تازہ تر ین

میرٹ کو نظر انداز نہ کریں !

سجادوریا
جناب عمراےوب تحریک انصاف کی حکومت کے وفاقی وزیر توانائی و پےٹرولیم ہےں،وزیر اعظم عمران خان کی کابینہ کے بہت خاص اور اہم ممبر ہےں۔وزیر صاحب اےک جہاندیدہ،با اخلاق،محنتی اور قابل شخصیت ہےں،ان کی گفتگو مدلل،مختصر اور اعدادو شمار کے حوالے کے بغےر مکمل نہیں ہوتی۔جناب وزیر صاحب اےک زیرک سےاستدان ہےں،انکی گفتگو سننے کے لائق ہوتی ہے۔مےں ان کو کپتان کی ٹیم کے اےک اہم اور ذمہ دار کھلاڑی کے طور پر دےکھتا ہوں جس پر کپتان بھروسہ بھی کرتا ہے۔پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اک نئے منشور ،نئے وژن اور اصلاح کا اےجنڈا لے کر آئی ہے،اداروں مےں اصلاحات،بجٹ مےنجمنٹ،بہتر کارکردگی ان کا مشہور انتخابی نعرہ تھا،جس مےں کسی حد تک کپتان سنجیدہ بھی دکھائی دےتے ہےں۔معیشت کے مےدان مےں بھی اچھی کار کردگی کا مظاہرہ کرنے کےلئے کپتان کو کئی کھلاڑی تبدیل کرنا پڑے۔وزیر اعظم ہمےشہ ےہ آواز بلند کرتے رہے ہےں کہ ماضی میں اداروں کی سر براہی من پسند لوگوں کو سےاسی رشوت ےا قرابت داری کو دےکھتے ہوئے سونپ دی جاتی تھی،جس سے ادارے کا نقصان ہوتا اورادارے کا سربراہ نا اہل اور نکھٹو ہونے کے سبب ادارے کو بھی ڈبو دےتا تھا۔مےں نے محسوس کیا جب سے تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی ہے،اس حکومت کا بنےادی اےجنڈا کمزور معیشت اور کمزور اداروں کو سنبھالنا ہی دکھائی دےتاہے۔
اس ضمن مےں ےہ بات مشاہدہ مےں آئی ہے کہ وزیر اعظم نے اداروں اور وزارتوں کے اخراجات کو محدود کرنے کےلئے انکی اپنی افرادی قوت کو ہی استعمال کیا ہے،بےرون ممالک سے اداروں کے سربراہ امپورٹ کر کے اداروں کے اخراجات مےں اضافہ نہیں کیا۔ وزارتِ خارجہ بھی دوسرے ممالک مےںسفیر لگاتے ہوئے خےال رکھتی ہے کہ وزارتِ خارجہ کے افسران کو ہی لگاےا جائے،سےاسی شخصیات ےا پھر ریٹائرڈ جرنےلوں کو سفیر لگانے کی کم سے کم کوشش کی گئی ہے۔ےہ کوشش قابل ستائش ہے اس سے ےہ فائدہ ہوتا ہے کہ وزارت خارجہ کے اپنے افسران مےں اعتماد پےدا ہوتا ہے ،انہوں نے سفارت کاری پڑھی ہوتی ہے ،وزارت اور سفارت کے معاملات جانتے اور سمجھتے ہےں۔ وہ بہتر طریقے سے دوسرے ممالک مےں جا کر سفارت کاری کر سکتے ہےں،دوسرا سب سے بڑا فائدہ ےہ ہوتا ہے کہ ان پر کوئی اضافی خرچہ نہیں ہوتا ،وہ وزارت کے ملازمین کے طور پر اپنے فرائض سر انجام دےنا شروع ہو جاتے ہےں۔اگر کوئی سےاسی شخصیت سفیر بنائی جائے تو وہ بھی ابتداءمےں ان سفارتکاروں کی مدد سے ہی سفارت کے فرائض انجام دےتی ہے،کیونکہ سفارتی اسرار و رموز سمجھنے مےں وقت لگتا ہے ،اس طرح انکی کارکردگی کو مثالی نہیں کہا جا سکتا اور پھر ےہ خزانے پر اضافی بوجھ بھی بن جاتے ہےں۔
مےرا خےال ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت اور وزارت خارجہ کی ےہ بہتر حکمت عملی ہے،حکومت اپنے وسائل مےں رہتے ہوئے اپنے اداروں اور محکموں کو چلانے کی کوشش کر رہی ہے۔اسی طرح کے معاملات دیگر اداروں مےں بھی دےکھنے کو مل رہے تھے، لےکن اچانک اخبارات مےں یہ خبرےں دےکھنے کو ملیں کہ حکومت پاکستان ،پی پی ایل کے اےم ڈی کےلئے باہر سے لوگوں کو ہائر کر نا چاہ رہی ہے ،اور ان خبروں کے مطابق وزارت پٹرولیم نے جن لوگوں کاانٹرویو کیا ہے ان کی لسٹ مےں پی پی اےل افسران کو انٹرویو کےلئے شامل ہی نہیں کیا گےا۔ میرے خیال میں اس معاملے میں مےرٹ کو نظر انداز کیا گیا ہے ۔حےرت انگےز طور پر قائم مقام اےم ڈی اور دو ڈپٹی اےم ڈی صاحبان کو انٹرویو کی لسٹ مےں ہی شامل نہیں کیا گےا۔اس کی کیا وجہ ہے یہ تو متعلقہ ذمہ داران ہی جانتے ہیں ۔میڈیا کے ایک حصہ نے بعض ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ جن حضرات کو شارٹ لسٹ کیا گےا ہے ،انکی صلاحیت،تجربہ اور مہارت نظرانداز کیے جانے والے قائم مقام اےم ڈی اور ڈپٹی اےم ڈیز کے ہم پلہ نہیں ہے۔انڈسٹری ماہرین کے مطابق اس ادارہ کے اےم ڈی کے عہدے کےلئے اعلیٰ تکنیکی اور پےشہ ورانہ صلاحیتوں کے حامل تجربہ کارافراد کی تقرری ناگزیر ہے۔اس خبر کا یہی ایک رخ ہے یا کوئی دوسرا رخ بھی ہے؟ لیکن جب اس خبر کو پڑھنے کے بعد مےں نے پی پی اےل کی وےب سائٹ سے تھوڑی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔مےں حےران رہ گےا کہ مذکورہ بالا افسران انتہائی قابل،تجربہ کار اور ادارے کے ساتھ دہائیوں سے وابستہ ہےں۔ مےں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ان بہترین تجربہ کار افسران کو کیا آپ نے محض” گھر کی مرغی دال برابر“سمجھ لیا ،انٹرویو کی لسٹ مےں بھی شامل نہیں کیا؟۔ مےں سمجھتا ہوں اور اس حکومت کو نئے اخراجات سے بچنا چاہئے،جب ادارے مےں اعلیٰ کوالیفائیڈ لوگ موجود ہےں تو ان سے ہی کام لےں،ایک کامےاب و شفاف ادارے مےں میرٹ کو نظر انداز نہ کیا جائے ۔
میرا سوال جناب وزیر اعظم عمران خان اور محترم وزیر پٹرولیم جناب عمر اےوب صاحب سے یہ ہے کہ ملکی معیشت کے مشکل ترین دنوں مےں ےہ کیا ہو رہا ہے؟وزیر اعظم صاحب آپ فرماتے ہےںجب میڈیا ہم پر مثبت تنقید کرتا ہے ،ہم اسکو قد ر کی نگاہ سے دےکھتے ہےں ،کیا اےمانداری سے موازنہ کرنے کے بعد حاضر سروس افسران سے زےادہ قابل لوگ شارٹ لسٹ کیے گئے؟کیا پی پی اےل موجودہ افسران کے زےر انتظام اعلیٰ کارکردگی نہیں دکھا رہا؟ کیا مجبوری ہے کہ اےک مثالی ادارے کو بعض دیگر اداروں کی طرح سےاسی چراگاہ بنا دیا جائے؟مےں جناب عمر اےوب صاحب کی خدمت مےں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ کمزور معیشت والے ملک مےں اےک کامےاب منافع بخش ادارے میں میرٹ کو نظر انداز نہ کیا جائے اور ایسی پالیسی تشکیل دی جائے کہ حقدار کو اس کا حق ملے اور میرٹ کا بطور خاص خیال رکھا جائے تاکہ یہ ادارہ تجربہ کار ماہرین کے زےر انتظام ہی چلایا جا سکے۔
(کالم نگارقومی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved