ ہے ۔
رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمد العیسیٰ کے ویژن کے مطابق یہ ادارہ بڑی خوش اسلوبی سے دعوت واصلاح اور رفاہ عامہ کا کام کررہا ہے ۔ رابطہ عالم اسلامی نے مکہ مکرمہ میں کانفرنسوں کے انعقاد پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ اغیار کے گڑھ میں پہنچ کر اسلام سے خائف فریقوں کو غور سے سنا اور انہیں اسلامی اعتدال، میانہ روی اور رواداری سے بھرپور شکل میں آگاہ کیا۔ اغیار نے ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں کئی ایوارڈ سے نوازا۔ رابطہ عالم اسلامی کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر العیسیٰ اپنے عملی اسلوب اور متوازن اظہار کی بدولت ہر سطح پر سعودی عرب کی حقیقی تصویر اجاگر کررہے ہیں۔ ڈاکٹر عبد الکریم العیسی سمجھتے ہیں کہ مسلم منحرفین کی طرح تمام مذاہب میں انتہا پسند پائے جاتے ہیں۔ انتہا پسندی کسی ا یک مذہب کے ساتھ مخصو ص یا محدود نہیں۔ ڈاکٹر العیسیٰ اپنے خطابات میں توجہ دلاتے رہتے ہیں کہ انتہا پسندی کو ناحق اسلام سے جوڑ دیاگیا ہے۔ اسلامی فقہ کے ماہرین قرآنی آیات اور احادیث مبارکہ کی تفہیم اور تشریح و توضیح مقررہ علمی اصولوں کے مطابق کرتے ہیں۔ آیات و احادیث کے فہم میں ماہرین کے درمیان اختلافات خالص علمی بنیاد اور اصولی ہوتا ہے اس کا انتہاپسندی سے کوئی تعلق نہیں۔ البتہ انتہاپسند عناصر قرآنی آیات و احادیث مبارکہ کا مفہوم اپنے مزاج اور ذاتی و جماعتی و گروہی فہم کے مطابق طے کرکے معاشرے میں انتشار پیدا کرتے ہیں۔ پوری مسلم دنیا انتہا پسندانہ افکار کو اسلام مخالف مان کر مسترد کئے ہوئے ہے اور کررہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اسلام نے مشترکہ انسانی خاندان کا تصور پیش کیا ہے اسے فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ اسلام متمدن معاشرے کی تشکیل میں ایک دوسرے سے تعاون اور ایک دوسرے سے محبت کا علمبردار دین ہے۔ مشترکہ انسانی خاندان کے درمیان ہم آہنگی، قربت، محبت، الفت اور تعاون کو نقصان پہنچانے اور متاثر کرنے کی ہر کوشش خلاف شرح ہے، اسلام نے اس کی مزاحمت کا حکم دیا ہے۔ اسلام چاہتا ہے کہ مختلف مذاہب، نسلوں، ثقافتوں اور قومیتوں سے منسوب لوگ ایک دوسرے سے تعاون کریں۔ ایک دوسرے کے ساتھ پیار محبت سے پیش آئیں اور باہمی قربت کے رشتے استوار کریں۔
رابطہ عالم اسلامی کے ویلفیئر مشن دنیائے اسلام با لخصوص جبکہ یورپ، افریقہ ودیگر غیر اسلامی ممالک بالعموم جہاں مسلم اقلیتیں ہیں وہاںکام کرتے رہتے ہیں۔پاکستان میں آنےوالے زلزلوں اور سیلابوں سمیت قدرتی آفات کے موقع پر ماضی میں سعودی عرب کی حکومت نے رابطہ کے ذریعے کروڑوں روپے کی امداد بھجوائی تھی۔ مصیبت اور پریشانی کا کوئی بھی موقع ہو رابط عالم اسلامی تعاون میں پیش پیش نظر آتا ہے۔
(کالم نگارمختلف موضوعات پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved