تازہ تر ین

ہاتھ دھو کر لڑنا ہو گا

ڈاکٹر نبیل چودھری
مجھے تو کہا گیا تھا کہ آپ نے مہمان خصوصی کو پھول پیش کرنے ہیں ۔ سارے شہر میں ایک شور سا مچا تھا کہ عمران خان آ رہے ہیں وہ عمران خان جس نے پاکستان کو ورلڈ کپ جیت کر دیا تھا ۔یہ 1992ءکی اک حسین شام تھی جدہ کے ایک فائیو سٹار ہوٹل میں ایک سٹار آ رہے تھے۔ آٹھ سال کے ایک بچے کو کیا پتہ کہ وہ اس شخص کو پھول پیش کر رہا ہے جو آگے چل کر پاکستان کا وزیر اعظم بنے گا۔مجھے بڑی تیاری کرائی گئی۔دونوں ہاتھوں سے کیسے پھول پیش کرنے ہیں اور مہمان خصوصی سے سلام کیسے کرنا ہے؟ جی میں عمران خان کی بات کر رہا ہوں جو اس وقت جدہ کے ہالیڈے ان میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کرنےوالے تھے۔ بعد میں پتہ چلا کہ مجھے اس تقریب کے منتظمین میں سے ایک کا بیٹا ہونے کی وجہ سے یہ چانس دیا گیا ہے کہ وہ پاکستان کی وننگ ٹیم کے کپتان کو جدہ کی پاکستانی کمیونٹی کی جانب سے گلدستہ پیش کرے ۔وہ تصویر کافی عرصہ تک میرے پاس رہی ۔ہم جدہ میں تھے تو ہمارے گھر بڑے لوگ آیا کرتے تھے ۔مجھے یاد ہے بہت سے منسٹر ،شاعر ،کالم نویس ،سماجی کارکن، ادا کار، سب ہی ابو کے حلقہ احباب میں تھے ۔مجھے ان سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔میں اگر نام گنواﺅں تو لسٹ لمبی ہو جائے مگر الطاف حسن قریشی، انور مسعود،عطاءالحق قاسمی،امجد اسلام امجد، ٹی وی ادا کار شکیل۔ابو ہمیں مختلف تقریبات میں بھی کبھی کبھار لے جاتے ۔جہلم والے انکل شہباز اور مسعود پوری کے ہوٹل میں بھی بڑی تقریبات میں آنا جانا لگا رہتا ۔میں نے حفظ بھی کر لیا تھا بعض تقریبات میں مجھ سے تلاوت بھی کرائی جاتی۔ بڑے بھائی تو اچھے مقرر تھے۔ شروع ہی سے لکھنا اور طنز و مزاح سے دلچسپی نے مجھے کالم نگار بنا دیا ۔پہلے پہل تواتر سے لکھا پھر جب غمِ زندگی نے گھیرا تو قلم چھوڑ پیٹ کی فکر میں لگ گیا۔ وقت گزر ہی جاتا ہے اور ہر شخص اپنے ماضی میں سے اچھی یاد گار چیزیں منتخب کر کے یاد کرتا رہتا ہے۔میں نے پانچ جماعتیں تو جدہ ہی کے سکول میں پاس کیں، پھر مدرسہ عبداللہ بن زبیر میں تحفیظ القرآن کےلئے داخل ہو گیا ۔دو سالوں میں کلام پاک حفظ کیا اور پھر اپنے ہی ساتھیوں کے ساتھ آٹھویں کلاس میں داخل ہو گیا۔پاکستان ایمبیسی سکول جدہ کی یادیں اب بھی ذہن میں ہیں۔ اپنے سکول کوکون بھول سکتا ہے اچھے اساتذہ مل جائیں تو وہ آپ کی دعاﺅں میں رہتے ہیں۔ میں بھی اپنے سکول کو کبھی نہیں بھول پاتا ۔پرنسپل ظفر علی احسن،چودھری اشفاق کرنل منظور سب ہی اچھے تھے۔
پی ٹی آئی سے لگاﺅ اپنے والد صاحب سے ملا۔ عمران خان نے جب 1996ءمیں تحریک انصاف بنائی تو ہم گرچہ ان سے انس رکھتے تھے لیکن وہاں کی زندگی میں سیاست کرنا مشکل کام تھا ۔میں ذاتی طور پر عمران خان کے ساتھ اس وقت جڑا جب انہیں پنجاب یونیورسٹی میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا والد صاحب بنیادی طور پر جماعتئے تھے ان کی دوستیاں فرید پراچہ، لیاقت بلوچ، قاضی حسین احمد و دیگر اکابرین کے ساتھ تھیں۔ لیکن ہمارے ساتھ2002ءمیں ایک بڑی واردات ہو گئی جنرل اسد درانی اس وقت سفیر پاکستان تھے۔ والد صاحب نے کسی مسئلے پر ان سے اختلاف کیا اور انہیں گرفتار کر لیا گیا اس کی بنیادی وجہ ہمارے نزدیک انکل مسعود جاوید تھے جو وہاں جماعت اسلامی کے کرتا دھرتا تھے وہ دن اور 2007ءکا وہ واقعہ میرے دل میں اتر گیا ۔اس کا خمیازہ ہم نے بھگتا ہمارا ایک سال ضائع ہوا ۔ہماری دادی اماں اسی دکھ سے دنیا سے گئیں۔ ہمارے لئے 2002ءدکھوں غموں کا سال تھا۔اس کے بعد کا پانچ سال کا عرصہ بس ایسے ہی گزر گیا۔
2007ءکی سردیوں کے ایک دن میں نے دیکھا کہ چند لڑکوں نے عمران خان کو بالوں سے کھینچا ہوا ہے اور وہ اسے پولیس کے حوالے کر رہے ہیں۔ والد صاحب اس سے چند ماہ پہلے پی ٹی آئی میں شامل ہو چکے تھے ۔ہم لوگ گاﺅں میں تھے واپس آئے تو پتہ چلا اب ہمارے لیڈر عمران خان ہے ،والدہ نے کافی احتجاج کیا۔یہ وہ دور تھا جب پی ٹی آئی ٹانگے کی سواریوں والی پارٹی تھی۔یہ والد صاحب کی دور اندیشی تھی یا اللہ کی جانب سے ان کو ایک اور راستہ دکھانا تھا ۔ ابو کی عادت یہ ہے کہ ظلم کےخلاف ڈٹ کر کھڑے ہو جاتے ہیں جس کی سزائیں بھی بھگتیں ۔اور میرا خیال ہے اب بھی بھگت ہی رہے ہیں۔ میں نے انہی کی زبانی احمد جواد، سیف اللہ نیازی ،زاہد کاظمی، احسن رشید کے بارے میں سنا ،اعجاز چودھری کو جانا۔مجھے نہیں پتہ تھا کہ اٹھائیس سال بعد میں اس پارٹی کی اہم ذمہ داری سنبھالوں گا اور پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کی نمائندگی کرتے ہوئے مرکزی سیکرٹری اطلاعات کا نائب بنوں گا۔ ویسے میں آپ کو بتا دوں میں جس کے ساتھ کام کر رہا ہوں میرے ابو ان کے ساتھ اسی ذمہ داری پر کام کر چکے ہیں لیکن کم لوگوں کو یہ علم ہے کہ بہاولنگر سے تعلق رکھنے والے احمد جواد گورنمنٹ کالج لاہور سے فارغ التحصیل ہیں ۔نیوی میں کمانڈر رہ چکے ہیں پارٹی کے ساتھ پرانے دور سے ہیں ایڈیشنل سیکرٹری اطلاعات بھی رہے ہیں اوورسیز چیپٹر میں اہم ذمہ داریاں نبھا چکے ہیں ۔جھوٹ، مکر اور فریب کی اس دنیا میں احمد جواد نے نیشنل نیریٹو بلڈنگ سینٹر بناکر پی ٹی آئی حکومت کا مثبت چہرہ دنیا کو دکھایا ہے۔پچھلے دنوں جب چائینہ کے خلاف پوری دنیا میں غم وغصے کا ایک طوفان اٹھا تو پاک چائینہ دوستی کا حق ادا کیا وہاں کے سب سے بڑے اخبار چائینہ ڈیلی میں پاکستان کی جانب سے اپنے برادر ملک چین کو پیار اور محبت کا احساس دلایا۔اردو کالم نویسی میرے لئے ایک اعزاز اور فخر بھی ہے۔خبریں کی گود میں پل کر جوان ہوا ہوں ۔جدہ کے دنوں میں ابو اس اخبار سے جڑے تو میں بھی جناب ضیاشاہد سے واقف ہوا، مرحوم عدنان شاہد سے ملاقاتیں رہیں۔
پاکستان تحریک انصاف گر چہ عمران خان کی سوچ کو لے کر آگے چلی ہے مگر اس دور میں میڈیا کی طاقت سب سے بڑی طاقت ہے آپ سچے ہیں مگر آپ کا سچ کون سمجھے گا جب تک آپ دنیا کو بتا نہ پائیں ۔میں دیکھ رہا ہوں پی ٹی آئی کے ٹائیگر اپنے گھروں سے موبائلوں پر یہ لڑائی لڑ رہے ہیں ایسے سپاہی کی طرح جس کا اسلحہ بھی اس کی جیب سے آنا ہے اور جس کی گن بھی اس کی ذاتی ہے۔اور اللہ کے کرم سے عمران خان کے ان ٹائیگروں نے یہ لڑائی بڑی خوبصورتی سے لڑی ہے۔
ان دنوں پاکستان ایام کرونا سے گزر رہا ہے۔ میں ایک ڈینٹسٹ ہوں مجھے علم ہے کہ یہ وائرس اتنا آسان نہیں جتنا قوم نے لیا ہوا ہے۔اگر یہ ہمارے ہاتھوں سے نکل گیا تو پاکستان مشکل میں آسکتا ہے۔اسی قسم کے وائرس میڈیا کی صفوں میں بھی موجود ہیں ہمیں ان کا مقابلہ کرنا ہے اور سچ پوچھیں ہاتھ دھو کر ہم نے پیچھا کرنا ہے۔ ہم احمد جواد کی قیادت میں اطلاعاتی شعبے کے اس وائرس کے خلاف لڑنے میں بھی مصروف ہیں۔ میں سمجھتا ہوں جب تک پاکستانی قوم اس موذی وبا کےخلاف یک جاں ہو کر مقابلہ نہیں کرتی وہ بچ نہیں پائے گی۔ قوم کو گھروں کے اندر رہ کر لڑنا ہے ۔اور حقیقت یہ ہے کہ ہاتھ دھو کر لڑنا پڑے گا۔
(مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات تحریک انصاف ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved