تازہ تر ین

قرنطینہ کو ذریعہ نجات بنائیں

ثاقب رحیم
کرونا وائرس کا خط انسانیت کے نام
”زمین نے سرگوشی کی۔ تم نے ان سنی کی۔ زمین نے کچھ کہنا چاہا تم انجان ہوئے۔ زمین نے شور مچایا تم نے اُسے چپ کرا دیا۔
تب میں وجود میں آیا۔ میں تمہیں سزا دینے نہیں تمہیں خواب غفلت سے جگانے آیا ہوں۔ زمین نے مجھ سے مدد چاہی تھی۔ سیلاب بنے مگر تم نے نظر انداز کیا۔ طوفان اُٹھے تم ٹس سے مَس نہ ہوئے۔ زمین زلزلوں سے چٹخ گئی تمہیں کوئی فرق نہیں پڑا۔ تم نے تو اس وقت بھی نہیں سُنا جب تمہاری وجہ سے سمندری مخلوق مرنے لگی۔ قحط سالی ہوئی ،زمین پر فساد پھیلا، ان منفی اثرات کا تم پر کوئی اثر نہ ہوا، دنیا کے گوشے گوشے میں نفرتیں، خانہ جنگی، ہوس، طمع، لالچ پھیلی، اُن کی پرواہ نہ کی تم نے۔ نفرتوں کا پیمانہ لبریز ہوا۔ قتل و غارت گری کا بازار گرم رہا۔ حادثے، سانحے رونما ہوئے مگر تمہارے لئے سب سے جدید آئی فون اور لیپ ٹاپ اہم رہے۔
زمین نے مجھ سے فریاد کی۔ میں اُسے تم تک پہنچانے آ گیا، دیکھو میں نے دنیا کو کیسے روک دیا۔ آخر تمہیں زمین کی فریاد سُننی پڑی۔ تمہیں رکنا پڑا، جھکنا پڑا۔ مادی زندگی سے نکلنا پڑا۔ زمینی کیفیت کو سمجھنا پڑا۔ تمہیں اپنی بقا کی فکر ہوئی۔ کیا اب احساس ہوا کچھ؟ میں نے تمہیں بخار میں جلایا، جس طرح تم نے زمین کے شجر جلائے، میں نے تمہاری سانسیں بھاری کر دیں جیسے تم نے زمین کا سینہ دھوئیں سے بھرا، میں نے تمہیں کمزور کیا جس طرح تم نے زمین کو کیا۔ میں نے تمہاری تمام آرام و آسائش چھین لی، تمہاری آزادی سلب کر لی۔ جس طرح تم نے اس کائنات کو فراموش کر دیا اور اب ملک چین کی فضا صاف اور شفاف ہے، نیلے آسمان پر فیکٹریوں کا دھواں نہیں، وینس کے دریا میں مچھلیاں واپس آ گئیں بڑے بڑے جہاز اور کشتیاں رک گئیں۔ اب تمہارے پاس سوچنے کےلئے وقت ہی وقت ہے۔ شاید تم جان گئے کہ زندگی میں کس چیز کی اہمیت ہے، پھر بتا دوں، میں تمہیں سزا دینے نہیں صرف جگانے آیا ہوں۔
ہاں جب تم اس اندھیرے سے نکل جاﺅ تو خدارا یہ وقت نہ بھول جانا، کچھ وقت ضرور نکالنا زمین کی آواز سننا، روح کی صدا پر گوش برآواز رہنا، فضاﺅں کو دھوئیں سے میلا نہ کرنا، آپس میں نہ لڑنا، مادی زندگی تج کر دینا۔ انسانیت کی قدر کرنا، پڑوسیوں کی خبرگیری کرنا، زمین سے، فطرت سے محبت کرنا۔ اپنے رب کو پہچاننا اور شکر ادا کرنا، کیونکہ میں واپس جا کر اگر دوبارہ آنے پر مجبور ہوا تو میری شدت اور قوت شاید تم سے برداشت نہ ہو اور ممکن ہے تمہیں یہ مہلت بھی نہ مل سکے“۔
والسلام
دستخط کرونا
اوپر دی گئی تحریر میرے ایک قریبی دوست نے شیئر کی تھی جو میں لکھنے والے سے اجازت کی درخواست کے ساتھ اپنی کاوش کو لوگوں تک پہنچانے کےلئے استعمال کر رہا ہوں۔ بس امید ہے کہ لکھنے والا اور قاری میری اس جسارت کی معذرت قبول کر کے بڑے دل کا ثبوت دیں گے۔
کرونا کی یہ فریاد آج کے حالات تک ہی محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے ہزاروں سال کی انسانی تاریخ کی بے حسی اور خود غرضی شامل ہے۔ جو ہر اس قیامت کو اپنے اندر لئے ہوئے ہے جو قدرت نے سبق حاصل کرنے کےلئے برپا کی، لیکن آفرین ہے ہم انسانوں پر کہ اُس نے قدرت کے مخفی اور واضح اشاروں کو درخیراعتناءنہیں جانا اور اپنی بداعمالیوں کی روش کو نہیں چھوڑا، اللہ جانے کتنی تباہیوں کا سامنا کیا۔ کتنی ہی تہذیبیں مٹ گئیں۔ کروڑہا انسان لقمہ اجل بنے لیکن انسان اس حقیقت سے ہمیشہ انحراف ہی کرتا رہا کہ وہ قدرت کے زیر عتاب ہے۔ اس نے ہمیشہ خود کو قدرت کے مدمقابل کئے رکھا اور اپنی کمزور سی طاقت کو قدرت کی عظیم طاقت سے زیادہ جانا ، اور یہی خناث شاید اسے اس سرزمین سے ہمیشہ کےلئے نابود کر دے۔ لیکن نافرمان کبھی نہیں مانیں گے۔
انسان کے ادراک میں یہ بات شاید کبھی نہ آئے کہ وہ ابلیس جو اس چھوٹی سی دنیا میں انہیں بہکانے میں کامیابی سے مصروف ہے صرف انسانی مخلوق پر معمور ہے اور وہ بھی اپنی حکم عدولی اور نافرمانی کی پاداش میں اور اس نے یہ کام خود اللہ سے مانگ کر حاصل کیا ہے اور اسے اپنی ذمہ داری کو اپنا فرض منصبی سمجھا۔ جبکہ ہم انسانوں کو ہمارے فرائض کے بارے میں ہر طرح سے بتایا گیا لیکن ہم شیطان کے بہکاوے سے خود کو آزاد نہ کرا سکے اور اپنی نافرمانیوں اور گنہگار زندگی کو زیادہ سے زیادہ ملوث کرتے گئے اور جو اب تک شدت سے جاری ہے۔ کرونا اگر ایک قدرتی آفت بن کر پوری دنیا پر طاری کیا گیا ہے یا اگر یہ انسانی تخلیق بھی ہے تب بھی کیا ہم اس بات کو سمجھ نہیں پاتے کہ انسان کو مٹانے والے خود بھی آخرش مٹ جاتے ہیں۔
ابتلا اور پریشانی کے دور میں ہم ایک غیر مرئی طاقت کو ماننے لگتے ہیں۔ جیسے آج کل طاقتور ترین حکومتوں کے سربراہان اور اقوام قدرت یا فطرت کی طاقت کو ماننے لگی ہے اور ہر وہ کام کر رہی ہے جس کی مخالفت وہ ترقی یافتہ تہذیب یافتہ ہونے کی آڑ میں کرتے تھے۔ وہی بنیاد پرست مسلمان اور تخریب کار مسلمان قوم کا اللہ پر یقین اور عبادات کی شکل میں ”دعا“ کی اثرپذیری کے معترف دکھائی دیتے ہیں۔ صفائی ستھرائی کےلئے ہر وقت ہاتھوں کو دھونا اور ماحول کی آلودگی سے بچنے کےلئے ناک اور منہ پر کپڑاڈھانپ کر رکھنے کی حکمت کو جان کر اب وہ خود تلقین کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ آج تک نازل ہونے والی بیماریاں، فنا نہیں کی جا سکیں وہ جوں کی توں موجود ہیں ، جراثیم اور وائرس کی ادویات تخلیق کرنے کے بعد بھی وہ تمام آفات اپنی جگہ موجود ہیں اسی طرح یہ کرونا بھی اپنی شدت کھو چکنے کے بعد بھی کبھی نہ ختم ہونےوالی وبا بن کر نازل رہے گی۔ جب تک ہم اللہ کو طاقتِ کل نہ مان لیں۔
ہم اپنی قوت اور طاقت کے نشے میں اس بری طرح مبتلا ہو چکے ہیں کہ اپنی بنا یا تخلیق کی سچائی کو بھول چکے ہیں، نہیں جانتے کہ اگر بھوکے کے سر پر تاج رکھ دو تو وہ بے و قوف تو بن سکتا ہے۔ پر بادشاہ نہیں بن سکتا“۔ کہا جاتا ہے کہ وہ مبلغ بڑا احمق اور بے و قوف شمار ہو گا جو کسی بھوکے کو اس وقت اسلام یا دین سکھائے جب اس بھوکے کو کھانے کی ضرورت ہے۔ بھوک مٹانا اولین ہے اور دین سکھانا بعد کا عمل ہوتا ہے۔ بھوکے کو بھوک کے وقت اللہ رسول کی سمجھ نہیں آتی۔ اس طرح آج جن گھروں میں لاک ڈاﺅن کی وجہ سے بھوک کے ڈیرے ہیں وہ بغاوت تو کر سکتے ہیں حکومتوں کو نہیں مان سکتے۔ بھوک سے مرنے سے بہتر ان کےلئے کرونا سے مرنا ہے۔ کون ہو گا جو کرونا کے ڈر سے اپنے گھروں میں بھوک سے بلک بلک کر اپنے بچوں اور گھر کے افراد کو مرتے دیکھ سکتا ہے۔ گو آج کرونا نے ہم سب کو اچھوت بنا دیا ہے۔ قرنطینہ مجبوری ہے کہ ایک دوسرے سے اس طرح دور رہا جائے جس طرح کسی زمانے میں برہمن، اچھوت طبقے سے دور رہا کرتے تھے۔ ملیچھ یا اچھوت آج بھی ہندو دھرم ہیں قابل نفرت طبقہ جانا جاتا ہے۔ یہی حال ہم مسلمانوں میں بھی ہے جو خود کو بڑا انسان دوست اور نچلے طبقہ کا دین سمجھتا ہے۔ ذات پات کے اسی ہندوانہ رواج پر عمل پیرا ہے۔ اور خود کو برہمن اور نچلے طبقہ کو اچھوت یا شودر۔ ہمارے دیہی اور شہری گھرانوں میں نوکروں اور نوکرانیوں کے ساتھ شودروں جیسا سلوک ہوتا ہے۔ ہمارے گلی محلوں میں صفائی کرنے والے کو ہم چوڑا یا عیسائی کے نام سے پکارتے ہیںجبکہ اگر کسی سے کوئی پوچھے کہ ”گندگی پھیلانے والا شخص بہتر ہے یا گندگی صاف کرنے والا“ تو سب کا جواب یہی ہو گا کہ صفائی کرنے والا تو کون بہتر ہے ہم جو گندگی پھیلاتے ہیں یا وہ ”چوڑا“ جو ہماری ہی پھیلائی ہوئی گندگی کو صاف کرتا اور ہمیں زندہ رہنے کےلئے بہتر ماحول دیتا ہے۔
گناہ یہ نہیں کہ بداعمالی کرو گناہ یہ بھی ہے کسی کو خود سے حقیر جانو، ہم گناہوں سے توبہ کرتے ہیں لیکن اسے چھوڑتے نہیں۔ ہم اللہ کو مانتے ہیں پر اللہ کی نہیں مانتے۔ ہم اللہ کی تلاش میں گناہ کرنے کے باوجود لگے رہتے ہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی اللہ پاک ہے اور گناہ زدہ ناپاک کے قریب نہیں جاتا اور نہ اسے قریب کرتا ہے۔ آج کل تنہائی میسر ہے اور تنہائی عبادت اللہ تک رسائی کا باعث بن سکتی ہیں اور میرا یقین ہے اگر اللہ گناہ کی طاقت چھین لے تو سمجھ لو وہ مل گیا۔ ”گناہ کا چھن جانا اللہ کا مل جانا ہے“۔
(کالم نگارسیاسی وسماجی ایشوزپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved